غریدہ، مجھے نہیں معلوم کہ میڈیا کو کوئی ہدایات جاری کی گئی ہیں یا نہیں، مگر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے امریکا۔ایران مذاکرات اور ڈیل کے حوالے سے اسی ترتیب سے نام لیے تھے: وزیرِاعظم شہباز شریف، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر۔
اگر میڈیا کو وزیرِاعظم کو مائنس کرنے کی ہدایت دی جانی تھی تو وہ درجنوں صحافیوں کے سامنے نام ہی کیوں لیتے؟
دوسری بات یہ کہ، فیلڈ مارشل کے بہت قریبی سمجھے جانے والے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے علما سے گفتگو میں آج وزیرِاعظم کو لیڈر اور فیلڈ مارشل کو کپتان قرار دیا۔ ان کے الفاظ کچھ یوں تھے:
’’ایران اور امریکہ کے معاملات میں لیڈ شہباز صاحب نے کیا اور فیلڈ مارشل صاحب ایز اے کیپٹن میدان میں اترے اور پاکستان کے لیے نہ صرف انہوں نے ایک بہت بڑا، یہ ہسٹری میں یاد رکھے جانے والا اعزاز ہے کہ دو بڑے ممالک کی صلح کرائی یا کم از کم جنگ ختم کرائی۔ اور میں چند چیزوں کا گواہ ہوں، تو انہوں نے ایز اے کیپٹن اس کو لیڈ کیا اور جو ہمارے لیڈر (شہباز شریف) تھے، انہوں نے تمام چیزوں کو حتمی شکل دی.‘‘
سینئر سیکورٹی عہدے دار سے آج ھم صحافیوں کی راولپنڈی میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران تو رسما وزیراعظم آفس کا ذکر کیا گیا، امریکہ/ایران ڈیل کے تناظر میں؛ لیکن بعد میں جب خبر جاری ہوئی ذرائع سے، جو آپ سب نے میڈیا چینلز پر دیکھ بھی لی، اس میں امریکہ/ایران معاہدے میں وزیراعظم "مائنس" تھے۔
---------------------------------------------------------------
گزشتہ کچھ ہفتوں سے یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ شہباز حکومت کی چھٹی ہونے والی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔۔