مجھے بارشیں پسند نہیں ہیں...
لوگ کہتے ہیں بارش رحمت ہوتی ہے محبت ہوتی ہےیادوں کی خوشبو ہوتی ہے۔ لوگ پہلی بوند گرتے ہی خوش ہو جاتے ہیں کھڑکیاں کھول دیتے ہیں چائے بنا لیتے ہیں تصویریں کھینچتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔
مگر میں؟
میرے لیے بارش صرف پانی نہیں لاتی وہ ایک رات واپس لے آتی ہے... ایسی رات جس نے میری پوری زندگی بدل دی تھی۔وہ رات بھی بارشوں کی تھی۔
کئی دنوں سے آسمان برس رہا تھا۔ بادل جیسے زمین پر اتر آئے تھے۔ ہوائیں چیخ رہی تھیں درخت کانپ رہے تھے اور رات اپنے اندر ایک عجیب سی وحشت سمیٹے ہوئے تھی۔اور پھر انہی راتوں میں سے ایک رات میرےابا چلے گئے۔
مجھے آج بھی یاد ہےبارش کی بوندیں چھت پر ایسے گر رہی تھیں جیسے کوئی بے آواز ماتم کر رہا ہو۔ آسمان گرج رہا تھا اور میری دنیا خاموش ہو رہی تھی۔اس رات کے بعد بارش کبھی بارش نہیں رہی۔
وہ ایک خبر بن گئی۔
ایک جدائی بن گئی۔
لوگ کہتے ہیں وقت سب کچھ ٹھیک کر دیتا ہے۔شاید ان لوگوں نے کبھی باپ نہیں کھویا ہوتا۔شاید انہوں نے کبھی اپنے سر سے وہ سایہ اٹھتے نہیں دیکھا ہوتا جس کے نیچے پوری دنیا محفوظ لگتی ہے۔
سال گزرتے جا رہے ہیں۔
کیلنڈر بدلتے جا رہے ہیں۔
مگر ہر بارش والی رات میں پھر وہی چھوٹی سی لڑکی بن جاتی ہوں جو اپنے اباکو ڈھونڈ رہی ہوتی ہے۔جب بادل گرجتے ہیں تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے آسمان میری طرح رو رہا ہو۔جب تیز ہوا چلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی میرے دل کے بند دروازے کھول کر پرانی یادوں کو آزاد کر رہا ہو۔اور جب بارش کی بوندیں کھڑکی سے ٹکراتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت مجھے واپس اسی رات میں دھکیل رہا ہو۔
اس بارش کے بعد میں کبھی پہلے جیسی نہیں رہی۔دنیا کہتی ہے مضبوط بنو۔دنیا کہتی ہے زندگی چلتی رہتی ہے۔مگر دنیا یہ نہیں جانتی کہ بعض لوگ زندہ تو رہتے ہیں مگر ان کا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے۔میرا ایک حصہ بھی اباکے ساتھ چلا گیا تھا۔وہ حصہ جو بے فکر تھا۔جو ہر مشکل میں کسی ایک آواز پر یقین کر لیتا تھا۔جو جانتا تھا کہ دنیا کتنی بھی ظالم ہو جائے ابا ہیں۔
مگر پھر دنیا نے اپنا اصل چہرہ دکھایا۔لوگ بدل گئے۔رشتے بدل گئے۔لہجے بدل گئے۔اور میں نے جان لیا کہ باپ صرف ایک رشتہ نہیں ہوتا وہ پوری کائنات کا دوسرا نام ہوتا ہے۔جب وہ چلا جائے تو دنیا پہلے جیسی نہیں رہتی۔
آج بھی جب بارش ہوتی ہے تو لوگ خوشی ڈھونڈتے ہیں اور میں اپنے ابا۔۔۔۔