ایکشن کمیٹی دھرنے کی تازہ ترین صورتحال!
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایکشن کمیٹی کے مظفر آباد پر حملے نے پہلے احتجاج اور پھر دھرنے کی شکل اختیار کر لی۔ ہزاروں کا وہ دھرنا سمٹ کر سینکڑوں لوگوں کا رہ گیا ہے جو وہاں بےدلی سے بیٹھے ہیں اور مقامیوں کی تھکی ہوئی تقریریں سن رہے ہیں۔
جنہوں نے ان کو اکسایا تھا وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں اور بدستور غائب ہیں۔ البتہ اب یہ کچھ خواتین کو لے آئے ہیں جن کو پولیس کے سامنے بیٹھا دیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ پولیس کچھ کرے تو عورتیں انکی ڈھال بنیں اور دوسرا عورتیں دیکھ کر لونڈے لپاڑے بھی دھرنے میں شریک ہوں۔
یہ بلکل ڈی چوک کا ایکشن ری پلے لگ رہا ہے۔ وجہ شائد یہی ہے کہ ڈی چوک والی پارٹی ہی اس دھرنے اور ایکشن کمیٹی کی اصل کرتا دھرتا ہے۔
تاہم شام کو یہ چند سو کا جتھا بھی غائب ہوجاتا ہے۔ دھمکی آمیز تقاریر اب منت ترلوں پر مبنی نظر آرہی ہیں جس میں شعلہ بیانی کے بجائے اب رونا دھونا نمایاں ہے۔ رپورٹس یہ بھی ہیں کہ انکے بھگوڑے لیڈران اب فیس سیونگ مانگ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایک بار پھر پولیس والوں کا قتل معاف کیا جائے ایف آئی آرز ختم کی جائیں ہم مقبوضہ کشمیر کی حق نمائندگی کے خلاف مہم بند کردینگے۔ لیکن حکومت جانتی ہے کہ اس بار انکو فیس سیونگ دی تو یہ سانپ دوبارہ اژدھا بن کر کشمیر کاز کو کھانے کی کوشش کرے گا۔ لہذا اس بار انکو معافی نہیں دی جائیگی۔
#Kashmir#FieldMarshalPeacemaker
ڈنڈے کے مسلمان!
پاکستان نے صرف ایران کے ساتھ امریکہ کی صلح کروانے کی کوشش کی اور سعودی عرب کو ایران پر حملہ کرنے سے روکا تو یو اے ای اس پر اتنا ناراض ہوا کہ پاکستان سے 3 ارب ڈالر قرض واپس لے لیا اور تقریباً 15 ہزار پاکستانیوں کو نکال دیا۔
جس ایران کی وجہ سے ناراض ہوا اس ایران نے سب سے زیادہ حملے یو اے ای پر کیے اور مزید حملوں کی دھمکیاں بھی دیں جس کے بعد یو اے ای نے خود اپنا وفد ایران بھیجا، ایران کو 3 ارب ڈالر رشوت دی اور بدلے میں یو اے ای پر حملے نہ کرنے اور یو اے ای کے جہاز گزرنے کی یقین دہانی حاصل کی۔ نیز اس دوران یو اے ای نے اپنے ملک میں موجود ایرانیوں کو بلکل تنگ نہیں کیا۔
پاکستان اور ایران میں کیا فرق ہے؟ کیا ایران پاکستان سے زیادہ طاقتور ہے؟ اسکا جواب ہے ہرگز نہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہم خلوص دیکھاتے ہیں اور ایران نے ڈنڈا چلایا۔ دنیا خلوص نہیں ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے۔
اسکی ایک اور مثال کلعدم ایکشن کمیٹی ہے۔
انہوں نے ناقابل عمل قسم کے مطالبات کی لسٹ پیش کی۔ پہلی بار ہنگامہ کیا تو ریاست نے آٹا وغیرہ چوتھائی قیمت پر کر دیا اور بہت سی چیزی مان لیں اور 23 ارب روپے دیے۔ دوسری بار فساد کیا تو بجلی مفت کر دی اور 30 ارب روپے دیے۔ تیسری بار انہوں نے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سے علیحدگی کی شرط رکھ دی اور دوبارہ فساد کیا تو ریاست سیدھی ہوگئی اور ڈٹ گئی۔ جو ڈنڈے انہوں نے اٹھائے تھے وہی ان کے اندر گھیسڑ دیے۔ جس کے بعد بغیر کوئی شرائط منوائے انکا فسادی مظاہرہ بند ہوگیا اور ان کے چوہے نما دہشتگرد لیڈران بھی بھاگ گئے۔
یعنی جب ریاست نے خلوص اور پیار دیکھایا تو آگے سے اکڑ گئے۔ لیکن جب ڈنڈا چلایا تو بات زیادہ آسانی سے انکی سمجھ میں آگئی۔ دنیا خلوص اور پیار کی نہیں ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے۔
#Pakistan#FieldMarshalPeacemaker
اصل کھیل کیا تھا؟؟
پاکستان کا کشمیر پر دائمی موقف ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ یعنی چاہیں تو انڈیا کے ساتھ الحاق کر لیں اور چاہیں تو پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیں چاہیں تو آزاد ملک بنا لیں۔ اقوام متحدہ کا بھی یہی فیصلہ تھا جہاں بھارت نے اس سے اتفاق کر لیا تھا لیکن اس کے بعد مکر گیا اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا۔
پاکستان کی خواہش ضرور ہے کہ کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو۔ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کی عوام کی اکثریت بھی پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی ہے۔ بھارت یہ بات جانتا تھا کہ کوئی ریفرنڈم ہوا تو کشمیر پاکستان کو مل جائیگا۔ لہذا اس نے دو کام کیے۔
ایک تو اس نے کشمیر میں زبردستی ہندو آبادی کاری شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے وہاں کی ڈیموگرافی تبدیل ہونے لگی۔ پھر اس نے کشمیر کو خود میں ضم کر کے ان ہندوؤں کو کشمیری ڈومیسائل بھی دے دیا۔ اب وہاں ریفرنڈم ہوا تو اسکا امکان ہے کہ بھارت کو زیادہ ووٹ مل جائیں۔
لیکن مسئلہ آزاد کشمیر کا تھا۔ یہاں کے لوگوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ خوش تھی اور پاکستان کے ساتھ ہی الحاق چاہتی تھی۔ اس کے لیے بھارت نے آزاد کشمیر کی یونیورسٹیوں میں وہی مکروہ کھیل کھیلنا شروع کر دیا جو اس سے پہلے وہ بنگلہ دیش اور بلوچستان میں کھیل چکا ہے۔ جے کے ایل ایف کے نام سے سرخوں کو پاکستان کے خلاف منظم کیا جنہوں نے پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو پاکستان کے خلاف ورغلانا شروع کر دیا۔ اسی تنظیم کے بطن سے 'عوامی ایکشن کمیٹی' نے جنم لیا جس نے کھل کر پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ لگایا۔
لیکن مسئلہ موجود تھا کہ آزاد کشمیر کی کل آبادی 40 لاکھ ہے جب کہ انڈین مظالم سے تنگ آکر آزاد کشمیر اور پھر پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی تعداد 30 لاکھ ہے۔ یہ 30 لاکھ کشمیری کٹر پاکستانی ہیں۔ ان کو آزاد کشمیر میں ووٹ ڈالنے کا حق ہے۔ لہذا پاکستان کے مطالبے کے مطابق یہاں ریفرنڈم ہوا تو جے کے ایل ایف یا عوامی ایکشن کمیٹی کی تمام تر مہم جوئی کے باؤجود یہاں پاکستان بھاری اکثریت سے جیت جائیگا۔ لہذا بھارت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی حق نمائندگی پر حملہ کر دیا۔ بہانہ یہ بنایا کہ ان کے ذریعے پاکستان مداخلت کرتا ہے۔ کوئی یہ سوال نہیں کر رہا کہ آزاد کشمیر کی تینوں بڑی جماعتیں یعنی ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پاکستانی ہیں۔ تو مداخلت کے لیے پاکستان کو ان 12 سیٹوں کی کیا ضرورت؟ اصل کھیل ہی بھارت کے حق میں کشمیریوں کی نمائندگی کا خاتمہ اور پاکستان سے علیحدگی کا تھا۔
اب اگر اس کے جواب میں پاکستان بھی بھارت کی طرف آزاد کشمیر کو خود میں ضم کر لیتا ہے تو بھی بھارت کو فائدہ ہوگا کہ انکے انضمام کو قانونی جواز مل جائیگا۔ لہذا پاکستان یہ بھی نہیں کر رہا اور کوشش کر رہا کہ کسی طرح آزاد کشمیر کی عوام کو اس گھناؤنے بھارتی کھیل سے آگاہ کرے۔
#Pakistan#PakPursuesPeaceEfforts
پاکستان آزاد کشمیر خرید چکا!
آزاد کشمیر میں پاکستانیوں اور مقبوضہ کشمیروں کو زمین خریدنے کی اجازت نہیں لیکن ایک دوسرے کو بیچتے ہیں۔ وہاں زمین کی اوسط قیمت 50 لاکھ روپے کنال ہے۔ کمرشل جگہ 1 یا 2 کروڑ بھی ہوسکتی ہے۔
پاکستان نے ایک لاکھ سے زائد فوج مستقل آزاد کشمیر کے دفاع میں کھڑی کی ہوئی جس پر انفلیشن ڈال کر پاکستان 28000 ارب روپے خرچ کر چکا ہے۔ چونکہ آزاد کشمیر کی آمدن صفر ہے تو اسکو پورا کرنے پاکستان سالانہ 200 ارب دیتا ہے جو انفلیشن ڈالیں تو 77 سال میں 14000 ارب بنتے ہیں۔ یہ کل 42000 ارب روپے بنتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں پانی کا اپنا کوئی سورس نہیں یہ مقبوضہ کشمیر کا پانی استعمال کرتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں اور جن سے یہ الگ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یعنی وہ پانی پاکستان کا پانی ہے جو آزاد کشمیر استعمال کررہا ہے۔ لیکن اسکو سائیڈ پر رکھیں۔
50 لاکھ روپے کنال کے حساب سے 42000 ارب میں 84 لاکھ کنال زمین خریدی جاسکتی ہے۔ جب کہ آزاد کشمیر کا کل رقبہ 65 لاکھ کنال ہے۔ یعنی پاکستان اس زمین کی کل قیمت سے زائد رقم ادا کر چکا ہے۔ اگر ایکشن کمیٹی پاکستان سے علیحدگی چاہتی ہے تو پاکستان کی زمین چھوڑ دے اور علیحدہ ہوجائے! 😡
#Pakistan#JAAConForeignAgenda
ایکشن کمیٹی کے یہ دہشتگرد کہاں سے انسان لگتے ہیں؟ یہ انسانوں کی شکل میں بھیڑیے ہیں جنہوں زخمی پولیس اہلکاروں کو گھسیٹ کر ڈنڈوں سے مار مار کر انکو شہید کیا۔ پھر انکے کپڑے اتار کو انکو مکمل ننگا کیا۔ پھر ان کے جسموں کے ساتھ جو کچھ کیا اسکی ویڈیو یہاں شیئر نہیں کی جاسکتی۔
صرف اس لیے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی ختم نہ کی جائے؟یاد رہے کہ پانی یہ اسی مقبوضہ کشمیر کا استعمال کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں پانی کا کوئی سورس نہیں۔
تو کیا ان درندوں کو پچھلی بار کی طرح چھوڑ دیا جائیگا؟
انڈیا مقبوضہ کشمیر کے حقیقی مجاہدین کو کو ستر سال سے مار رہا ہے انکو پھانسیاں دے رہا ہے۔ ہم ان دہشتگردوں اور غداروں کو کب موت کی سزائیں دینگے؟ پاکستان میں دہشتگردی اور وطن سے غداری کے عوض آرام و آسائش کے بجائے موت ملنی کب شروع ہوگی؟ جب تک ایسا نہیں ہوگا غدار اور دہشتگرد جنم لیتے رہیں گے۔
#Pakistan#JAAConForeignAgenda
تصادم کے علاوہ حل؟
تصادم کے علاوہ دو ہی حل ہیں۔ پہلا یہ کہ ریاست پاکستان ایک بار پھر انڈین ایکشن کمیٹی کے سامنے سرنڈر کردے۔ مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی ختم کردے اور ساتھ ہی ان کو پھر سے سیکیورٹی اہلکاروں کا خون معاف کر دے۔ پچھلی بار کی طرح ان کے نام نہاد زخمیوں کو پچاس پچاس لاکھ کیش بھی دے۔ جس کے کچھ دن بعد وہ نیا مطالبہ کرینگے کہ پاکستان کی فوج کو آزاد کشمیر سے نکال دو انڈیا کا مقابلہ ہم خود کر لینگے۔ بلکل جس طرح پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی کہتی ہے کہ خیبرپختونخوا سے پاک فوج نکال دو دہشتگردوں کا مقابلہ ہم خود کر لینگے یا جس طرح بی ایل اے اور بی وائی سی کہتی ہے کہ بلوچستان سے پاک فوج کو نکال دو۔
دوسرا حل یہ ہے کہ کلعدم ایکشن کمیٹی لانگ مارچ ختم کرے اور کشمیر کے راستے کھول کر سکیورٹی فورسز کو شہید کرنے والوں کو ریاست کے حوالے کرے۔ تاکہ اس بار انکو کڑی سزائیں دی جاسکیں۔
یہ نہیں ہوا تو تیسرا راستہ تصادم ہی ہے۔ اب چاہیں تو انکو مظفر آباد پہنچنے دیں جہاں یہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے اور پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ وغیرہ پر ویسے ہی حملہ کرینگے جیسے سی ایم ایچ اسپتال پر کیا تھا۔ یا پھر ان سے راستے میں ہی نمٹا جائے۔ لیکن اگر فتنے کے سامنے سرنڈر نہیں کرنا اور فتنے سے لڑنا ہے تو پھر ڈٹ کر لڑنا چاہئے اور پوری قوت سے لڑنا چاہئے۔ اور تب تک لڑنا چاہئے جب تک فتنہ ختم نہیں ہوجاتا۔ جب تک سردار امان اور شوکت میر جیسے شرپسندوں کی گردنیں نہیں اتاری جاتیں تب تک ان سے جنگ جاری رکھنی چاہئے۔ اس کے سوا کوئی حل نہیں۔
#CancelPassportOfTraitors#PakForGlobalStability
ایک بات کھوپڑی میں گھوم رہی ہے!!
آزاد کشمیر کی کل نشتیں 53 ہیں جن میں سے 12 مقبوضہ کشمیریوں کی ہیں۔ کلعدم ایکشن کمیٹی کا دعوی یہ ہے کہ یہی 12 سیٹیں پاکستان کی ایما پر آزاد کشمیر میں حکومت بناتی اور بگاڑتی ہیں لیکن یہ مداخلت بند ہونی چاہئے۔
پہلے تو سمجھ نہیں آتی کہ 12 اراکین باقی 43 اراکین سے فیصلے کیسے کرواسکتے ہیں۔ دوسری اگر پاکستان کی مداخلت کی ہی بات ہے کہ جن 43 سیٹوں پر آزاد کشمیر کے اپنے لوگ منتخب ہوتے ہیں وہ یا ن لیگ سے ہوتے ہیں، یا پیپلز پارٹی سے اور یا پی ٹی آئی سے۔ یہ تینوں تو پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہیں نا؟ تو جب ان 43 پاکستانی سیاسی جماعتوں کے منتخب اراکین پر اعتراض نہیں تو مقبوضہ کشمیر کی 12 سیٹوں پر کیوں؟
اور آخر میں دوبارہ وہی بات کہ اگر "کشمیر بنے گا پاکستان" تو مداخلت پر اعتراض ہی کیوں؟ خاص کر جب آزاد کشمیر کو کھلاتا ہی پاکستان ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر کا پانی پیتے ہیں۔ لیکن اگر نہیں بنے گا، تو پاکستان کے ہزاروں ارب روپے اور لاکھوں جانیں کس کھاتے میں؟ انکا حساب ہمیں کون دے گا؟
#PakArmy#راولاکوٹ
سرخ عفریت!
ذرا یہ پیٹرن دیکھیں ۔۔۔
ڈھاکہ کی یونیورسٹی میں مارکسسٹ نظریات کا پرچار شروع ہوا۔ پہلے انہیں اسلام سے نفرت ہوئی پھر پاکستان سے۔ پاکستان سے الگ ہونے کی راہ میں انکو پاکستان کی فورسز رکاؤٹ لگیں خاص کر ایک فوجی کی حکومت بھی تھی لہذا انہی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ شیخ مجیب اور ان کے تمام ساتھی لادین ماکسسٹ تھے اور خود کو کامریڈ کہتے تھے۔ عوامی لیگ پر انہی کا قبضہ تھا۔ انہوں نے پورے بنگلہ دیشں میں آگ لگائی اور پاکستان کو دو لخت کر دیا۔
خیبرپختونخوا کی یونیورسٹیوں میں مارکسسٹ نظریات کا پرچار شروع ہوا۔ پہلے اسلام کے باغی تیار ہوئے پھر انہیں پاکستان سے نفرت ہوئی اور پھر انکو سمجھ آئی کہ فوج ہی اس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے لہذا فوج پر حملہ آؤر ہوگئے۔ افراسیاب خٹک سے لے کر منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داؤڑ تک سارے مارکسسٹ ہیں اور خود کامریڈ کہتے ہیں۔ انہی نے 'ویش زلمی' اور 'پی ٹی ایم' جیسی تنظیمیں بنائیں۔ ریاست کو تو جو نقصان پہنچانا تھا وہ پہنچایا ہی لیکن اپنے خطے میں بھی آگ لگائی۔
بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں مارکسسٹ نظریات کا پرچار شروع ہوا۔ وہ پہلے اسلام کے باغی ہوئے پھر انہیں پاکستان سے نفرت ہوئی اور پھر انکو لگا کہ فوج ہی اس ریاست کی بقا کی ضامن ہے لہذا پاک فوج انکی سب سے بڑی دشمن بن گئی۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سے لے کر ماہرنگ بلوچ تک سارے لادین مارکسسٹ ہیں اور خود کو کامریڈ کہتے ہیں۔ انہی نے بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی وائی سی ٹائپ تنظیمیں بنائیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کو آگ سے بھر دیا۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ بلوچی سرخوں کو پنجاب اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں میں بھی ندا کرمانی اور ہود بائی جیسے پروفیسر ملے جنہوں نے ڈاکٹر اور انجنیرز بنانے کے بجائے سرمچار تیار کرنے کی مہم چلائی ہوئی ہے۔
آزاد کشمیر کی یونیورسٹیوں مارکسسٹ نظریات کا پرچار شروع ہوا تو سوشل میڈیا کا دور آچکا تھا۔ زیادہ زور راؤلا کوٹ میں تھا۔ سوشل میڈیا پر کھل کر یہ لوگ اسلام سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے جس کے بعد تیزی سے پاکستان بیزاری کی طرف آگئے۔ پھر اس فوج سے بھی اعلان نفرت کر دیا جو انکی حفاظت کے لیے 77 سال سے کھڑی ہے۔ انہی نے جے کے ایل ایف اور پھر عوامی ایکشن کمیٹی جیسی دہشتگرد تنظیمیں بنائیں۔ سردار امان سے لے کر شوکت میر تک سارے مارکسسٹ سرخے ہیں۔ انہون نے آزاد کشمیر جیسے پرسکون خطے میں آگ لگا دی ہے۔
یہ مارکسسٹ سرخے شیطان کا سینگ ہیں۔ جہاں نمودار ہوتے ہیں اس جگہ کو آگ و خون سے بھر دیتے ہیں۔ پروپیگنڈا اور جھوٹ انکا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ یہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، مسلسل جھوٹ بولتے ہیں اور سوائے تباہی کے کچھ نہیں لاتے۔ پالیسی سازوں کو اس حوالے سے خصوصی پالیسی بنانی ہوگی۔ ورنہ یہ اپنے نظریات کا پرچار جاری رکھیں گے اور اس کے نتیجے میں ریاست مخالف فسادی لشکر بنتے رہیں گے اور ریاست ان سے لڑتی رہے گی۔
مارکسسٹ سرخے تو روس اور چین میں بھی ہیں لیکن وہ محب وطن ہیں۔ پاکستان بدقسمت ہے یہاں سرخا بننے کی پہلی شرط ہی پاکستان سے نفرت ہوتی ہے۔
#Pakistan#IndianSponsoredJAAC
ڈی چوک کا ایکشن ری پلے!
ناظرین ۔۔۔!!
اس وقت پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے راؤلا کوٹ میں 100 بندے مار دیے ہیں۔
اس وقت سیکورٹی فورسز نے راؤلا کوٹ میں 1000 بندے مار دیے ہیں۔
نہیں جی مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
میں نے خود دیکھا ہے چار پانچ گاؤں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔
ناظرین لاشیں سیکیورٹی فورسز نے غائب کر دی ہیں، زخمی غائب کر دیے ہیں اور ان کے لواحقین کو ڈرا کر چپ کروا دیا ہے۔
ویڈیوز بنانے کی اجازت نہیں ورنہ عوامی ایکشن کمیٹی آپ کو انکی ویڈیوز ضرور دیکھاتی۔
ناظرین یہ خون آلود اے آئی تصویر دیکھیں بلکل ایسا ہی ہوا ہوگا۔
کشمیریو اتنے ظلم کے بعد اٹھو اور ریاست پاکستان اور اس کی فورسز پر دھاوا بول دو۔
پی ٹی آئی اور انڈین سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس قسم کی پوسٹوں کی بھرمار ہے۔ یہ بلکل ڈی چوک والا ایکشن ری پلے ہے۔ جہاں یوتھیوں نے 4 اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ جواب میں انکی گرفتاریاں شروع ہوئیں تو سینکڑوں اور ہزاروں لاشوں کا واویلا ڈال دیا۔ ساتھ ہی یہی سب کہا کہ فورسز نے ایک گھنٹے کے اندر اندر سینکڑوں لاشیں غائب کر دی ہیں، ہزاروں زخمی غائب کر دیے ہیں، سارا خون غائب کر دیا ہے، اسپتال ریکارڈ غائب کر دیا ہے، گولیوں کے نشان غائب کر دیئے ہیں، چشم دید گواہ غائب کر دیئے ہیں، ویڈیوز اور تصاویر لوگوں کے موبائلوں سے غائب کر دی ہیں اور لواحقین کو چپ کروا دیا ہے۔ جب کہ کوئی ایک یوتھیا اس دوران ہلاک نہیں ہوا تھا۔
مطلب ان سالوں نے پوری قوم کو چوتیا سمجھا ہوا ہے۔ یاد رکھیں جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کے سر نہیں اتارے جاتے یہ فساد ختم نہیں ہوگا بےشک پورا پاکستان انکو بیچ کر کھلا دو یہ یہی کرینگے۔ جب تک اڈیالہ والا کتا پھانسی نہیں چڑھایا جاتا یوتھیوں کا پروپیگنڈا ختم نہیں ہوگا جو مرضی کر لو۔
#Kashmir#PMLNGilgitBaltistan#Pakistan
بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے!
ایک سال پہلے عوامی ایکشن کمیٹی نے اسی طرح پولیس والوں کو پکڑا۔ کچھ کو پہاڑوں سے گرایا۔ پھر ان کے ٹوٹی ہوئی ٹانگوں یا بازؤوں کے ساتھ انکو اوپر لے جاکر دوبارہ گرایا۔ کچھ کی وردیاں اتار کر انکی ننگی پریڈ کروائی اور خود کو سیلوٹ کروائے۔ 6 یا 7 پولیس والوں کو شہید کیا پھر انکی لاشوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ناقابل بیان ہے۔ اس سارے وحشیانہ عمل کی ویڈیوز بنا بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالتے رہے اور قہقہے لگاتے رہے۔
جب معاہدہ کے لیے بیٹھے اور ان سے اس وحشانہ بربریت پر سوال کیا گیا تو انہوں نے نہیں ڈھٹائی سے کہا کہ کوئی شرپسند یا ایجنسیوں کے لوگ ہونگے ہم نے تو نہیں کیا۔ پولیس نے ویڈیوز میں شناخت کر کے انکی گرفتاریاں شروع کر دیں۔ جوں ہی گرفتار ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی نے مزاکرات کے لیے پہلے انکی رہائی اور ان کے خلاف ایف آئی آرز ختم کرنے کی شرط رکھ دی۔ کہ اس کے بغیر ہم کوئی بات نہیں کرینگے۔
آزاد کشمیر کی حکومت اور حکومت پاکستان نے انکو اپنی پولیس کا خون معاف کرتے ہوئے ایف آئی آرز واپس لے لیں اور ان کے سارے مطالبات مان لیے جو شائد بدترین غلطی تھی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس بار انہوں نے باقاعدہ پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سے علیحدگی کا مطالبہ کر دیا اور تسلیم نہ ہونے پر فوراً مسلح حملے شروع کر دیے۔
پہلے اس دہشتگرد تنظیم نے عمر نذیر کی قیادت میں کھائی گلہ میں سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملہ کیا۔ پھر ڈھل کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے سیکیورٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کا اغواء کر لیا۔ پھر ایک پولیس وین پر سیدھی فائرنگ کی جہاں سے جوابی فائرنگ میں انکے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی جس کا یہ واویلا کر رہے ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے سی ایم ایچ اسپتال پر حملہ کردیا۔
اسپتال پر حملے میں انہوں نے 4 اہلکاروں کو شہید اور 20 کو زخمی کر دیا۔ 3 اہلکاروں کا تعلق کشمیر سے ہے۔ یاد رہے کہ اسپتالوں پر حملے یا اسرائیل کرتا ہے یا پھر عوامی ایکشن کمیٹی کر رہی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر کمال مکاری سے رنڈی رونا ڈال دیا ہے کہ ہمارے سینکڑوں مر گئے ہزاروں مر گئے۔ جس میں پی ٹی آئی اور انڈین اکاؤنٹس انکی بھرپور معاؤنت کر رہے ہیں۔ خدا کی قسم یہ بھیڑ کی کی کھال میں چھپے خون آشام بھیڑیے ہیں جو آزاد کشمیر کی عوام کی زندگیاں اجیرن کرنے آئے ہیں۔ ان سے نہ جان چھڑائی گئی تو یہ آزاد کشمیر کی عوام کی زندگیوں میں آگ بھر دینگے۔
#Pakistan#راولاکوٹ
حقوق ۔۔۔ !!
پاکستانی یا مقبوضہ کشمیر کے کشمیری کو کوئی حق نہیں کہ وہ ۔۔۔
آزاد کشمیر میں زمین خرید سکے،
کاروبار کر سکے،
سرکاری نوکری کر سکے،
الیکشن لڑ سکے،
یا کوئی بھی عہدہ حاصل کر سکے۔
البتہ آزاد کشمیر کی عوام کو پورا حق ہے کہ وہ ۔۔
پاکستان میں نوکریاں کریں،
زمینیں خریدیں،
کاروبار کریں،
الیکشن لڑیں،
عہدے حاصل کریں،
پاکستان سے تہائی قیمت پر آٹا لیں،
پاکستان سے مفت بجلی لیں،
سالانہ 200 ارب کی گرانٹ لیں،
اور جی بھر کر مقبوضہ کشمیر کا پانی استعمال کریں۔
صرف ان کے حقوق ہیں باقی کسی کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ خدا کی قسم عوامی ایکشن کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ ساتھ بہت سے پاکستانیوں کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں۔
#Pakistan#Kashmir
گلگت جو کشمیر کاز کی نظر ہوگیا!
کشمیر کاز کے لیے پاکستان نے اپنی جتنی تباہی کی ہے وہ تو ایک طرف ہے لیکن ایک بہت بڑی چیز کا لوگوں کو پتہ ہی نہیں۔ گلگت پاکستان کا وہ علاقہ ہے جس نے اپنے بل پر لڑ کر آزادی حاصل کی۔ کشمیر کی طرح وہاں پاکستان سے لشکر نہیں گئے تھے۔ آزادی حاصل کرتے ہی انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔
ان کا وہ اعلان آج تک پاکستان نے زیر التوا رکھا ہوا ہے وہ ہزاروں بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ ہمیں پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنایا جائے۔ لیکن پاکستان نہیں کر رہا جانتے ہیں کیوں؟
کیونکہ پاکستان کو لگتا ہے کہ وہ ایسا کرے گا تو کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا اور انڈیا کا مقدمہ کشمیر پر مضبوط ہوگا۔ لہذا پاکستان اب تک گلگت کو خود میں ضم کرنے سے رکا ہوا ہے۔ پاکستان زمین کا بھوکا ہوتا تو پہلے ہی دن گلگت کے اعلان کے ساتھ ہی انکو صوبہ بنا لیتا۔
آج عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان کی ان بےپناہ قربانیوں کے جواب میں طعنے مارتی ہے کہ پاکستان کو ہم سے بڑے فائدے ہیں اس لیے ہمارے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ پاکستان نے تو ہمیشہ حق خود ارادیت کی بات کی ہے لیکن اب پاکستان کو پالیسی تبدیل کرنی چاہئے۔ اگر 'کشمیر بنے گا پاکستان' تو سب کچھ جاری رکھیں۔ اگر نہیں اور وہ ایک الگ ملک ہے تو وہ سب کچھ پاکستانی قوم کو واپس چاہئے جو اب تک لٹایا ہے۔ آغاز اس سے کریں کہ پاکستان میں جو 2٪ نوکریوں کا کوٹہ دیا ہوا ہے انکو واپس بھیج کر وہ ہزاروں نوکریاں چاروں صوبوں اور گلگت کے بےروزگاروں میں بانٹ دیں۔
#Kashmir#Gilgit
کچھ حساب کتاب ہمارا بھی بنتا ہے!
ہماری 6 لاکھ فوج میں سے کم از کم 1 لاکھ فوج آزاد کشمیر کی حفاظت کے لیے 77 سال سے کھڑی ہے اور ایل او سی پر 10 لاکھ بھارتی فوج کا راستہ روکا ہوا ہے۔ اگر 6 لاکھ فوج کا 9 ارب ڈالر ہے تو 1 لاکھ فوج کا ڈیڑھ ارب ڈالر بجٹ بنتا ہے۔ انفلیشن ڈالیں تو 77 سال میں 100 ارب ڈالر یا 28000 ارب روپے تو ہم نے صرف آزاد کشمیر کی حفاظت پر خرچ کر دیے ہیں۔
کشمیر کی اپنی آمدن 120 ارب ہے اور خرچہ 310 ارب روپے ہے۔ 190 ارب روپے پاکستان دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے ایک ایک گھر میں دو دو سرکاری نوکریاں ہوتی ہیں چاہے کوئی کام نہ کریں۔ انفلیشن ڈالیں تو 77 سال کا 14000 ارب روپے یہ پاکستان دے چکا ہے۔
مفت بجلی، سستا آٹا اور پٹرول وغیرہ پر پاکستان جو سبسڈیز دیتا ہے انکا کوئی حساب نہیں۔
کشمیر کے لیے ہماری اتنی جنگیں اور لاکھوں جانیں جو گئی ہیں اسکا کوئی حساب نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب کے بدلے میں پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟؟
عوامی ایکشن کمیٹی کہتی ہے کہ ان سب کے بدلے ہم پانی دیتے ہیں۔ لیکن یہ سفید جھوٹ ہے۔ پانی مقبوضہ کشمیر سے نکلتا ہے اور آزاد کشمیر محض چند کلومیٹر کی گزرگاہ ہے۔ اس پانی کا فائدہ آزاد کشمیر بھی پورا پورا اٹھاتا ہے۔ اب عوامی ایکشن کمیٹی مقبوضہ کشمیر کو آزاد کشمیر سے الگ مانتی ہے۔ لیکن پاکستان مقبوضہ کشمیر کو اپنی شہ رگ مانتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام بھی 'کشمیر بنے گا پاکستان' کا نعرہ لگاتی ہے۔ اس سارے منظر نامے کو دیکھیں تو مقبوضہ کشمیر پاکستان ہے اور وہ پانی پاکستان کا ہے جو آزاد کشمیر کی عوام استعمال کر رہی ہے۔ کیا ہم بھی اس پانی کا حساب مانگیں؟؟
اگر 'کشمیر بنے گا پاکستان' پھر تو یہ ساری قربانیاں اور سب سمجھ آتا ہے۔ لیکن اگر آزاد کشمیر الگ ملک ہے یا عوامی ایکشن کمیٹی بھارت سے الحاق چاہتی ہے تو پھر تو جو کچھ ہم نے دیا وہ قرض ہے جو ہمیں ہر قیمت پر واپس چاہئے۔ پاکستان کیوں قربانیاں بھی دے اور گالیاں بھی کھائے؟
#Kashmir#PakistanBridgesPeace
عوامی ایکشن کمیٹی کو صرف کلعدم قرار دینا کافی نہیں!
اب وقت آگیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر ان کے سربراہان کے سروں کی قیمت مقرر کی جائے اور انکو دیکھتے ہیں گولی مارنے کا حکم جاری کیا جائے۔
ہم نے انڈیا کے ساتھ جنگوں میں اس کشمیر کے لیے لاکھوں جانیں دی ہیں۔ صرف اس کی وجہ سے انڈینز پراکسی میں 80 ہزار جانیں دے چکے ہیں۔ لہذا کشمیر کو بچانے کے لیے چند ہزار مزید بھی دے دینگے۔ جو شخص تنظیم یا ملک پاکستان اور کشمیر کے درمیان حائل ہو اس سے پوری طاقت سے نمٹنا چاہئے۔
یاد رکھیں اگر اس بار بھی نرمی اور درگزر سے کام لیا گیا تو اگلی بار آپ کو یہ موقع بھی نہیں ملے گا۔ نیز جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کا مکمل صفایا نہیں ہوجاتا انٹرنیٹ، موبائل سگنلز سمیت ہر قسم کی سپلائی معطل رکھی جائے چاہے کئی سال لگ جائیں۔ نیز ساری سبسڈیز کو عوامی ایکشن کمیٹی کے خاتمے سے مشروط کیا جائے۔
کشمیروں کو بتانا ہوگا کہ آپ کی سابقہ آزاد، پرسکون اور خوشحال زندگی کے راستے میں عوامی ایکشن کمیٹی حائل ہے۔ اسکو ہٹا دیں ہر چیز بحال ہوجائیگی۔
#Pakistan#Indian_Action_Committee
چند گھنٹوں میں کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دو بڑے حملے!
انتہائی ناجائز قسم کے 38 مطالبات پورے ہونے کے بعد صرف ایک مطالبہ تسلیم نہ ہونے پر کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور باقاعدہ مسلح حملے شروع کر دیے۔ وہ مطالبہ مقبوضہ کشمیر کے کشمریوں کو حق نمائندگی سے محروم کرنے کا تھا جو پاکستان کسی صورت نہیں مان سکتا۔
اس کے جواب میں دہشتگرد تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی نے عمر نذیر کی قیادت میں کھائی گلہ میں سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملہ کیا۔ پھر آج ڈھل کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے سیکیورٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کا اغواء کر لیا۔
یاد کریں جب انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں تہائی قیمت پر آٹا دو اور آئی ایم ایف کے بوجھ تلے دبے پاکستان نے کچھ پس و پیش کی تو کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی ایل او سی پر پہنچ گئی تھی کہ ہمیں بھارت آٹا دے دے گا۔ بلکل بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی طرح انکا قبلہ و کعبہ بھی بھارت ہی ہے۔ ان کی طرز پر دہشتگردانہ کاروائیاں کر کے انہوں نے اپنا اصل رنگ دیکھا دیا۔ اب ان کے ساتھ ذرا بھی نرمی کی گئی یا ان میں سے کسی کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے نام لیواؤں کا صفایا کر دینگے۔ بطور پاکستانی شہری ہم مطالبہ دہراتے ہیں کہ آزاد کشمیر کو دی جانے والی تمام سبسڈیز، انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز وغیرہ تب تک معطل کیے جائیں جب تک وہ عوامی ایکشن کمیٹی کا خاتمہ نہیں کرتے اور انکے سربراہوں کو پھانسیاں نہیں دی جاتی۔
#StandWithState#امن_کے_دشمن_نامنظور