شاید شاعر، غالباً ادیب، قریباً ان پڑھ، یقیناً گناہگار،سر بہ سر خاکِ مدینہ | rmdogar.blogspot.com/?m=1

Joined April 2024
2,252 Photos and videos
Pinned Tweet
الحمدللّٰہ میر ا "نعتیہ و منقبتہ کلام و رباعیات" کا پہلا مجموعہ شائع ہوچکا ہے نام کتاب: کُشتۂِ خاکِ حجاز شاعر: راشد محمود ڈوگر کتاب کے حصول کی تفصیلات درجِ ذیل ہیں: 1. شمع بک ایجینسی (یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور)  03049882233 (92 ) 2. ڈاکٹر اسد الرحمن (میرپورخاص، سندھ) 03017836036 (92 ) #کُشتۂِ_خاکِ_حجاز #حرفِ_راشد
جنابِ غالب نے تو کہا تھا کہ “سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری” جہاں تک مجھ خاکسار کا تعلق ہے اور جتنا کم مجھے علم ہے، اس کی دھندلی روشنی میں یہی کہہ سکتا ہُوں کہ میرے پُرلھوں کا پیشہ، سپہ گری، کاشت کاری ، یا تجارت کچھ بھی رہا ہو، شاعری ہرگز نہ تھا۔ گو بچپن ہی سے قلّتِ مال و متاع کے باوجود ، اپنے گھر میں مطالعہ اور علم دوستی کا وفُور پایا۔ اس لئے سکول سے قبل ہی مطالعہ سے آشنائی اور کتابوں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو سے دلربائی ہوچکی تھی۔ پھر یہ محبت شاید عشق و جنون میں ڈھل گئی۔ سکول کی پہلی کتاب میری پہلی محبوبہ تھی۔ یُوں زندگی ان گنت محبتوں میں بسر اور بے شمار محبوباؤں کی نذر ہوتی چلی گئی۔ مطالعے کا سلسلہ تو جاری رہا البتہ چالیس سال تک ڈائری، خطوط، سکول و کالج کے نوٹس ، انواع و اقسام کے مُلکی و غیر ملکی درخواستی فارمز اور زوجۂِ محترمہ کی بتائی خریداری کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہ لکھا۔ یکایک زندگی نے عجب کروٹ لی اور خاکسار نے لکھنا شروع کردیا۔ ابتداءً نثر اور پھر نثر چلتے چلتے شعر کا روپ دھار گئی۔ جیسے کوئی بتدریج بچپن سے شباب میں داخل ہوجائے۔ البتہ نعتیہ کلام کا خیال آتے ہیں وجود میں خوف کی تیز دھار لہر اٹھتی جیسے کسی آہُو نے شیر کی جھلک دیکھ لی ہو۔ اچانک ایک دن بوقتِ عصر کرم ہوگیا، خوف ، کیف و سرور میں بدل گیا اور الحمدللّٰہ اولین نعت عطا ہوئی۔ روایتی نعت کہتے کہتے ، رُخ نعتیہ رباعی کی طرف مُڑ گیا۔ یوں نعتیہ و منقبتیہ کلام و رباعیات کا ایک خزینہ جمع ہوگیا۔ اب دن رات اس خزینے کو بچپن کی محبت ، کتاب، کی صورت میں دیکھنے کی آرزو مچلنے لگی۔ البتہ اپنے نعتیہ کلام کی اشاعت سے پہلے ، انہی ﷺ کے قدمین مبارک میں شرفِ باریابی کے بعد، انہی کو ﷺ عرضِ احوال کی تمنا تھی، جن ﷺ کی شان کا بیان و عنوان تھا۔ تاکہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے سندِ قبولیت عطا ہوجائے۔ الحمدللّٰہ حال ہی میں اس گناہ گار امتی کو حاضری کا اذن ہوا اور مجھ سا سیاہ کار ، روضۂِ اطہر پہ حاضر ہوکر سارا نعتیہ کلام آقائے دوعالم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پیش کر آیا ہے۔ میرا پہلا نعتیہ و منقبتیہ شعری مجموعہ #کُشتۂِ_خاکِ_حجاز بطفیلِ سرکارِ دوعالم ﷺ ، اشاعت کے آخری مراحل میں ہے۔ مزید تفصیلات جلد ان شاء اللہ #حرفِ_راشد
71
47
172
23,083
مجھے اس بات كا ادرک ہے کہ بهت سے معزز خواتين وحضرات ميرى تحارير پڑھتے اوريسندكرتے ہیں۔ البتہ متعد وجوبات كى بنا پر اظهار یا ردِعمل سے اجتناب کرتے ہیں۔ بعض صاحبِ علم صرف اس وقت اظهاركى زحمت فرماتے ہیں جب مجھ خطا کے پُتلے سے غلط اعراب و املا كا جرم سرزد ہوتا ہے۔ تو بتائیے كہ آب كس لئے خاموش تماشائى ہیں؟ 1-آپ کو اپنے نازک پاتھوں میں تکلیف کا اندیشہ ہے۔ 2۔ آپ کے شایانِ شان نہیں۔ 3۔ آپ انتہائی شرمیلے ہیں۔ 4۔ مجھ سے کوئی غلطی یا گُستاخی ہوئی۔ 5۔ اوپر لکھی گئی تمام وجوہات کی بنا پر۔ #حرفِ_راشد
پرانے ٹوٹر کا ایک سروے، جس کا جواب اب بھی دیا جاسکتا ہے اگر آپ کا من چاہے تو👇🏽😀
9
3
18
1,053
پرانے ٹوٹر سے ایک اقتباس 👇🏽
3
1
23
580
پرانے ٹویٹر کی ایک جھلک 👇🏽
1
4
26
610
پرانے ٹویٹر کی ایک جھلک 👇🏽
11
336
پرانے ٹوٹر کا ایک سروے، جس کا جواب اب بھی دیا جاسکتا ہے اگر آپ کا من چاہے تو👇🏽😀
6
16
1,440
پرانے ٹویٹر کی ایک جھلک 👇🏽
1
14
319
پرانے ٹویٹر کی ایک جھلک 👇🏽🌹
18
684
Where have our moments gone, the ones we swore would stay with us forever, rich and raw? The quiet joy, the sudden ache of loss, the laughter shared, the words that cut us deep. Do they still live inside us, soft or scarred, or have they slowly faded, pale as light? And if they vanished, who would we become — just hollow shells still drifting through the night? What are we, then, without the weight we keep, the love, the grief, the memories we store? Are we the sum of all we can’t forget, or ghosts still searching for what came before? #حرفِ_راشد #poetry #poetrycommunity
9
139
سبحان اللّٰہ 🌺 ایہ وی سوچو کس نُوں کہندا؟ “مُشکل نال آسانی اے” جس ﷺ دے ذکر نُوں رفعت بخشی جس ﷺ دے صدر نُوں وُسعت بخشی جس ﷺ دے کَم نُوں نُصرت بخشی جس ﷺ دے پارُوں رحمت بخشی اوسے ﷺ کول نے سب خزانے اوسے ﷺ در توں لبھ خزانے کُفر و شرک دا ردّ، اوہو ﷺ اے بے حد ذات دی حد، اوہو ﷺ اے سب خلقت چوں ودھ اوہو ﷺ اے ہور کیوں آکھاں؟ جَد، اوہو ﷺ اے #حرفِ_راشد
سن اوۓ غافل ،جھلیا بندیا کیوں اکھیاں وچ پانی اے؟ رب دی سن ، او کی کہندا اے مشکل نال آسانی اے
9
5
17
372
One day I asked of Beauty’s grace,
“Who taught your charm, your tender ways?” She turned to Love with quiet eyes,
And whispered soft her sweet reply: “No secret shall this truth betray—
The lover teaches coquetry.” #حرفِ_راشد #poetrycommunity #poetry
اک دن میں نے حُسن سے پوچھا “کس نے تُجھ کو ناز سکھایا ؟” اُس نے عشق کی جانب دیکھا اور سرگوشی میں یہ بولا “راز نہ کوئی یہ بتلائے چاہنے والا ناز سکھائے “ #حرفِ_راشد
1
2
15
206
تنہائی بہ بحر رَفتَم و گُفتَم بہ موجِ بیتابے ہمیشہ در طَلَب استی چہ مشکلے داری؟ ہزار لُولُوے لالاست در گریبانَت درونِ سینہ چو من گوھرِ دِلے داری؟ تَپید و از لَبِ ساحِل رَمید و ہیچ نَگُفت میں سمندر پر گیا اور بیتاب، بل کھاتی ہوئی لہر سے پوچھا، تُو ہمیشہ کسی طلب میں رہتی ہے تجھے کیا مشکل درپیش ہے؟ تیرے گریبان میں ہزاروں چمکدار اور قیمتی موتی ہیں لیکن کیا تو اپنے سینے میں میرے دل جیسا گوھر بھی رکھتی ہے؟ وہ تڑپی اور ساحل کے کنارے سے دور چلی گئی اور کچھ نہ کہا۔ بہ کوہ رَفتَم و پُرسیدَم ایں چہ بیدردیست؟ رَسَد بگوشِ تو آہ و فغانِ غم زدئی؟ اگر بہ سنگِ تو لعلے ز قطرۂ خون است یکے در آ بَسُخن با مَنِ ستم زدئی بخود خَزید و نَفَس در کَشید و ہیچ نَگُفت میں پہاڑ پر گیا اور اس سے پوچھا، یہ کیا بیدردی ہے، کیا کبھی تیرے کان تک کسی غم زدہ کی آہ و فغاں بھی پہنچی ہے؟ اگر تیرے بے شمار قیمتی پتھروں میں میرے دل جیسا کوئی لعل ہے تو پھر ایک بار مجھ ستم زدہ سے کوئی بات کر۔ وہ اپنے آپ میں چھپا، سانس کھینچی اور کچھ نہ کہا۔ رَہِ دَراز بَریدَم ز ماہ پُرسیدَم سَفَر نصیب، نصیبِ تو منزلیست کہ نیست جہاں ز پرتوِ سیماے تو سَمَن زارے فروغِ داغِ تو از جلوۂ دلیست کہ نیست سوئے ستارہ رقیبانہ دید و ہیچ نَگُفت میں نے لمبا سفر کیا اور چاند سے پوچھا، تیرے نصیب میں سفر ہی سفر ہے لیکن کوئی منزل بھی ہے کہ نہیں۔ جہان تیری چاندنی سے سمن زار بنا ہوا ہے لیکن تیرے اندر جو داغ ہے اسکی چمک دمک کسی دل کی وجہ سے ہے یا نہیں ہے؟ اس نے ستارے کی طرف رقیبانہ نظروں سے دیکھا اور کچھ نہ کہا۔ شُدَم بَحَضرَتِ یزداں گُذَشتَم از مہ و مہر کہ در جہانِ تو یک ذرّہ آشنایَم نیست جہاں تہی ز دِل و مُشتِ خاکِ من ہمہ دل چَمَن خوش است ولے درخورِ نوایَم نیست تَبَسّمے بَلَبِ اُو رَسید و ہیچ نَگُفت میں چاند اور سورج سے گزر کر خدا کے حضور پہنچا اور کہا کہ تیرے جہان میں ایک بھی ذرہ میرا آشنا نہیں ہے۔ تیرا جہان دل سے خالی ہے اور میں (مشتِ خاک) تمام کا تمام دل ہوں۔ تیرا دنیا کا چمن تو اچھا ہے لیکن میری نوا کے لائق نہیں کہ میرا کوئی ہمزباں نہیں۔ اسکے لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیلی اور اس نے کچھ نہ کہا
Replying to @DO3GAR
اتنا خوبصورت مفہوم ہے، کیا صرف ترجمے کو شیئر کیا جا سکتا ہے؟
1
10
157
یہ حصہ علامہ کی پیامِ مشرق میں موجود ایک نہایت خوبصورت فارسی نظم تنہائی میں سے ہے جس میں کو زمین و کائنات کے مظاہر میں سے اپنا محرمِ راز تلاش کرتے ہیں لیکن انہیں کوئی نہیں ملتا۔ یہاں لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ چاند کی روشنی بھی مستعار ہی اس کے سینے پر بھی غم کا داغ ہے اشعار کا مفہوم یہ ہے :👇🏽 میں نے لمبا سفر کیا، چاند تک گیا اور اس سے پوچھا، تیرے نصیب میں سفر ہی سفر تو ہے ہی، لیکن کوئی منزل بھی ہے کہ نہیں؟ جہان تیری چاندنی سے سمن زار بنا ہوا ہے لیکن تیرے اندر جو داغ ہے اسکی چمک دمک کسی دل کی وجہ سے ہے یا نہیں ہے؟ اس نے ستارے کی طرف رقیبانہ نظروں سے دیکھا مگر بولا کچھ نہیں۔ اس پوسٹ میں جو وڈیو ہے اس میں مکمل نظم اور ساتھ ترجمہ بھی ہے 👇🏽 x.com/do3gar/status/20229788…

Replying to @DO3GAR
مطلب بھی لکھ دیتے۔
1
11
172
*جس میں وہ زمین و کائنات۔۔۔۔
1
1
58
ہے کون راستہ دیکھے جو بام پر میرا ہے سائبان سے اوجھل بھی ایک گھر میرا ہاں اجلی صبح کے جیسی ہے وہ گلی میری تو چاندنی سا سہانا ہے اک نگر میرا کئی حقیقتوں کے درمیان رہتا ہوں جو میں اِدھر ہوں تو ہمزاد ہے اُدھر میرا کبھی تو آئینے میں اپنا عکس ہوتا ہے کبھی کبھار وہ لگتا ہے نقش گر میرا کئی زمانے مِرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں کسی خیال کا سایہ ہے ہم سفر میرا مرا نصیب تھا اس وقت اپنے جوبن پر کہ جس گھڑی تری دہلیز پر تھا سر میرا ﴾--------------------﴿ #حرفِ_راشد 14 جون 2021
6
5
20
369
رَہِ دَراز بَریدَم ز ماہ پُرسیدَم سَفَر نصیب، نصیبِ تو منزلیست کہ نیست جہاں ز پرتوِ سیماے تو سَمَن زارے فروغِ داغِ تو از جلوۂ دلیست کہ نیست سوئے ستارہ رقیبانہ دید و ہیچ نَگُفت #اقبال_بےمثال
وہ بالکل ۔۔۔۔ چاند کی طرح ہے نور بھی غرور بھی دور بھی
4
9
164
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ؟؟ اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ؟؟؟ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ؟؟؟ Rhetorical question یا استفہامِ انشائی ، ایسے سوال جو جواب کے لئے نہیں ، بیان کو اُجاگر کرنے کے لئے اٹھائے جاتے ہوں۔
چاند اور مریخ کو چھونے والے، ابھی تک سمندر کی گہرائی کا راز نہ جان سکے۔ اور نہ زمین کا سینہ زخموں سے چھلنی کرنے والے اس کے مرکز تک گہرا چھید کرسکے۔ انسان اپنے وجود کے مرکز تک پہنچنے میں میں سدا ناکام، اور اپنے باطن کے سمندر میں اُترنے سے اکثر گریزاں کیوں رہتا ہے؟؟ یہ نزدیکی سے کیوں بھاگتا ہے؟ اسے دُوری اور دُور کی اشیاء کیوں بھاتی ہیں؟ #حرفِ_راشد
1
8
191
راشد ڈوگر retweeted
Replying to @DO3GAR
اقبال فرماتے ہیں اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی اور آپ فرماتے ہیں کہ باطن کے قلزم میں طوفان اٹھے تب ہے بات بنتی ہے تو ہم اپنے من میں ڈوبنا ہی نہیں چاہتے کہ سراغِ ہستی تو یہاں ہی ہے ہم تو فاتح بن کر جینا چاہتے ہیں اور سراغِ ہستی پانے کے لئے پہلے ہارنا پڑتا ہے
1
3
7
133
Me exactly a decade ago 👇🏽😄
Me exactly a decade ago❤️❤️❤️❤️
6
1
29
470
Those who have reached the moon and Mars
still cannot plumb the ocean’s scars. Those who have gouged the earth’s deep chest
have never reached its molten heart. Yet man pursues the distant skies,
while fleeing self where true light lies. He shuns the near, the inner sea,
why does the far hold mastery? #حرفِ_راشد #poetrycommunity #poetry
چاند اور مریخ کو چھونے والے، ابھی تک سمندر کی گہرائی کا راز نہ جان سکے۔ اور نہ زمین کا سینہ زخموں سے چھلنی کرنے والے اس کے مرکز تک گہرا چھید کرسکے۔ انسان اپنے وجود کے مرکز تک پہنچنے میں میں سدا ناکام، اور اپنے باطن کے سمندر میں اُترنے سے اکثر گریزاں کیوں رہتا ہے؟؟ یہ نزدیکی سے کیوں بھاگتا ہے؟ اسے دُوری اور دُور کی اشیاء کیوں بھاتی ہیں؟ #حرفِ_راشد
1
11
162