Pakistan correspondent, ESPNcricinfo.

Joined February 2010
380 Photos and videos
Quite remarkable that player categories, and whether the PCB has placed players in the red or white-ball pathways, will not be publicly disclosed. Seems somewhat at odds with the emphasis on transparency
کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹس میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان چیئرمین سید محسن نقوی کی زیر قیادت پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس سسٹم میں اہم تبدیلیوں کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد سٹرکچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی کرکٹ کے مسلسل ارتقا کے ساتھ یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کرکٹرز کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنا اب حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور ’’ایک ہی نظام سب کے لیے‘‘ کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ایسا سٹرکچر بنایا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے، انہیں ترجیح دیتا ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ جہاں دنیا کے بیشتر کرکٹ بورڈز اب بھی تمام کھلاڑیوں کو ایک ہی درجہ بندی میں رکھتے ہیں اور ایک ٹیسٹ سپیشلسٹ کو ٹی20 فرنچائز کھلاڑی کے ساتھ ایک ہی گریڈ کے لیے مقابلے میں کھڑا کرتے ہیں، وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیئرمین محسن نقوی کی زیر نگرانی ایک ایسا ماڈل متعارف کروانے کا فیصلہ کیا یے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت اور ترجیحات کو تسلیم کرتا ہے۔ نئے نظام میں صرف تنخواہوں کے گریڈز ہی تبدیل نہیں کیے گئے بلکہ جدید کرکٹ کے اس سب سے مشکل سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ ٹی20 کے دور میں ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ کیسے رکھا جائے اور ہر فارمیٹ کے کرکٹر کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے؟ کرکٹ فارمیٹ کی باضابطہ نشاندہی نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور سٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے۔ سینٹرل کانٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے (Pathway format ) سے منسلک کیا جائے گا۔ بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی20 کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔ کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب واضح، دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہوگا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے۔ نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لیے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔ وائٹ بال اور ٹی20 مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کے لیے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہوگا۔ کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا۔ ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے۔ تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی یے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے۔ چار گریڈز سے پانچ فارمیٹ ٹریکس تک پرانے نظام میں کھلاڑیوں کو A، B، C اور D کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا تھا، جو صرف معاوضے کی سطح کو ظاہر کرتی تھیں۔ لیکن نئے نظام میں انکی جگہ پانچ واضح فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں: ٹریک AB — دوہرا فارمیٹ (ٹیسٹ اور ون ڈے) اس فارمیٹ کا حصہ پاکستان کے وہ نمایاں کھلاڑی بنیں گے جو کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کی بنیاد ہیں۔ یہ بورڈ کی پرائم کیٹییگری ہوگی۔ ٹریک A — ریڈ بال سپیشلسٹ (ٹیسٹ کرکٹ) اس فارمیٹ سے وابستہ کھلاڑی مکمل طور پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے وقف ہوں گے۔ اس ٹریک کا مقصد ٹیسٹ سپیشلسٹس کو تحفظ اور فروغ دینا ہے۔ ٹریک BC — وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل) اس فارمیٹ سے وہ کھلاڑی وابستہ ہوں گے جو محدود اوورز کی کرکٹ کے سپیشلسٹ ہوں گے۔ ٹریک D — ٹی20 انٹرنیشنل اور فرنچائز سپیشلسٹ یہ کیٹگری مختصر فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں کے لیے ہو گی جنہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔ تمام ٹریکس دو بنیادی اصولوں پر قائم ہوں گے: پہلا یہ کہ ہر کھلاڑی کا موازنہ صرف اپنے ہی ٹریک کے کھلاڑیوں سے کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ ہر ٹریک میں دو داخلی درجات ہوں گے جن میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی یا تنزلی ممکن ہو گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ہر ٹریک میں موجود معاہدوں کی تعداد یا تقسیم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔ ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے ایک تاریخی فیصلہ نئے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ سپیشلسٹس کو پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال مقابلہ جاتی لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ اجازت مختصر فارمیٹ نہیں بلکہ صرف ریڈ بال کرکٹ کے لیے ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیسٹ کرکٹرز کو دنیا کے سخت ترین فرسٹ کلاس ماحول میں تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مزید بہتر ہو کر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔ فرنچائز ٹی20 لیگز بدستور اس گروپ کے لیے بند رہیں گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ نظام کیوں متعارف کروایا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی مارکیٹس میں سے ایک میں کام کرتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں مقبول ہیں اور کرکٹ بورڈ نے اس حقیقت سے لڑنے کے بجائے اس کے مطابق ایک مؤثر نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دراصل پاکستانی کرکٹرز کے لیے سینٹرل کانٹریکٹس کا پرانا سسٹم دو مسائل پیدا کرتا تھا۔ پہلا یہ کہ مختصر فارمیٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والا کھلاڑی بعض اوقات ایک کمٹڈ ٹیسٹ کرکٹر سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیتا تھا۔ دوسرا یہ کہ ٹیسٹ کرکٹ سپیشلسٹس کے لیے وائٹ بال کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بغیر ترقی کے مواقع محدود تھے۔ نیا نظام ان دونوں مسائل کا خاتمہ کرتا ہے کیونکہ ہر کرکٹر کا موازنہ صرف اسی فارمیٹ کے کرکٹر سے ہوگا جس سے وہ وابستہ ہے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ کرکٹرز سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کیسے اہل ہوں گے؟ اس کے لیے انہیں تین مرحلوں پر مشتمل ایک نظام سے گزرنا ہو گا۔ مرحلہ اول: میڈیکل اور فٹنس ٹیسٹ ہر کھلاڑی کی جامع میڈیکل اور فٹنس اسسمنٹ کی جائے گی۔ اس کا مقصد کھلاڑیوں کی طویل مدتی صحت اور کیریئر کا تحفظ ہے۔ مرحلہ دوم: ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کرکٹرز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فعال طور پر شریک ہوں۔ مرحلہ سوم: کارکردگی کا جائزہ ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ جوابدہی پر مبنی سسٹم کرکٹ بورڈ کا نیا فریم ورک سینٹرل کانٹریکٹ کو پہلے سے زیادہ شفاف بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کو ان کی وابستگی اور کارکردگی کی بنیاد پر جانچا کیا جائے گا اور بورڈ ہر فیصلے کا واضح جواز پیش کر سکے گا۔ یہ فریم ورک 2026 کے کانٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا اور سابقہ نظام کی جگہ لے گا۔
2
27
4,648
Danyal Rasool retweeted
Can you imagine the terror and horror Israel inflicts on Palestinian children, women, and men in detention centers when the cameras are away? This is Israeli terrorism.
ככה אנחנו מקבלים את תומכי הטרור Welcome to Israel 🇮🇱
690
26,562
93,311
1,515,652
Danyal Rasool retweeted
Not sure he has anything to make up for. Is the leading Pak Test batter over the last 3 years (including on tough home surfaces). This Bang series is literally his first ordinary series behind the stumps in forever. Other formats sure, but in Tests any criticism is misdirected.
Mohammad Rizwan today looked like a man trying to compensate for all the mistakes and criticism that had followed him in recent times. The innings carried intent, responsibility and belief. Had Salman Agha not fallen at that stage, Pakistan’s hopes might have stayed alive a little longer. Now the question is: can Rizwan turn the impossible into possible tomorrow? It feels almost unrealistic from here, but cricket has always been a game that leaves room for miracles. And if Rizwan somehow pulls this off, it could become one of the most memorable and defining comebacks of his career, a chance for him to win back the hearts of cricket fans, once again.
21
160
763
59,091
Danyal Rasool retweeted
Keep seeing versions of this and while Rizwan's keeping and T20 game has regressed, I really don't get this argument for Tests. Since Shan became captain, Rizwan is the only Pakistan batter to average over 40. No one else averages even 35. He makes the side as a batter alone.
It is about time to ask Mohammad Rizwan if he even deserves a place in 11 given his keeping horrors? Since he’s so big on preaching the world over who deserves to qualify and who doesn’t.. What a sham!
6
49
329
20,070
One metric of how poor Pakistan's pace has been in Test cricket since 2022 - the worst fast bowling average and strike rate, bar Ireland.
Early today, Bangladesh were four wickets down, leading by just 161. There should have been jeopardy in this Test. But not with Pakistan's bowling attack, by many metrics the worst in all of Test cricket in the past five years. 👇 espncricinfo.com/story/ban-v…
14
38
197
8,659
Early today, Bangladesh were four wickets down, leading by just 161. There should have been jeopardy in this Test. But not with Pakistan's bowling attack, by many metrics the worst in all of Test cricket in the past five years. 👇 espncricinfo.com/story/ban-v…
4
43
280
40,428
On Babar Azam: an excellent, but not world class, Test player, playing a good, but not world class, Test innings. In a bad, definitely not world class, Test side. espncricinfo.com/story/ban-v…
23
42
426
30,278
Sinner could genuinely win a calendar Masters this year and look very bored doing it if Alcaraz doesn't get back soon
3
3
82
3,843
Mohammad Abbas now has 100 Test wickets outside Pakistan. Only five Pakistan fast bowlers - Wasim, Waqar, Imran, Mohammad Amir, and Umar Gul, have done so before him. Abbas has a better average and economy rate than them all.
15
167
1,278
25,013
Danyal Rasool retweeted
Pak in 2026 is a curious Test side. One which exists seemingly without a purpose, is inured from the consequences of its results, is indifferent to the opinions of its supporters, and oblivious to its own rapid decline. On a familiarly humbling defeat👇 espncricinfo.com/story/ban-v…
6
35
143
31,449
Pak become the second team - after Zim - to lose three consecutive Tests to BD . Shan Masood now has the joint second most defeats as Test captain in Pak history, with 11 losses in 15. Misbah, the only man to lose more, led in 56 Tests. Bleak all round for Pakistan.
29
265
1,552
46,835
This is a multi year project that will frankly never happen. Not doing what is currently achievable short term vs what may never be achievable even long term feels unwise. Not to mention you ask the actual players what they want, and they always mention a T20 league.
I feel women cricket in Pakistan currently needs a stronger and more structured domestic foundation more than a PSL style league. Instead of short-term franchise tournament, the focus should be on building a proper regional domestic system under a consistent calendar, where players regularly compete and develop their skills. Introducing three day cricket for women is equally important, as longer-format matches help improve temperament, technique and game awareness. There must be clear pathways through age group and grassroots cricket to identify and bring the new talent into the system. The priority should first be expanding the player pool and strengthening the base of women cricket. A league can only thrive once that foundation is firmly in place.
2
13
93
16,472
Danyal Rasool retweeted
Heavy rain in at the Shere Bangla National Stadium in Dhaka. #Banvpak
10
9
187
19,014
Not Arsenal complaining about a goalie being impeded at a corner
2
2
21
1,516
Nahid Rana is yet to bowl a single delivery that wouldn't have been the quickest delivery of the entire first innings
4
16
392
9,904