Joined March 2013
2,576 Photos and videos
Pinned Tweet
16 Jun 2023
آئین صرف آزاد اور با اختیار قوموں کیلئے ہوتے ہیں غلاموں کے لئے بندوق، فوج اور مذہب ہوتا ہے کامریڈ چی گویرا
26
1,066
3,574
200,996
نو سو ماردیے کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ وہ تمہیں فضول کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں ایک اسٹریلین بچی کو جان بحق کیا سربراہ بھی لواحقین کے گھر پہنچاہوا پریس کانفرنس ہورہیں 302 کا مقدمہ ہوگیا وہ تمہیں یونہی مارتے رہیں گے اور تم اپنی بربادی پر مسکراتے رہنا
3
17
414
ایک کرانچی کا ٹاؤٹ دوسرے کرانچی کے ٹاؤٹ کو ریسکیو کرنے آگیا
مزمل اسلم شہباز گل اور شہزاد اکبر پر برس پڑے ..!! "برطانیہ اور امریکہ میں بیٹھے کہتے ہیں مزمل اسلم کو کوئی نہیں جانتا یہ گوگل کرلیں مزمل اسلم کون ہے پتہ چل جائے گا، عمران خان اگر مجھے نہ لگانے کا فیصلہ کرتے تو مزمل اسلم انکے سامنے کس باغ کی مولی ہے"
2
211
زمین ساکن ہے بریلویوں کی سب سے بڑی جماعت دعوت اسلامی کے نگران شوریٰ حاجی عمران رضا عطاری دلائل دیتے ہوئے
5
2
11
1,739
گھر صاحب اتنی لمبی چھوڑیں جو ولیٹی جاسکے
عمران خان نے جیل میں ایک کتاب لکھی ہے قران و حدیث کے حوالے سے یہ کتاب عنقریب شائع ہونے جا رہی ہے اس کتاب کا نام ہے حقیقی زندگی کا راستہ قران،
7
1,151
جو ہر روز کسی نہ کسی کو غدار بنا رہا ہوتا ہے وہ بھی لیکچر دے رہا ہے
اعظم سواتی ہماری تحریک کا سب سے مُزاحمتی کھلاڑی تھا، ہم سب نے اُسے بھی غدار بنا کر سائیڈ پر کیا
10
742
جبکہ ہمارے ہاں بچے کو موبائل دینا ایک سٹیٹس کی علامت بن چکا ہے
BREAKING: Prime Minister Sir Keir Starmer has announced a social media ban for under-16s. Live updates: trib.al/AaXv2Tr
147
وفاق المدارس العربیہ (دیوبندی)،تنظیم المدارس اہلسنت (بریلوی)،وفاق المدارس السلفیہ(اہل حدیث)،وفاق المدارس الشیعہ(اہل تشیع)اور رابطہ المدارس الاسلامیہ(جماعت اسلامی) تقریباً 60000 مدارس کےطلباء کیا سیکھ رہے سورت نمل آیت 61 اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ... "بھلا کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ (قرار) بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور سوت النحل آیت 15 وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ... "اور اس نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر نہ ہلے" (سورہ النحل، آیت: 15) کے تحت اپنے طلباء کو یہی سکھاتے ہیں کہ زمین گردش نہیں کررہی اب یہ اتنا غلط نظریہ ہے کہ ساری کی ساری فزکس دبڑ دھوس ہوکر رہ جاتی ہے اور اس سے کون کون سے مسائل پیدا ہوتے ہیں آئیے دیکھتے ہیں مسئلہ نمبر ایک اگر زمین ساکن ہے، تو دنیا کے مختلف حصوں میں موسموں کا بدلنا (گرمی، سردی، بہار، خزاں) اور دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا ناقابل فہم ہو جائے گا۔ اگر سورج کو زمین کے گرد گھمایا جائے (ساکن زمین کے نظریے کے تحت)، تو خطہ استوا (Equator) اور قطبین (Poles) پر موسموں کی جو تبدیلیاں ہم روز دیکھتے ہیں، ان کی ریاضیاتی اور سائنسی وضاحت ممکن نہیں رہے گی۔ مسئلہ نمبر 2 اگر زمین ساکن ہے، تو خلا میں موجود سیٹلائٹ کو بھی ہوا میں ایک جگہ معلق (Hover) رہنا پڑے گا۔ فزکس کے اصولوں کے مطابق، کوئی بھی بھاری چیز خلا میں بغیر کسی سہارے اور بغیر حرکت کیے ایک جگہ ٹک نہیں سکتی، وہ فوراً زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے نیچے گر جائے گی۔ زمین کی گردش کو مانے بغیر آپ یہ سمجھا ہی نہیں سکتے کہ ٹی وی ڈش ہمیشہ ایک ہی طرف کیوں اشارہ کرتی ہے مسئلہ نمبر 3 موسموں کی ہواؤں کا رخ اور سمندری لہریں (Coriolis Effect) فزکس کا ایک اصول ہے جسے کوریولس ایفیکٹ (Coriolis Effect) کہتے ہیں۔ جب کوئی بڑی گیند گھومتی ہے، تو اس کی سطح پر حرکت کرنے والی چیزیں سیدھی جانے کے بجائے تھوڑی مڑ جاتی ہیں۔ زمین کی گردش کی وجہ سے شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere) میں ہوائیں سیدھی چلنے کے بجائے دائیں طرف اور جنوبی نصف کرے میں بائیں طرف مڑتی ہیں دنیا کے تمام طوفان (Cyclones/Hurricanes)، ہوائی جہازوں کے روٹس اور سمندری لہروں کا رخ اسی اصول کے تحت طے ہوتا ہے۔ اگر زمین ساکن ہے، تو طوفان کبھی بھی گول دائرے میں نہیں گھوم سکتے۔ زمین کی گردش کو مانے بغیر محکمہ موسمیات کبھی بھی طوفان کی پیشگوئی نہیں کر سکتا مسئلہ نمبر 4 جب ناسا (NASA) یا کوئی بھی خلائی ادارہ راکٹ خلا میں بھیجتا ہے، تو وہ زمین کی گردش کی رفتار کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ زیادہ تر راکٹ زمین کے گھومنے کی سمت (مغرب سے مشرق) میں لانچ کیے جاتے ہیں تاکہ زمین کی رفتار راکٹ کو اضافی دھکا (Boost) دے۔ اگر زمین ساکن ہے، تو راکٹ سائنس کے تمام حساب کتاب (Calculations) غلط ہو جائیں گے۔ خلا میں بھیجے گئے سپیس اسٹیشن (ISS) یا مریخ پر بھیجے گئے مشن کبھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ پائیں گے کیونکہ ان کے راستے کا تعین زمین کی حرکت کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جاتا ہے مسئلہ نمبر 5 آج ہم موبائل پر جو گوگل میپس یا جی پی ایس (GPS) استعمال کرتے ہیں، وہ زمین کے گرد گھومتے ہوئے 24 سے زیادہ سیٹلائٹس کے ایک نیٹ ورک پر کام کرتا ہے۔ اگر زمین ساکن ہے، تو جی پی ایس کے سگنلز کی ٹائمنگ کا حساب لگانا ناممکن ہو جائے گا۔ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) جس کے تحت سیٹلائٹ کی گھڑیوں اور زمین کی گھڑیوں کے وقت کے فرق کو درست کیا جاتا ہے، وہ بھی زمین اور سیٹلائٹ کی باہمی حرکت پر منحصر ہے۔ زمین کو ساکن ماننے سے آپ کی جی پی ایس لوکیشن کلومیٹر دور چلی جائے گی مسئلہ نمبر 6 فوکو کا پینڈولم (Foucault's Pendulum) یہ ایک انتہائی سادہ اور تاریخی سائنسی تجربہ ہے جو دنیا کی کئی سائنس لیبارٹریز اور عجائب گھروں میں لگا ہوتا ہے۔ ایک بھاری پینڈولم کو اونچی چھت سے لٹکا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، پینڈولم کے نیچے کا فرش (جو کہ زمین ہے) آہستہ آہستہ گھوم جاتا ہے، جس سے پینڈولم کے ہلنے کی سمت بدلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگر زمین ساکن ہے، تو پینڈولم کو ہمیشہ ایک ہی لکیر میں ہلنا چاہیے، اسے اپنی سمت نہیں بدلنی چاہیے۔ لیکن وہ سمت بدلتا ہے، جو اس بات کا براہِ راست اور جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ فرش (زمین) نیچے سے گھوم رہا ہے۔ المختصر یہ کہ اگر کوئی شخص زمین کی گردش کو نہیں مانتا، تو اسے صرف ایک نظریے کا انکار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ اسے فزکس، فلکیات (Astronomy)، راکٹ سائنس، محکمہ موسمیات، اور ٹیلی کمیونیکیشن کی پوری سائنس کو جھوٹا کہنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ تمام ایجادات اسی بنیاد پر کام کر رہی ہیں کہ زمین متحرک ہے
9
5
3,492
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ڈھاکہ کی ان کھٹارا بسوں اور ٹریفک سے بھری سڑکوں میں خجل خوار ہوتے ہوئے ایک غریب سے غریب بنگالی مزدور کی بھی تنخواہ چالیس ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ ایک اوسط بنگالی کی ماہانہ تنخواہ ستر ہزار پاکستانی روپے ہے۔ ڈالروں میں یہ سالانہ اوسط تین ہزار ڈالر بنتی ہے۔ اگر قوت خریداری کی بات کریں تو ایک عام بنگالی کی قوت خریداری ایک عام پاکستانی سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش ایک بہت ہی منظم طریقے سے ترقی کر رہا ہے۔ یہ سڑکوں، بے نظیر انکم سکیم، لیپ ٹاپ سکیموں یا ان جیسے دیگر پیسہ خرچ پراجیکٹ لگانے کی بجائے انسانی ترقی پر پیسہ خرچ کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بنگالیوں کی اوسط آمدن اور قوت خریداری بھارت اور پاکستان دونوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ وہیں اگر ہم بسیں اور سڑکیں دیکھ کر بات کریں تو بنگلہ دیش دنیا کی ٹریفک دنیا کی سب سے بری ٹریفک ہے۔ لیکن اگر جیب کی بات کریں تو ایک عام بنگالی ایک عام پاکستانی سے ڈیڑھ گنا زیادہ پیسہ خرچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
7
11
42
4,534
تحریک انصاف کیلئے آپکو کبھی پلس نے اٹھایا؟ نوکری ختم ہوئی ؟ غداری کے مقدمات؟ اشتہاری قرار دیا گیا ہو؟ سپاری دیکر غنڈوں سے پٹائی کروائی کسی نے؟ یا تیزاب پھینکا گیا کبھی سیاسی ویوز کی وجہ سے؟ ٹویٹر پر کچھ لوگ آپکو پڑھتے ہیں اسکا مطلب کہ کچھ بھی جھوٹ لکھ دو اپنے سے الگ نظریے رکھنے والے کے بارے ؟
مُزمل اسلم کا قصور اپنی جگہ لیکن شہزاد اکبر نے پوری پارٹی میں اِس وقت فساد پھیلایا ہوا ہے، نہ اِس کی کوئی سیاسی قُربانی ہے نہ کوئی عوام سے لینا دینا، بھئی یوٹیوب کے لیے اِتنا مت گرو
4
30
2,139
خیبرپختونخوا کا مشیر خزانہ مزمل اسلام جو فوجی ٹٹا ہے اسکو ہڈی دیکر شہباز گل اور شہزاد اکبر کے خلاف کھول دیا گیا ہے بھئی تیرا کام بجٹ بنانا ہے اور ایسا بجٹ بنانا ہے جو خیبرپختونخوا کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہو جبکہ تو کسی اور ادارے کی فلاح وبہبود کیلئے سرپلس بجٹ بنا رہا ہے اور اوپر سے اپنے دو سے گنا قد کے لوگوں پر بھونک بھی رہا ہے
1
3
24
1,905
تاریخ گواہ ہے جو چوتیا تنخواہ نہیں لیتا وہی عوام کی سب سے زیادہ لیتا ہے
2
19
110
3,008
اور فرمایا کہ اسلام نے عورت کو تمام حقوق دے دیے ہیں
طالبان نے اس لڑ کی کو قتل کر دیا طالبان کی دھمکیوں کے باوجود کا بل میں خواتین کے لیے کام کرنے والی فرشتہ احمدی جنہیں طالبان کے جنگجوؤں نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے
1
1
344
Logical retweeted
جن شہباز گل ، مرزا شہزاد اکبر پر بدترین جسمانی تشدد ہوا ، تیزاب پھینکا گیا ، اہلخانہ اٹھائے گئے ان پر الزام تراشیاں وہ کررہا ہے جو گنڈاپور حکومت میں بھی تھا سہیل آفریدی کی حکومت میں بھی ہے۔ جو وفاق سے غیر ضروری تعاون کا بھی حامی ہے۔ جو بجٹ سرپلس کا بھی حامی ہے۔ جو عسکری منرلز بل کا بھی داعی تھا۔ جسے عمران خان حکومت میں ٹویٹس کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ مزمل اسلم جیسے لوگ تحریک حقیقی آزادی پر بوجھ ہیں۔ شہباز گل اور مرزا شہزاد اکبر اس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ شکر خور عسکری اثاثے قربانیاں دینے والے اور مشکلات جھیلنے والے لوگوں کو اوورسیز ، ڈالر خور اور اس طرح کے الزامات لگا کر اپنا آپ چھپانا چاہتے ہیں۔مزمل اسلم اب بیرسٹر سیف جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔
89
2,224
6,683
65,766
بریلویوں کے امام احمد رضا خان نے اپنی کتاب فوز المبین میں ایک سو ایک دلائل کے زریعے "ثابت"کیا کہ زمین ساکن ہے البتہ انہیں بریلویوں کا مدنی چینل ڈش انٹینا پر اسلیے چل پا رہا کیونکہ زمین ساکن نہیں ہے میں کیہڑے پاسے جاواں؟
5
2
34
2,385
یہ شفا والی تو سب کہانی ہے حقائق یہ ہیں کہ زم زم کے پانی سے جراثیم اور بیکٹیریا الگ کرنے کیلیے مشہور امریکی کمپنی کومپلیٹ واٹر سسٹم (Complete Water Systems) کے تیار کردہ ہائی ٹیک فلٹریشن سسٹم اور پلانٹس استعمال کیے گئے ہیں پانی کو صاف کرنے کے لیے الٹرا وائلٹ ریز (UV Rays) اور خاص قسم کے فائبر فلٹرز استعمال کیے جاتے ہیں جو مائیکروبیکٹیریا کو ختم کرتے ہیں اس پلانٹ کی نگرانی اور تعمیر کا بڑا حصہ فرانسیسی اور دیگر عالمی کمپنیوں کے اشتراک سے سعودی انجینئرز کی زیرِ نگرانی مکمل کیا گیا تھا، لیکن جو مین واٹر ٹریٹمنٹ اور فلٹریشن ٹیکنالوجی وہاں کام کر رہی ہے وہ بنیادی طور پر امریکی ہے
کیا زم زم کا پانی واقعی شفاء بخش ہے ؟ اگر ہاں ، تو کن بیماریوں کے لیے اور اِس حوالے سے کوئی میڈیکل ٹرائلز موجود ہیں یا یہ صرف ایک عقیدہ ہے جو نسلاً بعد نسل ہم تک پہنچا ہے؟ (نوٹ صرف سنجیدہ اور لوجیکل کمنٹ کریں اور دلائیل سے بات کریں)
43
8
77
41,012
مذہب کیسے انسان کی مت ماردیتا ہے ایک ہندو شخص، جس کا نام "دولت گیری جی مہاراج" بتایا جاتا ہے، نے یونیورسٹی کی تعلیم چھوڑ کر مذہبی زندگی اختیار کر لی اور اپنی پوری زندگی صرف ایک مقصد کے لیے وقف کر دی: ہمیشہ کھڑے رہنا۔ اس کا سبب؟ اس کے عقیدے کے مطابق یہ مذہبی ریاضت بالآخر اسے ہندو دیوتا "مہادیو" کے دیدار تک پہنچا دے گی۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ گزشتہ 12 سال سے اسی حالت میں ہے۔ اس دوران نہ وہ بیٹھا ہے اور نہ ہی زمین پر لیٹ کر سویا ہے، بلکہ سہارے کی مدد سے کھڑے کھڑے ہی آرام کرتا ہے۔ تصویر میں ایک رضاکار اس کی ٹانگوں پر مرہم اور جراثیم کش ادویات لگا رہا ہے تاکہ مسلسل کئی برس تک کھڑے رہنے کے باعث پیدا ہونے والی سوجن اور دیگر جسمانی مسائل میں کچھ کمی لائی جا سکے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ "دولت گیری جی مہاراج" کو آج تک اپنے عقیدے کے مطابق مذکورہ دیوتا کے دیدار نہیں ہوئے اسلام میں اسکے برابر کا فلسفہ صوفی ازم ہے جسمیں کنویں میں لٹکنا اور بہلول دانا ابوبکر شبلی کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے عجیب و غریب کام کیے مجذوبیت کے نام پر
28
5
45
21,713
آنلائن کھانا منگواتے ہوئے یا آنلائن ایپ سے رائیڈ بک کرتے ہوئے اپنی جیب میں مطلوبہ رقم رکھنا آپکی ذمہ داری ہے رائیڈر سے چینج کا مطالبہ کرنا یا اسے کہنا کہ چینج لیکر کیوں نہیں آیا یہ بد تہذیبی ہے اپنی ذمہ داری کو پورا کریں
7
10
82
6,205
فرسٹ ورلڈ کے بھی اپنے نخرے ہیں۔ پہلے Bohemia نام تھا۔ پھر اِسکو Czechoslovakia کر دیا، پھر سوچا ہم تو جمہوریہ ہیں تو Czech Republic لکھنے لگے، پھر یہ نام بھی بہت "طویل" معلوم ہوا تو اب Czechia کر دیا گیا۔
1
1
8
1,361
مذہبیت مسئلہ کیا ہے زنیرا اسلم کی یہ کہانی پڑھیں عورتوں کے لباس کے بارے میں کیا کیا کہانیاں سناؤں۔ ایک ذاتی واقعہ سن لیجیے۔ کچھ سال پہلے میں پاکستان کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے طلبہ کو بزنس کا ایک مضمون پڑھانے کا موقع ملا ۔ کلاس میں لڑکیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ تقریباً پچاس طلبہ میں سے بمشکل پانچ یا سات لڑکیاں تھیں۔ لڑکوں کی اکثریت کا حال یہ تھا کہ نہ بات کرنے کی تمیز، نہ لباس پہننے کا سلیقہ۔ کوئی رات کے کپڑوں میں چلا آ رہا ہے، کوئی چُر مَر شلوار قمیض میں، اور کچھ کے پاس کھڑے ہو کر بات کریں تو بدبو سے حال خراب ہو جائے۔ خیر جب میں پڑھا رہی ہوتی تو فقرے بازی، معنی خیز تبصرے، اونچی آواز میں قہقہے اور شرمندہ کرنے کی کوششیں عام بات تھیں۔ جو چند لڑکیاں کلاس میں تھیں وہ اکثر خاموش رہتی تھیں۔ کبھی کوئی ایک آدھ بات کر دیتی تو لڑکے مل کر اس کا مذاق اڑانے لگتے۔ اور خود ماشاللہ کانفیڈنس کا حال یہ تھا کہ جب کلاس میں پریزنٹیشن دینی پڑتی تو ان لڑکوں کے پسینے چھوٹ جاتے اور منہ سے اٹک اٹک بات نکلتی.. لیکن موب میں سب بدمعاش بن جاتے. میری تو خیر زبان میری تعلیم سے زیادہ ہی لمبی ہے تو ان کی بہت کوششوں کے باوجود میرے پڑھانے پر کوئی فرق نہ پڑا اور نہ ان کو قابو کرنا مسلہ رہا. سمسٹر کے اختتام پر طلبہ سے رائے لی گئی۔ ان میں سے ایک رائے آپ دیکھ سکتے ہیں۔ پہلے میری تدریس کی تعریف کی گئی، پھر اصل مسئلہ سامنے آ گیا: پینٹ اور شرٹ، اور دوپٹہ نہیں۔ ویسے مجھے جینز، پینٹ اور ڈھیلا ڈھالا سویٹر پہننا ہمیشہ سے پسند رہا ہے۔ لیکن اس طالب علم کی توجہ میرے لیکچر، میرے مضمون یا میری صلاحیت پر نہیں تھی۔ اس کی توجہ اس بات پر تھی کہ میں نے دوپٹہ لیا ہے یا نہیں۔ یہ تبصرہ پڑھ کر میں کافی دیر سوچتی رہی کہ ان 45 لڑکوں میں سے یہ کس نے لکھا ہوگا۔ پھر یہ بھی سوچتی رہی کہ اگر اس کی سوچ یہ ہے تو وہ اور کیا سوچتا ہوگا، کیا کہتا ہوگا اور کیا کرنا چاہتا ہوگا۔ ذرا سوچیں، ملک بھر میں ہزاروں مرد اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ کیا کبھی کسی لڑکی نے یہ شکایت کی کہ وہ استاد کی شکل دیکھ کر پڑھ نہیں سکتی؟ یا استاد کے لباس کی وجہ سے اس کی توجہ بٹ جاتی ہے؟ نہیں۔ کیونکہ لڑکیوں کو بچپن سے اپنی نظر اور اپنے رویے کی ذمہ داری لینا سکھایا جاتا ہے۔ لڑکوں کو اکثر یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر ان کی توجہ بھٹکے تو قصور سامنے والی عورت کا ہے۔ اور یاد رکھیے، یہ کوئی ان پڑھ یا پسماندہ طبقہ نہیں تھا۔ یہ پاکستان کا وہ طبقہ تھا جو یونیورسٹی تک پہنچا ہوا تھا۔ اور میرا ١٤ سال کی تدریس میں تجربہ یہ رہا ہے کہ جتنا تنگ نظر پاکستان کا انجنیئر اور سائنسی طبقہ ہے اتنا کوئی اور نہیں. کیوں، یہ کہانی کسی اور دن سہی آج کئی سال بعد یہ تبصرہ اس لیے شیئر کر رہی ہوں کہ شاید کچھ لوگوں کو سمجھ آئے کہ پاکستان میں عورتیں روزانہ کس قسم کی فضول، جاہلانہ اور تھکا دینے والی باتیں سنتی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ عورتیں بھی جو تعلیم یافتہ ہیں، خودمختار ہیں اور معاشرے کے نسبتاً مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مسئلہ عورت کے لباس کا نہیں، مسئلہ ان ذہنوں کا ہے جنہیں عورت کبھی انسان نظر ہی نہیں آتی، صرف ایک فتنہ نظر آتی ہے۔
4
3
43
6,129