Joined July 2025
2,206 Photos and videos
Hunzla Baluch retweeted
فیس لیس ٹرائل: عدالت، شفافیت اور انصاف کا سوال اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا اور سیاسی جدوجہد کو مقدمات کی نذر کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست تنقیدی آوازوں کا جواب مکالمے، سیاسی عمل اور جمہوری ذرائع سے دینے کے بجائے قانونی جبر اور عدالتی ہتھکنڈوں کے ذریعے دینا چاہتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا طرزِ عمل ایک تشویشناک حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں قانونی اور عدالتی طریقۂ کار کو بار بار تبدیل کرکے شفافیت، جوابدہی اور بنیادی حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انتظامی حراست، متعدد مقدمات کا اندراج، مسلسل جسمانی ریمانڈ، جیل ٹرائل اور اب فیس لیس ٹرائل جیسے اقدامات اس تاثر کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ قانون کو انصاف کی فراہمی کے بجائے سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پرامن سیاسی کارکن کسی ریاست کے دشمن نہیں ہوتے۔ انہیں اپنے خیالات، مطالبات اور سیاسی مؤقف کے اظہار کا حق حاصل ہے، جو ہر مہذب معاشرے اور جمہوری نظام کا بنیادی اصول ہے۔ ایسے کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کو اس انداز میں چلانا کہ عوامی نگرانی، میڈیا کی رسائی اور عدالتی شفافیت محدود ہو جائے، انصاف کے بنیادی تقاضوں سے انحراف کے مترادف ہے۔ منصفانہ ٹرائل کا تقاضا ہے کہ مقدمات کھلی عدالتوں میں چلائے جائیں، ملزمان کو اپنے وکلاء تک مکمل رسائی حاصل ہو، عدالتی کارروائی عوامی نگرانی میں ہو اور ہر فریق کو اپنے مؤقف کے اظہار کا مساوی حق دیا جائے۔ جب مقدمات کو جیل کی دیواروں کے پیچھے یا فیس لیس عدالتوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے تو یہ خدشات مزید گہرے ہو جاتے ہیں کہ قانونی نظام کو انصاف کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف ریاستی طاقت اور قانونی ہتھکنڈوں کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جبر، قید، مقدمات اور پابندیاں عوامی شعور اور سیاسی نظریات کو ختم نہیں کر سکتیں۔ آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، مگر حق، انصاف اور سیاسی حقوق کے مطالبات کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی کارکنوں اور قیدیوں کو آئین اور قانون کے مطابق منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے، مقدمات کو کھلی عدالتوں میں منتقل کیا جائے، عدالتی شفافیت کو یقینی بنایا جائے، اور قانون کو سیاسی انتقام یا اختلافی آوازوں کو دبانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ #EndUnfairTrialOFBYCLeaders
2
36
61
5,078
Hunzla Baluch retweeted
𝗢𝗻𝗹𝗶𝗻𝗲 𝗗𝗶𝘀𝗰𝘂𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻 𝘿𝙖𝙮 1: The Rule of Lies in the Name of Law Speakers: Adv. Jadain Dashti & Adv. Israr Baloch Time: 8:00–9:00 PM Live on Facebook Join the critical discussion on justice, due process, transparency, and judicial accountability. #EndUnfairTrialsOfBYCLeaders Live now: click the link to join. facebook.com/share/v/1EHdJCa…

23
33
1,033
Hunzla Baluch retweeted
𝗢𝘂𝗿 𝗗𝗲𝗺𝗮𝗻𝗱𝘀 - End online and jail-based trials and restore open courtroom hearings so that court proceedings are conducted in a transparent manner and remain accessible to the public. - Replace the Presiding Judge and appoint a new, impartial judge to hear this case, as the current judge, Mobeen, has shown state bias from the outset of the proceedings. The application filed by the detained BYC leaders seeking a change of judge must be heard immediately, and a new judge should be assigned without delay. - Stay all judicial proceedings related to this case until a new judge is appointed and open courtroom hearings are restored, ensuring that the trial is conducted fairly, transparently, and in accordance with the principles of justice. #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
35
57
969
Hunzla Baluch retweeted
Democracy is based on respect for different opinions, protection of fundamental rights, and the fair and transparent application of the law. When legal processes involving political activists or dissenting voices are conducted in ways that limit transparency and public scrutiny, confidence in the justice system is weakened. In this context, the decision to convert the trials of BYC leaders into faceless proceedings has raised serious concerns regarding openness, accountability, and the right to a fair hearing. Fair trial principles require that judicial proceedings not only be impartial but also be seen to be impartial. A strong state deals with disagreement through democratic and constitutional means, not through force, and ensures equal rights and fair treatment for everyone under the law. #EndUnfairTrialOFBYCLeaders
1
35
54
1,118
Hunzla Baluch retweeted
2/2 جہاں سیاسی تربیت شعور کی آبیاری کا ایک ذریعہ بنتی ہے، وہیں ریاستی بربریت بھی غیر ارادی طور پر اسی شعور کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ تاریخ کا ایک المیہ یہ ہے کہ جبر ہمیشہ اپنے خلاف دلائل خود پیدا کرتا ہے۔ جب ظلم روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے تو وہ ہزاروں تقریروں سے زیادہ قوت کے ساتھ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ جب انصاف کو قانون کی زبان میں دفن کیا جائے تو سوالات جنم لیتے ہیں، اور جب سوالات جنم لیتے ہیں تو شعور اپنی نئی صورتیں اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قید، ہر مقدمہ اور ہر پابندی اپنے ظاہری مقصد کے برعکس ایک نئے ادراک کو جنم دیتی ہے۔ ریاست شاید اب بھی طاقت کو تاریخ کا آخری فیصلہ سمجھتی ہے، مگر طاقت کبھی بھی تاریخ کا آخری لفظ نہیں رہی۔ بندوقیں جسموں کو محصور کر سکتی ہیں، مگر خیالات کو نہیں؛ زندان انسانوں کو محدود کر سکتے ہیں، مگر شعور کی حرکت کو نہیں۔ مزاحمتی تحریکیں اگرچہ جلسوں، نعروں اور تنظیمی ڈھانچوں میں اپنا مادی اظہار پاتی ہیں، لیکن ان کی اصل قوت ان اجتماعی معانی میں پوشیدہ ہوتی ہے جو عوام کے ذہنوں اور دلوں میں تشکیل پاتے ہیں۔ اور جب کوئی قوم اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے حق کے بارے میں ایک واضح شعور حاصل کر لے تو جبر اس کے سفر کو دشوار تو بنا سکتا ہے، مگر اسے منقطع نہیں کر سکتا۔ ہمارے ساتھیوں کی قید محض چند افراد کی قید نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کی علامت ہے جس میں حق اور طاقت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ ان کی استقامت اور قربانیاں کسی فرد، تنظیم یا لمحاتی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کے لیے ہیں جس میں انسان کی حرمت محفوظ ہو، انصاف محض ایک نعرہ نہ ہو، اور قوم اپنے اجتماعی ارادے کے مطابق اپنی تقدیر کا تعین کر سکے۔ اسی لیے ہم رنجیدہ ضرور ہیں، مگر مایوس نہیں؛ ہم محاصرے میں ضرور ہیں، مگر خاموش نہیں؛ ہم جبر کے سائے میں ضرور کھڑے ہیں، مگر سرنگوں نہیں۔ وقت گزر جائے گا، مگر جبر کی یاد باقی رہے گی۔ آنے والی نسلیں شاید ان مقدمات کی تفصیلات بھول جائیں، مگر وہ اس حقیقت کو یاد رکھیں گی کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب طاقت اپنے تمام وسائل کے ساتھ ایک بیدار ہوتے ہوئے شعور کے مقابل کھڑی تھی۔ تاریخ بالآخر طاقت کے حجم سے نہیں بلکہ موقف کی صداقت سے اپنا فیصلہ لکھتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قوموں کی تاریخ میں وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں جو اپنے عہد کے خوف کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنے یقین کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ریاست کا مکروہ چہرہ مزید عیاں ہوتا جائے گا، یہ جبر یاد رکھا جائے گا، اور آنے والی نسلیں گواہی دیں گی کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ظلم اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود تھا، مگر اس کے مقابل چند لوگ اپنے نظریے، اپنے حق اور اپنی قوم کے ساتھ استقامت سے کھڑے رہے۔ تاریخ کی تمام بڑی تبدیلیاں اسی اخلاقی ثابت قدمی سے جنم لیتی ہیں۔ قوموں کے مستقبل کی بنیاد ہمیشہ وہی لوگ رکھتے ہیں جو طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے سچائی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ محض ہمارے قید ساتھیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی وقار، انصاف اور قومی بقا کا سوال ہے۔ جب تک جبر اپنی مختلف صورتوں میں موجود رہے گا، مزاحمت بھی اپنی مختلف صورتوں میں زندہ رہے گی۔ کیونکہ مزاحمت محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ آزادی کی خواہش کا وہ شعور ہے جسے نہ زندانوں میں قید کیا جا سکتا ہے، نہ ہتھکڑیوں سے باندھا جا سکتا ہے، اور نہ ہی خوف کے ذریعے خاموش کیا جا سکتا ہے۔
1
46
88
1,390
Hunzla Baluch retweeted
𝗪𝗵𝘆 𝗮𝗿𝗲 𝗕𝗬𝗖 𝗟𝗲𝗮𝗱𝗲𝗿𝘀 𝗶𝗻 𝗮 𝘀𝗶𝘁-𝗶𝗻 𝗶𝗻𝘀𝗶𝗱𝗲 𝗝𝗮𝗶𝗹? •Opposing faceless trials and rejecting judicial secrecy in legal proceedings. •Demanding open court hearings and the right to a fair, transparent trial. •Seeking access to lawyers, families, and public oversight throughout the judicial process. •Calling for the immediate consideration of the pending application for judge replacement and necessary action on it. #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
41
55
946
Hunzla Baluch retweeted
1/2 بطور ایک دوست، آج میرے وجود پر ایک گہرا بوجھ ہے کہ میرے رفقا چودہ ماہ سے زائد عرصے سے زندانوں کی خاموش دیواروں کے درمیان محصور ہیں۔ بطور ایک بلوچ، میں اس اجتماعی اذیت کو محسوس کرتی ہوں کہ ہماری قوم کی آوازوں کو ہم سے جدا کرکے قید کر دیا گیا ہے، اور بطور ایک ایسے فرد کے جو خود ریاستی جبر اور ظلم کے تجربے سے گزرا ہے، میں اس حقیقت سے بھی بے چین ہوں کہ گزشتہ چودہ مہینوں سے ہمیں اپنی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ لیکن بطور ایک سیاسی کارکن، یہ صورتِ حال میرے لیے اضطراب کا باعث نہیں۔ اس لیے کہ میں جانتی ہوں کہ انقلابی مزاحمتی جدوجہد محض افراد کی سرگرمی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے شعور کا سفر ہے جو افراد سے آگے بڑھ کر اجتماعی وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ سیاسی مزاحمت کا بنیادی مقصد عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہوتا ہے، اور آگاہی جب شعور کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو وہ محض ایک خیال نہیں رہتی بلکہ ایک سماجی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی شعور منتشر انسانوں کو ایک قوم میں، خاموش ہجوم کو ایک منظم قوت میں، اور محکومی کو مزاحمت میں تبدیل کرتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جدوجہد دراصل اسی شعور کی تشکیل اور توسیع کی جدوجہد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اس کے خلاف اپنی تمام تر طاقت بروئے کار لا رہی ہے۔ کیونکہ جبر ہمیشہ اس شعور سے خوفزدہ ہوتا ہے جو انسانوں کو اپنی حالت، اپنی شناخت، اپنے حقوق اور اپنی اجتماعی قوت کا ادراک عطا کر دے۔ جب ایک قوم اپنے وجود کے معنی کو سمجھنے لگتی ہے تو جبر کے تمام آلات اپنی مطلق حیثیت کھونے لگتے ہیں۔ اسی لیے آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن درحقیقت چند افراد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ ایک بیدار ہوتے ہوئے قومی شعور کو روکنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ جب لاکھوں لوگوں نے اس تحریک کا حصہ بن کر یہ ثابت کر دیا کہ بلوچ عوام ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف متحد ہو رہی ہے تو طاقت کے ایوانوں میں خوف پیدا ہوا۔ پاکستان نے یہ گمان کیا کہ بلوچ رہنماؤں کو زندانوں میں ڈال کر، جھوٹے مقدمات قائم کر کے، کارکنوں کو ہراساں کر کے اور تنظیمی سرگرمیوں کو محدود کر کے اس شعور کی پیش قدمی کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن تاریخ کا سب سے بنیادی سبق یہی ہے کہ شعور کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ جسموں کو دیواروں کے درمیان محصور کیا جا سکتا ہے، مگر خیالات کو نہیں؛ آوازوں کو وقتی طور پر خاموش کیا جا سکتا ہے، مگر ان معنوں کو نہیں جو ایک بار عوامی شعور کا حصہ بن جائیں۔ آج ہمارے ساتھی جیلوں میں ہیں، ان کے خلاف درجنوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں، کارکنوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبری پریس کانفرنسوں کے ذریعے بیانیوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور عدالتی کارروائیوں کو ریاستی جبر کے طول دینے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ مگر ریاست شاید اس حقیقت کو نہیں سمجھتی کہ اس کا ہر جابرانہ قدم خود اس کے خلاف ایک تاریخی شہادت بن رہا ہے۔ وہ جس شعور کو دبانا چاہتی ہے، اسی کے پھیلاؤ کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
5
92
227
4,847
Hunzla Baluch retweeted
انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر مقدمہ کھلی عدالت میں سنا جائے۔ منصفانہ ٹرائل ہر فرد کا آئینی اور بنیادی حق ہے۔ اختلافِ رائے کو جرم بنانا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ قانون کو جبر نہیں بلکہ انصاف کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ ہم شفاف عدالتی عمل اور بنیادی حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں۔ #EndUnfairTrialOFBYCLeaders
1
47
72
2,747
آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ لشکر بناؤ اور لڑو۔ اگر میرا پشتون یا بلوچ ان سے لڑے گا تو ان کی دشمنیاں نسلوں تک جاری رہیں گی یہ ان کی ذمہ داری نہیں یا تو پھر آپناعلان کر دیں کہ ہر پاکستانی کو فوجی تربیت دی جائے گی لیکن ہمیں تو یہاں ایک پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں، مولانا فضل الرحمان
4
89
557
26,565
Hunzla Baluch retweeted
بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنما اس وقت جیل کے اندر فیس لیس ٹرائل کے خلاف احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف واضح ہے کہ انہیں آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں منصفانہ اور شفاف سماعت کا حق حاصل ہے، اور انہیں اس بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ
1
25
71
2,355
Hunzla Baluch retweeted
بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنما اس وقت جیل کے اندر فیس لیس ٹرائل کے خلاف احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف واضح ہے کہ انہیں آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں منصفانہ اور شفاف سماعت کا حق حاصل ہے، اور انہیں اس بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ
33
88
1,414
Hunzla Baluch retweeted
ہمارے مطالبات - آن لائن اور جیل میں ہونے والے ٹرائلز کا خاتمہ کیا جائے اور کھلی عدالت میں سماعت بحال کی جائے تاکہ عدالتی کارروائی شفاف ہو اور عوام کے لیے قابلِ رسائی رہے۔ - موجودہ جج مبین کو تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ روز اول سے مقدمے کے حوالے سے ریاست کی طرف جانبدار رہے ہیں تنظیم کے رہنماؤں نے جج کے بدلنے کے لیے کورٹ پیں ایپلیکشن دائر کی ہے جسے جلد سنا جائے اور اس کیس کی پیروی کے کیے نیے غیر جانب دار جج کو زمہ داری سونپی جائے۔ - جج کے تبادلے اور کورٹ ٹرائیل شروع کرنے تک مقدمہ روک دیا جائے۔ #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
1
42
81
1,166
Hunzla Baluch retweeted
ہمارے مطالبات - آن لائن اور جیل میں ہونے والے ٹرائلز کا خاتمہ کیا جائے اور کھلی عدالت میں سماعت بحال کی جائے تاکہ عدالتی کارروائی شفاف ہو اور عوام کے لیے قابلِ رسائی رہے۔ - موجودہ جج مبین کو تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ روز اول سے مقدمے کے حوالے سے ریاست کی طرف جانبدار رہے ہیں تنظیم کے رہنماؤں نے جج کے بدلنے کے لیے کورٹ پیں ایپلیکشن دائر کی ہے جسے جلد سنا جائے اور اس کیس کی پیروی کے کیے نیے غیر جانب دار جج کو زمہ داری سونپی جائے۔ - جج کے تبادلے اور کورٹ ٹرائیل شروع کرنے تک مقدمہ روک دیا جائے۔ #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
1
60
97
2,676
Hunzla Baluch retweeted
مرچی بلوچستان ءِ ہمک گونڈوں ہمے گپ سرا پہر بندایت کہ ڈاکٹر ماہ رنگ گوں وتی ہم پگریں سنگتاں جیل ءِ تہ ءَ چوں کوہ ءَ مہکم انت ۔ بلوچ راھشونانی مہکمی ہمے گپ ءِ پدرائی کنت کہ مرچی باشعور بلوچ سیاسی کارکن اے راہ ءِ سپر ءِ سکی ءُ سُوری مارگ ءِ پد ہم اے دراجیں سپر ءِ ہاترا ءَ کُربانی دئیگ ءَ تیار بوتگ انت ۔ #EndUnfairTrialsOfBYCLeaders
49
91
1,090
Hunzla Baluch retweeted
میری بہنGullzadi سمیت (BYC) کی قیادت کو گزشتہ 15 ماہ سے جھوٹے مقدمات میں قید رکھا گیا ہے، جہاں نہ صرف تمام قانونی تقاضوں کو پامال کیا گیا بلکہ خود قانون کو بھی معطل کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ ​ناانصافیوں کےتسلسل میں سب سے پہلے انہیں 3MPO کے تحت زبردستی قید کیا گیا۔ ​اس کے بعد 3 مختلف
3
54
113
2,090
𝗔𝗰𝘁 𝗙𝗼𝗿 𝗝𝘂𝘀𝘁𝗶𝗰𝗲 #ReleaseBYCLeaders #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
3
5
32
𝟯-𝗗𝗮𝘆 𝗪𝗲𝗯𝗶𝗻𝗮𝗿 𝗦𝗲𝗿𝗶𝗲𝘀 𝘈 𝘋𝘪𝘢𝘭𝘰𝘨𝘶𝘦 𝘰𝘯 𝘖𝘱𝘦𝘯 𝘑𝘶𝘴𝘵𝘪𝘤𝘦 𝘢𝘯𝘥 𝘋𝘶𝘦 𝘗𝘳𝘰𝘤𝘦𝘴𝘴 #ReleaseBYCLeaders #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
2
2
5
𝗔𝗰𝘁 𝗙𝗼𝗿 𝗝𝘂𝘀𝘁𝗶𝗰𝗲 #ReleaseBYCLeaders #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
3
3
11