Former President PTI, PMLN & Alliance for Restoration of Democracy (ARD). Author of Haan Main Baghi Hoon, Zinda Tareekh & Takhta-e-Daar ke Saaye Talay.
جی ہاں، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر پر 1970 کی دہائی میں کالج کی طالبات کو اغوا کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یہ الزامات ان کے خلاف مقدمات اور سابقہ اہلیہ کی خودنوشت میں بھی درج ہیں، تاہم قانونی طور پر انہیں ثابت نہیں کیا جا سکا۔
· 1972 میں دو لڑکیوں کا اغوا: 1972 میں لاہور سے مبینہ طور پر دو لڑکیاں لاپتہ ہوگئیں اور افواہ تھی کہ انہیں گورنر ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ اس واقعے نے اس وقت کے نوجوان رہنما جاوید ہاشمی کی زیرِ قیادت طلبہ کے دھرنے کو جنم دیا، جس کے بعد لڑکیاں بحال ہوگئیں.
· تہمینہ درانی کی کتاب میں الزام: ان کی سابقہ اہلیہ نے اپنی کتاب "مینڈا سائیں" میں ان پر بھٹو دور میں "جیل روڈ پر واقع گرلز کالجز" کی طالبات کو اغوا کرنے کا الزام عائد کیا. انہوں نے ان کی ہوس پرستی اور عورت بازی کے بارے میں بھی تفصیلات لکھی ہیں.
· قانونی حیثیت: اگرچہ یہ الزامات عوامی اور سیاسی طور پر اس قدر تہلکہ خیز تھے کہ انہوں نے حکومت کو شرمندہ کر دیا، لیکن عدالتی طور پر انہیں کبھی بھی باضابطہ طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا، اور نہ ہی ان پر کبھی باقاعدہ قانونی چارہ جوئی ہوئی.
۔
مصطفیٰ کھر کے بارے میں کئی تحریرین میری نظر سے گزری، جن میں میرا ذکر بھی تھا۔
میں 21-22 کا طالب علم تھا، مجھے مصطفیٰ کھر نے زنجیروں میں بندھوا کر جنوری کی سرد راتوں میں برف کی سلوں پر لٹایا۔ آج تک نہیں سمجھ سکا کے انکی کون سی ego satisfy ہوگئ۔
گزشتہ روز ہاشمی صاحب سے بہت لمبے عرصے بعد ملاقات ہوئی لیکن عمر نے ان کے جذبے پر کوئی فرق نہیں ڈالا اج بھی وہی اصول وہی عزم وہی حوصلہ اور آئین کے سربلندی کے ساتھ وہی کمٹمنٹ
میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے
وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
اور مجرم پلتے رہتے ہیں
ان چوروں کے سرداروں سے
انصاف کے پہرے داروں سے
میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
@JavedHashmiJH
🚨جاوید ہاشمی کی اہم گفتگو
عمران خان کہیں نہیں جا رہا عمران خان اپنے ملک میں اس ملک میں جمہوریت ہونی چاہیے اور ان کو کہتا ہوں ملک کی جان چھوڑ دیں اور لوگ جس کو ووٹ دیں وہ حاکم ہونا چاہیے اگر یہ نہیں مانیں گے تو پھر یہ بن کرسیوں پر نہیں بیٹھ سکیں گے ہم سے کشمیر کو یہ لوگ بیچ رہے ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں ہم نہیں بکنے دیں گے پورے پاکستان کو بیچ چکے ہیں یہ نواز شریف اور زرداری لوگ
کشمیر کو جلیانوالہ باغ بنا دیا گیا ہے، اپنے ہی بیٹوں پر گولیاں چلائیں گئیں، انکی لاشیں گرائی گئیں، کوئی اس پر بات کریگا؟
اسے پہلے 9 مئی کو قتلِ عام ہوا، ڈی چوک پر اپنے ہی شہریوں کا خون بہایا گیا۔ مریدکے سے پختونخوا تک، بلوچستان سے راولاکوٹ تک، اس ملک کو قبرستان بنا دیا گیا ہے۔
ان حالات کا ذمعہ دار عاصم منیر ہے۔ پاکستان پاکستانیوں کا ہے تم جرنیلوں کا نہیں! اپنے بیرکوں میں واپس جاو نہیں تو پورا پاکستان کشمیر بن جائیگا!
سقوطِ ملتان 2 جون 1818
208 سال ہوگئے۔
تحریر جاوید ہاشمی
برصغیر کی تاریخ میں آج کا دن سقوطِ ملتان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 2 جون 1818ء کو نواب مظفر خان سدوزئی اور ان کے خاندان نے ملتان کے دفاع میں ایسی قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
نواب مظفر خان شہید نے جس بہادری اور استقامت سے رنجیت سنگھ کا مقابلہ کیا۔ ان کی حکومت کو ایک مثالی حکومت سمجھا جاتا ہے، اور شہر کے ہندو باشندے بھی ان سے محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ انہوں نے مظفرگڑھ شہر کی بنیاد رکھی اور شجاع آباد کو آباد کیا، جس سے خطے کی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
محاصرے کے دوران نواب مظفر خان نے آخری دم تک مزاحمت کی۔ ان کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ان کی آنکھوں کے سامنے شہید ہوئے، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ نواب مظفر خان خود حافظِ قرآن تھے اور ان کی بیٹی بھی حافظِ قرآن تھیں۔ انہوں نے امام حسینؑ کی سنتِ استقامت پر عمل کرتے ہوئے حق اور اپنی سرزمین کے دفاع میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
شاید واقعۂ کربلا کے بعد یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ ایک حکمران خاندان نے اس طرح اجتماعی طور پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آخرکار نواب مظفر خان بھی دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے اور یوں ملتان کی سرزمین نے اپنے حکمران اور اس کے خاندان کی بے مثال قربانی ہے۔ یہ ملتان کی شاندار تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے یاد رکھنا اور آنے والی نسلوں تک پہنچانا چاہیے۔ اللّٰہ انہیں اور انکے ساتھیوں کو کروٹ کروٹ جنت میں جگہ ادا فرمائے۔
فخر ہے کہ ملتان کی مٹی کے حکمران نے اقتدار یا جان بچانے کے بجائے اپنی سرزمین کے دفاع کو ترجیح دی۔ سقوطِ ملتان کے بعد ملتان اور ہندو ساون مل 10 سال گورنر رہے، کئی مسجدوں کو گھوڑوں کا اسطبل اور اسلحہ خانہ بنایا گیا، مگر سکھ حکومت نے سب کے باوجود ملتان کی صوبائی حیثیت کو برقرار رکھا۔ انگریز نے آکر اس حیثیت کو ختم کیا جس کے باعث آج تک جنوبی پنجاب محرومیوں کا شکار ہے۔
دنیا کے اسٹیج پر اس وقت دو ہی فاشسٹ موجود ہیں: ایک ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرا عاصم منیر۔ دونوں ایک دوسرے کی دن رات تعریف و توصیف میں مگن ہیں۔
آج سکردو کی فلائٹ پر جاتے ہوئے اسد قیصر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ایئرپورٹ کی ٹریفک کئی گھنٹوں تک صرف اس لیے بند رکھی گئی کہ ایک سیاسی جماعت کا رہنما انتخابی مہم کے لیے نہ جا سکے۔ جنید اکبر کو بھی انتخابی مہم کے علاقے سے نکال دیا گیا۔
عاصم منیر، تم ایک فاشسٹ ہو۔ اور فاشسٹ، چاہے وہ مسولینی ہو، رومانیہ کا چاؤشیسکو ہو یا ہٹلر، ان سب کا انجام تاریخ میں درج ہے۔
جب اپنی ہی عوام اور اپنی ہی فوج کسی کے خلاف ہو جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟
سائفر پبلک ہونے کے بعد ثابت ہوا کہ ایک سازش کے تحت عمران خان کو ہٹا کر عوامی رائے اور ووٹ کی عزت کو پامال کیا گیا۔
عاصم منیر اینڈ کمپنی کو امریکا کی نوکری کے لیے لایا گیا، جو وہ آج تک وفاداری سے سرانجام دے رہے ہیں۔
امریکا ایک شکست خوردہ ریاست ہے۔ وقت دور نہیں جب تمام سازشی عناصر اور امریکا کے غلاموں کو اپنے جرائم کی سزا ملے گی۔
عمران خان، شاہ محمود قریشی اور تمام قیدیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو ناحق قید کاٹ رہے ہیں۔ آپ کا مؤقف آج قوم کے سامنے سچ ثابت ہو چکا ہے
الطاف حسن قریشی صاحب کو 1964 میں پہلی بار پڑھا۔ تب سے اب تک پڑھتا رہا ہوں۔ وہ اردو صحافت کے پاسبان تھے۔ یاد ہے جب مشرقی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ہوتا تھا کہ یہ لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں، تو انہوں نے “محبت کا زم زمزمہ” لکھ کر پاکستانیوں کی سوچ درست کرنے کی کوشش کی۔ آخری عمر تک قلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آج ہم اپنے فکری استاد سے محروم ہوگئے۔
ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد آ رہا ہے۔ جنگ کے بہانے آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہو رہی ہیں۔ غلامی کا پھندا عوام کے گلے میں ڈال دیا گیا ہے۔ پیٹرول بھی 'قسطوں' کی ادائیگی کے لیے مہنگا ہو رہا ہے جو سفید پوش طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ اس سب کے دوران آرمی چیف عاصم منیر کی ترجیح اس کا نیا گلف اسٹریم جہاز رہا۔ قوم نے اپنے خون سے اس کی قیمت ادا کی۔
حکومت دن رات کفایت شعاری کے درس دے رہی ہے، جبکہ مریم نواز کی ترجیح بھی اُن کا جہاز رہا۔ یہ معیشت کا نمونہ تہہ ہوا ہے!
آج سے 4 سال قبل، 9 مئی 2022 کو میری اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔ اگرچہ عمر کے اس حصے میں، اور فالج کی وجہ سے، سرجری میں survival chance بہت کم تھا۔ ڈاکٹروں کے خدشات کے مطابق یہ ایک سنگین نوعیت کی سرجری تھی، مگر میں نے فیصلہ کیا کہ ایک کمزور دل والے جاوید ہاشمی سے بہتر ایک مردہ جاوید ہاشمی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنا کرم کیا اور محفوظ رکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ نے مجھے ہماری قوم کو چوٹیں پہنچانے والی مقتدرہ کو للکارنے کے لیے زندہ رکھا۔ اس میں یہ نہیں سوچا کہ اس سے عمران خان یا کسی اور کو فائدہ ہوگا۔
1964 میں ایک جرنیل کو للکارنے پر پولیس نے میرے گھر کا محاصرہ کیا تھا، اور آج بھی پولیس نے میرے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ تب ایوب خان کے سامنے کھڑے ہو کر جو فیصلہ کیا تھا، آج بھی اسی پر کھڑا ہوں۔ جرنیلی ٹولے نے اس ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
اپنی زندگی کے پچھلے چار سال اپنی قوم کے نام کرتا ہوں
آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے false flag operation کو تین سال ہو چکے ہیں۔ روزِ اول سے کہہ رہا ہوں کہ یہ حملہ، فوج بشمول عاصم منیر، کی تحریکِ انصاف کے خلاف ایک سازش تھی۔ تین سال گزر جانے کے باوجود ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے خود CCTV فوٹیجز غائب کیں۔
اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود آج بھی تحریکِ انصاف کا ورکر اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے، جبکہ اس کا لیڈر بہادری سے آج بھی جیل کاٹ رہا ہے۔ اس پر عمران خان اور تحریکِ انصاف خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ تمام اپوزیشن compromised ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری فوج کے لیے اپنے ہی لوگوں کو چن کر اپوزیشن لیڈر بنانا کبھی مشکل کام نہیں رہا۔ ایوب خان کے دور ویسٹ پاکستان میں خواجہ صفدر، پھر پنجاب اسمبلی میں بھٹو صاحب کے دور میں علامہ رحمت اللہ ارشد کو حزبِ اختلاف کا لیڈر بنایا گیا۔
میر عبدالباقی بلوچ جیسے لوگ، جو اس سب کے باوجود بھی ان کے خلاف بولتے تھے، انہیں ایوب خان اور نواب آف کالا باغ کی جانب سے مسلسل مروانے کی کوششیں برداشت کرنا پڑیں۔
اس کے باوجود ایوب خان سے لے کر عاصم منیر تک کوئی بھی ڈکٹیٹر اپن مقاصد حاصل نہ کر سکا۔ جمہوریت کی ٹرین رکی نہیں چل رہی ہے،کبھی آہستہ کبھی تیز۔
آج اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو ان کی بہنوں سے ایک بار پھر نہیں ملنے دیا جا رہا۔ عاصم منیر ایک فاشسٹ ہے، اور فاشسٹ اندر سے کمزور اور کھوکھلا ہوتا ہے۔ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح ڈبل فگرز میں پہنچ چکی ہے، اور اس فاشسٹ اور اس کے کارندوں کی اولین ترجیح یہ ہے کہ بہنیں اپنے بھائی سے نہ مل سکیں۔
بزدلی، نااہلی اور ڈر کی انتہا ہے۔
عاصم منیر، ایران بھیجنے کی تجویز دینے والے تم ہوتے کون ہو۔ پاکستان کی عوام نے تمہیں یہ حق نہیں دیا۔ پوری پاکستانی قوم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ۔