میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا
بگولا رقص میں رہتا ہے صحرا میں نہیں رہتا
بڑی مدت سے تیرا حسن دل بن کر دھڑکتا ہے
بڑی مدت سے دل تیری تمنا میں نہیں رہتا
مجھ کو مجھ میں ہی کہیں کھو گیا ہے وہ
مجھ سے مجھ سا عشق اب ہو گیا ہے وہ
اس کی چاہت کا یہ عالم ہے اب
خود کو دیکھوں تو وہ روبرو ہو گیا ہے