جس وقت ہم نے ایم فل کیا قائداعظم یونیورسٹی میں داخلہ ٹسٹ بھی تھا اور انٹرویو بھی تھا اس وقت چئیرمین تھے پرویز صاحب وہ کالج ٹیچرز کے بہت خلاف تھے وہ ان کو داخلہ نہی دیتے تھے ایک کالج ٹیچرز میرے ساتھ ٹسٹ دے رہے تھے وہ چھ دفعہ فیل ہوئے پرویز صاحب کہتے تھے یہ لوگ سیٹ ضائع کرتے یہ لوگ سکالرز ایٹی ٹیوٹ نہی رکھتے اور بچوں کے ساتھ رہ کر عجیب ذہنیت کے مالک ہو جاتے یہ صرف تنخواہ انکریمنٹ کے لیے ایم فل کرنے آتے ہیں اور ادارے کا ماحول خراب کرتے ہیں اس وقت قائداعظم یونیورسٹی کا میرٹ بہت ہائی تھا
بہت سال پہلے ایک ٹیسٹ ہوتا تھا ایم فل میں داخلے کے لئے۔ جس میں 50 نمبر کی انگریزی اور پچاس کے تجزیہ و ریاضی و دیگر سوال ہوتے تھے۔
ہمارے ایک دوست کو اُردو میں ایم فل کرنا تھا۔ ٹیسٹ دیا۔ تجزیہ وغیرہ میں تو نمبر آدھے سے زیادہ آئے۔ انگریزی میں مار کھا گئے۔
ایم فل اُردو نہ کر سکے