Prime Minister's Office, Government of Pakistan

Joined September 2018
8,534 Photos and videos
ISLAMABAD: 13 June 2026. Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif receives telephone call from the Prime Minister & Foreign Minister of Qatar. Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif received a telephone call from His Excellency Sheikh Mohammed bin Abdulrahman bin Jassim Al Thani, Prime Minister & Foreign Minister of the State of Qatar, this afternoon. During their warm and cordial conversation, the Prime Minister conveyed his warm greetings and good wishes to His Highness Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani, Amir of the State of Qatar as well as to the brotherly people of Qatar. These sentiments were reciprocated by the Qatari Prime Minister. The Prime Minister expressed his deep appreciation for Qatar’s strong and steadfast support for Pakistan’s peace efforts throughout the Gulf crisis and stated that a peace deal was ready for signatures by the relevant parties very shortly. While sincerely appreciating Pakistan’s remarkable efforts for peace, the Qatari Prime Minister paid tribute to the Prime Minister and Field Marshal Syed Asim Munir for playing an instrumental role in steering the diplomatic efforts. He assured the Prime Minister that Qatar was proud to extend its support to Pakistan’s endeavors and hoped that this would bring lasting peace to the region. The Prime Minister also reiterated his invitation to His Highness the Amir of Qatar to undertake an official visit to Pakistan very soon, as was agreed between the two leaders. Both leaders agreed to remain in close contact in the coming days.
29
109
680
13,627
اسلام آباد ، 13 جون 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف سے قومی اسمبلی کے اراکین کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقاتیں ہوئیں. اراکین قومی اسمبلی ابرار شاہ، ثمینہ خالد، شاہدہ رحمان، جمال شاہ کاکڑ اور خرم شہزاد، سردار یعقوب خان ناصر، میجر (ر) طاہر اقبال اور میاں خان بگٹی نے وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں. اراکینِ قومی اسمبلی نے متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر وزیراعظم کی قیادت کو سراہا. وزیراعظم نے معاشی استحکام کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا. وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف اور معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے. بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا گیا. امید ہے کہ بجٹ میں کاروباری برادری کے لیے ٹیکس میں رعایتوں اور دیگر سہولیات سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پائیدار معاشی نمو کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے. معاشی استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رہے گا. اراکینِ قومی اسمبلی نے عوامی فلاح اور اقتصادی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کا اظہار کیا. ملاقات میں ممبران قومی اسمبلی کے حلقوں کی امور پر بھی گفتگو ہوئی.
16
35
173
5,325
Prime Minister's Office retweeted
We are closer to a peace deal than ever before. With finalisation likely expected in the next 24 hours, Pakistan is preparing for the electronic signing of the peace deal immediately after, followed by technical level talks next week. We would like to thank United States of America and Islamic Republic of Iran for their ongoing commitment during the negotiations, and we extend our sincere appreciation to our brothers in the region for their support. We are confident that this historic peace deal will form a strong foundation for lasting peace. @realDonaldTrump @JDVance @SecRubio @SteveWitkoff @SEPeaceMissions @drpezeshkian @araghchi
2,517
3,284
13,709
1,893,810
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ وہ آئین، قانون اور جمہوریت کے فروغ کے لئے اپوزیشن سے بات چیت کے لئے تیار ہیں. وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہماری سکیورٹی فورسز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہی ہیں،ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا احترام کرنا ہوگا۔ہفتہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے جو نکات اٹھائے ہیں،سب کو غور سے سنا ہے،انہوں نے جو نکات اٹھائے ان کاجواب مناسب موقع پر تفصیل سے دیں گے۔اس ایوان کے منتخب ارکان پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں سب کا احترام ہے،یہ ایوان ایک گھر کی طرح ہے،ہم سب کو پاکستان کو مضبوط بنانے اور تعلقات میں کہیں دراڑ ہے تو اس کو دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے،عزت و احترام کو فروغ دینا ہے،سیاست،نظریات اور سوچ اپنی اپنی ہے لیکن پاکستان ہے تو ہم سب ہیں،اس کے لئے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ قائد حزب اختلاف نے صوبوں کے وسائل کا معاملہ اٹھایا،صوبوں کے معاشی وسائل ان کا حق ہے،اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،ریکوڈک معاہدے ایک روشن مثال ہے،بلوچستان کے زعماء سے بھرپور مشاورت سے یہ معاہدہ معرض وجود میں آیا،اس میں بلوچستان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ 2010ء کا این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی تاریخ کا دسواں ایوارڈ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان ایک خوبصورت صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ دلیر لوگوں کی سرزمین ہے،اس کے حصے میں سو فیصد اضافہ کیا گیا،تمام صوبوں نے اس میں قربانی دی اور پنجاب نےاپنے حصے سے سب سے زیادہ بلوچستان کو دیا۔پنجاب نے 11 ارب روپے بلوچستان کو اپنے حصے سے سالانہ دیئے ہیں۔اگر ہمارے پاس ایک روٹی ہوگی تو ہم مل بانٹ کرکھائیں گے،یہ احسان نہیں ہے یکجہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی اور معاشرتی انصاف کے بغیر گھر بھی نہیں چلتا۔2 سال پہلے بلوچستان کے کاشتکار کو 70 ارب روپے کی لاگت سے سولر پینلز دیئے،اس میں 50 ارب روپے وفاق نے دیئے جو ایثار و بھائی چارے کی مثال ہے،اسی طرح 300 ارب روپے کی لاگت سے گوادر سے چمن دورویہ کیرج وے تعمیر کی جارہی ہے یہ قائد حزب اختلاف کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ بطور وزیراعظم میری ذمہ داری تھی کہ میں وہ اقدامات اٹھاؤں کہ جس سے چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں مساوی ہوں تاہم اس کے لئے وقت درکار ہے یہ راتوں رات ممکن نہیں،یہ مل کر ہی ممکن ہے۔ وزیرِ اعظم نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کی وطن کے دفاع کے لئے قربانیاں لازوال ہیں،تین دن قبل ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں 22 افسران و جوان شہید ہوئے،ان میں دو مسیحی بھی شامل تھے،اسی طر ح بلوچستان میں دن رات دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس دہشت گردی میں مالی اور تکنیکی معاونت کے خارجی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں،بلوچستان میں سرحد پر باڑ اپنی سلامتی کے لئے لگائی گئی ہے۔خیبر پختونخوا میں دن رات دہشت گردی ہورہی ہے اور افواج پاکستان دن رات ان کا مقابلہ کررہی ہیں،افسر وجوان شہید ہورہے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو یتیم کرکے پاکستان کے کروڑوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں،ہمیں مل کر ان کی قربانیوں کو عزت و تکریم دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی تو شہداء کے معصوم بچوں سے بھی ملا جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ ان کے والدین شہید ہوگئے۔اب انہیں زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ اگر ہم نے آج غفلت کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اگر جاتی عمرہ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں تو میں بھی جب کوئٹہ جاتا تھا تو ان کے گھر جاتا تھا،یہ کوئی پوائنٹ سکورنگ نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آئین،قانون اور جمہوریت کے فروغ کے لئے بات چیت کے لئے تیار ہیں،ماضی میں بطور اپوزیشن لیڈر بھی میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی دعوت دی تاہم اس کا حقارت سے ٹھکرایا گیا ، ہم آج بھی اس کے لئے تیار ہیں۔
14
28
106
4,411
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif addressing the Budget Session of the National Assembly in Islamabad on 13 June 2026.
37
44
307
7,603
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meets with the Parliamentarians during the budget session of the National Assembly (12 June 2026).
13
33
249
8,268
Prime Minister's Office retweeted
Amid ongoing intense mediation efforts by Pakistan, we are fully aware of incessant misinformation campaign being waged by those who want to sabotage the peace deal. Setting aside the noise, we can confirm that a final, agreed upon text of the peace deal has been reached and Pakistan is now working closely with both sides to finalize the next steps. Peace has never been this close as it is now. @realDonaldTrump @JDVance @SecRubio @SteveWitkoff @SEPeaceMissions @drpezeshkian @araghchi
1,837
3,566
13,893
1,961,941
اسلام آباد ، 12 جون 2026 وفاقی بجٹ کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بیان. میں اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر ادا کرتا ہوں، جس کے فضل و کرم اور قوم کی دعاؤں سے ہم نے معاشی استحکام حاصل کیا، اور جس کی بدولت آج ہم نے بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کیا. میں پاکستان کے ہر شہری کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے مشکل ترین حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مشکلات کا سامنا کیا اور اپنے ملک کے معاشی استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا- میں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ معاشی استحکام حاصل ہونے کے بعد اس کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچائیں گے۔ الحمدللہ، اب خوشحالی کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ مشکل دور کے بعد جس بہتری اور ریلیف کا میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا، اور جس ریلیف کی میری قوم حقیقی معنوں میں مستحق ہے، اس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ یہ بجٹ ریلیف کا بجٹ ہے، عوامی فلاح کا بجٹ ہے۔ یہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا بجٹ ہے۔ یہ برآمدات میں اضافے، صنعتوں کے فروغ، زرعی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی ترقی کا بجٹ ہے۔ اس بجٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معیشت کی مضبوطی کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں اور ہر طبقہ اس ترقی میں شامل ہو۔ میں اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور پوری معاشی ٹیم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور جذبے نے اس ریلیف کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت عوام کو اپنی چھت کی سہولت فراہم کرنے سے لے کر ٹیکس ریلیف تک، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے متوسط طبقے پر بوجھ کم کرنے ، اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آپ کی حکومت نے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے ہیں. انشاءاللہ تعالٰی ترقی کا یہ سفر بھرپور طریقے سے جاری رہے گا اور ہم عوام کہ فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
81
49
218
9,151
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےباوجود معیشت آج مستحکم ہے، موجودہ حکومت کے تیسرے بجٹ سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا، عوام نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مہنگائی برداشت کی اس پر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی سے تمام چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی اور ہماری کاوشوں کو سراہا ہے، خوشحالی قوم کا مقدر ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی، شہید ہونے والوں میں پاک فوج کے افسران، جوان اور دو مسیحی بھائی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر حادثہ کے دلخراش واقعہ نے ہر آنکھ اشکبار کر دی، یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بالآخر دہشت گردی کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج وفاقی کابینہ کا ایک نکاتی ایجنڈا وفاقی بجٹ ہے، آج ہماری حکومت تیسرا وفاقی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔پہلے دو بجٹوں میں ملک اور آئی ایم ایف کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ملکی ترقی کے راستے کھولنے کے لئے کئی سالوں سے ہچکولے کھاتی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ٹیکسز لگانا پڑے جس سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیرِ اعظم نے اپنی اور وفاقی کابینہ کی طرف سے 24 کروڑ عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے صبر و تحمل سے مہنگائی برداشت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عام آدمی کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، گزشتہ 2 سال کے دوران حکومتی کاوشوں سے مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ گئی، پالیسی ریٹ بھی 22.5 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آیا، خلیج کی صورتحال کے باعث کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم تمام معاشی چیلنجز کے باوجود ہماری معیشت آج مستحکم ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تیسرا بجٹ ہماری معیشت کو مزید تیزی سے آگے لے کر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ وزیراعظم نے سولر، ونڈ اور بیٹری سٹوریج جیسے توانائی ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا اور ہمیں پانی کے ذخائر اور ڈیمز تعمیر کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کو بنانے میں بہت چیلنجز درپیش تھے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان معاشی اہداف کے حوالے سے مثبت گفتگو ہوئی، قومی ہم آہنگی اور مؤثر تعاون سے چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے قائد محمد نواز شریف کی وفاق اور پنجاب میں ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مثبت کردار کا بھی شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے بھی وفاق کے ساتھ تعاون کیا اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا، وفاق کو اضافی فنڈز کی ضرورت ہے جس کے لئے صوبوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کی اور صورتحال ان کے سامنے رکھی، صوبوں نے بھرپور تعاون کیا، قومی وحدت، یکجہتی اور اتحاد کا اس سے بہتر مظاہرہ نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جس نے صوبوں سے مشاورت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا جس نے آئی ایم ایف کے ساتھ شبانہ روز محنت کرکے معاشی استحکام کے لئے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود آئی ایم ایف کی سربراہ سے بات چیت کی، انہوں نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ہماری کاوشوں سے متاثر ہیں۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت خوشحالی قوم کا مقدر ہوگی۔ انہوں نے کابینہ کو اپنے حالیہ دورہ چین پر بھی اعتماد میں لیا اور بتایا کہ چین کے حالیہ دورے میں سی پیک فیز 2.0 پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، دونوں اطراف سے چار نکات پر بھرپور توجہ دینے پر اتفاق ہوا۔ وزیراعظم نے پاکستان پیپلز پارٹی، بی اے پی، نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم سمیت حکومت کی اتحادی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا.
7
12
69
3,071
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیئے.
51
87
444
11,593
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif signing Annual Budget 2026-27 documents after its approval by the Federal Cabinet meeting at Parliament House Islamabad on 12 June 2026.
21
53
361
9,540
Prime Minister's Office retweeted
الحمدللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے، اور پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
3,296
890
4,990
548,018
اسلام آباد : 12 جون، 2026 وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کی ملاقات ہوئی وفد کی قیادت متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر اور وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی. وفد میں وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال اور ارکین قومی اسمبلی فاروق ستار امین الحق اور جاوید حنیف شامل تھے. وزیرِ اعظم نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت ہے اور ملک کی ترقی، معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے ایجنڈے کی تکمیل میں اس کا مثبت اور تعمیری کردار قابلِ قدر ہے۔ یہ اشتراکِ عمل مستقبل میں بھی قومی مفاد اور عوامی خدمت کے لیے اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔ ملاقات میں وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-2027 کے حوالے سے گفتگو ہوئی. ملک کی مجموعی و سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا. ملاقات میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔
5
25
93
4,631
A delegation of MQM met Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif. Islamabad June 12، 2026
12
19
146
7,250
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chairs a review meeting regarding Prime Minister's Apna Ghar Programme in Islamabad on 11 June 2026.
4
14
39
2,866
اسلام آباد: 11 جون 2026۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر اپنا گھر سکیم کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اپنا گھر سکیم میں شہریوں کی بڑی تعداد کا حصہ لینا انتہائی خوش آئند ہے. اگر اسی رفتار سے آگے بڑھیں گے اپنے گھر کے زیادہ سے زیادہ خواہشمند افراد کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا. اس سکیم کی کامیابی سے تعمیرات کے شعبے میں تیزی آئے گی، اس شعبے سے منسلک صنعتوں کو فروغ ملے گا اور معاشی ترقی کی رفتار بڑھے گی. وزیراعظم نے شہریوں کے لیے اپنا گھر سکیم میں شمولیت اختیار کرنے کے عمل میں مزید سہولیات فراہم کرنے، وزارت ہاؤسنگ کو سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر اپنا گھر سکیم کے درخواست فارم کو آسان فہم بنانے اور بینکوں کو اپنا گھر سکیم کی درست درخواستوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی. وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کے حوالے سے پورے ملک میں آگاہی مہم مزید تیز کرنے اور زمینوں کے کاغذات کے حصول میں تیزی لانے کے لیے صوبوں کو ضلعی سطح پر اپنا گھر سکیم کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی بھی ہدایت کی. اجلاس میں وزیراعظم کو اپنا گھر سکیم کی اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرائم منسٹر اپنا گھر سکیم کی مد میں اب تک مجموعی طور پر 11 ارب روپے کے قرضے دیے جا چکے ہیں. رواں برس مارچ میں وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے قوائد و ضوابط کو مزید آسان بنانے کے بعد گھر کے خواہشمند افراد کی درخواستوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا. ملک بھر سے 67900 افراد نے درخواستیں جمعہ کرائی ہیں، جس میں سے 16587 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں جب کہ 3146 افراد کو قرضوں کی ادائیگی ہو چکی ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے عمل کو ڈیجیٹل ہب، سہولت ڈیسکس کے قیام اور دیگر اقدامات کے ذریعے مزید تیز بنایا جا رہا ہے. سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو اپنا گھر سکیم کے درخواست فارمز کو 15 دن کے اندر پراسیس کرنے کا پابند بنایا ہے. پارلیمنٹ نے حال ہی میں کونڈومینیئم اور فائنانشل انسٹیٹیوشن ریکووری کے قوانین پاس کیے جس سے ہاؤسنگ کے شعبے میں قانونی رکاوٹیں دور ہوں گی اور اس شعبے کو فروغ ملے گا. اپنا گھر سکیم کی پیشرفت کی نگرانی کے لیے خصوصی دیجیٹل پورٹل لانچ کیا جا چکا ہے. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، میاں ریاض حسین پیر زادہ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک، پاکستانی بینکوں کے صدور / سی ای اوز ، صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
1
13
49
3,037
Prime Minister's Office retweeted
A very special day for football fans around the world as the 23rd FIFA World Cup kicks off today. This global event is a celebration of sport’s unique ability to bring people together across borders, cultures, and nationalities. I extend my best wishes to the host nations USA, Canada, and Mexico, as well as all participating nations, for a successful and memorable tournament. Pakistan is proud to be part of this global celebration through its renowned sporting goods industry. The official match balls, “Trionda”, being used at this World Cup have been manufactured in Pakistan, reflecting the skill and craftsmanship of our people. May this tournament inspire friendship, unity, and sporting excellence across the world.
430
611
5,431
747,938
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chairs a meeting regarding Pakistan Railways, in Islamabad on 11 June 2026.
5
15
80
2,945
اسلام آباد: 11 جون 2026۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز میں اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا. وزیراعظم نے پاکستان ریلویز میں جامع اصلاحات کے لئے اسٹرٹیجک روڈ میپ کی منظوری دے دی. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا پاکستان ریلویز میں عوام کے لئے سفر اور مال برداری کیلئے نقل و حمل کا محفوظ اور سستا ذریعہ بننے کی بھرپور استعداد موجود ہے. فریٹ سروس ریلوے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مال برداری کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جائے. ریلوے اصلاحات کے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے عالمی شہرت یافتہ ماہرین اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے ذریعے فروغ دیا جائے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ریلوے نظام کی بہتری سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا. جدید اور مؤثر ریلوے نظام کاربن اخراج میں کمی اور ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ میں مددگار ہوگا. پاکستان ریلویز کی ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنے گی. ریلویز کی زمینوں پر نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے حاصل شدہ آمدنی کو ریلوے نظام کی بہتری کے لئے استعمال میں لایا جائے. اجلاس کو پاکستان ریلویز میں جامع اصلاحات کے اسٹریٹجک روڈ میپ اور اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ روڈ میپ میں مسافروں اور مال برداری دونوں شعبوں میں مارکیٹ شیئر بڑھانے کے اہداف شامل ہیں۔ ریلوے خدمات کے معیار میں بہتری، نیٹ ورک کی استعداد میں اضافہ اور مالی استحکام روڈ میپ کے اہم ستون ہونگے. اس روڈ میپ میں ریلویز کے گورننس نظام میں بہتری، ڈیجیٹائزیشن، ریلوے لائنز کی توسیع، علاقائی روابط، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نجی شعبے کی شمولیت اور مالی استحکام قائم کرنے کے اہداف شامل ہیں. جدید کوچز کا استعمال، ٹرینوں اور سٹیشنز پر مسافروں کے لیے سہولیات کی فراہمی، ML-1, ML-2، ML-3 اور دیگر ٹریکس کی اپ گریڈیشن، رائٹ سائزنگ بھی اصلاحات کا حصہ ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد حنیف عباسی، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
1
8
38
2,531
Former Federal Minister and Senior Politician Ghulam Ahmad Bilour calls on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif on 11 June 2026.
12
24
200
9,752