اہم ترین 🚨
اوورسیز پاکستانیوں نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ Where is Imran Khan اس ویڈیو کو ہر طرف پھیلا دیں
#EndKhansIsolationNow
In the House of Commons, Michael Kram (@MichaelKramSK) presented a petition signed by over 1,800 Canadians demanding the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
The imprisonment of political opponents undermines democratic principles globally. International voices must persistently advocate for the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
#WhereIsImranKhan#FreeImranKhan
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
پاکستانیوں اپنے حقوق کے لیے ایک ہو جائیں آواز بلندکریں.....
آپ جس کسی پارٹی سے بھی ہیں.......
بجلی کے ذریعے جو غریب عوام کو لوٹا جا رہا ہے اس کے خلاف اپنا پنا احتجاج ریکارڈ کرواوئیں۔
گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج ہمیں قبول نہیں۔ جب تک ہماری نشستیں واپس نہیں کی جاتیں، نہ یہ الیکشن قبول ہیں اور نہ ہی ان نتائج کے ذریعے بننے والی حکومت۔
عمران خان کے نام اور پاکستان تحریک انصاف کا اتنا خوف ہے کہ ایک حساس خطے کو بھی نہ بخشا گیا۔ گلگت بلتستان کوآگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ہم اس بوگس الیکشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔مان لو کہ تم جیل میں بیٹھے ایک شخص سے ہار گئے ہو۔
سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان
"عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر جہاں عمران خان کے ساتھ زیادتی کررہے وہیں یہ اپنا خوف بھی ظاہر کررہے ہیں۔ جو یہ کررہے ہیں عوام میں غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس وقت عمران خان کی پاکستان کو سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کے وقت ملک میں اچھا بھلا امن تھا آج امن تباہ ہوچکا ہے۔ معیشت تباہ ہوچکی، سرمایہ کاری صفر ہے۔غربت اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے"۔ علیمہ خان
پیپلزپارٹی، ن لیگ اور آئی پی پی کے پاس پورے دن کی ایک بھی ویڈیو نہیں جس سے وہ دکھا سکیں کہ ان کو جی بی کے کسی بھی حلقے میں ووٹ پڑا ہے ، یہ تینوں جماعتیں سرکاری نتائج کا انتظار کررہی ہیں ، جعلی سرکاری نتائج آتے ہی ن لیگ اور سوشل میڈیا اچانک حرکت میں آ جائیں گے
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے مختلف حلقوں میں جاری بدترین انتخابی دھاندلی، نتائج میں ردوبدل کی کوششوں اور ریاستی مشینری کے کھلے استعمال کی شدید مذمت کرتی ہے۔
ابتدائی نتائج اور غیر سرکاری گنتی کے مطابق شام سات بجے تک پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار واضح برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔ تاہم اس کے فوراً بعد مخصوص پولنگ اسٹیشنز کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جہاں غیر معمولی طور پر 80 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ دکھایا جا رہا ہے اور ایک بیلٹ باکس سے 700 سے 800 ووٹ نکلنا سنگین شکوک پیدا کر رہا ہے۔ یہ عمل انتخابی شفافیت پر بدنما داغ ہے۔
مزید برآں ہمارے پولنگ ایجنٹس کو فارم 46 فراہم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے، جو الیکشن قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور نتائج میں ردوبدل کے خدشات بڑھا رہا ہے۔
نگر سمیت مختلف علاقوں میں مخالف جماعت کے افراد کو جعلی بیلٹ پیپرز کے ساتھ پکڑا گیا۔ صبح کے وقت ہی کچھ عناصر رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دھاندلی منظم منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ دھاندلی پولنگ ڈے تک محدود نہیں بلکہ پری پول رگنگ کے ذریعے پورا انتخابی عمل متنازع بنایا گیا۔ مخصوص حلقوں میں ووٹر لسٹوں میں ردوبدل، ایک ووٹر کو متعدد پولنگ اسٹیشنز میں شامل کرنا، پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے حلقہ بندیوں اور پولنگ اسکیموں میں تبدیلیاں، اور مخالف امیدواروں و کارکنان کو ہراساں کرنا جیسے اقدامات کیے گئے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فارم 47 کی پیداوار کرنے والی حکومت ایک بار پھر عوامی مینڈیٹ چرانے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر نتائج میں ردوبدل کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنز کے مستند نتائج فوری جاری کیے جائیں، ہر امیدوار کو فارم 45 اور 46 بلا تاخیر فراہم کیے جائیں، مشکوک پولنگ اسٹیشنز کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے شفافیت یقینی بنائے۔
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ان کے ووٹ کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور کسی کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
پاکستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جسے چار ممالک کا بارڈر لگتا ہے جسے ہم گلگت بلتستان کہتے ہیں۔ یہ ہمارا گلوبل فلیش پوائنٹ علاقہ ہے جسے ہم نے سیلف گورننس آرڈر دیا ہے جس کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔ لیکن جو انتخابات اب ہو رہے ہیں، وہاں جو کچھ کیا جا رہا ہے اس پر چند پوائنٹس رکھتا ہوں۔
پہلا یہ کہ وہاں بجائے نگران حکومت کے موجودہ حکومت کو کہا گیا کہ تم انتخابات کرواؤ۔ دوسرا، گلگت کے ساتھ لگنے والا صوبہ خیبر پختونخوا ہے، وہاں سے پولیس بلانے کی بجائے پنجاب پولیس کیوں بلائی گئی؟ آپ نے اس پولیس کو چنا جو مقابلوں کے لیے بدنام ہے اور ایک بدنام زمانہ خاندان کے زیر اثر ہے۔ اس پولیس نے جاتے ہی خیبر پختونخوا کے بارڈر پر ناکہ لگا دیا۔
ڈاکٹر بابر اعوان
@BabarAwanPK y