حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ میدان حشر میں جلوہ گر ہوں گے، اور جسکا حساب انکی صحبت میں ہوا اسکا حشر تو قابلِ رشک ہو گا۔ اللہ تمام مومنین کا حساب ایسا قابلِ رشک کرے آمین۔
اور ابن سبا کے چیلوں کا حساب ابن سبا کے ساتھ کرے آمین
اگر کسی کو کشمیریوں کی بات سمجھ نہیں ا رہی تھی تو یہ سن کر فیصلہ کر لیں کہ کون صحیح اور کون غلط ہے اور کون مودی اور را کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے facebook.com/share/v/1B9rikk…
مولوی
لیبارٹری میں پروفیسر ہمیں مینڈک کے پھیپھڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ مولوی کی باری آئی (قریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام مولوی ہی پڑ جاتا ہے) اور عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور ناپسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔ “سر مجھے اجازت مل سکتی ہے؟ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔” مولوی نے سر اٹھا کر پروفیسر سے سوال کیا۔
“ہاں ہاں بالکل جاؤ بھئی۔ ویسے بھی یہاں تو تمہارے مطلب کی باتیں زیادہ ہوتی بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے تمہیں زیادہ تر وقت مسجد مدرسوں میں ہی گزارنا چاہیے۔ تم اسی قابل ہو۔” پروفیسر صاحب الفاظ میں جتنے نشتر چھپا کر چلا سکتے تھے چلا دیے۔ مولوی نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لیب سے باہر نکل گیا۔ “دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور یہ ملا آج بھی زمین پر ٹکریں مارنے میں مصروف ہے۔” پروفیسر باآوازِ بلند بڑبڑائے۔ کلاس میں سارے ہی مسلمان تھے مگر ‘نمبر’ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھے اس لیے بعض لڑکے لڑکیاں خاموش رہے اور باقیوں نے مسکرا کر یا ہنس کر پروفیسر صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سر کی بدقسمتی کہ کلاس میں مجھ جیسا بد زبان بھی موجود تھا جسے اگر مولوی کی کوئی خاص پروا نہیں تھی تو ‘نمبروں’ کی تو بالکل بھی نہیں تھی۔ “سر ۔ ۔ ۔ آپ کتنی بار چاند پر جا چکے ہیں؟” میں نے معصومیت سے پوچھا۔ “کیا مطلب؟”
پروفیسر ایک جھٹکے سے سیدھے ہو گئے۔
“مطلب سر آپ کو تو زمین پر ٹکریں مارتے کبھی نہیں دیکھا اور آپ نے جو ابھی ابھی مولوی کی چاند پر نہ جا سکنے کی وجہ بتائی ہے اس اعتبار سے تو آپ کئی بار چاند کی سیر کر کے آ چکے ہونگے۔ پلیز بتائیں نا کیسا ہوتا ہے چاند اور کیا واقعی چاند پر پریاں رہتی ہیں؟” میں بولنا شروع ہوا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔ جب پروفیسر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں غصے کے مارے ابل کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھیں۔ “شٹ اپ۔ یو بلڈی سٹوپڈ۔ میں بیالوجسٹ ہوں۔ میرا کام چاند پر جانا نہیں ہے!!!” پروفیسر چلائے۔ “اوہ ہ ۔ ۔ ۔ تو آپ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا ہے کہ مولوی خلاء باز ہے اور بیالوجی پڑھنے شوقیہ آتا ہے!” چڑے ہوئے کو مزید چڑانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، ویسے بھی اب تو سر نے مجھے شٹ اپ اور سٹوپڈ جیسے سخت الفاظ کہ کر باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔
“اگر خود نہیں ہے تو دوسروں کو بھی نہیں بننے دینا اس نے اور اس کی قبیل نے۔ یہ مولوی مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو لوٹے سے وضو کرنا سکھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ راکٹ بناؤ مشینیں بناؤ۔” پروفیسر نے مٹھیاں بھینچ کر بے ربط اور نا مکمل سا جواب دیا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مینڈک کے بجائے میرے ٹکڑے کر کے خورد بین کے نیچے ڈال دیں۔ “سر معاف کیجیے گا۔ مگر امریکہ کے چرچ میں بیٹھا پادری بھی لوگوں کو مشینیں بنانے کا نہیں کہتا۔ وہ بھی لوگوں کا بپتسمہ ہی کرتا ہے، لہک لہک کر آرکیسٹرا کے ساتھ عبادات کرتا ہے اور ‘مقدس روح’ کے ساتھ باتیں کر کے لوگوں کے مسئلے حل کرتا ہے۔ مگر وہاں کا کوئی دانشور کوئی سائنس دان یہ کہتا ہوا نہیں نظر آتا کہ پادری ابھی تک لوگوں کو مقدس دعائیں یاد کرواتا ہے۔ کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنی اپنی ناکامی اور نا اہلی کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کا سائنسدان چاند پر نہیں پہنچ سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ مولوی نے اس کا پائنچہ پکڑ رکھا ہے بلکہ وجہ اس کی اپنی نااہلی ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر محنت کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام لگاتا رہے گا، ہم زمین پر ہی رہینگے’ ہمارا چاند کبھی نہیں چڑھے گا۔” میں نے لیکچر ختم کیا تو سر شعلے برساتی آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ لیب میں بھی مکمل سناٹا تھا۔ ذرا سی نظریں گھمائیں تو محسوس ہوا ہر کوئی ہی مجھے گھور رہا ہے۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔ “سر میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔” میں نے ‘بہانہ’ بنا کر بیگ اٹھایا اور جو دوڑ لگائی تو سیدھا کینٹین آ کر رکا۔
بات پرانی ہو ئی۔ امتحانات ہوئے۔ نتائج لگے۔ پوری کلاس اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی۔ جشن کا سماں تھا۔ حتی کہ مولوی بھی اپنے ساٹھ نمبر لے کر پاس ہونے پر الحمداللہ کا ورد کر کے جھوم رہا تھا۔ خوشی کے مارے سب ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔
صرف میں اکیلا تھا جو چاند پر اڑ رہا تھا۔
اور کیوں نہ اڑتا۔ میرے پیپر میں جو آج چاند نکلا تھا۔ چودھویں کا۔۔۔مگر کچھ بیضوی سا۔۔۔ کمبختوں نے چاند پر جا جا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا........
😐😕🙄🥴🙄😕😥😔😜😂😂😂😂😂😂😂😂
گھڑے ہوئے مذہب کی خود ساختہ کہانیاں کب تک سننی پڑیں گی۔ کب لگام لگے گا گستاخ قوم کو؟ کیا یہ ممکن ہے خیبر کے فاتح کے دروازے کو کوئی آگ لگائے اور وہ چپ چاپ کھڑا دیکھتا رہے؟ اور آگ لگانے والا وہ جسے رضی اللہ عنہ کا خطاب اللہ سے ملا ہو #گستاخِ_صحابہ_کوگرفتارکرو
"Unfortunately, we have lost our MiG-21 fighter aircraft. Pilot missing," India's MEA. Indian MEA reads out a prepared statement. Didn't take any questions. Like yesterday. Indian anchors on all-time low. Morale down. Josh khatam, janab.