Joined December 2015
9,088 Photos and videos
Pinned Tweet
Under 30 & dogs aren’t allowed. ✨
20
23
75
5,907
میری بیٹی نے میرے ہی گھر میں بیٹھ کر کہا: "امی، ہر وقت یہ مت جتایا کریں کہ آپ نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا ہے۔" اور اُس رات پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ بعض اوقات اولاد ماں کی قربانیاں نہیں دیکھتی... کیونکہ ماں انہیں کبھی دکھاتی ہی نہیں۔ میرا نام سائرہ ہے۔ میں لاہور کے ایک پرانے گھر میں رہتی ہوں۔ وہی گھر جہاں میری شادی کے بعد پہلی بار میرا سامان اترا تھا۔ جہاں میرے بچوں نے چلنا سیکھا۔ جہاں اُن کے بخاروں کی راتیں گزریں۔ جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ بے شمار فکر مند راتیں بھی دفن ہیں۔ میری بڑی بیٹی حرا ہمیشہ میری آنکھوں کا تارا رہی تھی۔ بچپن میں وہ ہر بات مجھ سے آ کر کہتی تھی۔ کالج گئی تو دوست اُس کی دنیا بن گئے۔ اور یونیورسٹی ختم ہوتے ہوتے اُسے لگنے لگا کہ دنیا میں سب سے کم سمجھدار انسان شاید اُس کی ماں ہے۔ میں اگر کسی بات پر ٹوکتی تو وہ کہتی: "آپ ہر چیز کنٹرول کیوں کرنا چاہتی ہیں؟" میں اگر فکر کرتی تو کہتی: "میں بچی نہیں ہوں۔" میں اگر نصیحت کرتی تو جواب ملتا: "آپ کا زمانہ اور تھا۔" شروع میں میں ہنس دیتی۔ پھر خاموش ہونے لگی۔ اور آخرکار صرف دل میں باتیں دفن کرتی رہی۔ پھر ایک رات کھانے کی میز پر بات بڑھ گئی۔ حرا نے غصے میں کہا: "امی، آپ کو لگتا ہے یہ گھر صرف آپ کی مرضی سے چلتا ہے۔" میں خاموش رہی۔ مگر اُس رات بہت دیر تک جاگتی رہی۔ اس لیے نہیں کہ اُس نے بدتمیزی کی تھی۔ بلکہ اس لیے کہ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میری بیٹی مجھے سمجھے بغیر مجھے جج کر رہی ہے۔ چند ہفتے بعد اچانک عمران صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی۔ ڈاکٹر نے مکمل آرام کا مشورہ دیا۔ کاروبار کے معاملات بھی کچھ خراب چل رہے تھے۔ گھر کی بہت سی ذمہ داریاں اچانک میرے کندھوں سے نکل کر حرا کے حصے میں آ گئیں۔ صرف چند دن کیلئے۔ بس چند دن۔ میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔ صرف اُسے کہا: "بیٹا، آج بجلی کا بل جمع کروا دینا۔" "فہد کی فیس بھی جمع کرانی ہے۔" "دوپہر میں ابو کی دوا ختم ہو جائے گی۔" "اور شام کو خالہ آئیں گی۔" حرا نے بے پروائی سے کہا: "ہو جائے گا۔" مگر اُسے اندازہ نہیں تھا کہ ایک گھر چلانا فیس بک پر رائے دینے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ پہلے دن وہ بل جمع کروانا بھول گئی۔ دوسرے دن دوا لانا رہ گیا۔ تیسرے دن فہد اسکول سے ناراض واپس آیا کیونکہ فیس آخری تاریخ پر جمع ہوئی تھی۔ چوتھے دن وہ خود تھک کر صوفے پر گر گئی۔ اور پہلی بار میں نے اُس کے چہرے پر وہ تھکن دیکھی جو میں برسوں سے آئینے میں اپنے چہرے پر دیکھتی آئی تھی۔ ایک شام وہ دفتر کے انٹرویو سے واپس آئی۔ گرمی تھی۔ ٹریفک تھا۔ انٹرویو اچھا نہیں ہوا تھا۔ گھر پہنچی تو سیدھی صوفے پر بیٹھ گئی۔ میں خاموشی سے اُس کے لیے چائے بنا لائی۔ وہ کپ ہاتھ میں لے کر بیٹھی رہی۔ پھر آہستہ سے بولی: "امی... آپ یہ سب روز کیسے کرتی تھیں؟" میں سمجھ نہ سکی۔ "کیا؟" اُس نے گھر کی طرف دیکھا۔ "یہ سب۔" "گھر۔" "ابو۔" "ہم۔" "رشتے دار۔" "فکر۔" "ذمہ داریاں۔" پھر ایک تلخ سی ہنسی اُس کے ہونٹوں پر آئی۔ "میں تو صرف دو ہفتے میں تھک گئی ہوں۔" میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس اُس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔ مگر شاید پہلی بار اُس نے وہ ہاتھ محسوس کیا تھا۔ کچھ دن بعد میں فجر کے بعد صحن میں بیٹھی تھی۔ حرا میرے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ کافی دیر خاموش رہی۔ پھر بولی: "امی، ایک بات پوچھوں؟" "پوچھو۔" اُس نے نظریں جھکا لیں۔ "کیا آپ کبھی ہم سے ناراض نہیں ہوئیں؟" میں مسکرا دی۔ "بہت ہوئی ہوں۔" "پھر چھوڑ کیوں نہیں دیا سب کچھ؟" میری آنکھیں بے اختیار نم ہو گئیں۔ "کیونکہ ماں ہونا نوکری نہیں ہوتی، بیٹا۔" "یہ ایسا رشتہ ہے جس سے انسان استعفیٰ نہیں دے سکتا۔" حرا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر اُس نے وہ جملہ کہا جو شاید ہر ماں ایک نہ ایک دن سننا چاہتی ہے۔ "امی..." "جی؟" "میں ساری زندگی سمجھتی رہی کہ آپ مجھے روک رہی ہیں۔" "آج سمجھ آئی ہے کہ آپ سنبھال رہی تھیں۔" اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ میری بیٹی بدل نہیں رہی... وہ پہلی بار بڑی ہو رہی ہے۔ کیونکہ بعض سچائیاں نصیحتوں سے نہیں سمجھ آتیں۔ انہیں زندگی خود سمجھاتی ہے۔ اور اکثر اولاد کو ماں کی عظمت اُس دن سمجھ آتی ہے... جس دن وہ پہلی بار ماں کی جگہ کھڑی ہوتی ہے۔
4
66
Sania retweeted
Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuh 🌼 Sometimes the greatest blessing is not what Allah gives you, but what He protects you from. 🤍 Trust His wisdom, even when you do not understand the reason. 🌿
10
4
14
150
Sania retweeted
وہ کون سے مسلمان جغرافیہ دان تھے جنہوں نے بحرِ ہند کے تجارتی راستوں کی تفصیل قلم بند کی؟
2
1
1
92
Sania retweeted
Khan Sahib's Interview from 18 Years Ago "We've only gotten second-rate dictators" 🔥
خان صاحب کا 18 سال پہلے کا انٹرویو “ ہمیں جو ڈکٹیٹر ملے وہ بھی دو نمبر ملے ہیں” 🔥
1
3
49
Sania retweeted
عمران خان صاحب واقعی ایک ایماندار اور کردار والے لیڈر ہیں۔ دولت کی لالچ سے بالکل بالاتر، اور یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے
2
6
76
Sania retweeted
قرآن مجید میں وہ کون سی سورت ہے جس کا نام ایک دھات پر رکھا گیا ہے؟
4
1
8
1,068
Sania retweeted
Demand for Captain's release in the UK Assembly.. The entire assembly erupted in chants for Khan.
🚨 برطانیہ کی اسمبلی میں کپتان کی رہائی کا مطالبہ۔۔ساری اسمبلی خان کیلئے بول اٹھی۔
2
1
45
Sania retweeted
ایک سوال… کیا کبھی ایسی چیز سنبھال کر رکھی جس کی مالی قیمت کم تھی مگر جذباتی قیمت بہت زیادہ؟
7
2
13
411
Sania retweeted
لا الہ الا اللہ : اگر پولیس اور سی سی ڈی نے انصاف نہ دیا تو اپنوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لوں گا ۔۔۔۔ خانیوال میں وتہ خیل نیازی قبیلے سے تعلق رکھنے والے چار افراد کے ق۔ت۔ل پر رد عمل آگیا ۔۔۔ ویڈیو میں اس نوجوان نے کہا کہ پہلے شاہوں نے میرے سگے بھائی مارے اب بے گناہ میرے کزنوں اور چچا اور ایک دوست کو بے گناہ ق۔تل کیا ہے ۔ کلمے کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں اب مجھے موت کا ڈر ہی نہیں رہا ، اگر پولیس اور سی سی ڈی نے انصاف نہ دیا تو اپنے پیاروں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لوں گا ، بس تھوڑے دنوں کی بات ہے جیسے ہم روئے ہیں ویسے ہی یہ لوگ روئیں گے ، ہمیں رلا کر یہ لوگ کبھی آرام سے نہیں بیٹھ سکتے ۔۔۔۔
7
24
148
15,870
Sania retweeted
السلام علیکم ورحمةُ الله وبرکاتُہ 🌿 اللّٰہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ 🤍 جو دروازے آج بند نظر آتے ہیں، ممکن ہے کل وہی آپ کے لیے خیر اور کامیابی کا راستہ بن جائیں۔ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں۔ 🌸
45
18
56
488
Sania retweeted
حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ : وہ واحد صحابی جن کا جنازہ پڑھنے سے نبی کریم ؐ نے منع فرما دیا تھا ۔۔۔۔ نبی کریم ؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں ہر صحابی کی نماز جنازہ پڑھائی ، حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ روایات کے مطابق 70 مرتبہ ادا ہوا ۔ لیکن احد کے معرکے میں نبی کریم ؐ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ کو جب غسل کے بعد کفن پہنا دیا گیا تو نبی کریم ؐ نے انکی نماز جنازہ نہیں پڑھائی ۔ جب دیگر صحابہ کرام نے وجہ پوچھی تو آپ ؐ نے فرمایا ہم انتقال کرجانیوالوں کے درجات کی بلندی کے لیے نماز جنازہ پڑھتے ہیں لیکن شماس بن عثمان تو اس درجے پر پہنچ چکا ہے جس سے اوپر کوئی درجہ ہی نہیں اس لیے اسکا جنازہ پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں ۔۔۔ یاد رہے کہ جب دشمن نے نبی کریم ؐ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی اور آپ کو شہیید کرنا چاہا تو حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ نے ہر طرف سے پیارے نبیؐ کو ان تیروں سے بچایا ، اور انکی جانب پھینکے گئے تیر کو اپنے جسم پر روک لیا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ اللہ کے نبی پر جان وارنے اور انکی زندگی بچانے سے بڑا درجہ بھلا کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
7
28
153
5,218
Sania retweeted
جناب: ہم غریب لوگ ہیں ، 7 دفعہ جیل گئے پھر چھوٹ کے آ گئے ، 35 سے 40 چوریوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا پولیس والے تو بادشاہ ہیں ، 40 چوریوں کو 400 بنانے کے موڈ میں ہیں ۔۔۔۔ لاہور پولیس کی گرفت میں آئے خوشاب کے دو سگے چور بھائیوں کی دلچسپ کہانی ۔۔۔۔ 2023 میں یہ لوگ لاہور کے ایک پوش علاقے میں واردات کے بعد گرفتار ہوئے ، جو کہانی سامنے آئی وہ کچھ یوں ہے ۔۔۔ والد صاحب حساس ادارے کے ملازم تھے نیک نامی کی زندگی گزاری اور فوت ہو گئے تو بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے یہ کچھ عرصہ راولپنڈی رہے وہاں 2007 میں چوریاں کرنا شروع کردیں ۔انکے پاس اپنی ذاتی کار بھی تھی جو چوریاں کرکے ہی بنائی اسی کار پر گھومتے پھرتے پوش ایریاز میں ریکی کرتے اور جس گھر کے دروازے پر تالا پڑا نظر آتا رات کی تاریکی میں اس گھر میں گھستے ، تالے توڑنے کا سارا سامان انکے پاس ہوتا ۔ آرام سے زیور اور نقدی نکالتے اور رفو چکر ہو جاتے ، حیران کن بات یہ ہے کہ کئی بار پکڑے گئے پولیس نے چالان کرکے بذریعہ عدالت سزا دلوائی اور جیل بھیجا کبھی سزا پوری کی اور کبھی ضمانت پر باہر آگئے مگر پھر ہاتھ تنگ ہونے پر چوریاں شروع کردیتے اور کچھ عرصہ مزے کرکے پھر پکڑے جاتے ، جب ایک پولیس افسر نے سوال کیا کہ ایسی کیا مجبوری تھی کہ اتنی بار جیل جانے کے بعد بھی توبہ نہ کی اور پھر واردات کر ڈالی تو موصوف بڑے بھائی امتیاز حسین بولے : آرام پسندی کی عادت تھی اچھا کھانا کھاتے تھے اے سی کے بغیر نہیں سو سکتے تھے یہ خرچے مزدوری اور محنت سے پورے نہ ہوتے اس لیے کوشش کے باوجود محنت سے رزق حلال نہ کما سکے ۔ایک اور دلچسپ بات ہے کہ ان دونوں کا ایک تیسرا سگا بھائی کچھ سال سے چوری کے الزام میں ہی جیل میں بند ہے ۔ کل تین بھائی تھے اور تینوں چور ، مزے کی بات یہ ہے کہ آخری بار پکڑے جانے پر اپنی کار ، بائیک گھر کا سارا سامان بیچ کر اس گھر کا نقصان بھی جزوی طور پر پورا کردیا اور ہاتھ جوڑ کر متاثرہ گھر اور پولیس والوں سے معافی مانگتے رہے کہ ایک بار معافی دیدو اب ہم بالکل نیک زندگی گزاریں گے کبھی چوری نہیں کریں گے ۔۔۔ معلوم ہوا ہے کہ ان بھائیوں کو پولیس نے چالان مکمل کرکے عدالت پیش کیا تھا جسکے بعد انہیں چند سال کی سزا سنا دی گئی تھی اب تک شاید یہ برادران اپنی سزا پوری کرکے رہا بھی ہو چکے ہوں ۔۔۔۔ کیا خیال ہے دوستو یہ لوگ باز آچکے ہوں گے یا پھر ۔۔۔۔۔؟؟؟
3
4
15
1,000
Sania retweeted
سویڈن : رات کے ساڑھے دس بجے کا وقت ، سورج اور دن کی روشنی بدستور موجود ، ایک پاکستانی فیملی کے ساتھ پیش آیا دلچسپ واقعہ ۔۔۔ یہاں سٹورز و دیگر دکانیں رات 9 بجے بند ہو جاتی ہیں ، لیکن کسی مصروفیت کی وجہ سے ایک پاکستانی فیملی کو وقت کا خیال نہ رہا اور 10 بجے کے بعد کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت پڑی ۔ اس فیملی کا محمد نامی ایک نو عمر لڑکا بہت سمجھدار نکلا ، یہ اپنے دادا اور والد کو ایک سٹور پر لے گیا ، سٹور بند تھا ۔ موبائل پر ایک ایپ آن کی گئی ، ایپ کی مدد سے خریداروں نے خود سٹور کھول لیا ، ظاہر ہے اندر کوئی بھی شخص موجود نہ تھا ۔ ان لوگوں نے اپنی ضرورت کی چیزیں ایک باسکٹ میں جمع کیں ، پھر ایک ایک چیز کو موبائل پر سکین کیا ۔ پیمنٹ آن لائن ہو گئی تمام اشیاء کو بیگ میں ڈالا اور دروازے پر واپس آئے ، یہاں پھر موبائل ایپ پر ان لاک کا بٹن دبایا تو سٹور کا دروازہ دوبارہ کھل گیا اور یہ لوگ سامان کی خریداری کے بعد واپس آگئے ۔۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگلے پچاس سال میں بھی پاکستان میں کوئی ایسا سٹور کھلنے کا امکان ہے ؟
7
5
43
6,383
Sania retweeted
ایک نکھٹو کو بیوی نے کام کاج کے لیے کہا۔ سست الوجود کے پاس اور تو کوئی کام نہیں تھا۔ بس ایک مرغی تھی، اٹھائی اور بازار کو چل دیا کہ بیچ کے کاروبار کا آغاز کرے۔ راستے میں مرغی ہاتھ سے نکل بھاگی اور ایک گھر میں گھس گئی۔ وہ مرغی کے پیچھے گھر کے اندر گھس گیا... مرغی کو پکڑ کر سیدھا ہوا ہی تھا کہ خوش رو خاتون خانہ پر نظر پڑی۔ ابھی نظر چار ہوئی تھی کہ باہر سے آہٹ سنائی دی۔ خاتون گھبرائی اور بولی کہ اس کا خاوند آ گیا ہے اور بہت شکی مزاج ہے اور ظالم بھی، خاتون نے جلدی سے اسے ایک الماری میں گھسا دیا... لیکن وہاں ایک صاحب پہلے سے ”تشریف فرما“ تھے۔ اب اندر دبکے نکھٹو کو اچانک کاروبار سوجھا... آئیڈیا تو کسی جگہ بھی آ سکتا ہے۔ سو اس نے دوسرے صاحب کو کہا کہ، ”مرغی خریدو گے ؟“ اس نے بھنا کر کہا، ”یہ کوئی جگہ ہے اس کام کی؟“ ”خریدتے ہو یا شور کروں؟“نکھٹو نے کہا، مجبور ہو کے اس نے کہا کہ بولو کتنے کی؟ ”سو رپے کی“ ”اتنی مہنگی“ ”خریدتے ہو یا شور کروں“ بیچاری کرتا کیا نہ کرتا، اس نے مرغی خرید لی۔ سو روپے کی مرغی بیچ کے نکٹھو بہت خوش ہوا۔ ایک دم دماغ میں روشنی ہوئی، فوراً بولا، ”اوئے مرغی بیچو گے۔“ وہ شخص بھنا کر بولا، ”تمہارا دماغ تو خراب نہیں۔“ ”بیچتے ہو یا کروں شور۔“ وہ مرے ہوے لہجے میں بولا ”بتاؤ کتنے کی لو گے۔“ ”پچاس کی“ وہ دانت پیستے ہوئے بولا، ”اللہ سے ڈر، ابھی سو کی مجھے بیچی ہے۔“ ”اللہ سے ڈر ہے تو یہاں الماری میں کیوں گھسے بیٹھے ہو۔ دیتے ہو یا کروں شور“ نکھٹو نے مرغی پچاس کی خریدی اور چپکا بیٹھ گیا، لیکن ابھی کہاں، ابھی تو بزنس شروع ہوا تھا "مرغی خریدو گے؟“ اگر رقیب روسیاہ باہر مورچہ سنبھالے نہ بیٹھا ہوتا تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا لیکن بے بسی سے بولا، ”کتنے کی دو گے۔“ چلو...! کیا یاد کرو گے، اسی روپے دے دو حالانکہ ابھی میں نے یہ سو کی بیچی تھی لیکن کسی طور واپس آ گئی۔“ بے بسی کے شدید احساس کے ساتھ پہلے شخص نے مرغی خرید لی قصہ مختصر... مرغی خریدتے اور بیچتے نکٹھو نے چار سو روپے کما لیے اور ہاں بتانے کی بات کہ آخر میں مرغی اس نے واپس خرید لی اس کامیاب تجارت کے بعد جب گھر لوٹا تو نیک دل بیوی نے سارا ماجرا سن کے حرام کمائی کا فتویٰ لگا دیا اور کہا کہ یہ کمائی گھر میں نہیں آئے گی۔ جھگڑا بڑھا تو اگلے روز قاضی شہر کے پاس جانے کا فیصلہ ہوا۔ میاں بیوی قاضی کی عدالت میں پہنچے تو قاضی یہ کہہ کر عدالت چھوڑ بھاگا کہ، ”اوئے تم یہاں بھی آ گئے ہو۔ میں نے اب یہ مرغی نہیں خریدنی۔“😅😅😅 #منقول ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
3
7
21
2,329
Sania retweeted
بچہ صرف خرچے سے نہیں پلتا لڑائی جھگڑے کے دوران بعض مرد ایک جملہ بہت اعتماد سے کہتے ہیں "اگر تم بچے کا خرچہ نہیں اٹھا سکتیں تو بچہ اپنے پاس کیوں رکھتی ہو؟ باپ کے پاس چھوڑ دو۔" بظاہر یہ ایک منطقی بات لگتی ہے۔ لیکن پھر سوشل میڈیا پر ایک اور منظر نظر آتا ہے۔ نوجوان بچے ہنستے ہوئے ویڈیوز بناتے ہیں "اگر کسی نے ہمیں اغوا کر لیا اور ہمارے ابو کو فون کر کے پوچھ لیا کہ ہمارا بلڈ گروپ کیا ہے، ہم کس کلاس میں پڑھتے ہیں، ہماری پسندیدہ ڈش کیا ہے، یا ہماری سالگرہ کب ہے تو شاید وہ جواب نہ دے سکیں!" لوگ ہنستے ہیں۔ ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے۔ لیکن اس ہنسی کے پیچھے ایک خاموش سوال چھپا ہوتا ہے۔ آخر والدین ہونے کا مطلب کیا ہے؟ کیا صرف خرچہ دینا؟ یا بچے کے بارے میں جاننا بھی؟ کیا والد ہونا صرف فیسیں بھرنے کا نام ہے؟ یا یہ بھی جاننا کہ بچہ رات کو ڈر جائے تو کس کو آواز دیتا ہے؟ اس کا پسندیدہ رنگ کیا ہے؟ اس کے دوست کون ہیں؟ وہ اداس ہو تو چپ کیوں ہو جاتا ہے؟ اسے بخار ہو تو ساری رات کون جاگتا ہے؟ اس کے جوتے تنگ ہو جائیں تو سب سے پہلے کس کی نظر پڑتی ہے؟ بچے کی پرورش صرف بینک اکاؤنٹ سے نہیں ہوتی۔ وہ وقت، توجہ، قربت، گفتگو، لمس اور موجودگی سے ہوتی ہے۔ خرچہ یقیناً ضروری ہے۔ بہت ضروری ہے۔ لیکن اگر والدین ہونے کا پیمانہ صرف پیسہ ہے تو پھر دنیا کے امیر ترین لوگ بہترین والدین ہونے چاہئیں۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ حقیقت ایسی نہیں۔ بچے کو صرف روٹی نہیں چاہیے ہوتی۔ اسے یہ احساس بھی چاہیے ہوتا ہے کہ "میرے ابو جانتے ہیں کہ میں کون ہوں۔" اور شاید یہی وجہ ہے کہ عدالتیں خرچے کا حساب لگا سکتی ہیں، لیکن کسی بچے کے دل میں والدین کی موجودگی کا حساب نہیں لگا سکتیں۔ اگلی بار جب کوئی کہے "بچہ اپنے پاس کیوں رکھتی ہو؟" تو ایک سوال ضرور پوچھئے بچہ صرف خرچے سے پلتا ہے یا تعلق سے بھی؟
1
3
4
149
Sania retweeted
اگر آپ سے بیٹی کی شادی کا فیصلہ غلط ہو جاتا ہے تو اس غلط فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کریں اور بیٹی کا ساتھ دیں۔ اسے جس جہنم میں دهکا دے چکے اس میں سے ساری زندگی جلنے کی تلقین کرنے کی بجائے اسے باہر نکالنے کی کوشش کریں۔ اس سے پہلے کے وہ گھٹ گھٹ کر مر جائے کسی کو مار دے یا اپنی جان لے یا پھر کسی غلط راستے کا انتخاب کر کے اپنی دنیا اور آخرت برباد کر بیٹھے۔۔ ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ غلط فیصلہ تسلیم کر لیں تو لوگ کیا کہیں گے؟ فلاں کی بیٹی واپس آ گئی بس اس ایک جملے کے ڈر سے ہم اپنی بیٹی کو ساری عمر جہنم میں جھونک دیتے ہیں۔ والدین کیا کرتے ہیں! شادی کر دی، غلط لڑکے سے۔ نشہ کرتا ہے، مارتا ہے، دیوث ہے،نان نفقہ ادا نہیں کرتا،جائز حق نہیں دیتا،ذہنی طور پر ٹارچر کرتا ہے،دن رات ذلیل کرتا ہے۔ بیٹی رو کر واپس آتی ہے، کہتی ہے "ابو مجھے بچا لیں"۔ والدین کہتے ہیں "نہیں بیٹا، صبر کرو۔ جو نصیب میں لکھا تھا۔ لوگ کیا کہیں گے؟ طلاق لے لی تو بدنامی ہو گی۔ بیٹی اندر ہی اندر مر رہی ہے۔ کبھی خ۔و۔دکشی، کبھی ق۔ت۔ل، کبھی کوئی اور غلط قدم اور والدین بیٹی کا ساتھ نہیں دے رہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" اللہ کی نظر میں عزت اس کی ہے جو ظلم سے بیٹی کو بچا لے۔ لوگوں کی نظر میں عزت اس کی ہے جس کی بیٹی سہتی رہے، چاہے مر جائے۔ ایسے اذیت بھرے رشتے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ بیٹی گھٹ گھٹ کر مر جائے گی،ڈپریشن کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ یا پھر کسی کو مار دے گی ،ظلم سہتے سہتے انسان درندہ بن جاتا ہے۔ جب اذیت سہتے سہتے تھک جائے گی تو غلط راستہ چن لے گی،دنیا بھی گئی، آخرت بھی گئی اور والدین اسی بات کو سینے سے لگائے بیٹھے رہیں گے کہ "لوگ کیا کہیں گے! غلط فیصلہ ہر انسان سے ہوتا ہے۔ مگر مرد وہ ہے جو غلطی مان کر بیٹی کا ہاتھ پکڑ لے۔ کہے "بیٹا، ابو سے غلطی ہو گئی۔ معاف کر دو۔ اب میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں"۔ یقین مانیں، وہ بیٹی ساری عمر اس ایک جملے کے لیے دعائیں دے گی۔ طلاق بری نہیں ہے۔،جہنم میں رہنا برا ہے،بیٹی کی لا۔ش اٹھانا برا ہے۔بہن بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں۔ اللہ ہر باپ کو بیٹی کے آنسو سمجھنے والا دل دے۔ اور ہر بیٹی کو ظلم سے بچانے والا سہارا دے۔ آمین۔
4
3
15
780
Sania retweeted
بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں چھوٹے چھوٹے چڈھڑ اور مومنات کی کثیر تعدادپائی جاتی ہیں۔ ایسے مرد پہلے تو بڑے کھلے دل سے ان مومنات کی کالج یونیورسٹی کی فیسیں ادا کرتے ہیں، کبھی ان کے گولز اچیو کرنے کے لیے رقم مہیا کرتے ہیں۔ کبھی برانڈڈ کپڑوں جوتوں اور کھانوں کی مد میں ان پھر دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ سب اللہ کی رضا کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ان کے بھی کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔ پھر جب ان کی مومنات ان کے ہر ارادے پر پانی پھیر دیتی ہیں تو پھر یہ روتے ہوئے اپنی نیکیوں کی داستانیں سنانے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں۔ بھائی اگر یہ نیکی ہوتی تو تم نیکی کا صلہ کیوں مانگتے؟ اور دوسری بات کوئی انتہا درجے کا بیوقوف ہی ہو گا جو کسی نامحرم پر اپنی کمائی خرچ کرے اس آس پر کہ وہ تم سے شادی کرے گی۔ کیوں کہ جو غیرت مند والدین کی بیٹیاں ہوتی ہیں وہ کسی غیر مرد کا ایک روپے کا احسان تک نہیں لتیں۔ جس نے ہمسفر بنانا ہو وہ لوٹ کر نہیں کھاتی بلکہ عزت کے ساتھ نکاح کر کے ساتھ لے جانے کا بولتی ہے۔ تو بھائی یہ سب جاننے کے بعد بھی تم لٹ گئے تو قصور تمہارا اپنا ہے اب نیکیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کیا ہو گا؟ تم جانوں اور تمہاری مومنہ جانے،پہلے چھپ چھپ کر اس طرح کی نیکیاں کرتے ہیں اور پھر رونا رونے سوشل میڈیا پر آجاتے ہیں
1
2
2
378
Sania retweeted
قرآن مجید میں وہ کون سی سورت ہے جس کا نام ایک حشرے پر رکھا گیا ہے؟
4
1
1
214
Sania retweeted
آئینہ قصوروار نکلا عالیہ تقریباً ہر روز ایک ہی شکایت کرتی تھی۔ "آپ بدل گئے ہیں۔" عفان خاموش رہتا۔ کبھی وہ کہتی، "آپ میری بات نہیں سنتے۔" کبھی شکوہ ہوتا، "آپ پہلے جیسے محبت کرنے والے نہیں رہے۔" کبھی ناراضی، "آپ کو میری پروا ہی نہیں۔" اور پھر ایک دن، غصے میں بھری ہوئی وہ بیڈروم میں گئی اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔ سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا آئینہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ لمحے خود کو دیکھتی رہی۔ اچانک ایک سوال اس کے ذہن میں آیا "کیا واقعی سارا قصور صرف عفان کا ہے؟" کبھی کبھی زندگی کے سب سے مشکل سوال ہمارے بارے میں ہوتے ہیں۔ ہمیں فوراً نظر آ جاتا ہے کہ دوسرا کہاں غلط ہے۔ مگر اپنی آواز کا لہجہ. اپنی بے اعتنائی اپنی ضد اپنی خاموشیاں یہ سب ہمیں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ شریکِ حیات زیادہ محبت کرے، مگر کیا ہم خود محبت کا اظہار کرتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری بات سنے، مگر کیا ہم واقعی اس کی بات سنتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بدل جائے، مگر کیا ہم خود بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ شادی دو انسانوں کا رشتہ ہے، دو فرشتوں کا نہیں۔ اس میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں، کمزوریاں بھی، اور انا کے وہ لمحے بھی جب ہر شخص خود کو درست سمجھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن رشتے اُس دن بدلنا شروع ہوتے ہیں جب ایک شخص یہ کہنے کی ہمت کر لیتا ہے "شاید مجھے بھی اپنے اندر کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔" محبت حکم سے نہیں بڑھتی۔ شکایتوں سے بھی نہیں۔ محبت اکثر پہل کرنے سے بڑھتی ہے۔ آپ صبر کریں ممکن ہے سامنے والا نرم پڑ جائے۔ آپ عزت دیں ممکن ہے عزت لوٹ آئے۔ آپ محبت کا پہلا قدم اٹھائیں ممکن ہے فاصلے خود بخود کم ہونے لگیں۔ کیونکہ اکثر رشتے کسی تیسرے شخص کی وجہ سے نہیں ٹوٹتے. وہ دو اچھے لوگوں کے درمیان انا کی ایک باریک دیوار کی وجہ سے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اور وہ دیوار گرانے کا پہلا ہتھوڑا ہمیشہ اپنے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس لیے اگلی بار جب دل چاہے کہ آپ اپنے شریکِ حیات کو بدل دیں... پہلے ایک بار آئینے میں دیکھیے۔ ممکن ہے رشتے کا پہلا حل وہیں کھڑا ہو۔
2
4
5
155
Sania retweeted
ایک سوال خواتین سے 🌸 کیا کبھی کسی تحفے کی پیکنگ اندر موجود چیز سے زیادہ پسند آئی؟ 😄
3
1
6
335