ایک 23 سالہ نوجوان
#حمید بلوچ کا مقدمہ -
- خاموش عدل، کھوئی ہوئی صدائیں اور ایک جج کی یاداشت A Judge May Speak
ثناءاللہ بلوچ
سچ کی تلاش میں میں نے جس شخص کی یادداشتوں اور تحریروں کا مطالعہ کیا، ان میں **میر خدابخش مری** کی کتاب A Judge May Speak نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہ کتاب کوئی شور مچانے والی یا مرکزی دھارے میں زیادہ مشہور تصنیف نہیں، لیکن جیسے جیسے آپ اسے پڑھتے جاتے ہیں، اس کی خاموشی ایک بھاری سچائی میں بدلتی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی یادداشت محسوس ہوتی ہے جو اس وقت لکھی گئی ہو جب قانون مسلسل طاقت کے دباؤ میں اپنی جگہ تلاش کر رہا تھا۔
یہ کتاب 1990 میں شائع ہوئی اور تقریباً 226 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے ذاتی تجربات، عدالتی مشاہدات اور آئینی تاریخ کے اُن ادوار کو بیان کیا ہے جب پاکستان کا عدالتی نظام مارشل لا کے زیر اثر تھا، خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے دور میں، جب آئین بار بار معطل یا محدود کیا جاتا رہا۔ اس پورے بیانیے میں جو چیز نمایاں ہے وہ صرف قانونی نکات نہیں بلکہ وہ ذہنی اور ادارہ جاتی دباؤ ہے جس کے تحت جج صاحبان فیصلے کرتے رہے۔
اسی کتاب کے اندر ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ مقدمہ
#حمید_بلوچ کا ہے۔ وہ تربت کے ایک طالبعلم تھے اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ تھے۔ دسمبر 1979 میں انہیں اس الزام پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے ایک عمانی فوجی افسر پر فائرنگ کی تھی جو بلوچ نوجوانوں کو عمانی فوج میں بھرتی کرنے کے عمل سے وابستہ تھا۔
یہ مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا گیا، اس وقت جب ملک میں مارشل لا نافذ تھا اور عدالتی عمل پہلے ہی غیر معمولی سیاسی دباؤ کا شکار تھا۔ اس دوران کئی سوالات اٹھے—شواہد کی نوعیت پر، پراسیکیوشن کے بیانات میں تبدیلیوں پر، اور مجموعی طور پر انصاف کے عمل کی شفافیت پر۔ ایک موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ نے پھانسی کے خلاف حکمِ امتناع بھی جاری کیا، مگر 1981 کے پروویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر کے بعد عدالت کے اختیارات محدود کر دیے گئے اور یہ تحفظ کمزور پڑ گیا۔
11 جون 1981 کو انہیں بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی، اس وقت ان کی عمر تقریباً 23 سال تھی۔ کتاب اس واقعے کو جذباتی انداز میں پیش نہیں کرتی، مگر اس کی خاموش تفصیل خود ایک بھاری احساس چھوڑ جاتی ہے—جیسے کچھ فیصلے درج تو ہو گئے، مگر تاریخ میں مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے۔
یہ کتاب شاید اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ بہت زیادہ نمایاں یا مشہور نہیں سمجھی جاتی، لیکن جو اسے پڑھ لے وہ اسے آسانی سے بھلا نہیں سکتا۔ یہ کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیتی، بلکہ سوال چھوڑ جاتی ہے—قانون، طاقت اور انسانی زندگی کے درمیان موجود وہ فاصلہ جسے اکثر تاریخ خاموشی سے لکھ دیتی ہے۔
اپنی طالب علمی کے زمانے میں، جب میں سچ کی تلاش اور بلوچستان کے لوگوں کی اس دور کی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا جو ضیاء الحق کے مارشل لا میں گزرا، تو یہ کتاب میرے لیے صرف مطالعہ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے سوالوں کو ختم نہیں کیا بلکہ اور گہرا کر دیا۔
آج کے بلوچ نوجوان کے غم و غصہ، تاریخی نا انصافیوں اور ریاست سے متعلق بد اعتمادی کو سمجھنے سچ اور صرف سچ کا سامنا اور انکا سنجیدگی سے ادراک کرنا ہوگا - جسمانی یا طبعی زخم تو ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن تسلسل کیساتھ دہیے گئے قومی و نفسیاتی زخم سچ کا سامنا کئیے بغیر ھمیشہ تازہ رہتے ہیں-