Former Senator/MNA/MPA (Parliamentarian) | Democratic Governance Expert | UNDP Adviser 🇸🇱,🇸🇴 & 🇵🇰| Stanford CDRL Fellow | Balochistan, Pakistan

Joined December 2011
3,097 Photos and videos
This is the 21st century, yet this scene is from #Balochistan’s capital city, #Quetta. Hundreds of people have gathered to search through the ashes for whatever remains of goods that were allegedly seized and then set on fire by customs authorities. Burning confiscated goods is the easiest part. The real question is what happens before the fire. Time and again, allegations surface that valuable items disappear, are replaced, or vanish altogether, while only a few damaged boxes are ultimately burned to complete the paperwork and maintain the record. When citizens are left scavenging through ashes for survival, it is not merely an administrative failure—it is a reflection of a deeply broken system. This is #Pakistan.
3
46
116
5,651
#بلوچستان کے مسئلہ کو سمجھنے کیلے #دلیل #منطق #بحث و مباحثہ کی نہیں ایک حساس #دل کی ضرورت ہے یہ دو دن پہلے کے #کوہٹہ کے مناظر ہیں -
2
13
95
4,939
یہ اکیسویں صدی ہے، مگر یہ منظر #بلوچستان کے دارالحکومت #کوئٹہ کا ہے۔ سینکڑوں لوگ اُن سامان کے بچے کھچے آثار تلاش کرنے کے لیے راکھ میں کھنگال رہے ہیں جسے گزشتہ دنوں #کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط کرکے آگ لگا دی گئی۔ ضبط شدہ سامان کو جلانا تو سب سے آسان کام ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ بارہا یہ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ قیمتی اشیاء غائب ہو جاتی ہیں، تبدیل کر دی جاتی ہیں، اور آخر میں صرف چند خراب ڈبوں کو جلا کر ریکارڈ مکمل کر دیا جاتا ہے۔ جب شہری اپنی ضرورت کی چیزوں کے لیے راکھ میں تلاش کرنے پر مجبور ہوں تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک بوسیدہ اور غیر جوابدہ نظام کی عکاسی ہے۔ یہ ہے #پاکستان۔
11
25
85
10,338
Sana Ullah BALOCH retweeted
جس ملک میں تعلیم کے لئے 2 ارب اور بے نظیر انکم سپورٹ کے لئے 850 ارب رکھے جائیں وہاں ڈاکٹر قدیر خان نہیں فقیر ہی پیدا ہونگے @AnitaJalil @Senator_Baloch
1
2
4
503
Sana Ullah BALOCH retweeted
Bilawal sahib wants to have a cake and eat it too. If he is a national leader he should not cut jokes over a serious matter of stolen mandate of people and yet support the same govt as a coalition partner. In doing so he is adding insult to the injuries of victim voters of Lahore. Apparently Bilawal just wants to form govt in GB and then live in Bilawal House Lahore happily for ever. By not taking a serious position on "stolen mandate of Lahore" he actually wants to turn GB into Karachi. So much for the so called "stolen mandate of Lahore." x.com/SanaullahDawn/status/2…

93
471
1,557
18,510
#گوادر کے قریب تیل کے رساؤ کی اطلاعات ایک ایسے ساحل کے لیے ایک اور خطرہ ہیں جو پہلے ہی شدید استحصال اور غفلت کا شکار ہے۔ برسوں سے #بلوچستان کے سمندری وسائل غیر قانونی ٹرالنگ، حد سے زیادہ ماہی گیری اور بے دریغ استحصال کی نذر ہو رہے ہیں، جس سے مقامی ماہی گیروں کا روزگار اور سمندری حیات شدید متاثر ہوئی ہے۔ افسوس کہ اس سنگین معاملے پر بلوچستان کی "دال چاول" پر مرکوز حکومت کی جانب سے ایک لفظ تک نہیں بولا گیا، حالانکہ یہ مسئلہ صوبے کے ماحول، معیشت اور ساحلی آبادیوں سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ غیر قانونی ٹرالنگ، وسائل کی لوٹ مار اور اب تیل کا رساؤ—آخر بلوچستان کا ساحل مزید کتنی بے حسی برداشت کرے گا؟
1
7
45
1,745
The reported oil spill near #Gwadar is yet another threat to an already devastated #Baloch coastline. For decades, #Balochistan's marine resources have been relentlessly #exploited through #illegal trawling, overfishing, and unchecked extraction, destroying the livelihoods of local fishermen and damaging marine biodiversity. Yet, not a single word has come from the "دال چاول" focused Government of Balochistan on an issue that directly affects the province's environment, economy, and coastal communities. Environmental neglect, illegal trawling, and now oil spills—how much more can our coastline endure before those in power finally pay attention?
3
21
41
2,031
Sana Ullah BALOCH retweeted
Congratulations Baluchistan securing first position in Poverty
ماتھے کا جھومر بلوچستان #Balochistan continued to record the highest #poverty incidence, while #Punjab remained the lowest among the four provinces, the survey says. ECONOMIC SURVEY 2026-27: Poverty surges 7pc, pushing 27m people into financial distress dawn.com/news/2007204
2
2
535
One of the most unattractive and confusing advertisement I ever came across this morning 😂😂
Every front page in the country singing the same song .... except Dawn.
1
2
15
1,318
Sana Ullah BALOCH retweeted
#خیبرپختونخوا کم #تعلیمی بجٹ کے باوجود D تعلیم کی ترقی اور باقی تنخواہوں و مراعات پر خرچ کرتا ہے جب کہ باقی صوبے بشمول #بلوچستان جہاں 30 لاکھ بچے اسکول سے محروم ہے 65 ارب میں سے صرف 10 ارب سے بھی کم تعلیمی ترقی پر خرچ کرتا ہے- جبکہ PDMA کا سالانہ دال چاول اور راشن جیسے اسکیم کیذریعہ 10 ارب سے زیادہ “خرچ” ہوجاتا ہے - یہ تفصیلات آج ہی شائع شدہ اکنامک سروے رپورٹ کی ہیں جو وفاقی حکومت نے جاری کی ہے-
4
28
68
3,417
ماتھے کا جھومر بلوچستان #Balochistan continued to record the highest #poverty incidence, while #Punjab remained the lowest among the four provinces, the survey says. ECONOMIC SURVEY 2026-27: Poverty surges 7pc, pushing 27m people into financial distress dawn.com/news/2007204
1
18
45
2,390
Sana Ullah BALOCH retweeted
اختر مینگل بتا رہا تھا۔" ​"خود اُس نے کہا کہ مسیانی سردار کے گھر جب سکیورٹی فورسز تلاشی کے لیے گئیں، تو وہ باہر نہیں آیا۔" ​"جب وہ باہر آیا، تو بندوق کے بٹوں سے ایک شریف آدمی کو—چاہے وہ سردار نہ بھی ہو—مارا پیٹا گیا، جبکہ آپ اس کے گھر کے سامنے مسلح کھڑے ہیں۔" ​"جب اُس کا جوان بچہ سامنے آیا، تو ٹھاہ، ٹھاہ، ٹھاہ! (یا ڈش، ڈش) گولی مار دی، بچے کے سامنے۔" ​"اس کا کیا اثر ہوگا؟ اس سے پاکستانیت تو نہیں بڑھے گی، اور اس طرح تو نظام نہیں چلے گا۔" ​"ہم سب نے توبہ کرنی ہے اور توبہ کا دروازہ ابھی تک بند نہیں ہوا؛ ہم سب کو توبہ کرنی ہوگی۔" ​"کشمیر کا مسئلہ بھی ٹھیک ہو سکتا ہے، کیونکہ مذاکرات کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
2
105
393
15,543
Sana Ullah BALOCH retweeted
Insist strengthening provinces essential for a stable federation; questions raised at seminar over party’s continued support for all constitutional amendments. dawn.com/news/2007131/ppp-le…
3
4
822
Sana Ullah BALOCH retweeted
حکومتی اکنامک سروے 2026 کے مطابق بلوچستان کے y سرکاری سکول بجلی سے محروم ہیں، q میں پینے کا پانی میسر نہیں، R کی چار دیواری ہی نہیں ہے۔ اگر ہارڈ سٹیٹ کو شہریوں کے مسائل حل کرنا مشکل کام لگتا ہے تو اس کو بھی غیر ملکی سازش اور انڈین فنڈنگ کے ذمے ڈال کر لمبی تان کر سو جائیں۔
12
259
733
13,717
Sana Ullah BALOCH retweeted
#حمید_بلوچ صرف 23 سال کے تھے۔ ان کا مقدمہ قانون، طاقت اور خاموش عدل کے بیچ دفن ایک دردناک سوال ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کی محرومی اور بےاعتمادی کو سمجھنا ہے تو ایسے تاریخی زخموں کا سچائی اور ہمدردی سے سامنا کرنا ہوگا۔
ایک 23 سالہ نوجوان #حمید بلوچ کا مقدمہ - - خاموش عدل، کھوئی ہوئی صدائیں اور ایک جج کی یاداشت A Judge May Speak ثناءاللہ بلوچ سچ کی تلاش میں میں نے جس شخص کی یادداشتوں اور تحریروں کا مطالعہ کیا، ان میں **میر خدابخش مری** کی کتاب A Judge May Speak نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہ کتاب کوئی شور مچانے والی یا مرکزی دھارے میں زیادہ مشہور تصنیف نہیں، لیکن جیسے جیسے آپ اسے پڑھتے جاتے ہیں، اس کی خاموشی ایک بھاری سچائی میں بدلتی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی یادداشت محسوس ہوتی ہے جو اس وقت لکھی گئی ہو جب قانون مسلسل طاقت کے دباؤ میں اپنی جگہ تلاش کر رہا تھا۔ یہ کتاب 1990 میں شائع ہوئی اور تقریباً 226 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے ذاتی تجربات، عدالتی مشاہدات اور آئینی تاریخ کے اُن ادوار کو بیان کیا ہے جب پاکستان کا عدالتی نظام مارشل لا کے زیر اثر تھا، خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے دور میں، جب آئین بار بار معطل یا محدود کیا جاتا رہا۔ اس پورے بیانیے میں جو چیز نمایاں ہے وہ صرف قانونی نکات نہیں بلکہ وہ ذہنی اور ادارہ جاتی دباؤ ہے جس کے تحت جج صاحبان فیصلے کرتے رہے۔ اسی کتاب کے اندر ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ مقدمہ #حمید_بلوچ کا ہے۔ وہ تربت کے ایک طالبعلم تھے اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ تھے۔ دسمبر 1979 میں انہیں اس الزام پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے ایک عمانی فوجی افسر پر فائرنگ کی تھی جو بلوچ نوجوانوں کو عمانی فوج میں بھرتی کرنے کے عمل سے وابستہ تھا۔ یہ مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا گیا، اس وقت جب ملک میں مارشل لا نافذ تھا اور عدالتی عمل پہلے ہی غیر معمولی سیاسی دباؤ کا شکار تھا۔ اس دوران کئی سوالات اٹھے—شواہد کی نوعیت پر، پراسیکیوشن کے بیانات میں تبدیلیوں پر، اور مجموعی طور پر انصاف کے عمل کی شفافیت پر۔ ایک موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ نے پھانسی کے خلاف حکمِ امتناع بھی جاری کیا، مگر 1981 کے پروویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر کے بعد عدالت کے اختیارات محدود کر دیے گئے اور یہ تحفظ کمزور پڑ گیا۔ 11 جون 1981 کو انہیں بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی، اس وقت ان کی عمر تقریباً 23 سال تھی۔ کتاب اس واقعے کو جذباتی انداز میں پیش نہیں کرتی، مگر اس کی خاموش تفصیل خود ایک بھاری احساس چھوڑ جاتی ہے—جیسے کچھ فیصلے درج تو ہو گئے، مگر تاریخ میں مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے۔ یہ کتاب شاید اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ بہت زیادہ نمایاں یا مشہور نہیں سمجھی جاتی، لیکن جو اسے پڑھ لے وہ اسے آسانی سے بھلا نہیں سکتا۔ یہ کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیتی، بلکہ سوال چھوڑ جاتی ہے—قانون، طاقت اور انسانی زندگی کے درمیان موجود وہ فاصلہ جسے اکثر تاریخ خاموشی سے لکھ دیتی ہے۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں، جب میں سچ کی تلاش اور بلوچستان کے لوگوں کی اس دور کی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا جو ضیاء الحق کے مارشل لا میں گزرا، تو یہ کتاب میرے لیے صرف مطالعہ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے سوالوں کو ختم نہیں کیا بلکہ اور گہرا کر دیا۔ آج کے بلوچ نوجوان کے غم و غصہ، تاریخی نا انصافیوں اور ریاست سے متعلق بد اعتمادی کو سمجھنے سچ اور صرف سچ کا سامنا اور انکا سنجیدگی سے ادراک کرنا ہوگا - جسمانی یا طبعی زخم تو ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن تسلسل کیساتھ دہیے گئے قومی و نفسیاتی زخم سچ کا سامنا کئیے بغیر ھمیشہ تازہ رہتے ہیں-
1
1
714
Sana Ullah BALOCH retweeted
Replying to @Senator_Baloch
یہ ہے وہ تمام ترقی جو وفاق نے پچھلے ستر سالوں میں بلوچستان کو دیا اپنے من پسند لوگوں کو حکومتیں دے کر، پھر آکر چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ بلوچستان دا اصل مسئلہ کی ہے؟ تو جناب اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان میں ترقی تو دور کی بات ہے یہاں تو بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔
2
2
1,280
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے چونکا دینے والے انکشافات آج حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے پاکستان اکنامک سروے 2025-26 نے #بلوچستان کے سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار کی ایک تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق: ⚡ بلوچستان کے صرف 21 فیصد سرکاری اسکولوں میں بجلی دستیاب ہے (پاکستان اوسط: 65 فیصد) 🚰 صرف 29 فیصد اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت موجود ہے (پاکستان اوسط: 76 فیصد) 🚻 صرف 0.3 فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء کی سہولت موجود ہے (پاکستان اوسط: 77 فیصد) 🧱 صرف 49 فیصد اسکولوں کے گرد حفاظتی چاردیواری موجود ہے (پاکستان اوسط: 75 فیصد) دوسری جانب پنجاب میں ان بنیادی سہولیات کی فراہمی تقریباً سو فیصد ہے، جبکہ بلوچستان تقریباً ہر اشاریے میں سب سے نچلی سطح پر کھڑا ہے۔ یہ کوئی عیاشی یا اضافی سہولیات نہیں بلکہ ایک محفوظ، باوقار اور مؤثر تعلیمی ماحول کے لیے بنیادی ضروریات ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو بلوچستان کے اسکولوں میں صفائی، پانی اور بجلی کی صورتحال دنیا کے بعض غریب ترین اور پسماندہ خطوں سے مماثلت رکھتی ہے۔ ہر فیصد کے پیچھے ایک ایسا بچہ ہے جس کے مستقبل سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے، ایک ایسی بچی ہے جو بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث تعلیم سے محروم ہو سکتی ہے، اور ایک ایسی کمیونٹی ہے جو مسلسل ترقی کے مواقع سے دور رکھی جا رہی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ پالیسی سازوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ تعلیم صرف اعلانات اور دعوؤں سے بہتر نہیں ہوگی؛ بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تعلیم مزید انتظار نہیں کر سکتی۔ بلوچستان مزید انتظار نہیں کر سکتا۔ #بلوچستان #تعلیمی_ایمرجنسی #پاکستان_اکنامک_سروے #حق_تعلیم #اسکول_انفراسٹرکچر #EducationForAl
3
11
38
2,189
SHOCKING FINDINGS ABOUT #Balochistan FROM #PAKISTAN'S #ECONOMIC #SURVEY 2025-26 Today, the Government of Pakistan released the Pakistan Economic Survey 2025-26, and the education statistics reveal an alarming reality about public schools in #Balochistan. (Reference; PES, Page 176) According to official government data: ⚡ Only 21% of public schools in #Balochistan have electricity (#Punjab 99% ) 🚰 Only 29% have access to drinking water (#Punjab 100%). 🚻 Only 0.3% have #toilet facilities (Punjab 100% ) 🧱 Only 49% have boundary walls (#Punjab 98%) Reference: Pakistan Economic Survey 2025-26 - Page 176 #Balochistan #EducationEmergency #PakistanEconomicSurvey #RightToEducation #SchoolInfrastructure #EducationForAll
3
12
40
2,054
ایک 23 سالہ نوجوان #حمید بلوچ کا مقدمہ - - خاموش عدل، کھوئی ہوئی صدائیں اور ایک جج کی یاداشت A Judge May Speak ثناءاللہ بلوچ سچ کی تلاش میں میں نے جس شخص کی یادداشتوں اور تحریروں کا مطالعہ کیا، ان میں **میر خدابخش مری** کی کتاب A Judge May Speak نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہ کتاب کوئی شور مچانے والی یا مرکزی دھارے میں زیادہ مشہور تصنیف نہیں، لیکن جیسے جیسے آپ اسے پڑھتے جاتے ہیں، اس کی خاموشی ایک بھاری سچائی میں بدلتی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی یادداشت محسوس ہوتی ہے جو اس وقت لکھی گئی ہو جب قانون مسلسل طاقت کے دباؤ میں اپنی جگہ تلاش کر رہا تھا۔ یہ کتاب 1990 میں شائع ہوئی اور تقریباً 226 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے ذاتی تجربات، عدالتی مشاہدات اور آئینی تاریخ کے اُن ادوار کو بیان کیا ہے جب پاکستان کا عدالتی نظام مارشل لا کے زیر اثر تھا، خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے دور میں، جب آئین بار بار معطل یا محدود کیا جاتا رہا۔ اس پورے بیانیے میں جو چیز نمایاں ہے وہ صرف قانونی نکات نہیں بلکہ وہ ذہنی اور ادارہ جاتی دباؤ ہے جس کے تحت جج صاحبان فیصلے کرتے رہے۔ اسی کتاب کے اندر ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ مقدمہ #حمید_بلوچ کا ہے۔ وہ تربت کے ایک طالبعلم تھے اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ تھے۔ دسمبر 1979 میں انہیں اس الزام پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے ایک عمانی فوجی افسر پر فائرنگ کی تھی جو بلوچ نوجوانوں کو عمانی فوج میں بھرتی کرنے کے عمل سے وابستہ تھا۔ یہ مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا گیا، اس وقت جب ملک میں مارشل لا نافذ تھا اور عدالتی عمل پہلے ہی غیر معمولی سیاسی دباؤ کا شکار تھا۔ اس دوران کئی سوالات اٹھے—شواہد کی نوعیت پر، پراسیکیوشن کے بیانات میں تبدیلیوں پر، اور مجموعی طور پر انصاف کے عمل کی شفافیت پر۔ ایک موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ نے پھانسی کے خلاف حکمِ امتناع بھی جاری کیا، مگر 1981 کے پروویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر کے بعد عدالت کے اختیارات محدود کر دیے گئے اور یہ تحفظ کمزور پڑ گیا۔ 11 جون 1981 کو انہیں بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی، اس وقت ان کی عمر تقریباً 23 سال تھی۔ کتاب اس واقعے کو جذباتی انداز میں پیش نہیں کرتی، مگر اس کی خاموش تفصیل خود ایک بھاری احساس چھوڑ جاتی ہے—جیسے کچھ فیصلے درج تو ہو گئے، مگر تاریخ میں مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے۔ یہ کتاب شاید اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ بہت زیادہ نمایاں یا مشہور نہیں سمجھی جاتی، لیکن جو اسے پڑھ لے وہ اسے آسانی سے بھلا نہیں سکتا۔ یہ کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیتی، بلکہ سوال چھوڑ جاتی ہے—قانون، طاقت اور انسانی زندگی کے درمیان موجود وہ فاصلہ جسے اکثر تاریخ خاموشی سے لکھ دیتی ہے۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں، جب میں سچ کی تلاش اور بلوچستان کے لوگوں کی اس دور کی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا جو ضیاء الحق کے مارشل لا میں گزرا، تو یہ کتاب میرے لیے صرف مطالعہ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے سوالوں کو ختم نہیں کیا بلکہ اور گہرا کر دیا۔ آج کے بلوچ نوجوان کے غم و غصہ، تاریخی نا انصافیوں اور ریاست سے متعلق بد اعتمادی کو سمجھنے سچ اور صرف سچ کا سامنا اور انکا سنجیدگی سے ادراک کرنا ہوگا - جسمانی یا طبعی زخم تو ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن تسلسل کیساتھ دہیے گئے قومی و نفسیاتی زخم سچ کا سامنا کئیے بغیر ھمیشہ تازہ رہتے ہیں-
2
7
51
4,180