Joined September 2009
6,350 Photos and videos
Pinned Tweet
آو کہ ایک دوسرے کو انسان سمجھتے ھیں ۔! بھائی سمجھتے ھیں، مسلمان سمجھتے ھیں ۔!!
25
47
323
محرم رونے ، رلانے اور دلوں میں احساس بندگی بیدار کرنے کا مہینہ ہے ۔ حسین بن علی ۔ع ہر خیر تک رسائی کا تا حشر وسیلہ ہیں ۔
1
3
20
150
Syed M Mehdi retweeted
He's my favorite terrorist: Trump
14
77
534
5,997
کاتب نے لکھ دیا میری قسمت میں یاحسین۔ع کہتا رہونگا جوش مودت میں یاحسین۔ع دنیا تو مشکلات میں کہتی ھے یاعلی۔ع اسلام نے کہا تھا مصیبت میں یاحسین۔ع جوش ملیح آبادی
5
26
282
این حسین کیست که عالم همه دیوانه ی اوست این چه شمعی است که جان ها همه پروانه ی اوست یہ حُسین کون ہیں کہ سارا جہاں اُن کا دیوانہ ہے یہ کیسا چراغ ہے کہ تمام جانیں اُن کے گرد پروانہ بنی ہوئی ہیں
1
14
50
375
حيّ علی العزاء حيّ علی البکاء۔۔۔۔ عظَّم اللَّه أجورنَا وأجوركم بِمصابِنَا سيدي ومولاي أبا عبد الله الحسين عليه السلام
3
17
208
فاذکرونی اذکرکم تم میرا ذکر کرو ۔۔ میں تمہارا ذکر کرونگا۔ 1400 سال ھو گئے۔ واقعہ کربلا کے ذکر مصائب پڑھے جا رہے ھیں۔ وہی شہادتیں بار بار ہر سال پڑھے جاتے ھیں۔ ہر سال تو کوئی اپنوں کو بھی نہیں یاد کر کے روتا، بلکہ ایک عرصہ کے بعد ایسے ھو جاتے ھیں جیسے چلے جانے والے کبھی تھے ہی نہیں۔ لیکن یہ کیسا ذکر ھے یہ کیسا معجزہ ھے میرے مولا حسین۔ع کا۔۔۔۔ 1400 سال بیت گئے اور اج بھی دنیا بھر میں حسین حسین ھو رہی ھے۔ حسین۔ع نے اپنے آخری سجدے میں سبحان ربی الاعلی کے ذکر کو ایسا بلند کیا کہ خدا نے بھی اپنے وعدے کے مطابق رہتی دنیا تک ذکر حسین۔ع کو جاری کر دیا۔
4
14
75
772
آغازِ محرم کی ایک مجلس میں علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ نے یہ واضح کرنے کیلئے کہ کربلا کوئی اچانک رونما ہونے والا حادثہ یا سانحہ نہیں بلکہ ایک الوہی حقیقت ہے، کتب احادیث میں موجود وہ واقعات بیان کیے جن میں مختلف انبیاء علیھم السلام کا غم امام حسین علیہ السلام میں گریہ کرنے کا ذکر موجود ہے۔ ان واقعات میں ایک واقعہ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی تھا۔ واقعہ حضرت آدم علیہ السلام اور جنابِ جبرائیل علیہ السلام کے مکالمے سے متعلق تھا جس کا تذکرہ قران میں بھی ہے۔ کچھ دعائیہ جملے تھے جو جناب جبرائیل علیہ السلام نے پڑھے اور حضرت آدم علیہ السلام ان جملوں کو دہراتے رہے۔ یا الہی بحق محمدؐ و علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ۔ جبرائیل علیہ السلام یہ جملے پڑھتے گئے اور آدم علیہ السلام دہراتے گئے۔ جیسے ہی لفظِ حسینؑ آدمؑ کی زبان پر آیا، ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ آدمؑ نے جبرائیلؑ سے پوچھا کہ یہ کیسا نام ہے جس کے لیتے ہی میری آنکھوں میں آنسو آگئے؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ کی نسل میں سے ایک انسان ایسا آئے گا جو اپنا پورا خاندان دینِ خدا پر قربان کر دے گا۔ یہاں علامہ صاحب نے ایک جملے کا مزید اضافہ کیا کہ علمِ آدمؑ میں یہ واقعہ تھا جو آگیا جبرائیلؑ کے حوالے سے۔ ۔ آج ہر وہ انسان جس کی آنکھ نام حسین علیہ السلام سن کر نم ہو جاتی ہے یا اسے دل میں غم و اندوہ کی ایک بے اختیار لہر سی اٹھتی محسوس ہوتی ہے تو اسے یقین رکھنا چاہئے کہ یہ وہ احساس ہے جو اسے کل نسل انسانی کے جد حضرت آدم علیہ السلام سے ورثے میں ملا۔ نامَ حسینؑ سن کر جب جب آنکھ نم ہو تو وہ یاد کرے کہ یہ وہ نام ہے جسے سن کر آدمؑ بھی رو دیئے تھے۔ اور جس بدنصیب کو یہ احساس عطا نہیں ہوا اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ آدم علیہ السلام کا ایک بیٹا قابیل بھی تھا۔ جس کی پہچان فقط سفاکیت، سنگدلی اور لع نت ہے۔ ادھر نامِ حسین ع آیا ادھر آنسو ہوئے جاری مری آنکھوں میں گویا عابدِ بیمار بیٹھے ہیں ۔ #نوردرویش
1
7
42
516
انا للہ وانا الیہ راجعون! محرم الحرام 1448ھ
8
36
352
Syed M Mehdi retweeted
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو نواسوں، مولا علی علیہ السلام کے چھ بیٹوں ، دو پوتوں دو نواسوں اور نبی کریم ﷺ کے بیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بنو امیہ نے شہید کیا بنو امیہ کے اقتدار کی عمارت اہل بیت رسول ﷺ اور صحابہ کرام کے خون سے تعمیر کی گئی بنو امیہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے ظالم تھے اور جو کوئی بنو امیہ کا حمایتی ہو اس کا شمار بھی ظالموں میں ہوتا ہے اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا #حسین_پھر_حسین_ہے
7
22
98
1,969
Syed M Mehdi retweeted
Millions gather right now to witness the flag changing ceremony in the Holy City of Karbala. 🏴
27
157
1,896
Syed M Mehdi retweeted
Mr. @elonmusk Are you gonna change the Iran flag back to what the original flag is now on @X or you and Nikita will defy @realDonaldTrump and his peace agreement and become @netanyahu’s mouthpiece ? Reply not expected, just change the flag to its original form. Thanks.
8
48
292
10,921
"حُسَينٌ مِنِّي وأنا مِن حُسين، أحَبَّ اللهُ مَن أحبَّ حُسَيناً والحسين سبط من الأسباط” "حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں، اللہ ہر اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسینؑ سے محبت کرتا ہے۔” (الجامع الصحيح سنن الترمذي الجزء 5 الصفحة 658۔ / المعجم الكبير ج3 ح2586 ص32)
25
87
908
اُن سے کہہ دو غمِ شبیرؑ ہے ہر غم کا علاج تم سے جو بھی غمِ دنیا کی دوا مانگتے ہیں ساحر لکھنویؔ
6
61
691
Syed M Mehdi retweeted
A moment of pride and honor as the flag of the Islamic Republic of Iran made its majestic entrance onto the world stage of the 2026 FIFA World Cup in the United States. #FIFAWorldCup2026
99
815
7,450
121,769
منکر جو اس ثواب کا اور عزا کا ھے یہ دوست مصطفی۔ص کا نہ بندہ خدا کا ھے
4
33
411
حسین۔ع تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے کہ تو عظیم ہے ، بےننگ و نام ہم جیسے احمد فراز
7
12
143
1,134
Syed M Mehdi retweeted
Iran and USA after peace deal

6
54
470
22,289
جنیوا سے یاد آیا عظیم مفکر علامہ اقبال نے فرمایا تھا تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے جنیوا کا نام آنے پر تہران کے آئندہ جنیوا بننے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دیتی ہے ایران نے جس وقار سے جنگ لڑی ہے، بہترین خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا ہے، یورپ جیسے امریکی حمایتی خطے کی طرف سے امریکہ مخالف بیانات ایران کی کامیاب خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہیں ایران کی موجودہ پوزیشن پر بات کی جائے تو اس نے کئی دہائیوں کی پابندیوں، دباؤ اور علاقائی تنازعات کے باوجود اپنی ریاستی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور سفارتی روابط برقرار رکھے ہیں۔ ایران نے معاشی مشکلات کے باعث بھاری قیمت چکائی ہے۔ ایران نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم اور نظرانداز نہ کیے جا سکنے والی طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ یہ بات اس کے حامی اور ناقد دونوں کسی نہ کسی درجے میں تسلیم کرتے ہیں، اگرچہ اس کی کامیابی کی نوعیت اور حد کے بارے میں آراء مختلف ہیں۔ اقبال کے شعر کی روشنی تہران ایک مؤثر سفارتی اور فکری مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران میں آج میٹرک کے ہر طالب علم کو اقبال کے 200 اشعار یاد ہونا لازمی ہے۔
2
7
43
745
Syed M Mehdi retweeted
ملک اسحاق جلسوں میں فخر سے بتاتا تھا کہ میں نے سو شیعہ قتل کیے ہیں ، عدالت پیشی پر ججوں کو براہ راست دھمکیاں دیتا تھا، جی ایچ کیو پہ حملہ ہوا تو ملک اسحاق کو خصوصی طیارے پر راولپنڈی لا کر دہشت گردوں سے مذاکرات کروائے گئے، ملک اسحاق سے بھی زیادہ خوفناک مگر ریاض بسرا تھا کہ جس نے مومن پورہ قبرستان میں ایک ہی حملے میں لاشوں کے ڈھیر لگا دئیے تھے ، ضیا الحق کا پھیلایا زہر آج بھی اورنگ زیب فاروقی اور دعوت اسلامی کی صورت میں باقی ہے فوج کی جب تک پالیسی تبدیل نہیں ہوتی دہشت گردی اور انتہا پسندی تب تک ختم نہیں ہو گی
پاکستان کی تاریخ کا سب سے خوفناک باب۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے سب سے خطرناک چہرہ ملک اسحاق جسکا کا نام سن کر پولیس کانپتی تھی۔۔ یہ وہ راز ہیں جو تیس سال سے دفن تھے آج ایک ریٹائرڈ پولیس افسر عزیز اللہ خان کی زبان سے باہر آئے۔ ملک اسحاق سے ذاتی ملاقاتیں جو اس سب کا چشم دید گواہ تھا ۔ وہ یہ انکشافات پہلی بار منظر عام پر لیکر اۓ ہیں۔ 80 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں دو زہر ایک ساتھ پھیلے۔ ایک ہیروئن کلچر اور دوسرا فرقہ وارانہ نفرت۔ ایران سے مذہبی مواد آنا شروع ہوا۔ اس کے نقابلے میں سپاہ صحابہ بنی۔ پھر اس کی کوکھ سے لشکر جھنگوی نکلی۔ اور لشکر جھنگوی کے جواب میں شیعہ برادری نے سپاہ محمد بنائی۔ یہ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں اور پنجاب کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں۔ ملک اسحاق۔ جنوبی پنجاب کا بادشاہ کیسے بنا ملک اسحاق ترنڈہ سواخان رحیم یار خان کا رہنے والا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 18 سال کی عمر میں سگریٹ بیچتا تھا۔ نہ کسی مدرسے میں پڑھا نہ کوئی بڑا علمی پس منظر تھا۔ لیکن حق نواز جھنگوی کی فکر نے اسے متاثر کیا اور وہ لشکر جھنگوی میں شامل ہو گیا۔ آہستہ آہستہ پورے جنوبی پنجاب میں اس کا خوف پھیل گیا۔ صادق اباد میں اس کی ریلی ہوتی تھی تو کارکن کفن پہن کر موٹرسائیکلوں پر گھومتے تھے اور پولیس خاموش کھڑی دیکھتی رہتی تھی کیونکہ ہاتھ لگانے کی جرات نہیں تھی۔ 102 قتل کے مقدمات اس کے نام پر درج ہوئے۔ رحیم یار خان میں اس نے اعلان کر رکھا تھا کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا اور واقعی رحیم یار خان میں اس کے دور میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ ملک اسحاق کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ نئے نئے موبائل فون آئے تھے۔ ملک اسحاق انہی فونوں سے آئی جی اور ڈی آئی جی کو دھمکیاں دیتا تھا۔ پولیس نے نمبر ٹریس کر لیا۔ پھر ایک چال چلی گئی۔ بل بڑھنے دیا گیا۔ فون بند ہو گیا۔ ملک اسحاق کو یقین نہیں تھا کہ بل جمع کرانے والے کو بھی پکڑا جا سکتا ہے۔ وہ خود فرنچائز پر بل جمع کرانے پہنچا۔ وہاں جال بچھا ہوا تھا۔ پاکستان کا سب سے خوفناک آدمی ایک فون بل کی وجہ سے گرفتار ہو گیا جیل میں بھی تنظیم چلتی رہی۔ غلام رسول شاہ جو لشکر جھنگوی کا پہلا گرفتار ہونے والا بڑا نام تھا اس نے جیل میں بیٹھ کر قانون کی تعلیم حاصل کی اور اندر سے پوری تنظیم چلاتا رہا۔ یہ لوگ پکڑے جانے پر نہ گالی برداشت کرتے تھے نہ تشدد۔ لیکن جو پوچھا جاتا تھا بتا دیتے تھے۔ جو نہیں پوچھا جاتا تھا وہ چھپا لیتے تھے۔ 2011 میں ملک اسحاق رہا ہوا۔ 2011 میں رہائی کے بعد ملک اسحاق کے بیٹوں کے بیرونی عناصر سے روابط بننے کی اطلاعات تھیں اور یہی وہ نقطہ تھا جس کے بعد ادارے حرکت میں آئے اور 2015 میں پولیس مقابلہ ہوا۔ یہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ خانہ فرنگ ایران پر حملے کے بعد پولیس نے اس مکان پر چھاپہ مارا جہاں ملک اسحاق کے ساتھی رہتے تھے۔ وہ تو بھاگ گئے لیکن وہاں سے ملک اسحاق کی ایک ذاتی ڈائری ملی۔ اس ڈائری میں 50 سے 60 افراد کے نمبر درج تھے۔ ان میں مدرسوں کے لوگ تھے عام شہری تھے اور کچھ پولیس والے بھی تھے۔ عزیز اللہ خان کو ایس ایس پی مشتاق سکھیرا نے یہ ٹاسک دیا کہ ڈائری میں موجود ہر نمبر کو ٹریس کرو اور ہر بندے سے پوچھ گچھ کرو۔ یہ انٹیروگیشن رپورٹ بعد میں ایس ایس پی کو جمع کرائی گئی۔ اس کے بعد لشکر جھنگوی کبھی اس سطح پر سامنے نہ آئی۔ تنظیم بظاہر ختم ہو گئی لیکن ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ تنظیمیں ختم نہیں ہوتیں۔ کسی اور نام سے زیر زمین چلتی رہتی ہیں۔
19
46
226
18,625
امام حسینؑ نے قاصد جنابِ قیس ابن مسہر صیداویؑ کو خط دے کر کوفہ روانہ کیا تو راستے میں حصین بن نمیر ملعون کے سپاہیوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ جنابِ قیسؑ نے خط کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نگل لیے تاکہ مولاؑ کے راز دشمن تک نہ پہنچ سکیں ۔ " ​جب انہیں ابنِ زیاد ملعون کے دربار میں پیش کیا گیا، تو خط چبا کر نگلنے پر ابنِ زیاد غصے سے پاگل ہو گیا۔ سچ اگلوانے اور مولا حسینؑ کے کوفہ میں موجود دیگر ساتھیوں کے نام معلوم کرنے کے لیے ان پر بدترین جسمانی تشدد شروع کیا گیا : " ​جلادوں نے ابنِ زیاد کے حکم پر انہیں زمین پر لٹا کر کوڑوں اور چمڑے کے تسموں سے اس بے رحمی سے مارا کہ ان کا پورا جسم لہولہان ہو گیا ​ان کے ہاتھوں اور پیروں میں بھاری اور تیکھی لوہے کی بیڑیاں اور طوق اس طرح جکڑے گئے کہ وہ ہڈیوں تک چبھنے لگے ، " ​شدید مار پیٹ کے بعد انہیں تپتی ہوئی زمین پر گھسیٹا گیا تاکہ وہ درد کی شدت سے راز اگل دیں، جب جسمانی اذیتیں بھی ان کا عزم نہ توڑ سکیں، تو ابنِ زیاد نے تلملا کر حکم دیا کہ انہیں محل کی بلند فصیل سے نیچے پھینک دیا جائے " " جب انہیں ہاتھ باندھ کر بلندی سے نیچے گرایا گیا تو بلندی سے گرنے کی وجہ سے ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور وہ شدید زخمی ہو کر تڑپنے لگے ۔ ہڈیاں ٹوٹ جانے کے باوجود ان کے سانس چل رہی تھی ۔ اس شدید کرب اور تڑپنے کی حالت میں بھی ابنِ زیاد کے سنگدل جلاد نے آگے بڑھ کر ان کا سر قلم کر دیا اور یوں ان تمام ہولناک اذیتوں کو سہتے سہتے تڑپتے ہوئے جناب قیس علیہ السلام کی شہادت ہو گئی " " ​جب امام حسینؑ کو اپنے اس باوفا قاصد کی اس قدر مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تو آپؑ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپؑ نے شدید گریہ فرمایا اور روتے ہوئے خدا کی بارگاہ میں دعا کی اور آیت پڑھی : ​" فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا " ( احزاب ) ​"پس ان میں سے کوئی اپنی نذر (قربانی) پوری کر چکا ہے اور کوئی انتظار کر رہا ہے، اور انہوں نے ( اپنے عہد میں ) کوئی تبدیلی نہیں کی" ۔۔۔۔۔ ​( کتبِ حوالہ: کتاب الارشاد جلد 2 صفحہ 71 تاریخِ طبری جلد 5 صفحہ 395 الکامل فی التاریخ جلد 4 صفحہ 43 بحار الانوار جلد 44 صفحہ 370 )
3
31
107
2,314