ملک اسحاق جلسوں میں فخر سے بتاتا تھا کہ میں نے سو شیعہ قتل کیے ہیں ، عدالت پیشی پر ججوں کو براہ راست دھمکیاں دیتا تھا، جی ایچ کیو پہ حملہ ہوا تو ملک اسحاق کو خصوصی طیارے پر راولپنڈی لا کر دہشت گردوں سے مذاکرات کروائے گئے، ملک اسحاق سے بھی زیادہ خوفناک مگر ریاض بسرا تھا کہ جس نے مومن پورہ قبرستان میں ایک ہی حملے میں لاشوں کے ڈھیر لگا دئیے تھے ، ضیا الحق کا پھیلایا زہر آج بھی اورنگ زیب فاروقی اور دعوت اسلامی کی صورت میں باقی ہے
فوج کی جب تک پالیسی تبدیل نہیں ہوتی
دہشت گردی اور انتہا پسندی تب تک ختم نہیں ہو گی
پاکستان کی تاریخ کا سب سے خوفناک باب۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے سب سے خطرناک چہرہ ملک اسحاق جسکا کا نام سن کر پولیس کانپتی تھی۔۔
یہ وہ راز ہیں جو تیس سال سے دفن تھے آج ایک ریٹائرڈ پولیس افسر عزیز اللہ خان کی زبان سے باہر آئے۔ ملک اسحاق سے ذاتی ملاقاتیں جو اس سب کا چشم دید گواہ تھا ۔ وہ یہ انکشافات پہلی بار منظر عام پر لیکر اۓ ہیں۔
80 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں دو زہر ایک ساتھ پھیلے۔ ایک ہیروئن کلچر اور دوسرا فرقہ وارانہ نفرت۔ ایران سے مذہبی مواد آنا شروع ہوا۔ اس کے نقابلے میں سپاہ صحابہ بنی۔
پھر اس کی کوکھ سے لشکر جھنگوی نکلی۔ اور لشکر جھنگوی کے جواب میں شیعہ برادری نے سپاہ محمد بنائی۔ یہ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں اور پنجاب کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں۔
ملک اسحاق۔ جنوبی پنجاب کا بادشاہ کیسے بنا
ملک اسحاق ترنڈہ سواخان رحیم یار خان کا رہنے والا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 18 سال کی عمر میں سگریٹ بیچتا تھا۔
نہ کسی مدرسے میں پڑھا نہ کوئی بڑا علمی پس منظر تھا۔ لیکن حق نواز جھنگوی کی فکر نے اسے متاثر کیا اور وہ لشکر جھنگوی میں شامل ہو گیا۔ آہستہ آہستہ پورے جنوبی پنجاب میں اس کا خوف پھیل گیا۔ صادق اباد میں اس کی ریلی ہوتی تھی تو کارکن کفن پہن کر موٹرسائیکلوں پر گھومتے تھے اور پولیس خاموش کھڑی دیکھتی رہتی تھی کیونکہ ہاتھ لگانے کی جرات نہیں تھی۔
102 قتل کے مقدمات اس کے نام پر درج ہوئے۔ رحیم یار خان میں اس نے اعلان کر رکھا تھا کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا اور واقعی رحیم یار خان میں اس کے دور میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔
ملک اسحاق کی گرفتاری کیسے ہوئی؟
نئے نئے موبائل فون آئے تھے۔ ملک اسحاق انہی فونوں سے آئی جی اور ڈی آئی جی کو دھمکیاں دیتا تھا۔ پولیس نے نمبر ٹریس کر لیا۔ پھر ایک چال چلی گئی۔ بل بڑھنے دیا گیا۔ فون بند ہو گیا۔
ملک اسحاق کو یقین نہیں تھا کہ بل جمع کرانے والے کو بھی پکڑا جا سکتا ہے۔ وہ خود فرنچائز پر بل جمع کرانے پہنچا۔ وہاں جال بچھا ہوا تھا۔ پاکستان کا سب سے خوفناک آدمی ایک فون بل کی وجہ سے گرفتار ہو گیا
جیل میں بھی تنظیم چلتی رہی۔
غلام رسول شاہ جو لشکر جھنگوی کا پہلا گرفتار ہونے والا بڑا نام تھا اس نے جیل میں بیٹھ کر قانون کی تعلیم حاصل کی اور اندر سے پوری تنظیم چلاتا رہا۔ یہ لوگ پکڑے جانے پر نہ گالی برداشت کرتے تھے نہ تشدد۔ لیکن جو پوچھا جاتا تھا بتا دیتے تھے۔ جو نہیں پوچھا جاتا تھا وہ چھپا لیتے تھے۔
2011 میں ملک اسحاق رہا ہوا۔ 2011 میں رہائی کے بعد ملک اسحاق کے بیٹوں کے بیرونی عناصر سے روابط بننے کی اطلاعات تھیں اور یہی وہ نقطہ تھا جس کے بعد ادارے حرکت میں آئے اور 2015 میں پولیس مقابلہ ہوا۔
یہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ خانہ فرنگ ایران پر حملے کے بعد پولیس نے اس مکان پر چھاپہ مارا جہاں ملک اسحاق کے ساتھی رہتے تھے۔ وہ تو بھاگ گئے لیکن وہاں سے ملک اسحاق کی ایک ذاتی ڈائری ملی۔
اس ڈائری میں 50 سے 60 افراد کے نمبر درج تھے۔ ان میں مدرسوں کے لوگ تھے عام شہری تھے اور کچھ پولیس والے بھی تھے۔ عزیز اللہ خان کو ایس ایس پی مشتاق سکھیرا نے یہ ٹاسک دیا کہ ڈائری میں موجود ہر نمبر کو ٹریس کرو اور ہر بندے سے پوچھ گچھ کرو۔ یہ
انٹیروگیشن رپورٹ بعد میں ایس ایس پی کو جمع کرائی گئی۔
اس کے بعد لشکر جھنگوی کبھی اس سطح پر سامنے نہ آئی۔ تنظیم بظاہر ختم ہو گئی لیکن ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ تنظیمیں ختم نہیں ہوتیں۔ کسی اور نام سے زیر زمین چلتی رہتی ہیں۔