ماؤں کی تربیت اہم ہے
ایک عورت ہر وقت اپنے بیٹے کے سامنے رشتے داروں کی مثالیں دیا کرتی تھی۔
دیکھو فلاں کے پاس کتنی بڑی گاڑی ہے… فلاں نے نئی کوٹھی بنا لی… فلاں کا بیٹا ماہانہ لاکھوں کما رہا ہے… اور ایک تمہارے باپ ہیں جنہوں نے ساری زندگی بس گزار دی…”
شروع میں بیٹا خاموش رہتا تھا، پھر آہستہ آہستہ اس کے دل میں اپنے باپ کے لیے احترام کم اور دولت کی ہوس زیادہ ہونے لگی۔
اسے لگنے لگا کہ عزت صرف پیسے والوں کی ہوتی ہے۔ محنت، دیانت اور حلال روزی سب فضول باتیں ہیں۔ اصل کامیابی وہ ہے جس میں پیسہ جلدی آئے… چاہے جیسے بھی آئے۔
وہ اپنے باپ کو ناکام سمجھنے لگا، حالانکہ وہی باپ بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کر کے، اپنی خواہشیں مار کر، اپنے بچوں کے لیے روٹی کماتا تھا۔
مگر ماں کی مسلسل شکایتوں نے بیٹے کے دل میں یہ زہر بھر دیا تھا کہ “تم غریب ہو کیونکہ تمہارے باپ نے کچھ نہیں کیا…”
پھر ایک دن وہ لڑکا شارٹ کٹ کے راستے پر چل پڑا۔
کبھی کسی فراڈ اسکیم کے پیچھے، کبھی راتوں رات امیر بنانے والے یوٹیوبرز کے پیچھے، اور آخرکار کرپٹو کے نام پر ایسے خواب خرید بیٹھا جن کی حقیقت اسے معلوم ہی نہ تھی۔
اسے نہ حلال حرام کی تمیز رہی، نہ محنت کی قدر…
بس ایک جنون تھا: “مجھے ہر حال میں امیر بننا ہے…”
اور پھر وہی ہوا جو ایسے لالچ کا انجام ہوتا ہے۔
جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی، جو امیدیں تھیں، جو سکون تھا… سب کرپٹو کے جنون میں اجڑ گیا۔
تب پہلی بار اسے اپنے باپ کے پسینے کی قیمت سمجھ آئی۔
اولاد کو بڑے خواب ضرور دیں، مگر ان خوابوں کی بنیاد شکر، حلال رزق، اور والدین کی عزت پر رکھیں۔
ورنہ احساسِ محرومی سے پیدا ہونے والی لالچ، انسان سے صرف دولت نہیں، ضمیر بھی چھین لیتی ہے