پاکستان کے آئین کو اپنے بوٹوں تلے روندنے والے ہمیں کہتے ہیں وہ محب وطن پاکستانی ہیں اور 25 کروڑ عوام غدار۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی اصل ملک دشمن ہیں، وطن فروش ایمان فروش، ڈالروں کے عوض اپنی ماں تک بیچنے والے مادر فروش ہیں۔
جب سے یہ سور آیا ہے پاکستان میں کسی جگہ امن نہیں رہا۔ یہ پاکستان کو توڑنے کے لئے لایا گیا ہے، بیرونی قوتوں کے اشاروں پر چلتے ہوئے پورے پاکستان میں آگ لگا رہا ہے۔
پاکستان میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنے والا سور یزید کا بچہ جس نے کشمیر میں بھی اسلام آباد کی طرح درجنوں جوانوں کو شہید کر دیا۔ اللہ ہمیں وہ وقت دکھائے جب یہ دار پے کٹکا ہوا ہو۔
انکا ہاتھ اتنا کھل چکا ہے جب چاہتے ہیں لوگوں کو گولیاں مار دیتے ہیں۔ پہلے 9 مئی، پھر اسلام آباد، پھر مریدکے اور اب کشمیر۔ اب بھی کسی دلے کو لگتا ہے یہ پتلونیں اتروائے بغیر واپس بیرکوں میں جائیں گے تو وہ بھی دلا ہے۔
وہ ایک شخص جو شہر بھر میں روشنیاں بانٹنے نکلا تھا، اسکی آستین میں پلے سانپوں کی ملی بھگت سے وطن فروشوں نے بینائی چھین لی تو کیا آج پھر سے اُسی شخص کا نام بیچ کر نئے سنپولیوں کی چنوتی ہو رہی ہے؟
ہر سو بڑا اندھیرا ہے، اُمید کا در کھولو کوئی کہ روشنی آئے!
وہ دور گیا جب قہر و جفا کُہرام مچایا کرتا تھا
ہے حَق ہمارا آزادی،
ہم لے کے رہیں گے آزادی
تُجھے دینی پڑے گی آزادی
پاکستان کی بہادر ماوں بہنوں اور بیٹیوں کے نام
سرکس کا جوکر فواد اوجھڑی کہتا ہے کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی ختم کرنی چاہیے، کوئی بھی راجہ فوج کے بغیر حکمرانی نہیں کر سکتا، توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ اس موٹی گیند والے کو پوچھو عمران خان نے عاصم منیر کی بہن بھگائی تھی؟ عمران خان کا کونسا تنازعہ ہے فوج کے ساتھ؟ مسئلہ فوج کا ہے، عمران خان کے ساتھ، اس عوام کے ساتھ۔ خان بھی تو یہی چاہتا تھا کہ فوج اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرے۔ لیکن فوج توازن نہیں چاہتی وہ حکمرانی چاہتی ہے اور انہیں شہباز شریف جیسے اردلی چاہیے ہیں۔ عمران خان نہ اردلی بن سکتا ہے، نہ یہ معاملہ فوج کی آئینی حدود میں واپسی تک حل ہو سکتا ہے۔ اگر فوج کو معاملات ٹھیک کرنے ہیں تو اپنی ماں اڈیالہ جا کر یوائیں اور عمران خان سے معافی مانگیں۔ رجیم چینج آپریشن سے لے کر ابھی تک ہر غیر آئینی کام کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو تیرے جیسے دلوں کے رولا ڈالنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
@fawadchaudhry