پاکستان کی موجودہ صورتحال ایک خطرناک موڑ پر جا پہنچی ہے۔ ذاتی اناؤں کی بدولت پاکستان اس وقت ایک آئینی بحران سے دوچار ہے اور یہ مزيد بڑھے گا۔ سپریم کورٹ ایک فیصلہ کرتی ہے اور اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو ملک کیسے چلے گا؟ یہ نہيں ہوسکتا کہ جو فیصلے پسند نا ہو وہ نہ مانے اور جو پسند آئے وہ مانے۔ ملٹیبلشمنٹ آپکی حمایت میں ہو تو آپ سپریم کورٹ کو بھی آنکھیں دکھاتے ہیں اور حمایت ختم ہو تو ایک دن میں وہ آپکو گھر بھیج دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کو بالخصوص ہوش کے ناخن لینے چاہیئے۔ ساری زندگی آپ حکومت میں نہیں ہوں گے، آج یہ جو کررہے ہیں کل ان کے ساتھ یہی ہوگا۔ آپ ایک پارٹی پر پابندی لگاتے ہیں، کل کسی اور پارٹی کی حکومت ہوگی اور یہی ہتھکنڈے آپکے خلاف استعمال کرے گی۔ ان ساری باتوں سے نکل کر ملک کو آئینی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے کوشش کرنی چاہیئے۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی