جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام اور آج کا پاکستان
عمران خان نے پچھلے دو سالوں میں عام شہریوں کے قتلِ عام کے چار بڑے سانحات کی نشاندہی کی ہے۔ پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر، اور چوتھا مریدکے کا المیہ۔
اگر ماضی کے انگریز حکمرانوں کے ظلم و جبر کے طریقوں پر نگاہ ڈالی جائے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے بعد ایسے شاگرد چھوڑ گئے جو اُن سے بھی آگے نکل گئے۔
13 اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ میں دو ہزار سے زائد بے گناہ شہری شہید کر دیے گئے۔ بیس ہزار کے قریب لوگ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، سالانہ بیساکھی میلے کے موقع پر ظالمانہ ’راؤلٹ ایکٹ‘ کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔ چند روز قبل ایک مظاہرے میں پچیس افراد قتل کیے گئے اور آزادی کے حامی رہنما ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ستیہ پال کو گرفتار کیا گیا تھا۔
محمد علی جناحؒ نے اس قتلِ عام سے محض دو ہفتے قبل راؤلٹ ایکٹ کے خلاف بطورِ احتجاج بمبئی قانون ساز کونسل کی نشست سے استعفیٰ دیا۔ یہ قانون برطانوی حکومت کو بغیر وارنٹ تلاشی اور بغیر مقدمہ ایک سال تک قید کا اختیار دیتا تھا۔
جناحؒ نے وائس رائے کو لکھا کہ میں اس بل کے منظور ہونے اور اسے منظور کرانے کے طریقۂ کار کے خلاف بطورِ احتجاج اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ کوئی حکومت جو ایسے سیاہ قوانین منظور کرے، مہذب کہلانے کی حق دار نہیں رہتی اور عوام سے تعاون کی توقع بھی نہیں رکھ سکتی۔
جلیانوالہ باغ سے نکلنے کا صرف ایک بڑا راستہ تھا، باقی تین اطراف عمارتوں سے بند تھیں۔ جنرل ڈائر نے فضائی جہاز سے بیس ہزار پُرامن مظاہرین کا جائزہ لیا، پھر دو بکتر بند گاڑیاں اور مشین گنوں سے لیس فوجیوں کے ساتھ باغ میں داخل ہوا، راستے بند کیئے اور حکم دیا کہ ہجوم پر فائر کھول دیا جائے۔ جب لوگ دیواروں کی طرف بھاگے تو گولیاں دیواروں پر چلائی گئیں؛ جب زمین پر گرے تو زمین پر فائر کیا گیا، یہاں تک کہ تمام گولیاں ختم ہو گئیں۔
بعد میں جنرل ڈائر نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد مجمع کو منتشر کرنا نہیں بلکہ ہندوستانیوں کو نافرمانی کی سزا دینا، پنجاب میں دہشت پھیلانا اور بغاوت کے حوصلے پست کرنا تھا۔ ایک ایسا سبق دینا تھا جو پورا برصغیر کبھی نہ بھولے۔
اِس نے مزید توہین کے طور پر حکم دیا کہ جس گلی میں ایک برطانوی خاتون زخمی ہوئی تھی، وہاں سے گزرنے والا ہر انسان ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگ کر گزرے۔ جنرل ڈائر نے کہا کہ یہاں کے لوگ اپنے خداؤں کے سامنے جھکتے ہیں۔ میں چاہتا تھا وہ جانیں کہ ایک برطانوی عورت بھی اُن کے خدا کی طرح مقدس ہے، اس لیے انہیں اس کے سامنے بھی رینگنا ہوگا۔
جلیانوالہ باغ کے اگلے دن گوجرانوالہ میں احتجاج بھڑک اٹھا۔ لاہور سے تین برطانوی طیارے بموں اور مشین گنوں سے لیس پہنچے۔ پائلٹوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ انہوں نے مشتعل ہجوم اور عام شہریوں میں کوئی فرق نہیں کیا اور زخمیوں کی مدد کرنے والوں کو بھی چُن چُن کر مارا۔
پندرہ اپریل کو، یعنی سانحے کے دو دن بعد، حکومت نے مارشل لا نافذ کیا اور اسے بیک ڈیٹ کرکے 30 مارچ سے مؤثر قرار دے دیا اور تمام فوجی کارروائیوں اور مظالم کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا۔ مارشل لا عدالتوں میں 852 افراد کے مقدمات چلائے گئے، 581 کو سزا دی گئی، اور 108 کو پھانسی سنائی گئی۔ ہنٹر کمیشن کی تحقیقات محض ایک رسمی پردہ پوشی ثابت ہوئیں۔ زبانی مذمت تو ہوئی، حتیٰ کہ چرچل نے بھی اس ظلم کو سیاہ باب کہا، مگر کسی برطانوی افسر کو سزا نہیں دی گئی۔
اور آج...
جب ہم اپنے ہی ملک میں عوام پر گولیاں، ظلم، جھوٹے مقدمے، اور مارشل لا جیسے فاشی ہتھکنڈے دیکھتے ہیں، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج کے حکمرانوں کے طرزِ عمل میں وہی کالونیائی ذہنیت زندہ نہیں جو کبھی برطانوی سامراج نے مسلط کی تھی؟ کیا ہم واقعی آزاد ہو چکے ہیں، یا صرف جابر اور ظالم بدل گئے ہیں؟
حکمرانوں کے لیئے لمحہ فکریہ ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ اللہ کا بتایا ہوا انصاف کا راستہ اختیار کریں، اُس ہی ایک خدا سے ڈریں اور ایاک نعبد و ایاک نستعین کو زندگی کا محور بنایئں۔