مدت ہوئی کتاب محبت شروع کیے
لیکن میں پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا
لمبی مسافتیں ہوں مگر اس سوار کا
پاؤں ابھی رکاب سے اگے نہیں بڑھا
طول کلام کیلئے لیے میں نے کیے سوال
وہ مختصر جواب سے آگے نہیں بڑھا
لوگوں نے سنگ و خشت کے قلعے بنا لیے
اپنا محل تو خواب سے آگے نہیں بڑھا
وہ تیری چال ڈھال کے بارے میں کیا کہے
جو اپنے احتساب سے آگے نہیں بڑھا
رخسار کا پتہ نہیں آنکھیں تو خوب ہیں
دیدار ابھی نقاب سے آگے نہیں بڑھا
وہ لذّتِ گناہ سے محروم ہی رہا
جو خواہش ثواب سے آگے نہیں بڑھا
قصہ ابھی حجاب سے آگے نہیں بڑھا۔۔۔
میں ’آپ‘ وہ ’جناب’ سے آگے نہیں بڑھا.
رخسار کا پتا نہیں، آنکھیں تو خوب ہیں،
دیدار ابھی نقاب سے آگے نہیں بڑھا۔۔۔۔۔