Filter
Exclude
Time range
-
Near
.❤ retweeted
AFDA 🎭🎭🎭
South African celebrities are so funny man. Zinhle is a girl from Newcastle and studied at Wits so she took public transport all her life until she managed to buy herself a car, now she’s making content as if she’s never taken a taxi her whole life 🤣
3
9
175
18,851
Ok wena Afda, re rute heh !
1
153
AFDA Alternative Provision is now officially on X. If you’ve supported @stevewalsh5 & @AFDAcademy over the years, we’d appreciate a follow and share. 👉 @AFDA_AP Inspire • Engage • Achieve @Muzzie06
1
3
546
💋 retweeted
📽️AFDA Alumni Lead New Netflix Drama Series The Polygamist 📽️ AFDA proudly celebrates alumni Gugu Zuma-Ncube and Thuli Zuma, executive producers behind Netflix’s bold new South African drama series The Polygamist, which premiered globally on 12 June 2026. Produced by Stained Glass Productions, The Polygamist is a gripping 22-episode supernovela adapted from the acclaimed novel by Zimbabwean author Sue Nyathi. The series follows powerful businessman Jonasi Gomora as his carefully constructed empire and personal life begin to unravel under the weight of secrets, betrayal and complicated relationships. The series stars acclaimed South African actors Gugu Gumede, Sdumo Mtshali, Kenneth Nkosi, Celeste Ntuli and Luyanda Zwane, and has already generated strong audience reactions online for its emotionally charged storytelling and dramatic twists. As executive producers, AFDA alumni Gugu Zuma-Ncube and Thuli Zuma continue to make a significant impact within the African and global television industry through compelling, high-quality African content that resonates with audiences worldwide. Their involvement in The Polygamist reflects the growing international demand for authentic African stories and further highlights the important contribution AFDA graduates continue to make across the global creative economy. Netflix has described The Polygamist as one of its major South African productions, demonstrating the continued expansion and recognition of African storytelling within the international streaming landscape. AFDA congratulates Gugu Zuma-Ncube and Thuli Zuma on this remarkable achievement and celebrates the continued success of its alumni who are shaping the future of film, television and entertainment both locally and internationally. #AFDA #CreateBuildOwnLead #No1SchoolForTheCreativeEconomy #InternationallyRecognised #CreatingTomorrowsLeadersSince1994
3
1
220
She waited the next morning to address this when she had a moment to step out of the car athethe naye? 😳 Khanimnnike certificate sakhe sase AFDA.
Yoh 😭 How old is she?
4
295
Replying to @BALENCISKII
Please stop. These two dated YEARS before she made music. She was studying at AFDA and only started the artist thing recently. Y’all just say shit for shit’s sake
5
1,468
law faker nafsak faady fa enta mesh afda men elli qarraro ye3melo homemade cola
120
DG AFDA Delegation Visits Uzbekistan alemarahenglish.af/?p=73136
1
5
221
Replying to @Hy_its_me_again
afda kute lokunye😭😭
1
12
1,399
Con profundo dolor despedimos a nuestra queridísima Taty Almeida, símbolo de lucha, memoria y amor incondicional. ¡Hasta la victoria siempre, Taty! Siempre vas a estar en nuestra memoria y en nuestras luchas. #Son30000 #TatyAlmeida #MemoriaVerdadJusticia #AFDA
102
کچھ دنوں پہلے کابل میں ایک دوست کے ہاں جانا پڑا جو کہ وہاں ایک بڑے ہسپتال میں میڈیکل سپیشلسٹ کے حیثیت سے کام کر رہا تھا. انکی آفس جاکر ٹیبل کیساتھ، دیوار پر ایک نوٹیفکیشن لگا ہوا تھا، جو کہ ایک آفیشل نوٹیفکیشن تھا... نزدیک ہوکر جب پڑھا ، تو بہت دلچسپ تھا.. سیکرٹری ہیلتھ کی طرف سے انکو ایک مراسلہ جاری ہوا تھا.. جس میں واضح طور پر لکھا تھا، کہ برائے مہربانی آیندہ پاکستانی کمپنیوں کے برانڈ پرسیکرایب کرنا مکمل طور پر بند کرے. میڈیکل کے شعبے کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میں جو عالمی صحت سفارتکاری (Global Health Diplomacy )بھی کچھ نہ کچھ پڑھ چکا ہوں، میرے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں تھی. پاکستان اور افغانستان سیاسی تعلقات سے بالاتر جغرافیائی لحاظ سے فطری تجارتی پارٹنرز ہیں. لیکن پاکستانی ایلیٹ کلاس جو کہ ملک میں ( political monopoly) ایک تلوار⚔️ کیطرح پکڑ کے جسطرح صوبائیت کے کھیل سے نہیں نکل رہے، ٹھیک اسی طرح انکی تجارتی اور معاشی استحصال بھی کررہے ہے. 2001 کے بعد جہاں افغانستان میں انفراسٹرکچر، انڈسٹری اور معاشرتی نظام ایک نئ شکل میں ابھر رہے تھے. تو سارے ملکوں میں برآمدات کے حساب سے پاکستان کیلئے افغانستان سب سے بڑی منڈی تھی. جو کہ پانچ بلین ڈالر تک کا تجارتی حجم تھا (پانچ بلین ڈالر جی آپ نے سہی سنا).. نمک اور ماچس سے لیکر دوا 💊 اور ہر ایک ضرورت زندگی کی چیز پاکستان سے جارہی تھی. پاکستان کی ملٹی نیشنل دواساز کمپنیوں کے بشمول روات، لاہور، حطار، ہریپور، حیات آباد اور مردان کے کمپنیاں جو کہ لوکل مارکیٹ میں بمشکل اپنے مشینری چلا رہے تھے، انکے لیے افغانستان اور مرکزی ایشیاء ایک زبردست مارکیٹ تھے. جو کہ ہر کوالٹی کے ہر پروڈکٹ بہت سستے کرایوں میں افغانستان اور اور افغانستان کے راستے تاجکستان، ازبکستان، ترکمنستان اور پورے مرکزی ایشیاء کو پہنچا رہے تھے. اور جو کمپنی کی اپنی کمائی سے لیکر اس سے منسلک سارے افراد اور سب سے بڑھ کر ملکی خزانے میں بہت بڑی زرمبادلہ دے رہی تھی. افعانستان کے گاوں گاوں اور گھر گھر وہ پاکستانی پراڈکٹ برانڈز جو کہ شاید خود پاکستانیوں کو بھی پتہ نہیں تھے، پہنچ گئے تھے. تجارت کو سیاست سے جوڑ کر ہر سال کابل سے یہ اعلامیہ جاری ہورہا تھا، کہ سارے سیاسی مسلے ایک طرف کر آیے تجارت کرتے ہیں . لیکن اسلام آباد اپنے انا اور غرور سے نیچے نہیں دیکھ رہا تھا ،صبح شام جیو اور ARY کے براے نام تجزیہ نگار جو کہ ایک واٹس ایپ مسج پر کہتے تھے کہ اگر ہم طورخم کو بند رکھے، تو افغان بھوک سے مرجاینگے. لیکن پچاس سال سے جنگ کے شغلوں میں پیدا ہونے والے افغانوں نے اگر ایک طرف اپنے ملک میں امن قائم کیا ہے، تو دوسری طرف معاشی ترقی کو کندھا دینے کے لیے پڑوس سے لے کر امریکہ تک پوری دنیا کیساتھ تجارتی تعلقات بنائیے ہیں. اور یہ ارادہ کیا کہ اب یہ گیم مزید نہیں چلے گی. کہ ہر سال جب افغان کسانوں کے پھل اور سبزیاں تیار ہو کر باہر کے مارکیٹوں کیلئے پیک ہورہے تھے. تو طورخم اور دوسرے تجارتی راستے یکطرفہ بند کیے جاتے تھے. (تنگ آمد - بہ جنگ آمد) کی کہاوت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے جب اکتوبر 2025 کو پاکستان نے یکطرفہ تجارت کو بند کیا، تو افغان ڈپٹی پریم منسٹر ملا عبدالغنی برادر نے اپنے اقتصادی کونسل کے مشاورت سے پاکستان تجارت کو مستقل طور پر بند کیا، اور تاجروں کو حکم دیا کہ تین مہینوں کے اندر اندر اپنے سارے 📒 کھاتے ختم کر کے اپنے کاروبار بند کرے. افغان فینانس منسٹری کو حکم دیا کہ اس تاریخ کے بعد کسی بھی پراڈکٹ کو جو پاکستان سے آیے، اسکو کسٹم سے کلیر نہ کریں، بلکہ ظبط کرکے لانے والے کو گرفتار کرے. دہائیوں سے مجبور اور مظلوم افغان کسانوں کے تباہیوں کو دیکھتے ہوئے اب جو کہ پاکستانی اور بالخصوص پختونخوا کے زمیندار اور کسان کو دیکھتا ہوں تو دل جل رہا ہے. دوسری طرف افغان حکومت نے ایران، ازبکستان، روس، ترکی، بھارت، بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک کیساتھ معاہدے کر کے دوا 💊 درآمد کرنے کے لیے پروگرام بنایے. مارکیٹ سے پاکستانی مصنوعات نکلنے کے بعد دوسرے ممالک کو میدان ہموار ہوا اور آج جس مقدار میں بیرونی کمپنیاں افغانستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، یقین کیجئے کہ وزارت تجارت اور ( AFDA - AFGHAN FOOD AND DRUG AUTHORITY) کے دفتر میں ہر روز ایک رش لگا ہوا ہے. کیونکہ تیس سالوں سے پاکستانی مصنوعات خصوصی طور پر دوا 💊 کے نام ہر ایک بندے کے دماغ 🧠 میں انجکشن لگے ہوئے تھے. ہمارے عام پاکستانی بھائی یہ سمجھ رہے تھے کہ طورخم اور چمن سے تجارتی مال گاڑی جب کراس کرے تو یہ شاید سب افغان کھاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام افغانستان، سنٹرل ایشیا، روس اور یورپ پہنچ جاتے ہیں. 1/2 @Islamabadies @dr_shirzad88193 @ObaidullaBaheer
1
74
کچھ دنوں پہلے کابل میں ایک دوست کے ہاں جانا پڑا جو کہ وہاں ایک بڑے ہسپتال میں میڈیکل سپیشلسٹ کے حیثیت سے کام کر رہا تھا. انکی آفس جاکر ٹیبل کیساتھ، دیوار پر ایک نوٹیفکیشن لگا ہوا تھا، جو کہ ایک آفیشل نوٹیفکیشن تھا... نزدیک ہوکر جب پڑھا ، تو بہت دلچسپ تھا.. سیکرٹری ہیلتھ کی طرف سے انکو ایک مراسلہ جاری ہوا تھا.. جس میں واضح طور پر لکھا تھا، کہ برائے مہربانی آیندہ پاکستانی کمپنیوں کے برانڈ پرسیکرایب کرنا مکمل طور پر بند کرے. میڈیکل کے شعبے کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میں جو عالمی صحت سفارتکاری (Global Health Diplomacy )بھی کچھ نہ کچھ پڑھ چکا ہوں، میرے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں تھی. پاکستان اور افغانستان سیاسی تعلقات سے بالاتر جغرافیائی لحاظ سے فطری تجارتی پارٹنرز ہیں. لیکن پاکستانی ایلیٹ کلاس جو کہ ملک میں ( political monopoly) ایک تلوار⚔️ کیطرح پکڑ کے جسطرح صوبائیت کے کھیل سے نہیں نکل رہے، ٹھیک اسی طرح انکی تجارتی اور معاشی استحصال بھی کررہے ہے. 2001 کے بعد جہاں افغانستان میں انفراسٹرکچر، انڈسٹری اور معاشرتی نظام ایک نئ شکل میں ابھر رہے تھے. تو سارے ملکوں میں برآمدات کے حساب سے پاکستان کیلئے افغانستان سب سے بڑی منڈی تھی. جو کہ پانچ بلین ڈالر تک کا تجارتی حجم تھا (پانچ بلین ڈالر جی آپ نے سہی سنا).. نمک اور ماچس سے لیکر دوا 💊 اور ہر ایک ضرورت زندگی کی چیز پاکستان سے جارہی تھی. پاکستان کی ملٹی نیشنل دواساز کمپنیوں کے بشمول روات، لاہور، حطار، ہریپور، حیات آباد اور مردان کے کمپنیاں جو کہ لوکل مارکیٹ میں بمشکل اپنے مشینری چلا رہے تھے، انکے لیے افغانستان اور مرکزی ایشیاء ایک زبردست مارکیٹ تھے. جو کہ ہر کوالٹی کے ہر پروڈکٹ بہت سستے کرایوں میں افغانستان اور اور افغانستان کے راستے تاجکستان، ازبکستان، ترکمنستان اور پورے مرکزی ایشیاء کو پہنچا رہے تھے. اور جو کمپنی کی اپنی کمائی سے لیکر اس سے منسلک سارے افراد اور سب سے بڑھ کر ملکی خزانے میں بہت بڑی زرمبادلہ دے رہی تھی. افعانستان کے گاوں گاوں اور گھر گھر وہ پاکستانی پراڈکٹ برانڈز جو کہ شاید خود پاکستانیوں کو بھی پتہ نہیں تھے، پہنچ گئے تھے. تجارت کو سیاست سے جوڑ کر ہر سال کابل سے یہ اعلامیہ جاری ہورہا تھا، کہ سارے سیاسی مسلے ایک طرف کر آیے تجارت کرتے ہیں . لیکن اسلام آباد اپنے انا اور غرور سے نیچے نہیں دیکھ رہا تھا ،صبح شام جیو اور ARY کے براے نام تجزیہ نگار جو کہ ایک واٹس ایپ مسج پر کہتے تھے کہ اگر ہم طورخم کو بند رکھے، تو افغان بھوک سے مرجاینگے. لیکن پچاس سال سے جنگ کے شغلوں میں پیدا ہونے والے افغانوں نے اگر ایک طرف اپنے ملک میں امن قائم کیا ہے، تو دوسری طرف معاشی ترقی کو کندھا دینے کے لیے پڑوس سے لے کر امریکہ تک پوری دنیا کیساتھ تجارتی تعلقات بنائیے ہیں. اور یہ ارادہ کیا کہ اب یہ گیم مزید نہیں چلے گی. کہ ہر سال جب افغان کسانوں کے پھل اور سبزیاں تیار ہو کر باہر کے مارکیٹوں کیلئے پیک ہورہے تھے. تو طورخم اور دوسرے تجارتی راستے یکطرفہ بند کیے جاتے تھے. (تنگ آمد - بہ جنگ آمد) کی کہاوت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے جب اکتوبر 2025 کو پاکستان نے یکطرفہ تجارت کو بند کیا، تو افغان ڈپٹی پریم منسٹر ملا عبدالغنی برادر نے اپنے اقتصادی کونسل کے مشاورت سے پاکستان تجارت کو مستقل طور پر بند کیا، اور تاجروں کو حکم دیا کہ تین مہینوں کے اندر اندر اپنے سارے 📒 کھاتے ختم کر کے اپنے کاروبار بند کرے. افغان فینانس منسٹری کو حکم دیا کہ اس تاریخ کے بعد کسی بھی پراڈکٹ کو جو پاکستان سے آیے، اسکو کسٹم سے کلیر نہ کریں، بلکہ ظبط کرکے لانے والے کو گرفتار کرے. دہائیوں سے مجبور اور مظلوم افغان کسانوں کے تباہیوں کو دیکھتے ہوئے اب جو کہ پاکستانی اور بالخصوص پختونخوا کے زمیندار اور کسان کو دیکھتا ہوں تو دل جل رہا ہے. دوسری طرف افغان حکومت نے ایران، ازبکستان، روس، ترکی، بھارت، بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک کیساتھ معاہدے کر کے دوا 💊 درآمد کرنے کے لیے پروگرام بنایے. مارکیٹ سے پاکستانی مصنوعات نکلنے کے بعد دوسرے ممالک کو میدان ہموار ہوا اور آج جس مقدار میں بیرونی کمپنیاں افغانستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، یقین کیجئے کہ وزارت تجارت اور ( AFDA - AFGHAN FOOD AND DRUG AUTHORITY) کے دفتر میں ہر روز ایک رش لگا ہوا ہے. کیونکہ تیس سالوں سے پاکستانی مصنوعات خصوصی طور پر دوا 💊 کے نام ہر ایک بندے کے دماغ 🧠 میں انجکشن لگے ہوئے تھے. ہمارے عام پاکستانی بھائی یہ سمجھ رہے تھے کہ طورخم اور چمن سے تجارتی مال گاڑی جب کراس کرے تو یہ شاید سب افغان کھاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام افغانستان، سنٹرل ایشیا، روس اور یورپ پہنچ جاتے ہیں. 1/2 @Islamabadies @dr_shirzad88193 @ObaidullaBaheer
1
2
3
899