🚨 پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اور غلامی کی نئی داستان!
عمران خان کے دورِ حکومت میں پاکستان نے پہلی بار ایک خوددار اور آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی تھی۔ **"امن میں سب کے ساتھ، مگر کسی کی پرائی جنگ میں حصہ داری بالکل نہیں" (Absolutely Not)** صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ پاکستان کی حقیقی خودمختاری کا اعلان تھا۔ لیکن افسوس، امریکہ کو ایک خوددار پاکستان کب گوارا تھا؟ پلوٹونیوم اور میزائل ٹیکنالوجی سے لیس ایک اسلامی ملک کا آزاد ہونا واشنگٹن کی آنکھوں میں کھٹک رہا تھا، اور پھر وہی ہوا جو تاریخ میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔
انٹرسیپٹ (The Intercept) کی ان حالیہ دستاویزات نے ضمیر فروشوں کا چہرہ پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے:
* **میزائل پروگرام پر سمجھوتہ:** جنرل باجوہ نے واشنگٹن کا دورہ کر کے امریکی حکام (لوئیڈ آسٹن اور جیک سلیوان) کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اپنے میزائلوں کی رینج کو محدود کر دے گا تاکہ وہ اسرائیل تک نہ پہنچ سکیں۔
* **ایٹمی اثاثوں تک رسائی کی کوشش:** جنرل باجوہ نے امریکی وفد کو پاکستان کی حساس ترین نیوکلیئر سائٹس کا معائنہ کرانے کا حکم دیا، لیکن اس وقت کے ایس پی ڈی (SPD) ہیڈ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ آرمی چیف کو نہیں بلکہ جے سی ایس سی (JCSC) اور وزیراعظم کو جوابدہ ہیں۔
* **بائیڈن کا دباؤ:** جب امریکہ کو نیوکلیئر سائٹس تک رسائی نہ ملی، تو صدر بائیڈن نے فوراً بیان داغ دیا کہ *"پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے کیونکہ اس کے پاس بغیر کسی ہم آہنگی (cohesion) کے جوہری ہتھیار ہیں۔"*
* **مکمل کنٹرول کا گھناؤنا کھیل:** باجوہ کے بعد جنرل عاصم منیر کو لایا گیا، جنہوں نے تمام جمہوری اور آئینی حدود کو پامال کرتے ہوئے JCSC کا عہدہ ہی ختم کر دیا، خود کو فیلڈ مارشل بنایا اور پاکستان کے تمام نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول کو ایک ہی شخص (یعنی خود) کے نیچے لا کھڑا کیا۔ وہ شخص جو کٹر پرو-امریکہ (Staunchly pro-U.S.) سمجھا جاتا ہے۔
### 💔 نتیجہ؟
جس شخص (عمران خان) کو عوامی طاقت کے ساتھ ہٹایا گیا، اس کے پیچھے یہی خوف تھا کہ پاکستان ایک آزاد ایٹمی طاقت نہ بن جائے۔ آج پاکستان کے میزائل پروگرام سے لے کر نیوکلیئر کمانڈ تک، سب کچھ بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کمپرومائز ہو چکا ہے۔ غلامی کی اس زنجیر کو توڑنے کے لیے اب قوم کو جاگنا ہوگا۔
#ImportedHukoomatNamanzoor#PakistanNuclearState#ImranKhan#AbsoluteNot#HistoricalBetrayal
🚨 سائفر کا اصل سچ، عمران خان کو ہٹانے کی امریکی سازش کا ناقابلِ تردید ثبوت🚨
آج ہم عوام کی عدالت میں آفیشل سائفر کا وہ متن رکھ رہے ہیں جس نے پاکستان کی خودمختاری پر شب خون مارا اور ایک منتخب وزیر اعظم کی حکومت کا تختہ الٹا۔ یہ کوئی کہانی نہیں، واشنگٹن میں متعین پاکستانی سفیر کا اسلام آباد بھیجا گیا آفیشل ریکارڈ ہے۔
سائفر کے متن کے مطابق، 7 مارچ 2022 کو امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر سے ملاقات میں جو دھمکیاں دیں، وہ ہمارے آزاد وجود پر حملہ تھیں۔
1️⃣ عدم اعتماد کی تحریک اور امریکی ڈکٹیشن۔
ڈونلڈ لو نے کھلم کھلا پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے کہا۔
اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا... ورنہ آگے کا راستہ انتہائی مشکل ہوگا اور عمران خان کو دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا۔
یہ الفاظ ثابت کرتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کوئی جمہوری عمل نہیں، بلکہ بیرونی آقاؤں کا حکم تھا جسے پاکستان کے میر جعفروں اور میر صادقوں نے پورا کیا۔
2️⃣ آزاد خارجہ پالیسی پر اعتراض۔
امریکہ کو تکلیف صرف اس بات کی تھی کہ عمران خان نے ایبسلوٹلی ناٹ (Absolutely Not) کہہ کر پاکستان کو کسی کی جنگ کا ایندھن بنانے سے انکار کیا۔ سائفر کے مطابق، ڈونلڈ لو نے یوکرین کے معاملے پر پاکستان کی آزاد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی پر شدید غصے کا اظہار کیا اور اسے خالصتاً عمران خان کی اپنی پالیسی قرار دیا۔
3️⃣ امریکی دوہرے معیار کا پردہ چاک۔
پاکستانی سفیر نے جب امریکہ کو اس کے دہرے معیار کا آئینہ دکھایا کہ بھارت بھی یوکرین پر غیر جانبدار ہے تو اس پر دباؤ کیوں نہیں؟ تو ڈونلڈ لو کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان ایک غلام ریاست کی طرح اس کے اشاروں پر ناچے۔
4️⃣ سفیر کا حتمی نتیجہ۔سائفر کے آخر میں پاکستانی سفیر نے خود لکھا کہ ڈونلڈ لو نے پاکستان کے اندرونی سیاسی عمل میں کھلی مداخلت کی ہے اور یہ دھمکی وائٹ ہاؤس کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
عمران خان کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے روس سے سستی گیس اور گندم لا کر پاکستانی عوام کو ریلیف دینا چاہا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے اسلاموفوبیا کے خلاف دنیا بھر میں آواز اٹھائی اور پاکستان کے فیصلے اسلام آباد میں کرنے کی بات کی، واشنگٹن میں نہیں۔
آج تاریخ نے ثابت کر دیا کہ عمران خان کا بیانیہ سچا تھا۔ ہم نے اس تحریک کو نہ چھوڑا ہے اور نہ کبھی ہار مانیں گے۔ دلالوں اور سودے بازوں نے اقتدار کی خاطر ملک کا سودا کیا، ہمارے ورکرز پر گولیاں چلائیں، قیادت کو جیلوں میں ڈالا، کاروبار تباہ کیے، لیکن حقیقی آزادی کا یہ سفر اب رکنے والا نہیں۔
جیت ہمیشہ حق اور سچ کی ہوتی ہے۔ سازشی اور بکنے والے ہمیشہ تاریخ کے سیاہ پنوں میں یاد رکھے جائیں گے
#CipherIsReal#ImranKhan#AbsoluteNot#HaqeeqiAzadi#سائفر_ایک_حقیقت
عمران خان کی سیاسی بصیرت امریکہ کو اڈے نہ دینے پر ڈٹ کر #Absolutenot نے پاکستان کو دیگر اسلامی ممالک یو اے ای قطر بحرین اردن سعودیہ کی طرح قمیت چکانے سے بچا لیا
علامہ اقبال نے تقریباً 100 سال پہلے کہا تھا خدا نے آج تک نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو خیال جسے اپنی حالت کے بدلنے کا۔
ہم غلام تھے، غلام ہیں اور غلام رہیں گے۔ @ImranKhanPTI
تمہیں کیا مسئلہ ہے جو ہمیں خوددار بنانے پہ تلے ہوئے ہو
#Absolutenot#PMIK#کیا_غدار_حکومت_کرینگے
کمزور معشیت کے باجود عمران خان نے بہادرانہ رویہ رکھا چاہے لوگ جو بھی سمجھے #AbsoluteNot کہنا اتنا آسان نہیں تھا عمران خان نے کرکے دیکھایا آمریکن کی ناراضگی مطلب آئی ایم اف کی ناراضگی مزید سخت شرائط لگائیں سب سے بڑھ کر اپنی عظمت عزت کو کمپرومائز نہیں کیا یہی لیڈر کی پہچان ہوتی ہے