جنوب مشرقی ایشیا کے باجاؤ (Bajau) لوگ انسانی ارتقا کی ایک حیرت انگیز مثال سمجھے جاتے ہیں۔ یہ لوگ روزانہ کئی گھنٹے سمندر میں غوطہ خوری کرتے ہیں اور ایک ہی سانس میں تقریباً 200 فٹ گہرائی تک جا سکتے ہیں۔
سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ان میں PDE10A نامی جین کی ایک خاص تبدیلی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تلی (Spleen) عام لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑی ہوتی ہے۔ غوطہ لگانے کے دوران یہ تلی سکڑ کر خون میں اضافی آکسیجن شامل کرتی ہے، جیسے جسم میں قدرتی آکسیجن ٹینک موجود ہو۔
اسی طرح تبت کے بلند پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں EPAS1 جین کی ایک منفرد تبدیلی پائی جاتی ہے جو کم آکسیجن والے ماحول میں خون کو خطرناک حد تک گاڑھا ہونے سے بچاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ جینیاتی خصوصیات ہزاروں سال کی ارتقائی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی ارتقا آج بھی جاری ہے۔
آپ کے خیال میں انسان مستقبل میں ماحول کے مطابق اور کون سی حیران کن صلاحیتیں حاصل کر سکتا ہے؟ 🤔
📌 نوٹ: یہ معلومات مختلف سائنسی مطالعات اور عوامی طور پر دستیاب رپورٹس پر مبنی ہیں اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شیئر کی جا رہی ہیں۔ معلومات ہر صورت حال پر لاگو نہیں ہو سکتیں؛ تصویر AI کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور صرف وضاحتی مقصد کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
#HumanEvolution #ScienceFacts #Genetics #AmazingHumans #Evolution