مہینے گزر چکے ہیں، مگر ڈاکٹر مہوش کے بچوں کو آج بھی انصاف کا انتظار ہے۔
یہ اُن چار معصوم بچوں کی پہلی عید ہے جو اپنی ماں کے بغیر گزار رہے ہیں۔ عید کے دن جب ہر بچہ اپنی ماں کے گلے لگ کر خوشیاں منا رہا ہوگا، ڈاکٹر مہوش کے بچے اپنی ماں کی یاد میں آنسو بہا رہے ہوں گے۔ اُن کے لیے عید کی خوشیاں اُس دن ختم ہوگئیں جب اُن کی ماں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ واقعے کو مہینوں گزر چکے ہیں، مگر انصاف آج بھی ایک خواب بنا ہوا ہے۔ ایک ڈاکٹر، جو اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے تھی، اُسے سات گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا، لیکن آج تک نہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملا اور نہ ہی ڈاکٹرز برادری کے تحفظ کے حوالے سے کوئی واضح پیغام دیا گیا۔
یہ صرف ڈاکٹر مہوش کا کیس نہیں، بلکہ پورے خیبر پختونخوا اور پاکستان کی ڈاکٹرز کمیونٹی کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر کو دن دہاڑے قتل کر دیا جائے اور مہینوں گزرنے کے باوجود انصاف نہ ملے، تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ آخر اس کیس میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟ متاثرہ خاندان کب تک انتظار کرے؟ اور ڈاکٹرز کب تک عدم تحفظ کے سائے میں اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے؟
آج ہم صرف ڈاکٹر مہوش کے لیے انصاف کا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ ہر اُس ڈاکٹر کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں جو اپنی جان، وقت اور خاندان کی قربانی دے کر عوام کی خدمت کرتا ہے۔ اگر آج اس کیس میں انصاف نہ ملا تو یہ پیغام جائے گا کہ ایک ڈاکٹر کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔
اس عید پر ڈاکٹر مہوش کے بچوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور اُن کی آواز بنیں۔
انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے۔
#JusticeForDrMehwish#ProtectDoctors#JusticeDelayedIsJusticeDenied#StandWithDoctors#KPKGovernment#DoctorsNeedProtection#ڈاکٹر_مہوش_کو_انصاف#ڈاکٹرز_کا_تحفظ
This is high time and it isn't the first time!!! People who save us have no safety. Doctors need protection. Period.
#GandhiHospital#DoctorsNeedProtection
#GandhiHospital : 'We care when nobody does, we don't need claps or flower petals. The little respect that we earned even that has gone. We need protection', say the Post graduate doctors. Listen to them
So is the case in General Hospital, my wife did her long call with no protective gears provided by the Govt. only protection was N95 mask that we purchased from black market in 1200 PKR. #DoctorsNeedProtection