وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین خان گنڈاپور، نے نشتر ہال پشاور میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے زیراہتمام (Alternate Learning Pathways) اے ایل پی پروگرام کے تحت تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی گریجویشن تقریب سے خطاب کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ خیبر پختونخوا حکومت جامع حکمت عملی کے تحت بچوں، خصوصاً بچیوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہے۔ اے ایل پی پروگرام اسی مقصد کا حصہ ہے، جس کے تحت 27 اضلاع میں 42 ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کسی بھی سرکاری سکول میں کوئی بچہ بغیر کرسی اور میز کے نہیں بیٹھے گا، اور تمام سرکاری سکولوں میں وائٹ بورڈز لگانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ تعلیم کارڈ پروگرام بھی جلد شروع کیا جائے گا، جس میں ضم شدہ اضلاع ہماری ترجیح ہیں، اور وہاں بچیوں کے لیے وظائف کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ شرح خواندگی کو بڑھایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا بنیادی مقصد لوگوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات دینا ہے، محض عمارتیں کھڑی کرنا نہیں۔ سکول کی تعمیر میں وقت لگتا ہے، اس لیے فوری طور پر کرائے کی عمارتوں میں سکولز شروع کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے، تاکہ تعلیم کے عمل میں تاخیر نہ ہو۔
تعلیم نسواں پر خاص توجہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بہترین قوم کی تشکیل کے لیے بہترین مائیں ضروری ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ناکامی سے ہمت نہ ہاریں، بلکہ محنت کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں تو والدین اور اساتذہ کا احترام کریں۔
آخر میں، وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبے میں 16 ہزار اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے، اور اس عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، صرف اور صرف میرٹ کی بالادستی ہوگی۔
#KPEducation
#ALPProgram
#CMKP