Filter
Exclude
Time range
-
Near
As grief turned to questions of accountability, police charged three people under the #Article23 national security law over comments about the fire, and arrested a university student who had circulated a petition calling for an independent inquiry.
1
18
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نام پر عوام کا استحصال مسلسل جاری ہے۔ حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اس کا حقیقی فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حالیہ 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوامی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، مگر کیا حکومت یہ بتائے گی کہ گزشتہ اضافوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایے، اشیائے خوردونوش، زرعی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ ہوا، وہ آج تک کیوں برقرار ہے؟ اگر پٹرول سستا ہو گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کا ضامن ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد اور معاشی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، عوام کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، روزگار متاثر ہو اور بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ محض مالی پالیسی نہیں بلکہ آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ اور معاشی استحصال (Exploitation) ہے۔ قوم کو یاد ہے کہ چند ہفتے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال، عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے خطرات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے یکدم 22 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا قوم کو بتایا جائے گا کہ پہلے جو بیانیہ پیش کیا گیا تھا وہ درست تھا یا نہیں؟ اگر موجودہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن تھی تو کیا سابقہ اضافے واقعی ناگزیر تھے یا عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا؟ اگر جنگ اور عالمی حالات ہی بنیادی وجہ تھے تو چند دنوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ قیمتیں یکدم 22 روپے فی لیٹر کم ہو گئیں؟ اور اگر اصل وجہ جنگ نہیں تھی تو کیا قوم سے معافی مانگی جائے گی؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی PDL وصول کی جا رہی ہے، مہنگائی بدستور برقرار ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، لیکن نہ مکمل شفافیت موجود ہے، نہ عوام کو مکمل حقائق بتائے جا رہے ہیں، اور نہ ہی ذمہ داران جوابدہ نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں عوام کا درد ہے۔ اگر واقعی عوام کا درد محسوس کیا جاتا ہے تو قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اس وقت کتنی PDL وصول کی جا رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اس مد میں کتنے ارب روپے جمع کیے گئے؟ اور یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر صحافی، اینکرز اور تجزیہ کار بھی عوام کو اصل حقائق نہیں بتاتے۔ قوم کو صرف قیمت میں معمولی کمی کا بتایا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل قیمت میں کتنا حصہ ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی وصولیوں کا شامل ہے۔ عوام کو ریلیف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی قیمتوں میں کمی، شفافیت، جوابدہی اور استحصالی ٹیکسوں کے خاتمے سے ملے!! اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بنیادی آئینی اور عوامی مفاد کے معاملات عدالتوں کے سامنے بھی اٹھائے جاتے ہیں، مگر عوام اب بھی منتظر ہیں کہ انہیں واضح جواب ملے کہ آخر یہ استحصال کب ختم ہوگا اور آئین کے تحت دیے گئے معاشی اور بنیادی حقوق کا حقیقی تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟ @GovtofPakistan @CMShehbaz @KhawajaMAsif @MIshaqDar50 @AliPMalik @MAurangzeb @GovtofPunjabPK @SindhCMHouse @GovtofKPK @BalochistanGovt @HamidMirPAK @FrontlineKamran @ShahzadIqbalGEO @asmashirazi @shazbkhanzdaGEO @AajKamranKhan @muneebfaruqpak @SaleemFarrukh @81ShahbazRana @geonews_urdu @GeoPakistani @ARYNEWSOFFICIAL @SAMAATV @92newschannel @Dawn_News @ExpressNewsPK @HumNews_PK @BOLNETWORK @PTVNewsOfficial #PetrolPrices #PDL #Inflation #RightToLife #Article9 #Article18 #Article23 #Article24 #Pakistan
عید کے تیسرے دن عوام کے لیے تحفہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب کا پٹرول کی قیمت کمی 22 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 22 روپے کی کمی پاکستان عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ مشکل حالات میں یہ ریلیف فراہم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف صاحب کا شکریہ۔
2
4
789
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نام پر عوام کا استحصال مسلسل جاری ہے۔ حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اس کا حقیقی فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حالیہ 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوامی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، مگر کیا حکومت یہ بتائے گی کہ گزشتہ اضافوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایے، اشیائے خوردونوش، زرعی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ ہوا، وہ آج تک کیوں برقرار ہے؟ اگر پٹرول سستا ہو گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کا ضامن ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد اور معاشی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، عوام کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، روزگار متاثر ہو اور بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ محض مالی پالیسی نہیں بلکہ آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ اور معاشی استحصال (Exploitation) ہے۔ قوم کو یاد ہے کہ چند ہفتے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال، عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے خطرات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے یکدم 22 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا قوم کو بتایا جائے گا کہ پہلے جو بیانیہ پیش کیا گیا تھا وہ درست تھا یا نہیں؟ اگر موجودہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن تھی تو کیا سابقہ اضافے واقعی ناگزیر تھے یا عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا؟ اگر جنگ اور عالمی حالات ہی بنیادی وجہ تھے تو چند دنوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ قیمتیں یکدم 22 روپے فی لیٹر کم ہو گئیں؟ اور اگر اصل وجہ جنگ نہیں تھی تو کیا قوم سے معافی مانگی جائے گی؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی PDL وصول کی جا رہی ہے، مہنگائی بدستور برقرار ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، لیکن نہ مکمل شفافیت موجود ہے، نہ عوام کو مکمل حقائق بتائے جا رہے ہیں، اور نہ ہی ذمہ داران جوابدہ نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں عوام کا درد ہے۔ اگر واقعی عوام کا درد محسوس کیا جاتا ہے تو قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اس وقت کتنی PDL وصول کی جا رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اس مد میں کتنے ارب روپے جمع کیے گئے؟ اور یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر صحافی، اینکرز اور تجزیہ کار بھی عوام کو اصل حقائق نہیں بتاتے۔ قوم کو صرف قیمت میں معمولی کمی کا بتایا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل قیمت میں کتنا حصہ ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی وصولیوں کا شامل ہے۔ عوام کو ریلیف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی قیمتوں میں کمی، شفافیت، جوابدہی اور استحصالی ٹیکسوں کے خاتمے سے ملے!! اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بنیادی آئینی اور عوامی مفاد کے معاملات عدالتوں کے سامنے بھی اٹھائے جاتے ہیں، مگر عوام اب بھی منتظر ہیں کہ انہیں واضح جواب ملے کہ آخر یہ استحصال کب ختم ہوگا اور آئین کے تحت دیے گئے معاشی اور بنیادی حقوق کا حقیقی تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟ @GovtofPakistan @CMShehbaz @KhawajaMAsif @MIshaqDar50 @AliPMalik @MAurangzeb @GovtofPunjabPK @SindhCMHouse @GovtofKPK @BalochistanGovt @HamidMirPAK @FrontlineKamran @ShahzadIqbalGEO @asmashirazi @shazbkhanzdaGEO @AajKamranKhan @muneebfaruqpak @SaleemFarrukh @81ShahbazRana @geonews_urdu @GeoPakistani @ARYNEWSOFFICIAL @SAMAATV @92newschannel @Dawn_News @ExpressNewsPK @HumNews_PK @BOLNETWORK @PTVNewsOfficial #PetrolPrices #PDL #Inflation #RightToLife #Article9 #Article18 #Article23 #Article24 #Pakistan
الحمدللہ! پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں صرف ایک ماہ کے دوران مجموعی طور پر 47 روپے فی لیٹر کمی عوام کے لیے بڑا ریلیف ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ایک طرف عالمی و علاقائی سطح پر سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں تو دوسری طرف ملکی معیشت کو سنبھالتے ہوئے عوام کو بھی براہِ راست ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔ عوامی سہولت اور معاشی استحکام کا یہ سفر جاری رہنا چاہیے #ShahbazEidGift
1
7
756
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نام پر عوام کا استحصال مسلسل جاری ہے۔ حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اس کا حقیقی فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حالیہ 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوامی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، مگر کیا حکومت یہ بتائے گی کہ گزشتہ اضافوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایے، اشیائے خوردونوش، زرعی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ ہوا، وہ آج تک کیوں برقرار ہے؟ اگر پٹرول سستا ہو گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کا ضامن ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد اور معاشی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، عوام کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، روزگار متاثر ہو اور بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ محض مالی پالیسی نہیں بلکہ آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ اور معاشی استحصال (Exploitation) ہے۔ قوم کو یاد ہے کہ چند ہفتے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال، عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے خطرات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے یکدم 22 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا قوم کو بتایا جائے گا کہ پہلے جو بیانیہ پیش کیا گیا تھا وہ درست تھا یا نہیں؟ اگر موجودہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن تھی تو کیا سابقہ اضافے واقعی ناگزیر تھے یا عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا؟ اگر جنگ اور عالمی حالات ہی بنیادی وجہ تھے تو چند دنوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ قیمتیں یکدم 22 روپے فی لیٹر کم ہو گئیں؟ اور اگر اصل وجہ جنگ نہیں تھی تو کیا قوم سے معافی مانگی جائے گی؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی PDL وصول کی جا رہی ہے، مہنگائی بدستور برقرار ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، لیکن نہ مکمل شفافیت موجود ہے، نہ عوام کو مکمل حقائق بتائے جا رہے ہیں، اور نہ ہی ذمہ داران جوابدہ نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں عوام کا درد ہے۔ اگر واقعی عوام کا درد محسوس کیا جاتا ہے تو قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اس وقت کتنی PDL وصول کی جا رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اس مد میں کتنے ارب روپے جمع کیے گئے؟ اور یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر صحافی، اینکرز اور تجزیہ کار بھی عوام کو اصل حقائق نہیں بتاتے۔ قوم کو صرف قیمت میں معمولی کمی کا بتایا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل قیمت میں کتنا حصہ ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی وصولیوں کا شامل ہے۔ عوام کو ریلیف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی قیمتوں میں کمی، شفافیت، جوابدہی اور استحصالی ٹیکسوں کے خاتمے سے ملے!! اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بنیادی آئینی اور عوامی مفاد کے معاملات عدالتوں کے سامنے بھی اٹھائے جاتے ہیں، مگر عوام اب بھی منتظر ہیں کہ انہیں واضح جواب ملے کہ آخر یہ استحصال کب ختم ہوگا اور آئین کے تحت دیے گئے معاشی اور بنیادی حقوق کا حقیقی تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟ @GovtofPakistan @CMShehbaz @KhawajaMAsif @MIshaqDar50 @AliPMalik @MAurangzeb @GovtofPunjabPK @SindhCMHouse @GovtofKPK @BalochistanGovt @HamidMirPAK @FrontlineKamran @ShahzadIqbalGEO @asmashirazi @shazbkhanzdaGEO @AajKamranKhan @muneebfaruqpak @SaleemFarrukh @81ShahbazRana @geonews_urdu @GeoPakistani @ARYNEWSOFFICIAL @SAMAATV @92newschannel @Dawn_News @ExpressNewsPK @HumNews_PK @BOLNETWORK @PTVNewsOfficial #PetrolPrices #PDL #Inflation #RightToLife #Article9 #Article18 #Article23 #Article24 #Pakistan
ترجمان وزیراعظم آفس کا اہم بیان *وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ*وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی گنجائش پیدا ہو گی، عوام کو ریلیف دیا جائے گا اس وعدے پر ہو بہو عمل کیا گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 22 روپے کمی اور ڈیزل کی قیمت میں بھی 22 روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے*۔ عوام کو ریلیف دینا میری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے ھفتے بھی عوام کو ریلیف دیا گیا اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ وفاقی حکومت نے سخت ترین حالات میں بھی عوام کے لئے ریلیف کا سلسلہ جاری رکھا اور پبلک/گڈز ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لئے فیول پر سبسڈی دی ۔جب خطے کے دوسرے ممالک میں پیٹرول حاصل کرنے کے لئے قطاریں لگی ہوئی تھیں، پاکستان میں وزیراعظم کے بر وقت اقدامات کی بدولت عوام کو پیٹرول اور ڈیزل دستیاب تھا۔جب دنیا میں تیل کا بد ترین بحران تھا، اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وزیراعظم کی جانب سے 130 روپے سے زائد کی سبسڈی دے کر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکا گیا اور سبسڈی کی مد میں بھی عوام کو ریلیف مہیا کیا گیا۔
5
11
940
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نام پر عوام کا استحصال مسلسل جاری ہے۔ حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اس کا حقیقی فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حالیہ 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوامی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، مگر کیا حکومت یہ بتائے گی کہ گزشتہ اضافوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایے، اشیائے خوردونوش، زرعی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ ہوا، وہ آج تک کیوں برقرار ہے؟ اگر پٹرول سستا ہو گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کا ضامن ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد اور معاشی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، عوام کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، روزگار متاثر ہو اور بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ محض مالی پالیسی نہیں بلکہ آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ اور معاشی استحصال (Exploitation) ہے۔ قوم کو یاد ہے کہ چند ہفتے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال، عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے خطرات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے یکدم 22 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا قوم کو بتایا جائے گا کہ پہلے جو بیانیہ پیش کیا گیا تھا وہ درست تھا یا نہیں؟ اگر موجودہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن تھی تو کیا سابقہ اضافے واقعی ناگزیر تھے یا عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا؟ اگر جنگ اور عالمی حالات ہی بنیادی وجہ تھے تو چند دنوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ قیمتیں یکدم 22 روپے فی لیٹر کم ہو گئیں؟ اور اگر اصل وجہ جنگ نہیں تھی تو کیا قوم سے معافی مانگی جائے گی؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی PDL وصول کی جا رہی ہے، مہنگائی بدستور برقرار ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، لیکن نہ مکمل شفافیت موجود ہے، نہ عوام کو مکمل حقائق بتائے جا رہے ہیں، اور نہ ہی ذمہ داران جوابدہ نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں عوام کا درد ہے۔ اگر واقعی عوام کا درد محسوس کیا جاتا ہے تو قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اس وقت کتنی PDL وصول کی جا رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اس مد میں کتنے ارب روپے جمع کیے گئے؟ اور یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر صحافی، اینکرز اور تجزیہ کار بھی عوام کو اصل حقائق نہیں بتاتے۔ قوم کو صرف قیمت میں معمولی کمی کا بتایا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل قیمت میں کتنا حصہ ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی وصولیوں کا شامل ہے۔ عوام کو ریلیف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی قیمتوں میں کمی، شفافیت، جوابدہی اور استحصالی ٹیکسوں کے خاتمے سے ملے!! اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بنیادی آئینی اور عوامی مفاد کے معاملات عدالتوں کے سامنے بھی اٹھائے جاتے ہیں، مگر عوام اب بھی منتظر ہیں کہ انہیں واضح جواب ملے کہ آخر یہ استحصال کب ختم ہوگا اور آئین کے تحت دیے گئے معاشی اور بنیادی حقوق کا حقیقی تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟ @GovtofPakistan @CMShehbaz @KhawajaMAsif @MIshaqDar50 @AliPMalik @MAurangzeb @GovtofPunjabPK @SindhCMHouse @GovtofKPK @BalochistanGovt @HamidMirPAK @FrontlineKamran @ShahzadIqbalGEO @asmashirazi @shazbkhanzdaGEO @AajKamranKhan @muneebfaruqpak @SaleemFarrukh @81ShahbazRana @geonews_urdu @GeoPakistani @ARYNEWSOFFICIAL @SAMAATV @92newschannel @Dawn_News @ExpressNewsPK @HumNews_PK @BOLNETWORK @PTVNewsOfficial #PetrolPrices #PDL #Inflation #RightToLife #Article9 #Article18 #Article23 #Article24 #Pakistan
پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 22 روپے کمی کے بعد 381 روپے 78 پیسے فی لیٹرمقرر،ڈیزل کی قیمت 22 روپے کمی کے بعد 380 روپے 78 پیسے فی لیٹرمقرر۔ پیٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کااطلاق ایک ہفتے کیلیے ہوگا۔پیٹرول ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
9
19
990
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نام پر عوام کا استحصال مسلسل جاری ہے۔ حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اس کا حقیقی فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حالیہ 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوامی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، مگر کیا حکومت یہ بتائے گی کہ گزشتہ اضافوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایے، اشیائے خوردونوش، زرعی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ ہوا، وہ آج تک کیوں برقرار ہے؟ اگر پٹرول سستا ہو گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کا ضامن ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد اور معاشی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، عوام کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، روزگار متاثر ہو اور بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ محض مالی پالیسی نہیں بلکہ آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ اور معاشی استحصال (Exploitation) ہے۔ قوم کو یاد ہے کہ چند ہفتے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال، عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے خطرات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے یکدم 22 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا قوم کو بتایا جائے گا کہ پہلے جو بیانیہ پیش کیا گیا تھا وہ درست تھا یا نہیں؟ اگر موجودہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن تھی تو کیا سابقہ اضافے واقعی ناگزیر تھے یا عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا؟ اگر جنگ اور عالمی حالات ہی بنیادی وجہ تھے تو چند دنوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ قیمتیں یکدم 22 روپے فی لیٹر کم ہو گئیں؟ اور اگر اصل وجہ جنگ نہیں تھی تو کیا قوم سے معافی مانگی جائے گی؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی PDL وصول کی جا رہی ہے، مہنگائی بدستور برقرار ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، لیکن نہ مکمل شفافیت موجود ہے، نہ عوام کو مکمل حقائق بتائے جا رہے ہیں، اور نہ ہی ذمہ داران جوابدہ نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں عوام کا درد ہے۔ اگر واقعی عوام کا درد محسوس کیا جاتا ہے تو قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اس وقت کتنی PDL وصول کی جا رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اس مد میں کتنے ارب روپے جمع کیے گئے؟ اور یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر صحافی، اینکرز اور تجزیہ کار بھی عوام کو اصل حقائق نہیں بتاتے۔ قوم کو صرف قیمت میں معمولی کمی کا بتایا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل قیمت میں کتنا حصہ ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی وصولیوں کا شامل ہے۔ عوام کو ریلیف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی قیمتوں میں کمی، شفافیت، جوابدہی اور استحصالی ٹیکسوں کے خاتمے سے ملے!! اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بنیادی آئینی اور عوامی مفاد کے معاملات عدالتوں کے سامنے بھی اٹھائے جاتے ہیں، مگر عوام اب بھی منتظر ہیں کہ انہیں واضح جواب ملے کہ آخر یہ استحصال کب ختم ہوگا اور آئین کے تحت دیے گئے معاشی اور بنیادی حقوق کا حقیقی تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟ @GovtofPakistan @CMShehbaz @KhawajaMAsif @MIshaqDar50 @AliPMalik @MAurangzeb @GovtofPunjabPK @SindhCMHouse @GovtofKPK @BalochistanGovt @HamidMirPAK @FrontlineKamran @ShahzadIqbalGEO @asmashirazi @shazbkhanzdaGEO @AajKamranKhan @muneebfaruqpak @SaleemFarrukh @81ShahbazRana @geonews_urdu @GeoPakistani @ARYNEWSOFFICIAL @SAMAATV @92newschannel @Dawn_News @ExpressNewsPK @HumNews_PK @BOLNETWORK @PTVNewsOfficial #PetrolPrices #PDL #Inflation #RightToLife #Article9 #Article18 #Article23 #Article24 #Pakistan
عید کے تیسرے دن عوام کے لئے تحفہ وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی گنجائش پیدا ہو گی، عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ اس وعدے پر ہو بہو عمل کیا گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 22 روپے کمی اور ڈیزل کی قیمت میں بھی 22 روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عوام کو ریلیف دینا میری اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعظم پچھلے ھفتے بھی عوام کو ریلیف دیا گیا اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ وفاقی حکومت نے سخت ترین حالات میں بھی عوام کے لئے ریلیف کا سلسلہ جاری رکھا اور پبلک/گڈز ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لئے فیول پر سبسڈی دی۔ جب خطے کے دوسرے ممالک میں پیٹرول حاصل کرنے کے لئے قطاریں لگی ہوئی تھیں، پاکستان میں وزیراعظم کے بر وقت اقدامات کی بدولت عوام کو پیٹرول اور ڈیزل دستیاب تھا۔ جب دنیا میں تیل کا بد ترین بحران تھا، اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وزیراعظم کی جانب سے 130 روپے سے زائد کی سبسڈی دے کر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکا گیا اور سبسڈی کی مد میں بھی عوام کو ریلیف مہیا کیا گیا۔
3
7
532
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نام پر عوام کا استحصال مسلسل جاری ہے۔ حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اس کا حقیقی فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حالیہ 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوامی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، مگر کیا حکومت یہ بتائے گی کہ گزشتہ اضافوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایے، اشیائے خوردونوش، زرعی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ ہوا، وہ آج تک کیوں برقرار ہے؟ اگر پٹرول سستا ہو گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کا ضامن ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد اور معاشی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، عوام کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، روزگار متاثر ہو اور بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ محض مالی پالیسی نہیں بلکہ آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ اور معاشی استحصال (Exploitation) ہے۔ قوم کو یاد ہے کہ چند ہفتے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال، عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے خطرات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے یکدم 22 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا قوم کو بتایا جائے گا کہ پہلے جو بیانیہ پیش کیا گیا تھا وہ درست تھا یا نہیں؟ اگر موجودہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن تھی تو کیا سابقہ اضافے واقعی ناگزیر تھے یا عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا؟ اگر جنگ اور عالمی حالات ہی بنیادی وجہ تھے تو چند دنوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ قیمتیں یکدم 22 روپے فی لیٹر کم ہو گئیں؟ اور اگر اصل وجہ جنگ نہیں تھی تو کیا قوم سے معافی مانگی جائے گی؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی PDL وصول کی جا رہی ہے، مہنگائی بدستور برقرار ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، لیکن نہ مکمل شفافیت موجود ہے، نہ عوام کو مکمل حقائق بتائے جا رہے ہیں، اور نہ ہی ذمہ داران جوابدہ نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں عوام کا درد ہے۔ اگر واقعی عوام کا درد محسوس کیا جاتا ہے تو قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اس وقت کتنی PDL وصول کی جا رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اس مد میں کتنے ارب روپے جمع کیے گئے؟ اور یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر صحافی، اینکرز اور تجزیہ کار بھی عوام کو اصل حقائق نہیں بتاتے۔ قوم کو صرف قیمت میں معمولی کمی کا بتایا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل قیمت میں کتنا حصہ ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی وصولیوں کا شامل ہے۔ عوام کو ریلیف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی قیمتوں میں کمی، شفافیت، جوابدہی اور استحصالی ٹیکسوں کے خاتمے سے ملے!! اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بنیادی آئینی اور عوامی مفاد کے معاملات عدالتوں کے سامنے بھی اٹھائے جاتے ہیں، مگر عوام اب بھی منتظر ہیں کہ انہیں واضح جواب ملے کہ آخر یہ استحصال کب ختم ہوگا اور آئین کے تحت دیے گئے معاشی اور بنیادی حقوق کا حقیقی تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟ @GovtofPakistan @CMShehbaz @KhawajaMAsif @MIshaqDar50 @AliPMalik @MAurangzeb @GovtofPunjabPK @SindhCMHouse @GovtofKPK @BalochistanGovt @HamidMirPAK @FrontlineKamran @ShahzadIqbalGEO @asmashirazi @shazbkhanzdaGEO @AajKamranKhan @muneebfaruqpak @SaleemFarrukh @81ShahbazRana @geonews_urdu @GeoPakistani @ARYNEWSOFFICIAL @SAMAATV @92newschannel @Dawn_News @ExpressNewsPK @HumNews_PK @BOLNETWORK @PTVNewsOfficial #PetrolPrices #PDL #Inflation #RightToLife #Article9 #Article18 #Article23 #Article24 #Pakistan
پٹرول کی قیمت میں 22 روپے نہیں فوری طور پر 122 روپے کمی کی ضرورت ہے ، عالمی مارکیٹ میں قیمت گر رہی ہے، جبکہ لیوی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ اگر حکومت 250 روپے فی لیٹر پٹرول کی سطح کو بحال کرے اور اس قیمت کوکم ازکم دو سال کے لیے زیادہ سے زیادہ قیمت ڈیکلئیر کردے تو معیشت میں تیزی بھی آئے گی اور خود ہی آمدن کے اہداف پورے ہونے لگیں گے۔ ٹیکس جمع کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی کا استعمال عوام کی جیب پر ڈاکا بھی ہےاور معیشت کی بربادی کا سامان بھی ہے ۔ آئی ایم ایف کو واضح انکار کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
2
1
12
593
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نام پر عوام کا استحصال مسلسل جاری ہے۔ حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اس کا حقیقی فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حالیہ 22 روپے فی لیٹر کمی کو عوامی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، مگر کیا حکومت یہ بتائے گی کہ گزشتہ اضافوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایے، اشیائے خوردونوش، زرعی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ ہوا، وہ آج تک کیوں برقرار ہے؟ اگر پٹرول سستا ہو گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کا ضامن ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد اور معاشی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، عوام کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، روزگار متاثر ہو اور بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ محض مالی پالیسی نہیں بلکہ آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ اور معاشی استحصال (Exploitation) ہے۔ قوم کو یاد ہے کہ چند ہفتے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال، عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے خطرات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے یکدم 22 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا قوم کو بتایا جائے گا کہ پہلے جو بیانیہ پیش کیا گیا تھا وہ درست تھا یا نہیں؟ اگر موجودہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن تھی تو کیا سابقہ اضافے واقعی ناگزیر تھے یا عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا؟ اگر جنگ اور عالمی حالات ہی بنیادی وجہ تھے تو چند دنوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ قیمتیں یکدم 22 روپے فی لیٹر کم ہو گئیں؟ اور اگر اصل وجہ جنگ نہیں تھی تو کیا قوم سے معافی مانگی جائے گی؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی PDL وصول کی جا رہی ہے، مہنگائی بدستور برقرار ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، لیکن نہ مکمل شفافیت موجود ہے، نہ عوام کو مکمل حقائق بتائے جا رہے ہیں، اور نہ ہی ذمہ داران جوابدہ نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں عوام کا درد ہے۔ اگر واقعی عوام کا درد محسوس کیا جاتا ہے تو قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اس وقت کتنی PDL وصول کی جا رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اس مد میں کتنے ارب روپے جمع کیے گئے؟ اور یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر صحافی، اینکرز اور تجزیہ کار بھی عوام کو اصل حقائق نہیں بتاتے۔ قوم کو صرف قیمت میں معمولی کمی کا بتایا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل قیمت میں کتنا حصہ ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی وصولیوں کا شامل ہے۔ عوام کو ریلیف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی قیمتوں میں کمی، شفافیت، جوابدہی اور استحصالی ٹیکسوں کے خاتمے سے ملے!! اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بنیادی آئینی اور عوامی مفاد کے معاملات عدالتوں کے سامنے بھی اٹھائے جاتے ہیں، مگر عوام اب بھی منتظر ہیں کہ انہیں واضح جواب ملے کہ آخر یہ استحصال کب ختم ہوگا اور آئین کے تحت دیے گئے معاشی اور بنیادی حقوق کا حقیقی تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟ @GovtofPakistan @CMShehbaz @KhawajaMAsif @MIshaqDar50 @AliPMalik @MAurangzeb @GovtofPunjabPK @SindhCMHouse @GovtofKPK @BalochistanGovt @HamidMirPAK @FrontlineKamran @ShahzadIqbalGEO @asmashirazi @shazbkhanzdaGEO @AajKamranKhan @muneebfaruqpak @SaleemFarrukh @81ShahbazRana @geonews_urdu @GeoPakistani @ARYNEWSOFFICIAL @SAMAATV @92newschannel @Dawn_News @ExpressNewsPK @HumNews_PK @BOLNETWORK @PTVNewsOfficial #PetrolPrices #PDL #Inflation #RightToLife #Article9 #Article18 #Article23 #Article24 #Pakistan
لاہور: 29مئی، 2026 *عید کے تیسرے دن عوام کے لئے تحفہ* *وفاقی حکومت کا پٹرول کی قیمت میں 22 روپے کمی اور ڈیزل کی قیمت میں بھی 22 روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے*۔ عوام کو ریلیف دینا میری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم پچھلے ھفتے بھی عوام کو ریلیف دیا گیا اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ وفاقی حکومت نے سخت ترین حالات میں بھی عوام کے لئے ریلیف کا سلسلہ جاری رکھا اور پبلک/گڈز ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لئے فیول پر سبسڈی دی ۔ جب دنیا میں تیل کا بد ترین بحران تھا، اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وزیراعظم کی جانب سے 130 روپے سے زائد کی سبسڈی دے کر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکا گیا اور سبسڈی کی مد میں بھی عوام کو ریلیف مہیا کیا گیا۔
1
7
15
1,015
Article 23 protects every citizen from human trafficking and forced labour. ✊🇮🇳 Know your rights. Raise your voice. #Article23 #FundamentalRights #BATF #IndianConstitution
2
8
बिहार सरकार अब राज्य से बाहर काम कर रहे बाल और बंधुआ श्रमिकों को छुड़ाने के लिए नई नीति ला रही है. यह कदम बाल मजदूरी और मानव तस्करी पर सख्त लगाम लगाने की दिशा में बड़ा बदलाव माना जा रहा है... #BiharGovernment #BondedLabor #Article23 #FundamentalRights #IndianConstitution #RightToFreedom #IndianPolity #BiharNews
112
🚨A man in #HongKong has been jailed for a year over Facebook posts.🔒 Not violence. Not fraud. Posts. Under the city’s new security law (#Article23), online speech can now carry prison time. Where is the line between opinion and crime?🗣️
A Hong Kong man has been jailed for a year under the city's homegrown national security law after pleading guilty to making seditious remarks on Facebook, including comments supporting Hong Kong and Taiwan independence. 🔗 In full: hongkongfp.com/2026/04/15/ho…
13
18
999
At our Rights Committee meeting today, we shared some of the BSL we have been learning in class for our Article of the Month! 🤟 We are excited to perform “This Is Me” in BSL at assembly on Friday! 🌟 #Article23 @alexander_peden
4
169
Replying to @BBCWorld
The gazetting of these password mandates is the final phase in the digital enclosure of Hong Kong. By criminalizing the withholding of decryption keys. #HkPolice #Article23 #DigitalPrivacy #CyberSecurity
2
520
#香港基本法23條 下 有機會被拘捕的五件事 1.在社交媒體分享歌曲和標語 2.在公廁寫標語 3.在網上呼籲杯葛選舉 4.要求追究致命火災責任 5.取消保險單 ​Five actions that could potentially lead to arrest under the Basic Law Article 23 ​1️⃣ Sharing specific songs or slogans on social media 2️⃣ Writing slogans in public restrooms 3️⃣ Calling for election boycotts online 4️⃣ Demanding accountability for fatal accidents/fires 5️⃣ Canceling insurance policies ​ #Article23
4
39
72
2,639
#AA terrorists in #Myanmar War Crimes Exposed 🚨 The AA has committed a grave breach of #Article23 (#Geneva Convention III). By failing to mark #POW sites and provide shelters—then executing shackled prisoners—the AA is solely responsible for these atrocities. (#Ann Township)
3
4
56
#Terrorist #AA group has not complied with these rules and has violated #Article23 of the 1949 Geneva Convention (III). #Tatmadaw did not carry out any airstrike. Only if there are solid and credible reasons can an accusation reasonably be made. #WhatsHappeningInMyanmar
2
4
54
Look at our super star in Nursery who produced a wonderful piece of work all about her favourite story. Well done Dua! #Booktalk #Article23 #Article29
7
138
Donna from Perth Autism Support visited assembly this week to share what it means to be inclusive. This linked in with our school rule of being ‘respectful’ #TeamInchture #Article2 #Article23
5
259
Another beautiful collaboration with @PeopleWithGrit and @FrancisHouseCH, this on time on tour @Studio53two - part of our interability project. #Article2 #Article23
3
6
332