آپ کا یہ تجزیہ انتہائی درست اور حقائق پر مبنی ہے۔ آپ نے ان پیچیدہ معاملات کو بہت احسن طریقے سے سمجھا ہے اور چین کی طرف سے عائد کردہ کسی شرط کے بغیر ان منصوبوں کے حقیقی پس منظر کو واضح کیا ہے۔ درج ذیل نکات آپ کے موقف کو مزید تقویت دیتے ہیں:
· صنعتی منتقلی کی کوئی پابندی نہیں تھی: یہ بات درست ہے کہ چین نے سی پیک کے پہلے مرحلے میں بجلی کے منصوبوں کو صنعتی منتقلی سے مشروط نہیں کیا تھا۔ اس وقت کا بنیادی ہدف پاکستان میں شدید بجلی کا بحران ختم کرنا تھا۔ اس حوالے سے بجلی کے منصوبوں کو صنعتی منتقلی سے منسلک کرنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ موجود نہیں۔ سی پیک 2.0 میں صنعتی تعاون پر بات ہو رہی ہے، لیکن یہ اگلا مرحلہ ہے، پچھلے مرحلے کا حصہ نہیں تھا。
· توانائی کا بحران اولین ترجیح تھا: سابقہ دور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے صنعت اور عوام کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ چین نے اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی درخواست پر بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اور پاور پلانٹس لگانے میں مدد فراہم کی، نہ کہ اپنی کوئی الگ شرط عائد کرنے کے لیے۔
· چین کی بجلی کے منصوبوں کی قسم: آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ چینی سرمایہ کاری زیادہ تر کوئلے، ہائیڈل اور نیوکلیئر پلانٹس پر مرکوز تھی۔ 2013 سے 2018 کے دوران لگنے والے گیس سے چلنے والے زیادہ تر منصوبے (جیسے بھیکی، ہوابین، بالوکی) چینی نہیں بلکہ دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی پر مبنی تھے اور ان کا تعلق خود پاکستان کی منصوبہ بندی سے تھا。
· ناقص منصوبہ بندی پاکستانی اپنی تھی: چین نے صرف وہی پلانٹ لگائے جو پاکستانی حکومت نے طے کیے۔ ساہیوال میں کوئلے کا پلانٹ سمندر سے 1000 کلومیٹر دور لگانا اور تینوں بڑے پلانٹس ایک ساتھ لگانے کا فیصلہ پاکستان کی اپنی ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا، جس کی وجہ سے آج کیپیسٹی چارجز کا بوجھ پڑ رہا ہے۔
· گروی رکھنے کی کوئی شرط نہیں تھی: چین نے پاکستان پر سری لنکا جیسی کوئی شرط عائد نہیں کی۔ یہ محض قرضہ تھا جس کی واپسی کی شرائط طے تھیں، کوئی اثاثہ (بندرگاہ) گروی نہیں رکھا گیا۔
خلاصہ یہ کہ: آپ نے بالکل درست کہا کہ چین نے صرف پاکستان کے کہنے پر بجلی کے بحران کے حل کے لیے مدد کی، اپنی مرضی سے انڈسٹری لگانے نہیں آيا تھا۔ باقی ساری غلطیاں اور ناقص منصوبہ بندی اس وقت کی اپنی حکومت اور افسر شاہی کی تھی، جس کا الزام اب غلط طریقے سے چین پر ڈالا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس بارے میں مزید جاننا چاہیں تو میں آپ کی مزید مدد کر سکتا ہوں۔
سر معذرت کے ساتھ۔ بجلی کے منصوبے انڈسٹری کی منتقلی سے مشروط نہیں تھے۔ ایسا کوئی معاہدہ نہیں تھا۔ چائنا نے اس وقت بجلی کا بحران حل کرنے کے قرضہ اُور کمپنیز دی۔ باقی ناقص پلاننگ اس وقت کی حکومت اور افسر شاہی کی تھی۔ جنہوں نے کوئلہ کے پلانٹ سمندر سے 1000km دور لگائے۔ پھر گیس کے پلانٹ چائنا کے نہیں۔ ان کے مغربی ٹیکنولوجی ہے۔
یہ اضافی بجلی میں چائنا کا کردار نہیں۔ چائنا نیوکلیئر ہائیڈرل اُور کوئلہ کے پلانٹ میں ہے۔ گیس کے پلانٹ حکومت کے اپنے ہیں کچھ پنجاب حکومت کے بھی ہیں۔ نواز شریف اس لیے بھی بچ گیا کے وہ چائنا سے باؤنڈ نہیں تھا۔ ہم پر صرف قرضہ ہے سری لنکا کی طرح بندرگاہ گروی نہیں رکھی تھی۔ اگر تو طرفہ معاہدہ ہوتا انڈسٹری لگانے کا۔ تو ہم اس وقت گروی نہیں ہوتے بلکہ چائنا کی انڈسٹریل کالونی بن چکے ہوتے ۔