کسی روز تیری یاد میرے وجود کے ٹکڑے کر دے گی
میں کسی روز اپنے کمرے میں کٹا ہوا ملوں گا
میں ان لمحات میں ضائع ہو جاؤں گا جو میری روح نوچتے ہیں
میں اس دل کھا جانے والی اداسی کی دیمک کی زدہ میں آ گیا ہوں
مجھ کو فقط مر مٹنے کے وسوسے آتے ہیں
میں اب اس تھکن سے آزادی چاہتا ہوں
اے میرے چارہ گر مجھ کو مار دیجیے ۔
#اردو_زبان