Joined November 2021
275 Photos and videos
Pinned Tweet
27 Aug 2023
How radiologist see X-ray! Correction : *LV.
19
1,581
5,830
420,622
| MED retweeted
بیس ہزار تنخواہ کے خلاف شہباز شریف کا شدید ترین احتجاج سپیکر سے پوچھ لیا بیس ہزار میں غریب روٹی کیسے پوری کرے گا ؟ پندرہ ہزار والے ٹیچرز کا کیا کرنا ہے ؟

152
1,149
2,394
126,895
| MED retweeted
یہ بہت تشویشناک صورتحال ہے اگر فرض کیجئے ایک ڈاکٹر رات میں دس گھنٹے ڈیوٹی کرتا اور اس نے 350 مریض دیکھنے تو فی مریض دو منٹ بنتے ہیں ایمرجنسی میں دو منٹ میں وہ کیسے پہلے مریض کی بات سنے گا پھر مرض سمجھے گا پھر نسخہ تجویز کرے گا ؟ پھر کوئی پروسیجر آ گیا مائنر سرجری کرنی وہ وقت الک ہے اگر واقعی اتنی ابتر صورتحال تو عملہ کی تعداد بڑھانے سسٹم کو درست کرنے اور ورک لوڈ ڈسٹریبیوٹ کرنے کی ضرورت ہے اس میں قصور ڈاکٹر کا نہی ہیلتھ سسٹم چلانے والوں کا آنہوں نے حل نکالنا ہے
"ایک رات، 350 مریض، صرف 2 ڈاکٹر... پھر بھی قصوروار ڈاکٹر یا ہسپتال کا عملہ؟" جب آپ سوشل میڈیا پر کسی ڈاکٹر کی ویڈیو دیکھتے ہیں یا یہ سنتے ہیں کہ "ڈاکٹر کام نہیں کرتے"، تو ایک لمحے کے لیے رک کر یہ حقیقت بھی جان لیجیے۔ میں ایک چھوٹے سے تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) ہسپتال میں کام کرتا ہوں۔ ہمارے پاس موجود سرکاری ریکارڈ کے مطابق صرف ایک مہینے میں نائٹ شفٹ کے دوران 10 ہزار سے زائد مریض دیکھے گئے۔ یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 300 سے 350 مریض صرف ایک نائٹ شفٹ میں۔ اب ذرا دوسری طرف بھی نظر ڈالیں۔ ان 300 سے 350 مریضوں کے لیے نائٹ شفٹ میں صرف دو ڈاکٹر، ایک نرس اور ایک ڈسپنسر موجود ہوتے ہیں۔ یہ 350 مریض صرف بخار، کھانسی اور درد والے نہیں ہوتے۔ ان میں ہارٹ اٹیک، شدید حادثات، ٹراما، سانس کی شدید تکلیف، زہریلی ادویات کے کیسز، گائنی ایمرجنسیز اور میڈیکو لیگل کیسز (MLCs) بھی شامل ہوتے ہیں۔ MLC ایک حساس قانونی ذمہ داری ہے جس میں ایک ڈاکٹر کافی دیر تک مصروف رہ سکتا ہے۔ اب ذرا خود حساب لگائیں۔ اگر صرف دو ڈاکٹر پوری رات سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کریں، ایمرجنسی پروسیجر کریں، ادویات لکھیں، ٹیسٹ کروائیں، رپورٹس دیکھیں اور جان بچانے کی کوشش کریں تو ان پر جسمانی اور ذہنی دباؤ کتنا ہوگا؟ ایک اور حقیقت جو عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایمرجنسی "پہلے آنے والا، پہلے چیک ہونے والا" نظام نہیں ہے۔ دنیا بھر کی ایمرجنسیز میں مریضوں کو ان کی بیماری کی شدت کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی مریض کو آپ سے پہلے دیکھا جا رہا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ آپ سے زیادہ اہم ہو، بلکہ ممکن ہے اس کی جان کو فوری خطرہ ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر ہر مریض یہ سمجھتا ہے کہ اسے سب سے پہلے چیک کیا جانا چاہیے۔ سفارشیں، فون کالز، دباؤ اور بحث و تکرار روز کا معمول بن چکے ہیں۔ جب کہ ایمرجنسی میں فیصلہ صرف بیماری کی شدت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اب ہسپتالوں میں موبائل فون نکال کر ڈاکٹروں اور عملے کی ویڈیوز بنانا، انہیں سوشل میڈیا پر بدنام کرنا اور ہر پیچیدگی کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر کو قرار دینا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ سوچیے... جو ڈاکٹر مسلسل 12 گھنٹے سینکڑوں مریض دیکھ رہا ہو، جان بچانے کی کوشش کر رہا ہو، اگر وہ ہر وقت اس خوف میں بھی مبتلا رہے کہ کسی پیچیدگی کی صورت میں اس پر حملہ ہوگا، اس کی ویڈیو بنے گی یا اسے سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جائے گا، تو وہ کس ذہنی کیفیت میں کام کرے گا؟ اس خوف کا نقصان صرف ڈاکٹر کو نہیں بلکہ مریض کو بھی ہوتا ہے۔ جب ڈاکٹر عدم تحفظ محسوس کرتا ہے تو وہ پیچیدہ اور ہائی رسک کیسز لینے سے گھبرانے لگتا ہے۔ وہ مریض کو آگے ریفر کرنے یا خطرناک کیس سے دور رہنے کو محفوظ سمجھتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نقصان آخرکار مریض اور اس کے خاندان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ میڈم مریم نواز صاحبہ کی حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کی کوشش کر رہی ہے، نئی انڈکشنز بھی ہو رہی ہیں،کافی چیزیں بہتر ہو رہی ہیں اور کافی مساںٔل کا حل پاںٔپ لاںٔن میں ہے امید ہے کرنٹ حکومت بہتری لاںٔے گی ۔ لیکن زمینی سطح پر ابھی ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف، لیبارٹری سہولیات، ادویات اور انفراسٹرکچر کی شدید کمی موجود ہے۔ ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی ہم عوام کو بہتر علاج دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ڈاکٹر اور مریض کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے اصل مسئلے پر بات کرنی ہوگی۔ ✅ مزید ہسپتال بنائے جائیں ✅ موجودہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ بڑھایا جائے ✅ ایمرجنسی سہولیات کو مضبوط بنایا جائے ✅ صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے ✅ ہسپتالوں میں عملے اور مریضوں دونوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے یاد رکھیں... ڈاکٹر آپ کا دشمن نہیں۔ وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے جس کے مسائل کا سامنا آپ کر رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ چند گھنٹے ہسپتال میں گزارتے ہیں، جبکہ وہ انہی حالات میں روزانہ اپنی پوری ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر کتنے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے کم وسائل، اتنے کم عملے اور اتنے زیادہ مریضوں کے باوجود وہ روز کتنی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ #RespectDoctors #HealthcarePakistan #EmergencyMedicine #THQHospital #SaveDoctorsSavePatients #PublicHealthPakistan #HealthcareWorkers #HealthSystemPakistan #DoctorPatientTrust #PakistanHealth :::
3
25
82
2,651
"ایک رات، 350 مریض، صرف 2 ڈاکٹر... پھر بھی قصوروار ڈاکٹر یا ہسپتال کا عملہ؟" جب آپ سوشل میڈیا پر کسی ڈاکٹر کی ویڈیو دیکھتے ہیں یا یہ سنتے ہیں کہ "ڈاکٹر کام نہیں کرتے"، تو ایک لمحے کے لیے رک کر یہ حقیقت بھی جان لیجیے۔ میں ایک چھوٹے سے تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) ہسپتال میں کام کرتا ہوں۔ ہمارے پاس موجود سرکاری ریکارڈ کے مطابق صرف ایک مہینے میں نائٹ شفٹ کے دوران 10 ہزار سے زائد مریض دیکھے گئے۔ یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 300 سے 350 مریض صرف ایک نائٹ شفٹ میں۔ اب ذرا دوسری طرف بھی نظر ڈالیں۔ ان 300 سے 350 مریضوں کے لیے نائٹ شفٹ میں صرف دو ڈاکٹر، ایک نرس اور ایک ڈسپنسر موجود ہوتے ہیں۔ یہ 350 مریض صرف بخار، کھانسی اور درد والے نہیں ہوتے۔ ان میں ہارٹ اٹیک، شدید حادثات، ٹراما، سانس کی شدید تکلیف، زہریلی ادویات کے کیسز، گائنی ایمرجنسیز اور میڈیکو لیگل کیسز (MLCs) بھی شامل ہوتے ہیں۔ MLC ایک حساس قانونی ذمہ داری ہے جس میں ایک ڈاکٹر کافی دیر تک مصروف رہ سکتا ہے۔ اب ذرا خود حساب لگائیں۔ اگر صرف دو ڈاکٹر پوری رات سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کریں، ایمرجنسی پروسیجر کریں، ادویات لکھیں، ٹیسٹ کروائیں، رپورٹس دیکھیں اور جان بچانے کی کوشش کریں تو ان پر جسمانی اور ذہنی دباؤ کتنا ہوگا؟ ایک اور حقیقت جو عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایمرجنسی "پہلے آنے والا، پہلے چیک ہونے والا" نظام نہیں ہے۔ دنیا بھر کی ایمرجنسیز میں مریضوں کو ان کی بیماری کی شدت کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی مریض کو آپ سے پہلے دیکھا جا رہا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ آپ سے زیادہ اہم ہو، بلکہ ممکن ہے اس کی جان کو فوری خطرہ ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر ہر مریض یہ سمجھتا ہے کہ اسے سب سے پہلے چیک کیا جانا چاہیے۔ سفارشیں، فون کالز، دباؤ اور بحث و تکرار روز کا معمول بن چکے ہیں۔ جب کہ ایمرجنسی میں فیصلہ صرف بیماری کی شدت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اب ہسپتالوں میں موبائل فون نکال کر ڈاکٹروں اور عملے کی ویڈیوز بنانا، انہیں سوشل میڈیا پر بدنام کرنا اور ہر پیچیدگی کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر کو قرار دینا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ سوچیے... جو ڈاکٹر مسلسل 12 گھنٹے سینکڑوں مریض دیکھ رہا ہو، جان بچانے کی کوشش کر رہا ہو، اگر وہ ہر وقت اس خوف میں بھی مبتلا رہے کہ کسی پیچیدگی کی صورت میں اس پر حملہ ہوگا، اس کی ویڈیو بنے گی یا اسے سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جائے گا، تو وہ کس ذہنی کیفیت میں کام کرے گا؟ اس خوف کا نقصان صرف ڈاکٹر کو نہیں بلکہ مریض کو بھی ہوتا ہے۔ جب ڈاکٹر عدم تحفظ محسوس کرتا ہے تو وہ پیچیدہ اور ہائی رسک کیسز لینے سے گھبرانے لگتا ہے۔ وہ مریض کو آگے ریفر کرنے یا خطرناک کیس سے دور رہنے کو محفوظ سمجھتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نقصان آخرکار مریض اور اس کے خاندان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ میڈم مریم نواز صاحبہ کی حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کی کوشش کر رہی ہے، نئی انڈکشنز بھی ہو رہی ہیں،کافی چیزیں بہتر ہو رہی ہیں اور کافی مساںٔل کا حل پاںٔپ لاںٔن میں ہے امید ہے کرنٹ حکومت بہتری لاںٔے گی ۔ لیکن زمینی سطح پر ابھی ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف، لیبارٹری سہولیات، ادویات اور انفراسٹرکچر کی شدید کمی موجود ہے۔ ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی ہم عوام کو بہتر علاج دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ڈاکٹر اور مریض کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے اصل مسئلے پر بات کرنی ہوگی۔ ✅ مزید ہسپتال بنائے جائیں ✅ موجودہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ بڑھایا جائے ✅ ایمرجنسی سہولیات کو مضبوط بنایا جائے ✅ صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے ✅ ہسپتالوں میں عملے اور مریضوں دونوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے یاد رکھیں... ڈاکٹر آپ کا دشمن نہیں۔ وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے جس کے مسائل کا سامنا آپ کر رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ چند گھنٹے ہسپتال میں گزارتے ہیں، جبکہ وہ انہی حالات میں روزانہ اپنی پوری ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر کتنے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے کم وسائل، اتنے کم عملے اور اتنے زیادہ مریضوں کے باوجود وہ روز کتنی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ #RespectDoctors #HealthcarePakistan #EmergencyMedicine #THQHospital #SaveDoctorsSavePatients #PublicHealthPakistan #HealthcareWorkers #HealthSystemPakistan #DoctorPatientTrust #PakistanHealth :::
7
17
56
5,110
| MED retweeted
Surgeons — using Netter on your slides or social posts? That's a copyright violation. Here are 6 FREE sources you can actually use legally: 🔵 Open-i (NLM) — 3.7M images, 2,000 ortho illustrations 🟢 USC Ortho Collection — 1,900 dissection photos (CC licence) 🟡 HEAL / Utah — 22,000 health ed materials 🟣 BioRender — publication-quality figures (free tier) 🟠 NIH BioArt — 2,000 vectors, public domain 🟩 InjuryMap — anatomy diagrams for posts & blogs Bookmark this. Share it with a colleague who needs it. #Orthopaedics #MedTwitter #SurgicalEducation #TheArmDoc
1
9
29
1,800
Bed not available. People complains CM and Media Reports "Doctor ki mubayana ghaflat". Where is The Mubaiyana Ghafat Bro? It's the same person's Negligence whom you are complaining! #Jahalat.
2
2
8
740
| MED retweeted
If your bank account stresses you out more than anything… Islam already gave us the solution 1400 years ago.
3
57
469
54,485
| MED retweeted
🧵 What this nation has come to? Throwing acid on lady docs, shooting and killing them which happened recently too, allegations of sexual misconduct on male drs, random govt officer bashing them calling Oh Bibi and recording it. Everyday there's something. Everyday there's a (1)
3
86
278
9,347
The worst possible xray is the truth . If this is the same patient it’s unstable and needs revision. As others have said pins are too close, intersect at fx site = back to OR
3
4
37
3,774
| MED retweeted
My take on this viral video: When a patient presents with an altered level of consciousness, doctors routinely assess responsiveness using painful stimuli, including a sternal rub. Based on the video, it appears the doctor was examining the patient in the presence of her relatives. Only Allah knows what was in his heart, but from a clinical perspective, this looks far more like a medical examination than harassment. The bigger questions are: Why are cameras allowed inside hospitals? How can someone record and publicly share a video of a doctor without consent? The Punjab government has restricted doctors from using mobile phones during duty hours, but what about patients and attendants recording healthcare workers without permission? The level of hatred and hostility being directed at doctors in Pakistan has reached alarming proportions. Young doctors are already working exhausting hours under immense pressure, yet every incident is instantly turned into a social media trial without waiting for facts. The government, private medical college and hospital mafia, and years of neglect of the healthcare system have all contributed to this toxic environment. Some responsibility also lies with prominent doctor influencers who have large platforms but often remain silent when doctors face public vilification. If the video proves wrongdoing, action should be taken. But if it shows a legitimate clinical examination, then the character assassination of a healthcare worker is equally unacceptable. Facts must matter more than viral outrage.
ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.
1
14
59
8,119
| MED retweeted
A young doctor requested just one thing. “Sir, I got married recently. Can I spend my first Eid with my family?” The answer was no. While millions of people travel home for Eid, many doctors report for duty. They miss family gatherings, weddings, birthdays, funerals, and the moments they can never get back. Not because they want to, but because hospitals never close. The irony is painful. When a shop closes on a holiday, people understand. When a plumber charges extra on a holiday, people understand. When offices shut down for Eid, people understand. But when doctors ask for fair pay, better working conditions, or even the chance to spend an Eid with their loved ones, many act as if doctors are not human. A doctor in Pakistan may work 24-36 hour shifts, treat hundreds of patients, face violence from attendants, work in overcrowded wards, and sacrifice family time yet often receives no special allowance for public holidays and earns far less than many professionals carrying far less responsibility. Every exhausted doctor standing in an emergency ward on Eid is missing a family waiting at home. Every doctor treating your loved one on a holiday is someone else's loved one too. If society wants safe hospitals and better patient care, it must also care about the people providing that care. Respect for doctors is not a privilege. It is an investment in healthcare itself. #PayRaiseForDoctors
2
35
75
2,897
| MED retweeted
Sir @BilalQutab Shb, this video was taken from one of your Facebook social media accounts and has received millions of views, in which you invited a fake hakeem on your platform. He is openly advising the public to stop taking antihypertensive medicines, and unfortunately, you are supporting him. Can you honestly swear that if you yourself had even a severe headache, you would avoid going to PIMS or a qualified doctor and instead visit a hakeem? If someone in your own family developed CKD, would you take them to a hakeem instead of a nephrologist? If your answer is no, then this is intellectual dishonesty and public misinformation. Through this platform, millions of people may be misled regarding serious conditions like hypertension, CKD, and diabetes. You should invite qualified nephrologists and physicians to discuss such sensitive medical issues instead of promoting fake hakeems who spread dangerous advice.
I posted a video on Instagram exposing a fake hakeem who was advising a CKD patient to stop taking antihypertensive medicines and was promoting his own remedies instead. One of the comments below was absolutely hilarious. I even pinned it 😂 There’s truly no one better than us when it comes to roasting.
3
5
32
4,432
| MED retweeted
Just got to know that the doctor is from Services Hospital and has completed his training in Neurology. To put things into perspective for people: 5 years of MBBS, 1 year of house job, probably around 2 years working in peripheral setups, and then 5 years of Neurology training — nearly 13 years of relentless hard work, sleepless nights, sacrifices, and dedication… only to receive this kind of “respect” from society.
ڈاکٹر نے مریض کو معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ دل کے دورے والا درد نہیں بلکہ عضلاتی (Muscular) درد ہے، اور صرف پرچی بنوا کر لانے کا کہا تاکہ دوا لکھی جا سکے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اُس وقت دو ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے اور دیگر مریضوں کو بھی دیکھ رہے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں ڈاکٹر کی غلطی کہاں ہے؟ نہ مریض کی جان کو کوئی خطرہ ہوا، نہ کسی قسم کا نقصان پہنچا۔ پھر ہر واقعے میں بغیر حقیقت جانے ڈاکٹروں کو قصوروار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں ڈاکٹروں کے خلاف نفرت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہر کوئی موبائل اٹھا کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے اور علاج کے عمل میں مداخلت شروع کر دیتا ہے۔ اگر ہر فیصلہ ویڈیوز اور شور شرابے کی بنیاد پر ہونا ہے تو پھر پیشہ ورانہ رائے اور طبی مہارت کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟
6
48
218
33,439
| MED retweeted
In this video, it is clearly visible that after examining the patient, the doctor calmly asks the attendant to bring the slip so he can prescribe medication. Instead of cooperating, the attendant becomes rude, raises his voice, and disrupts doctors who were already busy attending to other patients. Despite the unnecessary aggression, both duty doctors remained respectful and professional throughout the interaction. Such behavior towards healthcare workers must be condemned. Young doctors are already working under extreme pressure, often exceeding 100 hours per week, including exhausting 48 hour shifts, while receiving minimal salaries and little institutional protection. Unfortunately, certain government policies and narratives are fueling hostility and dehumanization against doctors instead of addressing the real problems within the healthcare system. If this continuous disrespect, abuse, and burnout of young doctors is not stopped, the healthcare system itself risks complete collapse.
ڈاکٹر نے مریض کو معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ دل کے دورے والا درد نہیں بلکہ عضلاتی (Muscular) درد ہے، اور صرف پرچی بنوا کر لانے کا کہا تاکہ دوا لکھی جا سکے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اُس وقت دو ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے اور دیگر مریضوں کو بھی دیکھ رہے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں ڈاکٹر کی غلطی کہاں ہے؟ نہ مریض کی جان کو کوئی خطرہ ہوا، نہ کسی قسم کا نقصان پہنچا۔ پھر ہر واقعے میں بغیر حقیقت جانے ڈاکٹروں کو قصوروار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں ڈاکٹروں کے خلاف نفرت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہر کوئی موبائل اٹھا کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے اور علاج کے عمل میں مداخلت شروع کر دیتا ہے۔ اگر ہر فیصلہ ویڈیوز اور شور شرابے کی بنیاد پر ہونا ہے تو پھر پیشہ ورانہ رائے اور طبی مہارت کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟
4
21
98
8,833
| MED retweeted
Never question govt that why there is no vein detector in NICU for neonates but yes blame the staff who were trying their best.
یہ ڈاکٹر نہی قصای بیٹھے ہیں ۔۔ معصوم سی جان جس نے دنیا میں انکھ لھولی ہی تھی قصای عملے سے واسطہ پڑ گیا ۔۔ نشتر ہسپتال میں New born baby کو IV غلط لگاتے رہے جس سے اس معصوم کی حالت دیکھیں ۔۔ بچوں کو جب بھی IV لگای جاتی ہے اس کیلے مخصوص پروفیشنل سٹاف کی ضرورت ہے ۔۔ ظلم کی بھی حد ہوتی ہے
5
35
296
13,051
| MED retweeted
Pakistan’s current health spending per person in 2021–22 was only: PKR 8,526 per year = about PKR 710 per month = about PKR 24 per day Now ask honestly: Can Rs 24 per day cover medicines, beds, equipment, staff, emergency care and doctors? No. This is why hospitals are overloaded and doctors are expected to cover system failure with sacrifice. You cannot run healthcare on Rs 24 per person per day. #PayRaiseForDoctors
21
22
889
| MED retweeted
Doctors Highly skilled, underpaid, and overworked. @SohailAfridiISF Doctors should be paid more. #PayRaiseForDoctors
8
19
742
| MED retweeted
is it ethical to not pay people good who are supposed to save your lives and work 80 hrs and have a family to provide ??
Is it ethical for doctors to go on strike knowing patients may die?
1
17
110
3,383
| MED retweeted
Is it ethical for doctors not to be paid well knowing they have families?
Is it ethical for doctors to go on strike knowing patients may die?
32
1,915
9,334
241,866
| MED retweeted
Doctors are the backbone of the healthcare system, yet many in Pakistan are underpaid, overworked and exhausted.We demand at least a 50% salary raise along with proper allowances for doctors working day and night for patient care #payRaiseForDoctors #PayRaiseForDoctors #foryou
1
107
66
2,027
| MED retweeted
International doctors checking flight deals. Pakistani doctors checking dal prices. Pakistani doctors deserve Olympic medals for surviving on these salaries. Doctor abroad: “I bought property.” Pakistani doctor: “I bought extra fries today.” #PayRaiseForDoctors @OfficialYDAPak
19
22
851