جمی ورک کی تحریر پڑھیں اور توبہ کروائیں
جو انسان اللہ کے پیغمبر کا دل دکھائے ان کے مبارک خط کو پارہ کردے اور بدلے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا پائے اس سے زیادہ بدنصیب کون ہوگا
اتنا تو ایرانی بھی وفادار نہیں ہوں گے نوشیرواں اور اس کے خاندان کے جتنا آپ بن رہے ہیں
ایک انڈین مسلمان (انفو ایٹ عادل) کا ایران کے بادشاہ خسرو پرویز اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کے نام بیجھے گئے خط پر ویلاگ دیکھا۔
ویلاگ کیا ایک مولویآنہ خطاب تھا جس میں حقائق کو بری طرح مسخ کیا گیا تھا اور خسرو پرویز کو ڈونلڈ ٹرمپ بنا کر پیش کیا تھا۔ اور ساتھ ساتھ لعنتوں بھی بیجھتا رہا۔
اس ویلاگر کا بیانیہ وہی تھا جو ہماری درسی کتب میں ہے۔ اور ہماری درسی کتب میں وہی ہے جو عربوں نے ہمیں بتایا ہے۔ ظاہر ہے اس میں ایرانیوں کے خلاف تعصب یے۔
خسرو پرویز نوشیروان عادل کا پوتا تھا جو اپنے انصاف اور عدل کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ نوشیروان عادل ایسا عظیم اور ذہین بادشاہ تھا کہ اس کے زمانے میں بہت سارے ہمسایہ مملک ایران میں اس لئے شامل ہوگئے تھے کیونکہ اس کا نظام بہت اچھا تھا۔ امن و امان تھا اور انصاف تھا۔ اور شہریوں کو بہت ساری سہولیات تھیں۔ ان کے حقوق کا خیال رکھا جاتا تھا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خسرو پرویز کے پاس خط بیجھا تھا جو بحرین کے حکمران کا کوئی قاصد لے کر آیا تھا۔
ایرانی ذرائع نے جو خسرو پرویز اور قاصد کے درمیان گفتگو نقل کی ہے وہ دلچسپ ہے۔ اس میں ہمیں 14 سو سال پہلے کے ایران کی جھلک ملتی ہے۔
قاصد: محمد رسول اللہ (ص) نے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے۔ بتوں کی پوجا روک دی ہے۔
خسرو پرویز: ہم تو ہزار سالوں سے توحید پرست ہیں۔ ہم نے کبھی بتوں کی پرستش نہيں کی۔
قاصد: محمد رسول اللہ (ص) نے عربوں کو بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع کیا یے۔
خسرو پرویز: ہم ایرانی بیٹیوں کو سر کا تاج بنا کر رکھتے ہیں۔ یہ کون وحشی لوگ ہیں جو بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے ہیں؟
قاصد: محمد رسول اللہ (ص) نے غلاموں کی تجارت اور بردہ فروشی سے منع کیا ہے۔
خسرو پرویز: ہم نے بردہ فروشی اور غلامی گیارہ سو سال پہلے سائرس دی گریٹ کے زمانے میں ختم کر دی تھی۔
اس گفتگو کے بعد خسرو پرویز نے کہا اسلام ہمارے لئے کچھ نیا نہيں لایا۔ اور نامہ رسول کو مبینہ طور پر پارہ کر دیا جسکی اسے پر سزا ملی اور اس کے بیٹے نے اسے قتل کر دیا۔ کچھ روایت کے مطابق پارہ نہيں کیا تھا واپس اپنے جواب کے ساتھ بیجھ دیا تھا۔
ہمیں تاریخ کو تعصب کے بغیر پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
(جمی ورک)