یہ نام دل کی وہ باتیں کرنے کو رکھا جو ویسے کہنے کی جرات نہیں تھی ۔ سیاست شدت پسندی پر الٹا سیدھا لکھنا اور بتانا ہی کام ہے ۔

Joined March 2009
306 Photos and videos
کتنے سپیڈ بریکر اور بارودی سرنگوں سے ہمارے دیس کو اور گزرنا ہے امریکہ ایران تو ہو گیا جو ہونا تھا ، شوٹنگ رہتی ہے ، پاکستان نے سعودی ایران انڈرسٹینڈنگ بھی کرائی ہے ، مزے ماہیا تب آئیں گے جب یہ ان فولڈ ہوگی ۔ آگے کا راستہ بہت ناہموار ہے اور اس میں بہت سپیڈ بریکر ہیں ۔ یہ سارے ہمیں کراس کرنے ہیں ۔ اس معاہدے کا پہلا نتیجہ یہ آنا ہے کہ ایران کے اندر پاور شفٹ آنا ہے ، طاقت کا مرکز پاسداران اور انتہا پسندوں سے اعتدال پسندوں کی طرف جائے گا ، ایرانی معیشت جس طرح چلائی جا رہی تھی وہ سارے جگاڑ زیادہ تر پاسدارن کے سیٹ اپ نے کر رکھے تھے ۔ پابندیاں ہٹنے کے بعد اعتدال پسندوں یا کہ لیں ایرانی حکومت کے پاس وسائل آئیں گے ۔ جب ایسا ہو گا تو پاسداران پر بہت سی روک بھی لگیں گی ۔ یہ روک لگنی اس لیے بھی ضروری ہیں کہ انقلابیوں کے عزائم پر روک لگے گی تو ریجن میں مسائل اور تناؤ کم ہو گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے اندر بلوچ علیحدگی پسندوں نے بلوچستان کو معاشی طور پر ایک فیل صوبہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے ۔ ایسا صوبہ جہاں کاروبار کرنا ناممکن ہو جائے ، روڈ پر حکومت رٹ کھو دے ، ٹرانسپورٹ ، مال کی ترسیل ناممکن ہو جائے ۔ ایسا ہوا یا ہوتا دکھائی دیا تو بلوچستان میں اک لسانی تقسیم اورتناؤ سامنے آئے گا ۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہرمز کے بلاکیڈ نے ایران کو پاکستانی بندرگاہوں اور چین تک زمینی راستے کی سٹریٹجک اہمیت عملی طور پر سمجھا دی ہے ، ان راستوں کی حفاظت اب ایرانی مفاد میں ہے ۔ اس مفاد کو سمجھنے کے لیے سعودی ایرانی پاکستانی انڈرسٹینڈنگ کو تصور میں لائیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے بدامنی کے شکار دونوں صوبوں کی سرحد افغانستان سے لگتی ہے ، مسلح گروپ افغانستان کی سرزمین پر موجود ہیں اور پناہ گاہوں کے علاوہ وہاں ٹریننگ کیمپ بھی چلا رہے ہیں ۔ چین نے پاک افغان مذاکرات ارومچی میں کرائے جو چینی مسلمان صوبے سنکیانگ یا شنجیانگ کا دارالحکومت ہے ۔ چینی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہیں ، اور یہ مسلح تحریک کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے چین شدید پریشان ہے ۔ اور صورتحال کا حل چاہتا ہے ۔ اس حل کے لیے چین وزیرداخلہ سراج حقانی والا روٹ لے رہا کہ یہی لینا بنتا ہے ۔ حج کے دوران سراج حقانی نے سعودی عرب میں کچھ اہم ملاقاتیں بھی کی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اک مشکل صورتحال ہے ، اکانومی پاکستان چین ایران سب کو اکٹھا کر رہی ہے ، سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ کئی رخ سے مددگار ہے ۔ افغان طالبان نے اپنے ملک میں امن قائم کیا ہے کنٹرول ثابت کیا ہے ، اکانومی اور میگا پراجیکٹ پر ان کا فوکس دکھائی دیتا ہے ، یہ حکومت قائم رہنی چاہئے ۔ ان شرارتی اور احمق عناصر کا علاج ہونا چاہئے جو مسلح گروپوں کے ساتھ اپنا تعلق ، مزہ اور نظریہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں اور سب کو آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں ۔ صورتحال کو اگر افغان طالبان نے نہ سمجھا تو سنٹرل افغانستان میں ایک نئے ایرانی پلئر کی اینٹری ہو گی ، ہزارہ جات (ہزاروں کا علاقہ ) کی لوکیشن ایسی ہے کہ کسی ہمسایہ ملک کی سرحد نہ لگنے کے باوجود یہی علاقہ افغانستان کی زیادہ تر نسلی لسانی اکائیوں کو ملانے والی گزرگاہ ہے ۔ ایران کے تربیت یافتہ شام کی جنگ کا تجربہ رکھنے والے ہزاروں فائٹر اک مصیبت کھڑی کر سکتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال ادھر یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا کیوں چاہے گا ، جب امریکہ ایران معاہدہ اس نیت کے ساتھ کیا گیا ہے کہ اعتدال پسند مضبوط ہوں تو دوبارہ کسی پراکسی کو کنٹرول کرتے پاسداران کا اختیار کیوں بڑھنے دیا جائے گا ۔ ہمارا ریجن اک کروٹ لے رہا ہے ۔ اس ریجنل شفٹ میں بارودی سرنگیں ہیں ، سپیڈ بریکر ہیں ، جنگوں سے اکتائے ہوئے ملکوں قوموں کی اگلی نسلوں کا مستقبل ہے ۔ شدت پسندی تعصبات کو انکار کریں ، سروائیو کریں ، اس شفٹ کو ہوتا دیکھیں اور اپنے آپ کو اچھے وقت کے لیے تیار کریں ۔ فائدہ آپ کو نہ بھی ملا تو ہماری اگلی نسل کو بہتر حالات ملیں گے ۔
7
37
6,052
امریکہ ایران ڈیل تو اب دیر سویر ہو جانی ہے ، اسرائیلی سوگ میں ہیں ، ان کے ٹارگٹ پورے نہیں ہوئے ، ایران سے پابندیاں ہٹ رہی ہیں ، ایرانی میزائل پروگرام پر امریکہ کا روک لگانے کا کوئی پروگرام نہیں ۔ یہ سمجھ بھی آتا ہے کہ ایسا کر کے نہ تو ایران کے پاس کوئی دفاع بچے گا ، نہ عربوں اسرائیلوں کے لیے تھریٹ اور نہ امریکی ملٹری انڈسٹری کے لیے آڈر اصل امتحان اب پاکستان کا ہے ہمارے دو مسلے دہشت گردی (شدت پسندی ، علیحدگی تحریک ) اور معیشت ۔ اس پر ہمیں کیا ملے گا ؟ پہلا مسل تب تک حل نہیں ہو سکتا جب تک نئی ریکروٹمنٹ ختم نہ ہو اور فائنانشل سپورٹ ختم نہ ہو ۔ فائناشل سپورٹ ختم ہو تو پناہ گاہوں ٹریننگ سنٹر چلانا حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ۔ریکروٹمنٹ میں کمی آ سکتی ہے ۔ ملکی معیشت میں سکت ہو تو متبادل روزگار بھی بھرتی کم کر سکتے ہیں ۔ محرومی ، مسائل ، مسنگ پرسن ، حقوق سب اپنی جگہ ، ایکسٹرنل فیکٹر ختم ہوں تو اندرونی مسائل بات چیت ، کچھ مطالبات مان کر کچھ فیور دے کر اور کچھ کنٹرول بڑھا کر حل کیے جا سکتے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہو سکے گا ہماری توقعات پوری ہونگی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایران امریکہ مذاکرات میں مشکل اور پھنسے ہوئے کام پاکستان دیکھ رہا تھا ، پراکسی ، میزائل پروگرام ، نیوکلیر پروگرام ، سیز فائر ، پیغام رسانی ، ایرانی مذاکراتوں کی سیکیورٹی مین مدد ، مالی معاملات کے لیے بعد میں قطر کی اینٹری ہوئی ۔ قطر کی صورتحال ایک مثال ہے ، امریکہ اسرائیل کے حملوں پر ایران نے قطر کو نشانہ بنایا ، قطری قیادت کے لیے مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ، اک طرف اسرائیل حماس قیادت کی دوحہ موجودگی کی وجہ سے قطر کے خلاف تھے دوسری جانب ایرانی امریکی اڈوں کی وجہ سے قطر کو نشانہ بنا رہے تھے ۔ قطر نے اس صورتحال سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو تین ملک آگے آئے ، ترکی ، ملائشیا اور پاکستان ۔ اوپن سورسز کے مطابق آسان والا کام ترکی اور ملائشیا نے حل کیا اور رولے گولے والا ہم نہیں تو کون ۔ اگر یہ بات سمجھ آ جائے تو پاکستان کی مذاکراتی اہمیت بھی ، ایران کا اطمینان بھی سمجھ آ جائے گا ، ذرا دور جانا چاہیں تو گلگت الیکشن بھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افغانستان کے ساتھ لگتے دونون صوبوں میں ریاست کو سیکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں ، جب امریکہ ایران ڈیل آخری مراحل میں تھی تو پاکستان نے افغانستان پر سٹرائک کیے اور آزاد کشمیر میں اک عوامی تحریک کو ٹریگر کر لیا ، اس کو اعتماد کہہ لیں یا دوبارہ گھر کی طرف متوجہ ہونا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چین اور روس افغانستان اپنے مسائل کی وجہ سے افغانستان کو الگ الگ پاور سنٹر سے ڈیل کرنے کے راستے پر ہیں جو بیک فائر کر رہا ۔ چین افغان وزیر داخلہ خلیفہ سراج حقانی کا روٹ لے رہا جو طالبان تحریک کے اول نائب امیر بھی ہیں ۔ روس وزیر دفاع ملا یعقوب کے ذریعے سیٹلمنٹ چاہ رہا جو دوئم نائب امیر ہیں ۔ دونوں کے وزارتی اختیار ملا ہبت اللہ نے کم کیے ہیں ، جو الگ سے ایک دلچسپ پیشرفت ہے روس اور چین دونوں کو ہی اس روٹ پر چلتے سیٹ بیک ہوئے ہیں، وہ جانیں اور ان کے سیٹ بیک ۔ ہم ایک ریجنل ری سیٹ کی طرف جا رہے ہیں ۔ اس میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے اور آئندہ کردار بھی موجود ہے ۔ سوال وہی ہے کہ کیا ہمارے ٹارگٹ حاصل ہو سکیں گے
4
14
62
11,175
Agree
There has been a lot of hue and cry as to why the government did not provide enough information to local journalists on the Iran-US talks. Well, it’s not the government’s job to help journalists. The govt was doing what it was supposed to do. For local journalists not being able to report as desired by many, it has to do with their own capacity or lack of it. In Pakistan, there is no concept of specialised reporting. Today, you are giving weather updates, tomorrow, you are assigned to cover the FO briefing and the next morning the Parliament session. To report on Iran-US talks, one needs a far broader understanding of geopolitics, the intricacies within, and several other factors. And this requires a lot of study, homework and expirence. Why do our local journalists struggle to report Islamabad talks when little or no information is available Because they were looking at the event only through Pakistan’s lens. Met several foreign journalists during the talks, and you know what? Most of them were Iran or Middle East experts with extensive experience in reporting. So those media outlets don’t just deploy their primetime anchors or irrelevant people to cover every event. Lastly, in any profession, the key is to set your own goals, work on your skills and enhance your capacity. If journalists are relying on the government to help with their assignments, then perhaps they should consider leaving this job.
2
198
پاکستان نے کتنے ٹیسٹ پاس کیے پاکستان اپنے قومی مفاد میں ایران اسرائیل امریکہ جنگ بند کرانے کے لیے مذاکرات کار بنا ہے ۔ وہ بھی تب جب روایتی سفارتی چینل دھڑام ہو چکے تھے ۔ پرانے مذاکرات کار اومان اور قطر خود ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ، ایران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔ ایرانی رہبر علی خامینائی کے بعد مذاکرات ، سیاست اور سفارت کے ٹاپ نگران علی لاریجانی مارے جا چکے یروشلم پوسٹ کے مطابق پاکستان کے سامنے آنے کی وجوہات بہت ساری ہیں اس کا ایران کے ساتھ طویل باڈر ہے ، بلوچستان میں جاری انرسجنسی ، انرجی کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار ، انرجی سے بری طرح جڑی ہوئی معیشت کے علاوہ واشنگٹن اور تہران کے ساتھ بیک وقت گہرے روابط ۔ فیلڈ مارشل کی ڈونلڈ ٹرمپ تک براہراست رسائی اور پاکستان میں ترکی ، قطر اور دیگر ممالک کی طرح کوئی امریکی اڈے نہ ہونا ۔جس کی وجہ سے پاکستان ایران کا ہرگز فوجی ٹارگٹ نہیں ہے ۔ پاکستان ایٹمی ملک ہے اور ایران کے بعد سب سے بڑی شیعہ آبادی کا وطن ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے وینس جنگوں کے خلاف اعلانیہ موقف رکھتے ہیں ، عراق میں تعینات رہے ہیں اور مڈل ایسٹ میں امریکی مداخلت اور فوجی موجودگی کے مخالف رہے ہیں ، ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ وینس کا ایران جنگ پر موقف مجھ سے نظریاتی طور پر کچھ مختلف ہے ، وہ جنگ کے حوالے سے زیادہ ایکسائٹڈ نہیں تھا ۔ بعد میں متفق ہو گیا تھا ۔ ٹرمپ نے وینس کو مذاکرات کے لیے دو وجہ سے نامزد کیا ہے ، اگر سفارتکاری کامیاب رہی تو جنگ مخالف ریپبلکن کو بھی معاہدے کی حمایت کرنی پڑے گی اور اگر ناکامی ہوتی ہے تو بھی وہ ٹرمپ کے خلاف نہیں جا سکیں گے ۔ (سوال یہ ہے کہ وینس سے مذاکرات کرنے کا ایرانی مطالبہ منوایا کس نے ہم نہیں تو کون ؟) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی لاریجانی کے بعد ایران میں کس سے بات کی جائے یہ ایک اہم مسلہ تھا ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اس کے لیے ابھر کر سامنے آئے ۔ وہ ایرانی اسلامی انقلاب کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں ، سیکیورتی اسٹیبلشمنٹ کے بھی نمائندہ ہیں اور پارلیمنٹ کے بھی ، اعتدال پسندوں اور ہارڈ لائنر دونوں جانب اپنے عہدے کی وجہ سے اہم ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کا خلاصہ ہے ۔ اک آدھ جملے اپن کی طرف سے اضافی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان یہ مذاکرات ممکن بناتا بہت دور تک گیا ہے ۔ پہلے ہرمز سے دس آئل ٹینکر گزار کے دکھائے اور ثابت کیا کہ ہم جس سے مذاکرات کرا رہے وہ بااختیار بھی ہے ۔ اس سے پہلے ایرانی رہبر سے نوروز پر پاکستان کی حمایت میں ایک بیان آیا ۔ پھر سعودی سفیر کی جانب سے مذاکرات کی حمایت میں ویڈیو بیان آیا اور پاکستان نے یہ بتایا کہ ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ایرانی وزیر خارجہ اور سپیکر کو پاکستان نے ہٹ لسٹ سے نکلوایا ، اگلا ایرانی مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان 72 گھنٹوں کا سیز فائر کروائے تاکہ ایرانی قیادت کو آپس میں رابطوں کا موقع مل سکے ۔ یہ بھاری پتھر بھی اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اب اک سوال کا جواب آپ کو خود دینا ہے تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائش گاہ کے پاس سٹرائک ہوا ۔ سفارتخانہ ایرانی فوجی مرکز کے پاس ہے اور سفیر کی رہائش گاہ انقلابی گارڈ کے زیر کنٹرول رہائشی علاقے میں ہے ۔ یروشلم پوسٹ کی یہ رپورٹ پڑھیں اور سوچیں کہ یہ سٹرائک پاکستان سے جیلسی کا نتیجہ تھے یا ہمارے ایرانی بھائیوں نے پاکستان کی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی ہماری علامتی عمارتوں کے پاس کوئی موومنٹ یا ملاقات رکھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی ٹی پی کمانڈر کافی عرصہ اپنی تشریف کابل میں پاکستان کے ایک دوست ملک کے سفارتخانے ساتھ والی بلڈنگ میں دیوار کے ساتھ لگا کر چھپے رہے اور پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود وہاں ٹارگٹ نہیں کیا
10
44
6,329
افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں افغان طالبان بھی پاکستان مخالف اسٹینڈ لے کر اب افغان قوم پرستوں کی نوبیاہی دلہن بنے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا بھی یہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی تباہی پاکستان کے ہاتھوں ہوئی ہے، ہمیں ان سب کا یہ مؤقف تسلیم کر لینا چاہیے، ساتھ بتانا چاہیے کہ افغانوں کی تازہ تباہی میں ہم اگر پیچھے سے ہلا شیری دے رہے تھے تو عملی طور پر بربادیاں اور فساد مچانے والے افغان طالبان ہی تھے۔ wenews.pk/news/440094/
3
16
1,123
ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت ایران نے 2025 میں اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کے بعد صرف چھ دن میں چار لاکھ سے زائد افغانوں کو نکال دیا تھا ۔ اسی سال 15 لاکھ افغانوں کی ایران سے واپسی ہوئی تھی ۔ اب بھی ایران میں 4 ملین افغان ہیں ۔ ان کی واپسی کیسا چیلنج ہو سکتی ہے ۔ افغان طالبان کی فورسز کتنی ہیں اور کہاں تعینات ہیں ۔ نئی پابندیاں اور مشکلات کیا ہونگی ۔ اس پر لکھی تحریر wenews.pk/news/437654/
10
30
4,018
ایران کی نظروں میں اب ہمارا بھارت کتنا مہان رہ سکے گا انڈیا بظاہر نیوٹرل ہے لیکن محبت قربت اسرائیل سے چھپائے نہیں چھپ رہی جس کا دورہ ایران پر حملے سے 48 گھنٹے پہلے مودی نے کیا ۔ ایرانی بحری جہاز آئیرس دینا انڈیا میں بحری مشقوں میں حصہ لے کر واپسی پر امریکی آبدوز کا نشانہ بن کر ڈوب گیا ۔ انڈیا ایران تعلقات ٹھنڈے پڑ رہے ہیں ۔ wenews.pk/news/436018/
2
7
31
2,773
پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور امر اللہ صالح سابق افغان نائب صدر ہیں اور پاکستان کی مخالفت کرنے کے لیے مشہور ہیں۔2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد امر اللہ صالح خود کو 2004 کے افغان آئین کے مطابق نگران صدر کے عہدے پر فائز کر چکے ہیں۔ یہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس کے سربراہ رہے ہیں۔ این ڈی ایس کا نام بدل کر اب جی ڈی آئی کر دیا گیا ہے۔ امر اللہ صالح نے 2010 میں بسیج ملی قائم کی تھی۔ یہ افغان گرین ٹرینڈ یا اے جی ٹی بھی کہلاتی ہے۔ یہ تنظیم اب طالبان مخالف نیشنل رزسٹنس فرنٹ کا حصہ ہے۔ اے جی ٹی کے ایکس اکاؤنٹ سے پاکستان کی نئی افغان اسٹریٹجی کا 5 نکاتی جائزہ لیا گیا ہے۔ کسی بھی ایشو کو سمجھنے کے لیے اس کو ہر ہر اینگل سے دیکھنا چاہئے ۔ افغان طالبان ایک پریشر میں ہیں اور غلطیاں کر رہے ہیں ۔ وہ سنبھل بھی سکتے ہیں اور یہاں سے اپنے لیے حالات بگاڑ بھی سکتے ہیں ۔ wenews.pk/news/434975/
2
22
3,541
روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان افغانستان میں بیس سے تئیس ہزار جنگجو موجود ہیں جو دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ افغان طالبان صرف داعش کے خلاف کاروائی کرتے ہیں ۔ ٹی ٹی پی حملوں نے پاک افغان تعلقات کو پیچیدہ کر دیا ہے ۔ wenews.pk/news/431909/
3
11
1,164
پاک امریکا پارٹنر شپ، نئے امکانات دھندلا نہ جائیں سمیر پال کپور یو ایس اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ اور سنٹرل ایشیا ہیں۔ 11 فروری کو انہوں نے یو ایس کانگریس کمیٹی کو بریف کیا ہے۔ اس بریفنگ میں پاکستان کو اہم ریجنل پارٹنر بتایا گیا ہے، ایسا پارٹنر جس کے ساتھ امریکا اب سیکیورٹی تعلقات سے آگے جاتے ہوئے ٹریڈ اور اکنامک تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ دہشتگردی کے حوالے سے پاک امریکا قریبی تعاون ضرور موجود ہے لیکن  امریکی فوکس پاکستان سے مختلف ہے۔ خطے میں موجود القاعدہ اور داعش جیسے گلوبل ایجنڈا رکھنے والے گروپوں کو امریکی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے امریکی دلچسپی بہت محدود نوعیت کی ہے۔ wenews.pk/news/429179/
2
10
2,150
لاہور نے کر دکھایا، اب پی پی کراچی میں رونق لگا کر دکھائے امریکی بنک کی جانب سے ریکوڈک کے لیے سوا ارب ڈالر فنڈنگ فراہم کرنے کا اعلان ، اس کے بعد بلوچستان بھر میں دہشت گرد حملے ، ان حملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ازبک اور قازق صدر کی پاکستان آمد ۔ پی ٹی آئی احتجاج اور بسنت کا میلہ ، یہ سب اب پاکستان کا نیو نارمل ہے ۔ اب پی پی کی باری ہے کہ وہ کراچی میں رونق لگائے تاکہ یہ تاثر مزید مضبوط ہو کہ اس ملک میں پرامن علاقے بھی ہیں جہاں رونق میلے بھی سہولت سے ہوتے ہیں ۔ wenews.pk/news/425932/
2
11
475
دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد سے دہشتگرد حملوں میں 238 فیصد اور جانی نقصان میں 209 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف مذاکرات اور آپریشن کی دو قسم کی حکمت عملی ہی آزمائی ہے۔ ملٹری آپریشن سے حاصل کامیابیاں محدود نوعیت کی رہی ہیں، جبکہ مذاکرات بار بار ناکام ہی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی میں ایک ہی مکتب فکر سے تعلق ہونے کے باوجود تضادات بھی ہیں ، جنہیں سمجھنا ضروری ہے ، بدامنی اور مسلح تحریکوں کی موجودگی میں ترقی بس خواب ہی ہے ۔ wenews.pk/news/421575/
3
10
52
5,276
بلوچستان پاکستان ہی رہے گا غوث بخش بزنجو گورنر تھے ، سردار عطا اللہ مینگل وزیراعلی بلوچستان یونیورسٹی کا وائس چانسلر پروفیسر کرار حیسن کو بنایا گیا ۔ بلوچستان یونیورسٹی ابتدائی حالت میں تھی ، نہ ڈھانچہ نہ انتظامیہ نہ پوری فکیلٹیز ۔ گورنر اور وزیر اعلی جو آپس میں سیاسی مخالف تھے اکٹھے وائس چانسلر کا استقبال کرنے گئے ۔ میسج یہ دینا تھا کہ بلوچستان کی تعلیم کے لیے وہ سنجیدہ ہیں ۔ دونوں بلوچستان کے بڑے لوگ تھے ۔ بزنجو کا اس موقع پر یادگار فقرہ تھا کہ “I am a disposable governor and you are an indisposable teacher” بلوچستان یونیورسٹی برے حال میں تھی ۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کو وی سی بنایا گیا ، ڈاکٹر مالک وزیر اعلی تھے اور محمود خان اچکزئی کے بھائی محمد خان اچکزئی گورنر تھے ۔ دونوں نئے وائس چانلسر کا استقبال کرنے پہنچے ۔ وہ 73 کا بلوچستان تھا ، یہ 2016 کا بلوچستان تھا ۔ سردار عطا اللہ مینگل نے بلوچستان میں اردو کو رابطے اور تعلیم کی زبان بنایا ۔ ان سے یہ جملہ بھی منسوب ہے کہ پاکستان کو کچھ ہوا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھیں گے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 26 اگست 2024 کو نواب اکبر بگٹی شہید کی برسی تھی ۔ 25 اگست کی رات بی ایل اے نے 13 اضلاف میں آپریشن ہیروف کے نام سے مسلح حملے کیے ، 26 اگست کو ایف سی کیمپ لسبیلہ پر ماہل بلوچ عرف زالان کردی اور رضوان بلوچ عرف ھمل نے خود کش حملہ کیا ۔ ماہل بلوچ کو پاکستانی میڈیا نے غلط طور پر ماہل کرد نامی بلوچ لڑکی سے جوڑ دیا ۔ اصل میں زالان کردی وہ پہلی کرد خاتون خود کش تھی جس نے ترک فوج پر حملہ کیا تھا اور بی ایل اے کرد تحریک سے خود کو علامتی انداز میں جوڑ رہی تھی ۔ رضوان بلوچ کی عرفیت ھمل بتائی گئی تھی ۔ ھمل بلوچ تاریخ کا وہ کردار ہے جس نے پرتگیزیوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور اس کا مجسمہ خود پرتگیزیوں نے گوا میں لگا رکھا ہے ، ایرانی بھی اس کو ہیرو مانتے ہیں ۔ منگل کو ھمل کو پرتگیزیوں نے گرفتار کیا تھا ، بلوچ ساحلی علاقوں میں منگل کو خواتین آج بھی بال دھونے سے گریز کرتی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب ہیں جبکہ اس تنظیم میں ڈپٹی رحمن گل ہیں ، جنہوں نے نواب بگٹی کی شہادت کے بعد فوج چھوڑ دی تھی ۔ 2 فروری 1839 میر محراب خان کا یوم شہادت ہے جو انگریز کے خلاف جنگ کی قیادت کرتے مارے گئے تھے ۔ بی ایل اے نے 31 جنوری کو آپریشن ہیروف ٹو کا آغاز کیا ۔ بلوچستان بھر کے 12 اضلاع میں بیک وقت حملے کیے گئے ، بڑی تعداد میں بی ایل اے کے حملہ آور مارے گئے ہیں آپریشن کلین اپ جاری ہے ۔ بشیر زیب کی ایک فوٹو جاری کی گئی ہے جس میں وہ طالبان نما حلیے میں موٹر سائکل پر حملے کی قیادت کرتے بتائے گئے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلوچستان عسکری تحریک فرسٹریشن کا شکار ہے ۔ حیر بیار مری بی ایل اے آزاد کے سرپرست ہیں وہ اسرائیلی سائٹ پر نوکری کی درخواستیں دیتے رہتے ہیں اور گریٹر بلوچستان جس میں افغانستان کے دو صوبے ایرانی بلوچستان اور پاکستان بلوچستان کے علاوہ علاقے شامل ہیں ، یہ سب آزاد کرانے کے مشن پر ہیں جو اصل میں بلوچ کٹواؤ پروگرام ہی لگتا ہے ۔ اٖفغانستان کا باڈر بند ہے ، پاکستان میں ایرانی تیل کا کام بند ہے ، چاہ بہار سے انڈیا دوڑ گیا ہے ، ایران میں پوڈر اسمگلنگ کے خلاف آپریشن ہوئے ہیں ۔ بلوچ عسکری تحریک کو فنڈنگ کے مسائل درپیش ہیں ۔ اب یہ اک تواتر کے ساتھ بنک لوٹنے کی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بشیر زیب کی بی ایل اے سی پیک پراجیکٹ کو پورے جذبے سے ٹارگٹ کرتی ہے اور ریکوڈک کا نام لیتے شرماتی ہے ۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم بی ایل ایف نے نوکنڈی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر پہلا خودکش حملہ کیا تھا ۔ نوکنڈری میں ہی ریکوڈک پراجیکٹ کی سائٹ ہے ۔ مکران کے اپنے حلقہ اثر سے بہت باہر جا کر یہ کاروائی کی گئی ۔ اس سے عسکری تنظیموں کے آپسی اختلافات دکھائ دیتے ہیں ۔ اک خلیجی ملک میں بی ایل اے کے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ۔ اک دوسرے خلیجی ملک کو پاکستان نے آگے لگا رکھا ہے ، تیسرے ملک میں صدر صاحب بلوچی میڑھ لے کر ہی پہنچے ہوئے تھے کہ کچھ خیال کریں تعلق رابطوں واسطوں اور اچھے وقتوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرفراز بگٹی حال ہی میں چیف آف بگٹی بنے ہیں ۔ ان کا تعلق بگٹی قبیلے کی میسوری شاخ سے ہے ۔ بگٹی قبیلے میں نواب کی غیر موجودگی میں میسوری سردار کو جنگ اور ایمرجنسی میں چیف کا درجہ حاصل تھا ۔ یہ سسٹم نواب اکبر بگٹی نے ختم کر دیا تھا ۔ نواب کی شہادت کے بہت بعد ، بگٹی قبیلے کے نواب مخالف وڈیروں کو وزیراعلی ہاؤس بلا کر ان کی حمایت لینے کی کوشش کی گئی ۔ ہوشیار وزیراعلی نے یہ فرمائش کرنے والوں سے کہا کہ انہیں دودھ پتی پلائیں ، کسی اک وڈیرے نے بھی دودھ والی چائے کو ہاتھ نہ لگایا ۔ تب وزیراعلی نے افسر لوگ کو سمجھایا کہ نواب نے بہت عرصہ پہلے دودھ پتی پینے پر بین لگا دیا تھا ۔ آپ اس کے مخالفوں کو یہ پلا نہیں سکے ہیں ۔ باقی حساب خود لگا لیں ۔ سرفراز بگٹی کے وزیر اعلی بننے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سبی اور نصیر آباد ڈویژن میں ہلکی پھلکی عسکری کاروائیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ بندہ پوچھے سر جی آپ کو یہ مشورے دیتا کون ہے ، سی ایم سردار نہیں ہے تو بھی اس کی کارکردگی بولے گی اور سردار ہے تو بھی فیصلہ کارکردگی نے ہی کرنا ہے ۔ قبائل کے اندرونی سسٹم رواج روایت میں گھسنے کی ضرورت کیا ہے ۔ یہ ساری کہانی نہیں ہے ، اسے ایک مکمل رخ بھی نہیں کہہ سکتے ،پھر بھی ایک پاکستان دوست نواب بگٹی کی شہادت دیکھیں کیسے کیسے بلوچستان کو متاثر کر رہی ہے ۔
2
33
138
26,299
wisibaba وسی بابا retweeted
دائرے رک نہیں رہے، بڑھتے جا رہے ہیں، گل پلازہ میں خریداری کے لیے گئے بدقسمت خریداروں اور بچوں کے مستقبل کے لیے روپیہ روپیہ جوڑتے دکانداروں کی ہر کہانی ایک نیا دائرہ جنم دے رہی ہے۔ ٹوٹی ہڈیوں اور گرے دانتوں کے ڈی این اے کے ممکن ہونے یا نہ ہونے کا دائرہ، شادی سے پہلے اپنے لیے سامان لینے والی نو عمر مسرور دلہن کا دائرہ، اپنی دلہن کے لیے اس کی پسند کا تحفہ لینے جانے والے پر عزم دولہے کا دائرہ اور بچے کی پہلی سالگرہ پر اس کا تحفہ لینے جانے والے جوڑے کا دائرہ۔ تصور کیجیے، اس دکان کے دائرے کو جس میں آگ کے شعلوں کے پھیلتے دائروں سے بچنے کے لیے خود کو محصور کردینے والے کئی لوگوں کی زندگیوں کے دائرے۔ وہ دائرے جو اب جلی ہوئی ہڈیوں اور دانتوں میں سمٹ رہے ہیں۔ گل پلازہ کے باہر اب بھی کئی دائرے گردش کررہے ہیں۔ وہ دائرے جن کے زیلی یا آبائی دائرے ان کے لیے خریداری کرنے گل پلازہ گئے تھے اور پھر وہاں لگنے والی آگ کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکے۔ آگ کا دائرہ اب بجھ گیا ہے، راکھ کا ابھی گردش کررہا ہے اور ملبے کا بھی۔ ایک دائرہ اس نقدی اور زیور کا بھی ہے جو دکانوں سے نکلا ہے اور ایک دائرہ ان ہوس میں مبتلا سرکاری اہلکاروں کا بھی ہے جو اس کو سمیٹنے کے درپے ہیں۔ اور سیاسی جماعتوں کے تو دائرے ایسے ہیں جو اپنی ہی طرف پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا دائرہ، ایم کیو ایم کا دائرہ، جماعت اسلامی کا دائرہ، پی ٹی آئی کا دائرہ، بے حس سول سوسائٹی کا دائرہ اور مقتدرہ کا دائرہ۔ دائرے در دائرے اور دائرے در دائرے۔ جب تک یہ دائرے چلتے رہیں گے، گل پلازہ کی آگ کی طرح شارٹ سرکٹ اور عمارتیں گرنے کی خبریں بھی دائرے بناتی رہیں گی، کچھ چھوٹے کچھ بڑے، کچھ اپنے ہی مدار میں اور کچھ مدار در مدار۔ wenews.pk/news/417450/
1
3
4
931
محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟ بلوچستان میں باپ پارٹی ایسی آئی کہ اب وہاں ہر پارٹی میں ابا جی ہی بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔ اچکزئی بلوچستان سے وہ معقول آواز ہیں جنہوں نے وہاں کے حالات میں بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہے ۔ جمہوری رویہ رکھنے ، پارلیمانی اقدار پر اصرار کرنے کے عادی مجرم ہیں ۔ جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہو اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں ۔ جمہوری حوالے سے محمود خان کا موقف مستقل ایک ہی رہا ہے ۔ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ان کا موقف واضح طور پر تبدیل ہوا ہے جسے علاقائی تناظر میں دیکھیں تو وجہ سمجھ آتی ہے ۔ ان کا اپوزیشن لیڈر بننا اچھی خبر ہے ، سیاست اپنے روایتی دھیمے پن کی طرف لوٹ سکتی ہے ۔ دل نے ان سے بہت سی امیدیں باندھی ہین دیکھتے ہیں ٹوٹتی ہیں یا پوری ہوتی ہیں ۔ wenews.pk/news/416670/
3
3
22
9,323
کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن کاپر اس وقت ہائی ڈیمانڈ منرل ہے۔ سپلائی ڈیمانڈ سے کم ہے اس لیے کاپر کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں۔ کاپر کی فی ٹن قیمت 13300 ڈالر کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں۔ 2040 تک کاپر کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق 10 ملین ٹن تک پہنچ جائے گا۔ یہ فرق جتنا بڑھتا جائے گا اتنا ہی کاپر کی قیمت بڑھے گی۔ ان بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے منرل اور مائننگ کمپنیاں اکٹھی ہورہی ہیں۔ ریکو ڈک کا آپریشن چلانے والی بارک گولڈ ٹاپ ٹین رینکنگ میں نہیں آتی ۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے اکٹھے ہونے کے باوجود جب ریکو ڈک پروڈکشن شروع کرے گا تو بارک گولڈ ٹاپک کمپنیوں میں شامل ہو جائے گی ۔ جبکہ بارک گولڈ کے پاس ریکوڈک کے صرف 50 فیصد شئر ہیں ۔ wenews.pk/news/413762/
1
5
41
3,711
آ سوہنیا تیرے جن کڈھاں ہمارا شہد سے میٹھا آئرن برادر وینزویلا کے صدمے سے نکل آیا ہے ۔ اب پانڈے بولنے لگ گئے ہیں کہ مسٹیک ہو گئی ۔ اخے ہم نے سارے آنڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیے تھے ، جس جذبے سے یہ کہہ رہے ہیں اس سے لگتا کہ سارے آنڈے مرغی کے نہیں تھے اک آدھ شتر مرغ کا بھی تھا جو دب گیا ۔ دس سے بیس ارب ڈالر چینی وینزویلا میں لگا بیٹھے تھے ایڈوانس ، جس کا وینزویلا نے تیل دینا تھا اب سب سے پہلے یہ سپلائی بحال کرنا پہلا مقصد ہے تاکہ نقصان کم کیا جائے باقی سرمایہ کاریاں بچانے کو اب یہ سوچا گیا ہے کہ ویسٹرن اور امریکی کمپنیوں کو پارٹنر بنا کر دیا کرو مہاراج گاتے ہوئے اپنی انویسٹمنٹ بچائی جائے ۔ ویسے سی پیک کے چکر میں ہماری حکومتیں اوپر نیچے ہو گئیں اور ان پانڈوں نے مڑ کر بات نہیں پوچھی وینزویلا آئٹم ہوا تو پاک چین وزرا خارجہ سٹریٹجک ڈائلاگ ہو رہا تھا ۔ اس کی مشترکہ سٹیٹمنٹ میں چین نے بہت سے پاکستانی موقف حرف بہ حرف مان لیے ، جن میں افغانستان میں موجود مسلح گروپ ، ان سے ہمسائیوں کو درپیش خطرات ان کو حاصل حکومتی سپورٹ اور ان کے خلاف دکھائی دیتی ثابت ہوتی کاروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وینزویلا پر انٹرنیشنل میڈیا میں دلچسپ ہیڈ لائین ہیں ، پوتین کیوں وینزویلا والی امریکی کاروائی پی گیا ۔ عرب ملک کیوں سانوں کی کہہ کر ادھر ادھر دیکھنے لگ گئے ۔ ایران میں احتجاج پھیل گیا ہے ۔ اس کی وجہ معیشت ہے ، وینزویلا ایرانی معیشت کو کسی نہ کسی طرح سپورٹ فراہم کر رہا تھا ۔ ایران کو وینزویلا کی کاروائی بہت دیر تک اور زور سے محسوس ہوتی رہے گی ایرانی حکومت اور عوام مزید سب سڈی والا نشہ کرنے جوگے نہیں ہیں ، لوگوں کو ریلیف ملنا اب قریب قریب ناممکن ہے ، دیا گیا تو حکومت کے پلے کچھ نہیں بچتا ۔ ڈانگ سوٹا ہے وہ جتنی دیر چلتا کیا جا سکتا ، ایران کو اب شدید ضرورت ہے کہ اس پر پابندیاں ختم ہوں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وینزویلا کے خلاف کاروائی امریکہ نے مونرو ڈاکٹرائین کے تحت کی ہے ۔ جس کے مطابق ویسٹرن ہمسفئر (براعظم امریکہ اور یورپ کے کچھ علاقے ) میں امریکہ ہی بادشاہ ہے اور یہاں کوئی اور آ کر میرا بھی تو ہے نہیں گا سکتا ۔ ٹرمپ نے مونرو ڈاکٹرائن کو ڈونرو ڈاکٹرائن اپنے ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دو لفظ ڈال کر بنا لیا ہے ۔ اس کاروائی سے ایک مطلب یہ بھی لیا جا رہا ہے کہ امریکہ اگر اپنے حلقہ اثر میں مرضی کر رہا تو باقی طاقتیں بھی اپنے اپنے حلقہ اثر میں انڈے بچے دیں اور شیر بنیں ۔ شیر اس کو ہلا شیری سمجھے تو کئی ریجن اوپر نیچے ہونگے ۔ کئی نئے ریجنل الائنس بنے ہیں ، ابراہام اکارڈ والے ہیں جو مل کر انرجی اور تجارتی راستوں پر کنٹرول کرنے کے چکر میں تھے ۔ سعودی پاک دفاعی معاہدہ ہے جو ان کو جا وجا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ایران میں اگر رجیم چینج ہوتا ہے اور وہاں اسرائیلی فٹ پرنٹس آتے ہیں تو پھر پاکستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی آ سوہنیا تیرے جن کڈھاں گانا پڑے گا ۔
4
22
1,597
امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا امریکہ مڈل ایسٹ اور افغانستان میں مصروف تھا ، چین ان بیس سال میں لاطینی امریکہ میں اپنا کام پکا کر رہا تھا ۔ ٹرمپ کو گرین لینڈ لینے کی پٹی کس نے پڑھائی ۔ مونرو ڈاکٹرائین کیا ہے جو ویسٹرن ہمسفئر کو امریکہ کا علاقہ کہتا ہے اور یہ علاقہ کتنا ہے ، وینزویلا کا صدر اٹھائے جانے سے ایران اور چین کا تعلق کیسے جڑتا ہے ۔ wenews.pk/news/410429/
3
21
193
24,213