خان صاحب کی رہائی کے لئے ہر موثر، کارگر اور عملی اقدام کا نہ صرف ساتھ دیں گے بلکہ حتی المقدور اپنا حصہ بھی ضرور ڈالیں گے۔ ہر اس قدم کے پیچھے کھڑ ے ہیں جس کا فائدہ خان صاحب کو ہو اور یہی سب کی پہلی ترجیح ہونی چاہئیے ۔فروری میں پارلیمان کا دھرنا ختم ہونے کے بعد سے اب تک ہم نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی تھی کیونکہ ہمیں ہر دن کہا جارہا تھا کہ بس ہم خان صاحب کے لیے کچھ کرنے والے ہیں آپ خاموش رہے ، آج ہورہا ہے کل ہورہا ہے بس آپ خاموش رہے ، خیبر پختونخوا کی حکومت ہی خان صاحب کی رہائی کی کنجی ہے لیکن اب گلگت کے الیکشن کے نتائج اور موجودہ حالات دیکھ کر نظر آرہا ہے کہ ہم سے غلط بیانی کی گئی مقصد اپنے ذاتی ہدف حاصل کرنا تھا ، پِچھلے سال بھی خان صاحب سے مشاورتِ کیے بغیر بجٹ پاس کرنے کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اس سال بھی یہ ہونے نہیں دیںگے کیونکہ اب کی بار خان صاحب کی ہدایات بہت ہی واضح ہے جو میرے سامنے خان صاحب نے مزمل اسلم صاحب کو دیے تھے جب سہیل آفریدی صاحب وزیر اعلیٰ بنے تھے ۔ اب نا کوئی مجبوری مانتے ہیں نا کوئی نئی مصلحت کا راگ ۔
پی ٹی آئی ناراض ممبران کے تیسرے اجلاس کا اعلامیہ
عمران خان رہائی تحریک، صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا
مشاورتی کمیٹی کا اجلاس
آج عمران خان رہائی تحریک، صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کی مشاورتی کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر واضح کیا گیا کہ بعض عناصر دانستہ طور پر اس تحریک کو کسی مخصوص شخصیت یا گروپ سے منسوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ عمران خان رہائی تحریک کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی اور ان کے وژن کی پیروی ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی اور ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا مقصد۔
تفصیلی مشاورت کے بعد درج ذیل اعلامیہ جاری کیا گیا
نمبر 1
عمران خان رہائی تحریک، خیبر پختونخوا اسمبلی مطالبہ کرتی ہے کہ جیسا کہ پہلے اعلامیے میں عمران خان کی رہائی کے لیے جامع اور واضح حکمتِ عملی وضع کرنے کی گزارش کی گئی تھی تاہم تاحال اس سلسلے میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ مشاورتی کمیٹی نے اس پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا اور ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ جلد از جلد واضح حکمتِ عملی مرتب کرکے عملی اقدامات کیے جائیں۔
نمبر 2
مشاورتی کمیٹی نے صوبائی قیادت اور صوبائی حکومت کی جانب سے حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور ان کے قائدین سے مسلسل ملاقاتوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا
کیا یہ ملاقاتیں عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہیں؟
کیا ان ملاقاتوں کا ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہے؟
اگر ایسا ہے تو پھر ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقاصد سے پارٹی کارکنان اور پارلیمانی کمیٹی کو کیوں آگاہ نہیں کیا جاتا؟
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مختلف شخصیات کی اپوزیشن قائدین سے ملاقاتیں جاری رہتی ہیں جن کے بارے میں نہ کارکنوں کو آگاہ کیا جاتا ہے، نہ پارلیمانی کمیٹی کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، اور نہ ہی ان ملاقاتوں کے مقاصد واضح کیے جاتے ہیں۔
نمبر 3
چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف، بیرسٹر گوہر، نے باقاعدہ طور پر عمران خان رہائی تحریک کی مشاورتی کمیٹی سے رابطہ کیا ہے اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
عمران خان رہائی تحریک، صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا، بیرسٹر گوہر کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتی ہے۔ کمیٹی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر چند نمائندگان کے نام تجویز کیے ہیں تاکہ ان کے ساتھ جلد از جلد باقاعدہ نشست منعقد کی جا سکے اور عمران خان رہائی تحریک کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
نمبر 4
مشاورتی کمیٹی برائے عمران خان رہائی تحریک، صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ عنقریب پورے پاکستان میں پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے تمام پارلیمنٹیرینز، تنظیمی عہدیداران، ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر بااثر شخصیات سے رابطہ کرکے انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی، تاکہ عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مؤثر، متحد اور منظم جدوجہد کو مزید وسعت دی جا سکے۔
منجانب:
مشاورتی کمیٹی برائے عمران خان رہائی تحریک
صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا