Joined November 2020
13,043 Photos and videos
Pinned Tweet
10 Nov 2022
158
181
1,058
یہ کونسا طبقہ ھے ؟
10
3
14
1,051
یہ پولیسنگ نہیں، دہشت گردی ھے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ چکوال کی ایک فیملی جو آسٹریلیا میں رہائش پذیر تھی کچھ عرصہ پہلے پاکستان آئی۔ یہاں سے پوری فیملی حج کرنے چلی گئی اور منگل کے روز سعودی عرب سے واپس پاکستان پہنچی۔ فیملی کے سربراہ عدیل احمد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شام اپنے سسر کے گھر کھانے کی دعوت پہ گئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ ، نو سالہ بیٹی ہانیہ اور ایک بیٹا عفان بھی تھا۔ سسر کے گھر جاتے ہوئے یہ ڈکیتی کی واردات کا شکار ہو گئے۔ اسی دوران سی سی ڈی تھانہ کو واردات کی اطلاع مل چکی تھی۔ سی سی ڈی اہلکاروں نے انہیں ہی ڈاکو سمجھ کر گاڑی پہ اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے پوری گاڑی چھلنی ہو گئی۔ کار میں نو سالہ بچی ہانیہ موقع پر دم توڑ گئی۔ جبکہ باقی ہوری فیملی شدید زخمی ہو گئی ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے کہ پولیس نے کسی وارننگ یا گاڑی کے ٹائر برسٹ کرنے کے بجائے گاڑی کو ہی ٹارگٹ کر دیا۔ اس فیملی کا نقصان کون پورا کرے گا ؟ اس اندوہناک واقعہ پر یہ سوال حق بجانب ہے کہ کیا سی سی ڈی کے اہلکار اس قدر نان پروفیشنل ، اناڑی اور بیوقوف ہیں کہ وہ کسی شریف فیملی اور ڈکیتوں میں فرق بھی نہیں کرسکتے؟ یا پھر سی سی ڈی کا تشکیل کردہ مخبری کا نظام ناکارہ ہے کہ اصل ڈاکو فرار ہوجاتے ہیں اور معصوم فیملی کی گاڑی گولیوں سے چھلنی کر دی جاتی ہے ؟ منقول
8
11
41
2,176
*آج کی سب سے اچھی بات* *اپنی ایک عادت سی بنا لیں۔* *اپنے مال کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کا بھی صدقہ دیں!! کسی کو مخلصانہ مشورہ دیں۔ کسی کا مفت میں کام کردیں۔ کسی کی کوئی مشکل آسان کردیں۔ کسی کا دکھ بانٹ لیں۔ کسی کی خوشی کی وجہ آپ بن جائیں۔* *آپ کی اپنی مشکلیں پریشانیاں اور بلائیں ﷲ پاک خود بخود ٹالتا جائیگا۔*
2
3
24
515
بلاول زرداری کے The state of art hospital
9
20
496
عورتوں کی موت کی اقسام 🤣🤣🤣🙏🙏🙏
6
6
34
2,201
میاں صاحب اس بار بھی کوشش کر لیں۔
24
3
27
2,195
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
No doubt, he is the real hero. God bless him.
465
Replying to @ArifRetd
ماشااللہ اللہ اجر دے
550
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
ان کا جذبہ اور ہمت یقیناً قابل ستائش ہے مگر ڈھائی لاکھ نمبر پر یقین نہیں آرہا
3
1
7
562
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
ماشاءاللہ ماشاءاللہ زبردست شخصیت اور کام کیا اس نے ہیرو ھے یہ
3
230
میرے وجود کے یوسف یہ کیسے ممکن ہے کہ دل پر قحط پڑے اور تجھے پتا نہ چلے
1
2
11
735
🚨بھارتی طیارے گنگا کے اغواء کا ڈرامہ۔ 2🚨 مغربی پاکستان سے ڈھاکہ کا براہِ راست رابطہ کاٹ دیا گیا، جس کے نتیجے میں اب پاکستانی طیاروں کو سری لنکا کے راستے ساڑھے تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا طویل اور تھکا دینے والا چکر کاٹنا پڑتا تھا۔ اس عسکری اور جغرافیائی ناکہ بندی کی وجہ سے عسکری طور پر مشرقی پاکستان بالکل تنہا ہو گیا اور وہاں بروقت رسد یا تازہ دم دستے پہنچانا ناممکن ہو گیا۔ دوسری طرف، ذوالفقار علی بھٹو کا ائیرپورٹ جا کر ہائی جیکرز کا استقبال کرنا پاکستان کے گلے کا پھندا بن گیا۔ بھارت نے دنیا کے سامنے بھٹو کی ہائی جیکرز سے ملاقات کی تصاویر اور ان کے بیان کو بظور ثبوت پیش کیا۔ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کر کے سفارتی طور پر تنہا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے وقت قریبی دوست ممالک بھی پاکستانی مدد کرنے سے قاصر تھے۔ گنگا طیارے کی ہائی جیکنگ کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ وہ پہلا عسکری وار تھا جس نے پاکستان کے دونوں بازوؤں کا رابطہ توڑ کر عسکری طور پر مشرقی پاکستان کو اپاہج کر دیا، اور آگے چل کر اسی سال دسمبر میں سقوطِ ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کے قیام کی راہ ہموار کر دی۔ یہ پرانا واقعہ اس طرح سے یاد آیا کہ بظاہر حقوق کے نام سے شروع کی گئی تحریک کی قیادت بھی قریشی برادران کی طرح لبریشن فرنٹ سے ہے۔ نوٹ۔ اس پر آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں
1
2
5
420
🚨بھارتی طیارے گنگا کے اغواء کا ڈرامہ۔ 1🚨 آپ نے بھارتی طیارے گنگا کی ہائی جیکنگ کا واقعہ پڑھا یا سنا ہو گا۔ 30 جنوری 1971 کو یہ طیارہ اغوا کر کے پاکستان لایا گیا تھا۔ اسے اغوا کرنے والے ہائی جیکرز کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے تھا۔ ہاشم قریشی اور اشرف قریشی دونوں نیشنل لبریشن فرنٹ سے منسلک تھے۔ بعد میں یہ تنظیم جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ بن گئی جسے مختصراً لبریشن فرنٹ کہا جاتا ہے۔ جب یہ انڈین ائیر لائنز کا فوکر طیارہ لاہور ائیرپورٹ کے رن وے پر اترا، تو پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ عوام کے لیے یہ بھارتی غرور پر ایک کاری ضرب تھی، لوگ گلیوں میں نکل آئے اور کشمیری حریت پسندوں کے حق میں نعرے لگنے لگے۔ اس سیاسی اور عوامی ہیجان میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب مغربی پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ذوالفقار علی بھٹو، جو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد حال ہی میں لاہور پہنچے تھے، خود لاہور ائیرپورٹ چلے گئے۔ انہوں نے رن وے پر ہائی جیکرز سے ملاقات کی، ان سے ہاتھ ملایا اور ان کے اس اقدام کو کشمیریوں کی جرات اور حریت پسندی کا نام دے کر سراہا۔ بھٹو کی ہائی جیکرز کے ساتھ یہ ملاقات اور تصاویر بین الاقوامی میڈیا کی سرخی بن گئیں، جس کا بھارت کو شدید انتظار تھا۔ طیارہ 3 دن تک لاہور ائیرپورٹ پر کھڑا رہا۔ اس دوران تمام مسافروں اور عملے کو بحفاظت نکال کر ہوٹل منتقل کیا گیا اور بعد میں واہگہ بارڈر کے راستے بھارت روانہ کر دیا گیا۔ لیکن 2 فروری 1971 کو ڈرامے میں ایک نیا موڑ آیا، جب ہائی جیکرز نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور کیمروں کی موجودگی میں طیارے کو آگ لگا دی۔ طیارہ رن وے پر جل کر خاکستر ہو گیا اور پاکستان تماشائی بنا رہا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے اس پورے اسکرپٹ کا اصل فائنل ایکٹ شروع ہوا۔ بعد ازاں علم ہوا کہ بظاہر کشمیریوں کا کارنامہ نظر آنے والا یہ واقعہ دراصل بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' (RAW) کے بانی اور سربراہ رام ناتھ کاؤ کا تیار کردہ ایک انتہائی خوفناک "فالس فلیگ آپریشن" تھا، جس کا مقصد تحریکِ آزادیِ کشمیر کو بدنام کرنا اور پاکستان کو ایک ایسے جال میں پھنسانا تھا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ اس گہری سازش کی پرتیں اس وقت کھلنا شروع ہوئیں جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ "گنگا" انڈین ائیر لائنز کا وہ سب سے پرانا اور ناکارہ ترین جہاز تھا جسے پچھلے کئی سالوں سے سروس سے ہٹا کر گراؤنڈ کیا جا چکا تھا۔ ہائی جیکنگ سے محض چند دن پہلے اسے اچانک دوبارہ فعال کر کے سری نگر روٹ پر ڈالا گیا۔اس سے بھی زیادہ حیران کن انکشاف یہ تھا کہ ہائی جیکرز کے پاس کوئی اصلی بم یا پستول نہیں تھی، بلکہ وہ لکڑی کا بنا ہوا نقلی گرینیڈ اور کھلونے والی پستول لے کر جہاز میں سوار ہوئے تھے، اور بھارتی ائیرپورٹ سیکیورٹی نے جان بوجھ کر ان کی تلاشی لیے بغیر انہیں جانے دیا تھا۔ بعد میں سامنے آنے والے حقائق نے ثابت کیا کہ ہاشم قریشی مقبوضہ کشمیر میں بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) میں ملازم تھے اور وہ خفیہ طور پر بھارتی انٹیلیجنس کے مہرے کے طور پر کام کر رہے تھے اور اشرف قریشی اس کا کزن تھا۔ جب پانی سر سے گزر گیا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات لگنے لگے، تو مئی 1971 میں حکومتِ پاکستان نے "جسٹس بوندے علی شاہ انکوائری کمیشن" قائم کیا۔ اس عدالتی کمیشن نے جب تحقیقات کا آغاز کیا تو جو سچائیاں سامنے آئیں انہوں نے سب کے ہوش اڑا دیے۔ کمیشن نے اس واقعے کو بھارتی سازش قرار دیتے ہوئے ہائی جیکرز کے 'را' کے ساتھ روابط کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ کمیشن نے بھٹو کی ہائی جیکرز سے ملاقات اور بیانات کو پاکستان کے لئے انتہائی مضر قرار دیا۔ اس رپورٹ کے بعد ہاشم اور اشرف قریشی کو فوراً گرفتار کر لیا گیا اور ایک خصوصی عدالت نے ہاشم قریشی کو غداری اور بھارتی ایجنٹ ہونے کے جرم میں 19 سال قید کی سزا سنائی، جس میں سے انہوں نے تقریباً 9 سال پاکستانی جیل میں گزارے۔ اشرف قریشی کو کم سزا ملی اور وہ بعد میں رہا کر دیے گئے، جبکہ ہاشم قریشی جیل سے رہائی کے بعد نیدرلینڈز چلے گئے اور سال 2000 میں پراسرار طور پر دوبارہ مقبوضہ کشمیر لوٹ گئے، جہاں وہ آج بھی مقیم ہیں۔ پاکستان کو اس پورے ڈرامے کی جو قیمت چکانی پڑی، وہ اتنی سنگین تھی کہ اس نے برصغیر کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ بھارت نے اس خود ساختہ ہائی جیکنگ اور طیارے کے جلائے جانے کو جواز بنا کر فوری طور پر پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (PIA) اور پاک فضائیہ کے لیے اپنی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ فروری 1971 کا یہ وہ دور تھا جب مشرقی پاکستان میں حالات بارود کے ڈھیر پر تھے اور پاک فوج کو وہاں لاجسٹک سپورٹ، اسلحے، راشن اور اضافی نفری کی سخت ضرورت تھی۔ فضائی حدود بند ہونے سے جاری
2
14
1,290
🌹اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سچے ہیں۔ 🌹2 سادھو نا تو نے جو متکبرانہ بول بولے تھے ان کا انجام دیکھ لیا تھا اج زویا طارق کا وہی بیٹا ڈاکٹر ہے اور ایک ایسے ادارے کے انتظامات بھی سنبھال رہا ہے جہاں لاوارث لوگوں کو رکھا جاتا ہے ان لاوارث لوگوں میں سے ایک سادھو ناتو بھی ہے جس کے کنگال ہونے کے بعد اس کے سب رشتے ناتے یار دوست اسے چھوڑ کر جا چکے ہیں اب اس کا واحد اور اخری سہارا زویا طارق کا وہی بیٹا ہے جس کے خدا اور مذہب کو سچا جاننے کے لیے وہ چیلنج کیا کرتا تھا زویا طارق اکثر اپنے بیٹے کے ادارے میں جاتی رہتی تھی وہ اپنی عمر بزرگ خواتین سے ملتی اور ان کے دکھ سکھ بانٹا کرتی تھی اج جب وہ ان خواتین سے ملنے کے بعد باہر نکل رہی تھی تو بیرونی دروازے سے سادھو ناتو ادارے میں داخل ہو رہا تھا دونوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کو دیکھتے ہی پہچان لیا تھا سادھو ناتو نے اسے دیکھتے ہی سوال کیا تھا کہ تم تو کہتی تھی کہ تمہارا مذہب اور خدا سچا ھے پھر تم یہاں کیسے سادھو ناتو کی بات سن کر زویا طارق نے جواب دیا تھا کہ الحمدللہ اس بات میں کوئی شک نہیں میرا خدا سچا ہے میرے خدا نے میرے صبر کے عوض مجھے بہت کچھ عطا کر دیا اور تیرے تکبر کے عوض تجھ سے سب کچھ چھین لیا دیکھ لیں کبھی میں مندر میں خیرات مانگنے ائی تھی اور میرے مسلمان ہونے کی وجہ سے تو نے مجھے خیرات نہیں دی تھی لیکن میں مایوس نہیں ہوئی اور اللہ تعالی سے امید لگائے رکھی میرے اللہ تعالی نے مجھے اتنا نواز دیا کہ اج یہ ادارہ جس میں تو اور تجھ جیسے اور بہت سارے لوگ مقیم ہیں وہ ہماری خیرات پر چل رہا ہے لیکن تجھ میں اور مجھ میں فرق یہ ہے کہ تمہارا مذہب تمہیں اجازت دیتا ہے تم جسے چاہو خیرات دو جسے چاہو نہ دو لیکن میرا مذہب مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتا بلکہ میرا مذہب کہتا ہے ہر حقدار کو اس کا حق دو اپنی بات مکمل کرنے کے بعد زویا طارق اس کے تاثرات دیکھے بنا باہر کی جانب چل دی تھی اور سادھو نا تو وہاں بیٹھ کر روتے ہوئے کہنے لگا تھا بے شک تمہارا خدا رسول اور مذہب سچا ہے منقول
1
14
1,188
🌹اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سچے ہیں 🌹1 ہندوستان کی ریاست بیہار کے اندر ایک گاؤں میں چند معمولی تعداد میں مسلمان گھرانے بھی اباد تھے جب سے ہندوستان بنا ہے ان مسلمانوں کو نہ تو تعلیم حاصل کرنے دی گئی ہے اور نہ ہی کبھی اپنا کاروبار کرنے دیا گیا ہے بلکہ ہمیشہ ان کو اپنا غلام بنا کر رکھنے کی کوشش میں قرضے میں جکڑ کر رکھا گیا ہے یا پھر ڈرا دھمکا کر رکھا گیا ہے اسی گاؤں میں ایک ہندو بزنس مین سادھو ناتو بھی تھا جس کا بزنس قطر اور بحرین دو ملکوں میں چل رہا تھا گاؤں بلکہ اس پڑوس کے کئی گاؤں میں بھی سب سے پیسے والا وہی شخص تھا وہ جب بھی گاؤں میں اتا تھا مندر میں بیٹھ کر لوگوں میں رقم تقسیم کرتا تھا مگر اج جب وہ رقم تقسیم کر رہا تھا تو اس سے رقم لینے والوں میں سے ایک خاتون مسلمان تھی جس نے اپنے چند سال کے بچے کو اٹھا رکھا تھا جو کہ بیمار تھا اور بیماری سے اتنا لاغر ہو گیا تھا کہ اپنی ٹانگوں پر بوجھ ڈال کر وہ بغیر سہارے کے کھڑا تک نہیں ہو سکتا تھا سادھو ناتو کی نظر جوں ہی خاتون پر پڑی اس نے پہلی نظر میں خاتون کو پہچان لیا خاتون کا نام زویا طارق تھا اور اسلام مذہب سے تعلق تھا خاتون کاباپ ایک ریڑی بان تھا جس کو ہندوؤں نے محض اس لیے قتل کر دیا تھا کہ اس نے ایک بار مندر میں بنے تلاب سے پانی پی لیا تھا باپ کی موت کے بعد امدن کا ذریعہ ختم ہو گیا تو زویا طارق کی والدہ نے اس کی شادی ایک مسلمان نوجوان سے کر دی اور جہیز میں اسے وہی گدھا گاڑی دے دی جسے چلا کر اس کا باپ روزی کمایا کرتا تھا زویا انتہائی خوش شکل خاتون تھی سادھو ناتو جو کہ عمر میں اس کے باپ کے برابر تھا اس نے زویا کے اغاز جوانی میں اس پر اپنی جنسی حوس مٹانا چاہی تھی مگر اپنی خواہش میں ناکام رہا تھا یہاں تک کہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے اس نے زویا کہ خاندان کو طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کر دی تھیں لیکن زویا اور اس کے خاندان نے سب کچھ صبر سے برداشت کیا مگر سادھو ناتو کی اس حرام خواہش کی تکمیل نہ کی اج جب زویا کو لائن میں لگے ہوئے اس نے دیکھا تو اس کو اپنا ماضی یاد اگیا اور اس نے زویا سے پوچھا کہ اگر اج میں کہوں تو میری خواہش پوری کر دو گی؟ زویا نے اسے کہا کہ میں تمہاری خواہش کبھی بھی پوری نہیں کروں گی زویا کے جواب سن کر اس نے کہا کہ چلو ٹھیک ہے پھر جاؤ تم اپنے خدا سے مانگو مندر میں مانگنے کیوں ائی ہو اس کی بات سن کر زویا نے جواب دیا کہ میرے دل میں یہ بات بھی میرے رب نے ہی ڈالی تھی کہ شاید یہاں سے مجھے کچھ رقم مل جائے گی جس سے میں اپنے بچے کے لیے دوا خرید سکوں گی تو اسی امید پر میں یہاں اگئی اگر مجھے پتہ ہوتا کہ یہاں تجھ جیسا شیطان بیٹھا ہے تو کبھی نہ اتی باقی تو جو رقم تقسیم کر رہا ہے اس میں بھی میرا حق ہے کیونکہ تو یہ رقم بطور خیرات تقسیم کر رہا ہے اور میں اس خیرات کی حقدار ہوں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ تم خیرات کو مت روکو ورنہ تمہارا رزق بھی روک لیا جائے گا زویا کی بات سن کر ہندو سادھو نا تو طنز پر اتر ایا اور کہا کہ میں یہ خیرات تمہیں نہیں دوں گا اگر اس سے میرا رزق بند ہوتا ہے تو بے شک ہو جائے کم از کم میرا رزق بند ہو جانے پر یہ تو پتہ چلے گا نا کہ مسلمانوں کا مذہب جھوٹ نہیں کہتا اور دوسری بات میں پورے گاؤں میں یہ اعلان کروا دوں گا کہ کوئی بھی ہندو تمہاری مدد نہیں کرے گا تم اپنے خدا سے کہو کہ تمہارے بچے کے لیے دوا بھیجے یہ بات کر کے سادھو ناتو اپنے راستے پر چل دیا اور رب کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے نیم مردہ بچے کو اٹھائے ہوئے زویا طارق اپنے راستے پر چل دی رات کو زویا طارق کے بچے کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی وہ رات کو بچے کو اٹھائے ہوئے پیدل ہسپتال کی جانب چل دی ادویات خریدنے کے پیسے یا بچے کو چیک اپ کے پیسے اس کے پاس نہیں تھے لیکن وہ اپنے حصے کی کوشش کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ کہتی تھی میں اپنے حصے کی کوشش کر دوں گی باقی کام میرا رب جو کرے گا بہتر کرے گا وہ ہسپتال کھلنے سے گھنٹہ پہلے جا کر اسپتال کی دہلیز کے سامنے بیٹھ گئی ہسپتال کھلنے کے بعد جب ڈاکٹر وہاں پہنچی اور زویا کی حالت دیکھی تو فورا اسے اپنے پاس بلا لیا اس کے بچے کا تسلی سے چیک اپ کیا اس کو اپنے پیسوں سے ادویات خرید کر دی نہ صرف اس کے بچے کا مکمل علاج کیا بلکہ اس کی تعلیم کا خرچہ بھی اٹھا لیا ۔۔۔۔۔ سادھو ناتو جس نے اتنا بڑا بول بولا تھا اس کے کاروباری حصہ دار نے اس کو دھوکہ دیا اس کی ہر چیز ہتھیا لی اور اسے کنگال کر کے ہندوستان واپس بھیج دیا ہے گو کہ سادو ناتو یہ بھول چکا تھا کہ اس نے کبھی اتنا بڑا دعوی بھی کیا تھا مگر اللہ تعالی کے پاس سب کچھ محفوظ تھا اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی کی تدبیر و حکمت ہر چیز پر غالب ا جاتی ہے جاری
3
26
2,102
6
6
26
1,170
ڈھائی لاکھ پودے صرف ایک پاکستانی نے لگاۓ شاید آپ کو یقین نہیں آرہا ہوگا، لیکن یہ 100 فیصد سچ ہے یقیناَ آپ اس گمنام ہیرو کو نہیں جانتے ہوں گے۔ *خضر ولی چشتی: جنون کا نام، پاکستان کی امید* 🌳 *خضر ولی چشتی* ایک عام پاکستانی ہیں۔ نہ کوئی وزارت، نہ کروڑوں کا بجٹ۔ بس دو ہاتھ، ایک دل، اورایک جنون۔ اس جنون نے اڑھائی لاکھ درخت* پاکستان کی مٹی میں اتار دیے۔ جب ہم ائیر کنڈیشن کے نیچے گرمی کی شکایت کر رہے ہوتے ہیں، تب خضر صاحب دھوپ میں کدال چلا رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم "کوئی تو کرے گا" سوچ کر چپ ہو جاتے ہیں، تب وہ خاموشی سے "میں کروں گا" کر کے دکھا رہے ہیں۔ *ان کا پیغام سیدھا ہے:* درخت کاٹنا بند کرو۔ درخت لگانا شروع کرو۔ ہر کٹے درخت کے بدلے 10 نئے۔ یہی ہماری نسل کا صدقہ جاریہ ہے، یہی ہمارا احتجاج ہے۔ *پاکستان میں شجرکاری کے بہترین مہینے:* *جولائی تا ستمبر* - مون سون *فروری تا مارچ* - بہار *تیز بڑھنے والے اور سایہ دار درخت:* نیم، شیشم، سکھ چین، پیپل، برگد، املی، کیکر، دھریک بس نام یاد رکھو۔ نرسری سے لاؤ۔ مٹی میں لگاؤ۔ خضر ولی چشتی نے ثابت کر دیا: تبدیلی کے لیے کرسی نہیں، کردار چاہیے۔ سر سبز پاکستان
22
113
377
6,120
کشمیری بچارے ؟ پاکستان کا فیضان : آزاد کشمیر سے پہلے اِس علاقے کے کشمیریوں کی حالتِ زار : ڈوگرہ راج (1846ء تا 1947ء) کے دوران وہ علاقہ جسے آج ہم آزاد جموں و کشمیر کہتے ہیں، انتظامی اور سیاسی طور پر کوئی ایک اکائی (Unit) نہیں تھا، بلکہ یہ ریاستِ جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع اور جاگیروں میں منقسم تھا۔ اس دور میں یہاں کا انتظامی سٹیٹس، مقامی باسیوں کی حالتِ زار اور حکومت میں ان کی حیثیت کی تاریخی تفصیل درج ذیل ہے: 1. آزاد کشمیر کے علاقوں کا انتظامی سٹیٹس (Administrative Status) ڈوگرہ عہد میں موجودہ آزاد کشمیر کا خطہ بنیادی طور پر تین مختلف انتظامی حصوں میں بٹا ہوا تھا: صوبہ جموں کا حصہ (میرپور اور بھمبر): موجودہ ضلع میرپور، بھمبر اور کوٹلی کا علاقہ جموں صوبے کی "وزارتِ میرپور" (ڈسٹرکٹ) کہلاتا تھا۔ یہ براہِ راست جموں کے گورنر کے تحت تھا۔ صوبہ کشمیر کا حصہ (مظفرآباد): موجودہ ضلع مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی کا علاقہ صوبہ کشمیر کا حصہ تھا اور اسے "وزارتِ مظفرآباد" کہا جاتا تھا۔ یہ سرینگر کے گورنر کے کنٹرول میں تھا۔ پونچھ کی جاگیر (Poonch Jagir): موجودہ پونچھ، سدھنوتی، باغ اور حویلی کے علاقے مہاراجہ کے قریبی رشتہ داروں (راجہ پونچھ) کی نیم خودمختار "جاگیر" تھے۔ یہ علاقہ ٹیکس اور داخلی معاملات میں راجہ پونچھ کے پاس تھا، لیکن حتمی اختیار مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس تھا، جس نے 1936ء میں پونچھ کا انتظام براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ 2. مقامی باسیوں کی معاشی و سماجی حالت ڈوگرہ دور حکومت میں اس خطے کے عوام (جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی) انتہائی کسمپرسی، معاشی استحصال اور سماجی پسماندگی کا شکار تھے۔ زمین کے حقوق سے محرومی 1846ء میں معاہدہ امرتسر کے بعد مہاراجہ گلاب سنگھ نے پوری ریاست کی زمین کو اپنی ذاتی ملکیت (Crown Land) قرار دے دیا۔ مقامی کسان اپنی ہی آبائی زمینوں پر محض "مزارعین" (Tenants) بن کر رہ گئے۔ اگر کوئی کسان ٹیکس ادا نہیں کر پاتا تھا، تو اسے زمین سے بے دخل کر دیا جاتا تھا۔ ٹیکسوں کا جال (Extravagant Taxation) عوام پر اتنے ٹیکس عائد تھے کہ پیداوار کا بڑا حصہ ڈوگرہ کارندے لے جاتے تھے۔ مالیہ (Land Revenue): فصل کا ایک تہائی سے لے کر نصف حصہ حکومت کے کھاتے میں جاتا تھا۔ عجیب و غریب ٹیکس: چولہے پر ٹیکس، ہر دکان پر ٹیکس، یہاں تک کہ شادی بیاہ اور مویشیوں پر بھی ٹیکس عائد تھا۔ پونچھ کی جاگیر میں تو ٹیکسوں کی بھرمار اس حد تک تھی کہ اسے "ٹیکسوں کی دکان" کہا جاتا تھا۔ بیگار کا نظام (Forced Labor) اس دور کا سب سے سیاہ پہلو "بیگار" (مفت مزدوری) تھا۔ مظفرآباد اور پونچھ کے مسلمانوں کو گلگت، لداخ یا سرینگر تک رسد، سامان اور فوج کا اسلحہ پہنچانے کے لیے زبردستی پکڑ لیا جاتا تھا۔ اس طویل اور کٹھن پہاڑی سفر کے دوران کئی لوگ بھوک، سردی اور بیماریوں کی وجہ سے راستے ہی میں دم توڑ دیتے تھے، اور ان کے خاندانوں کو کوئی معاوضہ نہیں ملتا تھا۔ 3. حکومت اور انتظامیہ میں مقامی لوگوں کی حیثیت تمام اعلیٰ انتظامی، عدالتی اور فوجی عہدے ڈوگرہ راجپوتوں، کشمیری پنڈتوں اور باہر سے بلائے گئے پنجابی ہندوؤں کے لیے مخصوص تھے۔ پونچھ اور میرپور کے سدھن، راجپوت اور جٹ قبائل برطانوی ہند کی فوج (British Indian Army) میں تو کثرت سے بھرتی ہوتے تھے (خصوصاً جنگِ عظیم اول اور دوم میں)، لیکن مہاراجہ کی اپنی فوج (State Forces) میں مسلمانوں کی بھرتی پر سخت پابندیاں تھیں اور انہیں صرف معمولی درجے کے کام دیے جاتے تھے۔ خطے میں اسکولوں اور کالجوں کا شدید فقدان تھا۔ مسلمانوں کو جان بوجھ کر تعلیم سے دور رکھا گیا تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں۔ پونچھ اور میرپور کے لوگ تعلیم اور روزگار کے لیے پنجاب (راولپنڈی، جہلم) کا رخ کرتے تھے۔
2
2
10
1,110
Muhammad Arif retweeted
اس کے ساتھ واحد زیادتی وہ ہوئي جب یہ 20 سال پہلے اس نے عمران خان کا انٹرویو کیا ایک دن جیو کے ساتھ تب عمران خآن نے اس کو ناشتہ نہیں کروایا تھا تب سے یہ پیٹ پرست صحافی خان کا دشمن ہے
2
5
531
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
اچھی ہے بیوی ایسی ہی ہونی چاہیے 😂😂😂
1
1
355