Justice for every one is never a right in third world countries. It is luxury in developed and menace in third world.
So priority goes to developement in culture and education, then one should ask for such luxuries
خواجہ صاحب کا نکتہ نظر سو فیصد درست ہے پاکستان میں لوگ قانون کی پاسداری نہی کرتے ٹریفک ہر قاعدے قانون سے آزاد ہے اسے کسی دائرے میں لانا لازم ہے
مگر خواجہ صاحب اصل شکایت یہ کہ قانون غریب کی گرفت تو کرتا مگر الیٹ مجرمان کے آگے سرنگوں ہو جاتا ہے مغربی معاشرے کی ہم بات کرتے وہاں قانون یکساں تو کسی کو شکایت نہی ہوتی ہے ایک الیٹ جج کا کم عمر بچہ گاڑی سے لڑکیاں مار دے گرفتار نہی ہوتا ایک غریب موٹر سائیکل والا ہیلمٹ نا پہننے پر تھانے پہنچ جاتا ہے مسلہ انصاف کا یکساں نفاذ ہے