She/Her “Accursed who brings to light of day, the writings I have cast away”-Yeats. Rheumatologist by profession. ❤️ poetry, photography, food, emojis, life🌹
اب تک شکایتیں ہیں دلِ بدنصیب سے
اک دن کسی کو دیکھ لیا تھا قریب سے
اکثر بہ زعمِ ترکِ محبت خدا گواہ
گزرا چلا گیا ہوں دیارِ حبیب سے
دستِ خزاں نے بڑھ کے وہیں اس کو چن لیا
جو پھول گر گیا نگہِ عندلیب سے
اہلِ سکوں سے کھیل نہ اے موجِ انبساط
اک دن الجھ کے دیکھ کسی غم نصیب سے
نہ اہلِ ناز کو بھی ملے فرصتِ نیاز
میں دور ہٹ گیا جو وہ گزرے قریب سے
یہ کس خطا پہ روٹھ گئی چشمِ التفات
یہ کب کا انتقام لیا مجھ غریب سے
ان کے بغیر بھی ہے وہی زندگی کا دور
حالاتِ زندگی ہیں مگر کچھ عجیب سے
سمجھے ہوئے تھے حسنِ ازل جس کو ہم شکیلؔ
اپنا ہی عکسِ رخ نظر آیا قریب سے
شکیل بدایونی
It was great joining Njideka Akunyili Crosby — a gifted Nigerian-born, Los Angeles-based artist — to unveil our first portrait together. This piece reflects so many chapters of Michelle and my story, and we’re thrilled that it will be on display in the Hope and Change lobby at the Obama Presidential Center starting this Juneteenth.
Some weeks are just so nauseating, the hits keep coming and the 24/7 simmering rage causes you to just completely shut down. That’s where I’ve been so I’m grateful to @Shehzad89 for saying a lot of what I had wanted to say.
Yes All Men youtu.be/-_4A1SVS6XI?si=mrlL… via @YouTube
شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہے
یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے
ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے
جسے بھی دیکھو وہ کھویا ہوا سا لگتا ہے
زمین ہے سو وہ اپنی گردشوں میں کہیں
جو چاند ہے سو وہ ٹوٹا ہوا سا لگتا ہے
مرے وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو
جو تم کہو مجھے قہر خدا سا لگتا ہے
جو شام آئی تو پھر شام کا لگا دربار
جو دن ہوا تو وہ دن کربلا سا لگتا ہے
یہ رات کھا گئی اک ایک کر کے سارے چراغ
جو رہ گیا ہے وہ بجھتا ہوا سا لگتا ہے
دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں
وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے
تو دل میں بجھنے سی لگتی ہے کائنات تمام
کبھی کبھی جو مجھے تو بجھا سا لگتا ہے
جو آ رہی ہے صدا غور سے سنو اس کو
کہ اس صدا میں خدا بولتا سا لگتا ہے
ابھی خرید لیں دنیا کہاں کی مہنگی ہے
مگر ضمیر کا سودا برا سا لگتا ہے
یہ موت ہے یا کوئی آخری وصال کے بعد
عجب سکون میں سویا ہوا سا لگتا ہے
ہوائے رنگ دو عالم میں جاگتی ہوئی لے
علیمؔ ہی کہیں نغمہ سرا سا لگتا ہے
عبید اللہ علیم