Joined February 2019
7,014 Photos and videos
M. Asif retweeted
میرے خیال میں یہ وڈیو 1M لوگوں کے views کا حق رکھتی ہے۔ ایک MNAوہ زبان بول رہا یے جو ہم اساتذہ بولتے ہیں مگر نوکری کے ڈر کی وجہ سے کچھ لحاظ رکھ کر۔ خدارا اس قوم پہ رحم کریں۔ پیف سسٹم ایک مافیا یے بچت تو ہوسکتی یے مگر تعلیم کا جو خلا پیدا ہوگا وہ کبھی۔۔۔

5
60
85
1,489
M. Asif retweeted
The killing of an innocent girl in Chakwal by CCD is deplorable. Our hearts go out to the family for their loss and trauma. This should never have happened. But when you empower a force to be the judge, jury and executioner then tragedies like this are bound to happen.
23
709
2,525
30,626
M. Asif retweeted
90s Kids کی Dating Life --وہ لاہور جہاں ڈیٹ ایک پوری کہانی ہوا کرتی تھی۔ اگر آپ نے 2005 سے2016 کا لاہور دیکھا ہے تو یہ تحریر شاید آپ کو چند سال پیچھے لے جائے۔ جہاں نہ Instagram تھا نہ Tinder، مگر الگ رومانویت اور محبت کےاپنے انداز تھے ہم نے جہاں اپنی teenage گزاری۔—آج ان جگہوں سے گزرتے ہوئے فقط خاموشی سے مسکرا دیتے ہیں۔ یہ لاہور وہ تھا جہاں محبت آن لائن نہیں بلکہ آمنے سامنے نظر، چند لمحوں کی ملاقات، لمبی یادوں اور چھوٹے چھوٹے لمحوں میں خوشی اور آنسوؤں کے درمیان پیدا ہوتی تھی۔ اس زمانے میں لاہور کی Dating Life کے تین پہلو تھے۔ 1: مڈل کلاس کی Dating Life: یہ وہ تھے جو سو روپے لے کر گھرسے نکلتے تھے تیس روپے کا پٹرول ڈلوا کر باقی پیسوں میں گوگے کے چنے اور دو نان کھاتے تھے۔ہاں پانچ دس روپے سوٹے کےلئے بچا رکھتے تھے۔ جبکہ ان کی محبوبائیں وہ تھیں جو وین والے انکل کی جادوئی سواری میں گنجائش سے دگنی سواریاں لے کر کالج پہنچتی تھیں یا اس کیری ڈبے میں گھر جاتی تھیں جس کے آگے پردہ لٹکاہوتاتھا۔ ان کی سیٹنگ زیادہ تر اکیڈمی میں، دوست کی دوست کے ذریعے سے یا خاموشی سے نمبر دے کر قائم ہوتی تھی۔ ان کی ڈیٹ مارنے کی پسندیدہ جگہیں یہ تھیں 1: Mcdonald main boulevard Gulberg: یہاں پر جتنی ڈیٹیں آئی ہیں شاید ہی پاکستان میں کسی اور جگہ آئی ہوں۔۔ تین سو کی kids meal ہوتی تھی سو چھ سو روپے میں تین چار گھنٹے سکون سے گزر جاتے تھے۔ زیاد ہ پیار آئے تو اس وقت 50 والی کون بھی منگوا لیتے تھے۔ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر کبھی پوری نہ ہونے والی قسمیں کھاتے ۔یہاں زیادہ تر punjab college ،Fc, Lc,Kc اور home economics سے کپل آتے تھے۔ پھر کچھ وہ بھی تھیں جن کا پک اینڈ ڈراپ پوائنٹ یہی ہوا کرتا تھا۔ دوپہر کو یہاں اتر کر سیدھا واش روم کا رخ کیا جاتا، حلیہ درست کیا جاتا اور محبت کی چھوٹی چھوٹی یادگاروں کو چھپانے کی تدبیریں کی جاتیں۔ کچھ دن دوپٹہ گلے سے نہ اتارنے کا نسخہ آزمایا جاتا مگر اس سے گھر والوں کو شک ہونے کا اندیشہ رہتا، سو زرخیز دماغوں نے ایک اور جگاڑ نکالی کہ مقررہ جگہوں پر ہلکا سا Foundation لگا لیا جائے تاکہ نشان نمایاں نہ رہیں۔ (یہ تاریخی مقام اب ختم ہوگیا ہے۔ یہ پاکستان میں اسکی پہلی برانچ تھی۔ جیل روڈ والی کی بھی بہت داستانیں ہیں مگر ا س پر پہلے ہی بہت لکھ چکا ہوں) 2: Pizza Hut Mm Alam Road: محبت ذرا سچی یا تھوڑی پیاری ہوتی تو اسائنمنٹ کے بہانے پیسے لےکر پیزا ہٹ ملا جاتا تھا۔۔ یارکیا دور تھا جب ویٹر پیزے کے ساتھ جان بوجھ کر وہ جگ بھر کر pepsiکا لے آتا تھا جسے Pitcher کہتے تھے۔۔یاد ہےنا؟؟ تو چھپ کر بٹوا دیکھنا پڑتا تھا۔ آج سے بارہ پندرہ سال پہلے بھی بل 2000 روپے تک بن جاتا تھا ۔ غریبوں کی Dating Life: غریب دو طرح کے تھے ایک تو وہ جو حالات کے مجرم ہونے کے باجود جرم محبت کرتے تھے۔دوسرے وہ جو پیدائشی کنجوس تھے۔ نیت سے فقیر تھے پیسہ خرچ کرنا ح،را م سمجھتے تھے تو یہ پریمی جوڑے ان مقامات پر ملا کرتے تھے۔۔ 1: Bagh Jinnah (Lawrence Garden): ان کا مخصوص گیٹ نمبر 3 تھا ۔۔کیوں کہ ذرا سے فاصلے پر پہاڑیاں تھیں اوپر چڑھتے اور پھر ایک دوسرے میں کھو جاتے۔ ان کی گرل فرینڈز گھر سے ہی نگٹس وغیرہ بنا لاتی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ پچاس یا سو والی آئسکریم کھالیتے ، ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھتے۔ کبھی سچ نہ ہونے والے خواب دیکھتے چار پانچ گھنٹے یہاں گزار دیتے اور کالج کی چھٹی ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے نکل جاتے۔ جبکہ پنڈ اور پہاڑوں سے لہور آکر افسری کا خواب دیکھنے والے پریمی جوڑے باغ جناح کے لائبریری والے گیٹ پر ملا کرتے تھے ۔ پہلے بھنے ہوئے چنے اور مکئی کھاتے ہوئے سی ایس ایس کے خواب بیچے اور خریدے جاتے تھے۔ لڑکی جذبات میں آ کر کہتی کہ تم مجھے چھوڑ دو گے، تو لڑکا پوری سنجیدگی سے قسمیں کھا کر اٹھ کھڑا ہوتا، اور وہ بھی پیچھے پیچھے چل پڑتی۔کچھ دیر بعد یہ حضرات ایسے لوٹتے جیسے دنیا کا ہر مسئلہ حل کر آئے ہوں۔ کچھ فل رامی جوڑے باغ جناح کے اوپن ائیر تھیٹر کے خالی آفسز میں مقامی ملازمین کو تین سو روپے دیتے بھی پائے جاتے تھے Capri restaurant & Jam Shiren Park: کالج سے پھوٹا مار کر کیپری ریسٹورنٹ لبرٹی بھی ناشتے کے لئے سستی اور اچھی جگہ تھی۔۔اس زمانے میں ڈیڑھ دو سو روپے میں حلوا پوڑی کھا کر فارغ ہوتے تو جب تک ویٹر نہ اٹھاتا بیٹھے رہتے پھر یہ جام شیریں پارک لبرٹی چلے جاتے اور وہاں گھنے درختوں کی اوٹ میں مالیوں سے آنکھ مچولی کھیلتے تھے۔ امیر لونڈے لونڈیوں کے Dating Points: بھلے وقت میں امیر بھی اتنے امیر نہیں تھے جتنے اب ہیں سو Bnu بھی اس وقت نالے کے پاس تھی اور باپ کے پیسوں کا اظہار reborn civic دکھا کر کیا جاتا تھا۔
1
2
3
408
M. Asif retweeted
میں نے 5 لاکھ روپے جمع کر لئے ہیں اور یورپ کے کسی اچھے ملک میں شفٹ ہو کر اپنی زندگی آرام سے گزارنا چاہتا ہوں۔ کیا کوئی ایسا ملک تجویز کر سکتے ہیں؟ پاکستان اب میرے لئے مناسب مقام نہیں رہا 😬
4
1
4
572
صبح بخیر زندگی ۔۔۔۔۔
2
31
M. Asif retweeted
ایک عالم دین کو خواتین کے حوالے سے ایسی بات کرنے پر شرم آنی چاہیے۔
56
8
140
9,539
M. Asif retweeted
لاہور میں دو نوجوان ملکر بھی شیخ کا ایک سموسہ نہیں خرید سکیں اسکا ریٹ 80 روپے فی سموسہ ہے۔
بجٹ میں یوتھ کے لیے کچھ نہیں۔ 16 کروڑ 30 لاکھ نوجوان پاکستانی ہیں جن کے لیے 5 ارب کی خطیر رقم رکھی گئی ہے جو کہ 32 روپے فی نوجوان بنتا ہے۔ اسلام آباد میں سموسہ بھی 40 روپے کا بنتا ہے تو اس کا مطلب ہے آپ نے اپنے نوجوان کی قیمت سموسے کی قیمت سے بھی کم لگا دی، شرمیلا فاروقی
4
61
346
4,043
M. Asif retweeted
سرکاری سکولز کا احوال/ پاکپتن کی تحصیل عارف والا سرکاری سکولز کو جان بوجھ کر کیوں ناکام کیا جارہا ہے؟ ایک سرکاری سکول ٹیچر کے مطابق ان کو نان سیلری بجٹ کی مد میں اس سال5 لاکھ سے کچھ کم رقم ملی ہے اور جولائی 2025 سے مئی 2026 تک وہ 6 لاکھ 57 ہزار سے زائد رقم صرف بجلی کی مد میں واپڈا کو ادا کر چکے ہیں۔باقی اسٹیشنری، کئیر ٹیکس کی تنخواہ اور چھوٹی موٹی مرمت اسکے علاوہ ہے۔ باقی کی یہ رقم مخیر حضرات یا ٹیچر حضرات خود مینج کرتے ہیں دوسری جانب حکومت سکولز کو پرائیوٹ کرکے فی کس بچہ 5000 روپے ایوریج ادا کررہی ہے ۔جان بوجھ کر سرکاری سکولز کو ناکام اور پرائیوٹ سیٹ اپ کو کامیاب دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
12
137
425
8,360
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے..!! #GEAS_Warrah_Piran_Khurd #QuestForExcellence
4
4
17
429
M. Asif retweeted
تمام اساتذہ سے گزارش ہے بندے کے پتر بن کر ٹریننگ کریں۔ چھٹیاں بچوں کو ہوتی آپ کے لئے نہیں ہوتی۔ دنیا بھر کے استاد چھٹیوں میں ٹریننگ کرتے۔ رہی بات کی اس بنیاد پر حکومت آپ کو نکال دے گی۔ حکومت کو نکالنے کے لئے آپ سے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ویسے بھی نکال سکتی۔ دوسری بات کہ صرف انگلش کے ٹیچرز کو کروائی جائے۔ یہ بھی فضول لوجک ہے۔ ہر استاد کے لئے لازم ہے کہ وہ تب بھرتی ہوگا یا نوکری پر رہے گا جب وہ نشینل پروفیشنل سٹینڈرڈ پر پورا اترتا ہو۔ اور پروفیشنل سٹینڈرڈ یہ ہے کہ ہر استاد کو انگلش پڑھانی آتی ہو۔ ویسے محکمے کو تو خیر توفیق نہیں ہوتی کہ کام چور اساتذہ جو سازشی تھیوریز گھڑتے اس کا بروقت سدباب کر سکے ۔ دنیا بھر کی اور ہی ایکٹوٹی میں مشغول رہتا ہمارا محکمہ ۔ ان کے نزدیک سوشل میڈیا کا استعمال یہ ہے کہ آفیسر کی بوتھی اور سلو موشن تصاویر سارا دن اساتذہ نے دیکھنی یا یہ لکھنا کہ قائد تیرے سے سارے شریک سڑے۔قائد تمہارے سے پرانا کرپٹ تھا ۔ قائد تم جھنڈے گاڑ رہے ہو ۔ قائد آپ کا ویژن۔ آپ یہ آپ وہ فلاں دھمکاں۔بلا بلا۔ سکول ہیڈ سے لے کر سی او تک ۔ سی او سے لے کر سکول ایجوکیشن کے آفیشل پیجز تک یہ ہی بکواس نظر آئے گی۔ پتا نہیں اپنی تصاویر اتنی دیکھ کر ان لوگوں کو الٹی بھی نہیں آتی۔ آخر کیا احساس کمتری ہے بھئی۔ سوشل میڈیا کا استعمال کسی اچھے کام کے لئے کر لیا کرو ۔
26
16
86
4,571
Me decades ago
Jun 13
Me decade ago 🙆‍♀️
2
1
4
680
M. Asif retweeted
A young graduate from Dera Bugti, Qaim Khan Bugti, set his educational degrees on fire outside Quetta Press Club after years of unemployment and crossing the age limit for government jobs. He said he had completed his education, appeared in multiple tests, and applied for various vacancies across Balochistan, but remained unemployed despite repeated efforts. Calling the act a symbol of broken dreams and frustration, he urged authorities to ensure a transparent, merit based recruitment system so educated youth are given equal opportunities.
1
2
105
M. Asif retweeted
میری آوارگی میں کچھ دخل ہے تمھارا بھی محسن جب تمہاری یاد آتی ہے تو گھر اچھا نہیں لگتا
1
4
68
تعلیم صحت اور ہائیر ایجوکیشن کی بجائے دفاعی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے
1
2
93
چکوال: CCD کی فائرنگ سے 9 سالہ بچی جاں بحق، آسٹریلیا سے آئے خاندان کے 2 افراد زخمی چکوال میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر CCD اہلکاروں نے ڈاکوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے ایک فیملی کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے والد عادل احمد اور بھائی آفان احمد شدید زخمی ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق عادل احمد، جو آسٹریلیا سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حال ہی میں پاکستان آئے تھے، اپنے رشتہ دار کے گھر کے باہر رکے ہوئے تھے کہ دو مسلح ڈاکوؤں نے انہیں لوٹ لیا۔ اسی دوران CCD اہلکاروں اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی خوفزدہ ہو کر عادل احمد گاڑی لے کر وہاں سے نکلے تو اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کی گاڑی کو ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر فائرنگ کر دی۔واقعے کے بعد ایک CCD اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔ حکام نے متاثرہ خاندان کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
150
1,336
2,266
110,526
M. Asif retweeted
لاہور چیمبر بجٹ سے زیادہ پر امید نہیں تھا۔صدر لاہور چیمبر انڈسڑی کی گروتھ کی حوالے سے سمال انڈسڑی کے حوالے سے کچھ نظر نہیں ایا۔ ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ کی مخالفت کی تھی اور ووکیشنل پراجیکٹس کا مشورہ دیا تھا۔ قوم کو بھیک مانگنے پر مجبور کیا جارہا اس رقم کو ووکیکشنل ٹریننگ پر لگایا جانا چاہیے تھا
1
17
120
4,235
.......أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَاۖ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡغَٰفِرِينَ ° سورة اعراف 155 "تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے۔" آمین
2
1
6
187
Replying to @WaqarRao003
یہ بھائی کو وفاق کی حد تک احساس ہوتا ہے، پنجاب نے 5 فیصد بھی اضافہ دیا تو ہمارے محترم بھائی 5 فیصد کی شان میں بھی ویسے ہی قصیدے سنائیں گے جیسے پیف سے بننے والے ڈاکٹرز اور انجینئرز کی شان میں سناتے ہیں 😁
2
7
20
285
M. Asif retweeted
Ya Allah ! Give me Strength to pay my, (1). Income Tax (2). General Sales Tax (3). Capital Value Tax (4). Value Added Tax (5). Central Sales Tax (6). Service Tax (7). Fuel Adjustment Charges (8). Petrol Levy (9). Excise Duty (10). Customs Duty (11). Octroi Tax (tax levied on entry of goods into municipal area) (12). TDS Tax (tex deduction at source) (13). Employment Status Indicator Tax (ESI Tax) (14). Property Tax (15). Government Stamp Duty (16). Aabiana (tax on water for agricultural land) (17). Ushr (18). Zakat (deducted on money from the banks) (19). Dhal Tax (20). Local Cess (21). PTV License (22). Parking Fee (at least 5 times a day) (23). Capital Gains Tax (CGT) (24). Water Tax (25). Flood Tax (for heavens sake - there are no floods now) (26). Professional Tax (27). Road Tax (28). Toll Gate Fee (29). Securities Transaction Tax (STT) (30). Education Cess (31). Wealth Tax (32). Transient Occupancy Tax (TOT) (33). Congestion Levy Complusory Deduction (34). Super Tax ( 3 to 4%) (35) With holding taxes (36) Education fee (5%) (37) Secp levy and also toufeeq to pay (a). Heavy Education Fees (b). Donations at schools (c). Chandas at Mosques etc (d). Beggers Black Mailing at every Road Corner O' my Lord - If I have some money left then I will try to boost my business to pay more to FBR employees, government officials etc...
2
2
3
231
پنجاب کے سرکاری ملازمین کام چور ، نکمے اور نکھٹو ہیں ، ان کو پنجاب گورنمنٹ نہیں رکھ سکتی ہے۔ جی جی میڈم بالکل ایسے ہی جیسے کچھ لوگ اس ملک کو باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر قبصہ جماۓ ہوۓ ہیں...
51
226
720
84,559