جنابِ اسپیکر! آج قبائل سے کہا جا رہا ہے، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو، تم لڑو۔ میرا پشتون ہو یا بلوچ، وہ مقامی ہے، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ جنگ لڑے گا تو ان کی دشمنی نسلوں تک جائے گی، کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟
یا پھر آپ کہیں کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دیں گے تاکہ وہ جہاد کے جذبے سے سرشار بھی ہو اور اس کے لڑنے کی صلاحیت بھی اس کے اندر ہو۔ ہم نے تو پاکستان میں کسی کو چھوٹا سا پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی، ہم تو چھری بھی نہیں رکھ سکتے، ہم تو بغیر لائسنس کے ایک بندوق بھی نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
آج ان حالات میں اگر میرے اوپر تین خودکش حملے ہوئے ہیں، میرے گھر پر کئی راکٹ حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کے اوپر حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کو گاڑیوں سے اتارنے کی کوشش کی گئی ہے، میری پارٹی کے سینئر لوگوں کے اوپر خودکش حملے ہوئے ہیں، ایک ایک حادثے میں پچیس پچیس اور تیس تیس لوگ شہید ہوئے ہیں، ان حالات سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں تو ایک بندوق رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔
ملبہ قوم پر ڈالنا، ملبہ لشکروں پر ڈالنا، یہ کون سی حکمتِ عملی ہے؟ فوج میں ہم کس لیے بھرتی ہوتے ہیں؟ ہم نے فوجی وردی کس لیے پہنی ہوئی ہے؟ ہم نے پیٹی کس لیے باندھی ہوئی ہے؟ اس لیے باندھی ہوئی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو پھر ہمارا یہ نوجوان جنگ لڑے ٹانک میں، میں جنگ لڑوں ڈیرہ اسماعیل خان میں، فتح اللہ خان جنگ لڑے ڈیرہ اسماعیل خان میں، اس لیے تو نہیں ہے۔
اور اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ اسٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے تو فنا کر دو۔ کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجیے، کون سی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پر نگوشییٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو؟ ایک پوائنٹ بتایا جائے۔
جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے ہیں۔
میرے علماء شہید ہو رہے ہیں، علماء اس لیے شہید ہو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہیں، وہ پارلیمنٹ کی سیاست کیوں کرتے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب