آنٹی چوسنی نے اپنے ساتھی اداکار کو تصویر بناتے وقت کہا ڈونٹ ٹچ می جو کہ اس کا حق ہے یقیناً ہر عورت کو ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئے
لیکن جب تم نے سارا ڈرامہ ساتھ کر لیا اور اس میں یقیناً رومانٹک سین بھی ہونگے اور تصویر بنواتے وقت حاجن بننے کا مظاہرہ کر دیا ۔ خیر اس اداکار نے نہایت احسن طریقے سے معاملے کو درگزر کیا اور آگے بڑھ گیا پھر ساتھ چلتے ہوئے اسی آنٹی چوسنی نے بات کرتے ہوئے اس اداکار کے اسی بازو پر ٹچ کیا جس کو تصویر بناتے ہوئے اس نے کندھوں پر رکھنے سے منع کر دیا تھا ۔
تو پھر سوال تو بنتا ہے کہ کیا مرد کا جسم تمہارے باپ کی ملکیت ہے جو جب چاہے ٹچ کر لو
جب تمہیں اسکا کیمرے کے سامنے کندھے پر ہاتھ رکھنا ٹچ کرنا لگتا ہے اور تم منع کر دیتی ہو تو پھر چلتے ہوتے دانت نکال کر اس کے بازو پر ٹچ کرنا تمہیں غلط نہیں لگا یہ دوغلی پالیسی کیوں بھئی ؟ یہ مردوں کے ٹچ کو غلط اور اپنے ٹچ کو جائز سمجھنا کونسے قانون میں لکھا ہے ، کیا یہ ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتا ۔
میں تو یہ کہتا ہوں کہ عورتیں مردوں کو زیادہ ہراس کرتی ہیں جیسے ایک مرد کا کسی باپردہ خاتون کو تاڑنا ہراسمنٹ ہے اسی طرح عورتوں کا غیر مردوں کے سامنے بیہودہ اور نامناسب لباس پہن کے آنا بھی ہراسمنٹ ہی کہلاتی ہے ۔ مگر ایسی عورتوں کا مسلہ یہ ہے کہ انہیں انکی برائی بتاؤ تو آگے سے مرد کو آنکھیں نیچے رکھنے والا اسلام بتانا شروع کر دیتی ہیں اور جب مرد آگے سے پردے والا اسلام بتاتا ہے تو وہ انہیں پسند نہیں آتا ۔ جس طرح مردوں کو آنکھیں نیچے رکھنے کا حکم ہے اسی طرح عورت کو غیر مردوں سے نرم لہجے میں بات بھی کرنے سے منع کیا گیا ہے مگر یہ عورتیں ایسا لباس پہن کر نمودار ہوتی ہیں جس کے اوپر بھی لباس پہننے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انکی ہر جگہ بلکل واضح نظر آ رہی ہوتی ہے مگر انکو کہہ دو تو انہیں اس بات کی بڑی تکلیف ہوتی ہے اور آگے سے طعنہ دیتی ہیں کہ مردوں کو صرف عورتوں کا لباس ہی نظر آتا ہے ۔ مرد و عورت کو وہ والا اسلام پسند ہے جو انکے حق میں جاتا ہو اور جہاں انکو برائی سے روکا گیا ہو یا انکے ہاتھ باندھے گئے ہوں تو وہ ان دونوں کو پسند نہیں آتا ۔ یہی ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ ہے کہ ہم اپنی حدود میں رہنا ہی نہیں چاہتے ، اور پھر شکوہ بھی کرتے ہیں کہ عورتیں اچھی نہیں اور مرد اچھے نہیں ہم یہ نہیں سوچتے کہ انکو برا کون بنا رہا ہے ، ظاہری سی بات برائی کا انتخاب ہمارا اپنا ہوتا ہے مگر عورت مردوں پر الزام لگا کر بھاگتی ہے اور مرد عورتوں پر ۔
وارث بزمی