حکومت کی جانب سے آوازوں کو دبانے کے لیے انعامات تو مقرر کیے جا سکتے ہیں مگر عوامی مسائل کے حل کیلئے یہ رقم فراہم نہیں کی جاسکتی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چار رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مسائل کے سیاسی حل کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے اور یہ طریقہ کار مزید نفرت، انتشار اور شدید ردعمل کا باعث بنے گا۔
نااہل حکمرانوں کی نااہل روش کی بدولت ہی آج حالات اس نہج پر پہنچے۔