اسلامی تاریخ کی کتابوں میں کبھی پڑا تھا
آج راولاکوٹ میں دیکھنے کو مل رہا ہے
عزت احترام محبت کی ایک ایسی داستان لکھی جو تاریح کے ہر قصے کو پیچھے چھوڑ دے گی
مثالیں اب یہاں سے دی جاہیں گی
…
اور گھروں سے نکلنے والا ہر نوالہ صرف کھانا نہیں، بلکہ ایثار کی خوشبو ہے۔
مائیں اپنے ہاتھوں سے روٹیاں بنا کر بھیج رہی ہیں،
بہنیں دعاؤں کے ساتھ ناشتہ روانہ کر رہی ہیں،
اور مساجد کی آوازیں صرف اذان تک محدود نہیں…
بلکہ خدمت کے اعلان بن چکی ہیں۔
یہاں کوئی اجنبی نہیں…
ہر چہرہ اپنا ہے… ہر ہاتھ سہارا ہے…
ایک نوجوان اپنی پلیٹ بزرگ کو دیتا ہے،
اور وہ لمحہ چیخ چیخ کر کہتا ہے:
“یہ قوم ابھی زندہ ہے!”
نہ خوف ہے… نہ تھکن…
صرف ایک فوکس ہے… ایک مقصد ہے…
اور وہ ہے حق!
خواتین عزت کے ساتھ موجود ہیں،
بچے مسکراتے ہوئے اس تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں،
اور مرد ایک دیوار بن کر کھڑے ہیں—
امن، نظم و ضبط اور اتحاد کی دیوار۔
یہ وہی منظر ہے…
جو ہم نے کتابوں میں غزوات کے قصوں میں پڑھا تھا…
جہاں بھوک سے زیادہ غیرت بڑی تھی،
اور اپنی ضرورت سے پہلے دوسرے کا خیال رکھا جاتا تھا۔
آج… وہی تاریخ زندہ ہے۔
آج… وہی روح واپس آ گئی ہے۔
یہ صرف احتجاج نہیں…
یہ ایک سبق ہے… ایک پیغام ہے…
کہ جب قوم جاگ جائے،
تو حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔
اور یاد رکھو…
ایسی مثالیں صدیوں میں بنتی ہیں،
اور رہتی دنیا تک سنائی جاتی ہیں
ہم یہ جنگ ہر محاز پر امن سے جیت رہے ہو