تصویر کہانی۔۔۔
کل رات ایک دوست کے گھر جانا ہوا۔ اُس نے فوڈ پانڈا سے کھانا آرڈر کیا۔ تھوڑی دیر بعد رائیڈر کا میسج آیا:
“I am deaf, please don’t call me. I will reach the location myself.”
دور سے ہی اُس کی پروفائل فوٹو کچھ منفرد لگی۔ جب پروفائل کھول کر دیکھی تو اُس میں علیمہ آپا کے ساتھ تصویر لگی ہوئی تھی۔
کھانا لے کر جب وہ پہنچا تو حیرت اور بڑھ گئی۔ اُس کے موبائل کا لاک اسکرین، وال پیپر، کور فوٹو، گیلری—سب عمران خان کی تصاویر سے بھری ہوئی تھیں۔ ہر جلسے، ہر ایونٹ اور ہر تحریک کی تصاویر محفوظ تھیں۔ یہاں تک کہ 26 نومبر کے لانگ مارچ اور ہر منگل اڈیالہ کے باہر ہونے والی سرگرمیوں کی تصاویر بھی اُس کے پاس موجود تھیں۔
آخر میں میں نے اُس سے پوچھا:
“بھائی، کسی چیز کی ضرورت ہو یا میں کسی طرح مدد کر سکوں تو بتاؤ۔”
وہ مسکرایا، ہاتھ اُٹھایا اور ہاتھ اُٹھا کر اشارے سے بس ایک ہی بات کہی:
“عمران خان کے لیے دعا کرنا۔”
اُس لمحے دل میں ایک سوال آیا…
اگر ایک سماعت سے محروم فوڈ ڈلیوری رائیڈر اپنی محبت، وابستگی اور جذبے کے ساتھ تحریک کے ہر مرحلے تک پہنچ سکتا ہے، تو پھر قیادت کیوں نہیں پہنچ سکتی؟
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اب صرف ایک سیاسی رہنما نہیں رہا۔ وہ اس ملک کے ہر طبقے، ہر عمر اور ہر پس منظر کے لوگوں کی امید بن چکا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی لاکھوں دل اُس کے نام پر دھڑکتے ہیں اور اُس کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ پوسٹ اُس سے اجازت لے کر کی گئی ہے۔۔۔