Pakistanis are told to work till their 60s, pay taxes, survive inflation, accept higher electricity & gas bills, and keep making “national sacrifices.”
But look at where the money goes.
In Budget 2026–27, Pakistan has reportedly set aside around Rs. 822 billion for military pensions and only Rs. 272 billion for civil pensions meaning military pensions alone are more than 3 times the civilian pension bill.
This is happening while:
• Defence spending rises to Rs. 3 trillion
• Federal development spending is kept at only Rs. 1 trillion
• Poverty still affects more than 1 in 5 Pakistanis
• Electricity bills keep crushing middle-class and poor households
• Salaried workers face taxes, inflation and shrinking purchasing power
• Youth struggle with unemployment while public money feeds retired privilege
And the biggest irony?
For many in the establishment, “retirement” is not retirement.
They retire early, collect pension for decades, then move into civilian authorities, boards, corporations, universities, regulatory bodies and government posts drawing pension salary perks protocol influence from the same taxpayer.
The ordinary Pakistani gets expensive food, unaffordable bills, weak public services and lectures on patriotism.
The establishment gets early retirement, lifetime pensions, second careers, official perks and permanent power.
This is not a welfare state for citizens.
This is a welfare empire for the establishment funded by the suffering taxpayer.
یہ رہا اردو میں زیادہ جارحانہ، معلوماتی اور formatted draft:
پاکستانیوں کو کہا جاتا ہے کہ 60 سال کی عمر تک کام کرو، ٹیکس دو، مہنگائی برداشت کرو، بجلی اور گیس کے بھاری بل ادا کرو، اور ہر بار “قومی قربانی” کے نام پر خاموش رہو۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ قربانی دے کون رہا ہے، اور فائدہ اٹھا کون رہا ہے؟
بجٹ 2026–27 میں پاکستان نے مبینہ طور پر فوجی پنشنز کے لیے تقریباً 822 ارب روپے رکھے، جبکہ سول پنشنز کے لیے صرف 272 ارب روپے۔
یعنی فوجی پنشنز کا بوجھ سول پنشنز سے 3 گنا سے بھی زیادہ ہے۔
یہ سب اُس ملک میں ہو رہا ہے جہاں:
• دفاعی اخراجات تقریباً 3 کھرب روپے تک پہنچ رہے ہیں
• وفاقی ترقیاتی بجٹ صرف 1 کھرب روپے کے قریب رکھا جاتا ہے
• غربت کروڑوں لوگوں کی زندگی نگل رہی ہے
• بجلی کے بل غریب اور مڈل کلاس کی کمر توڑ رہے ہیں
• تنخواہ دار طبقہ ٹیکس، مہنگائی اور کم ہوتی قوتِ خرید کے نیچے دب چکا ہے
• نوجوان روزگار کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، مگر مراعات یافتہ طبقہ ریاستی خزانے پر پل رہا ہے
اور سب سے بڑی منافقت؟
بہت سے لوگ 45 سال کے آس پاس ریٹائر ہوتے ہیں، پھر دہائیوں تک پنشن لیتے ہیں، اور اس کے بعد سول اداروں، بورڈز، کارپوریشنز، یونیورسٹیوں، ریگولیٹری اداروں اور حکومتی عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں۔
یعنی ایک ہی taxpayer کے پیسے سے:
پنشن بھی، تنخواہ بھی، مراعات بھی، پروٹوکول بھی، اور اثر و رسوخ بھی۔
عام پاکستانی کو ملتا ہے مہنگا آٹا، مہنگی بجلی، کمزور سرکاری سہولیات، بے روزگاری اور حب الوطنی کے لیکچر۔
جبکہ establishment کو ملتی ہے early retirement، lifetime pensions، دوسری نوکریاں، سرکاری مراعات اور مستقل طاقت۔
یہ شہریوں کے لیے welfare state نہیں۔
یہ establishment کے لیے welfare empire ہے — جس کی قیمت پاکستان کا غریب اور مڈل کلاس taxpayer ادا کر رہا ہے۔