PART 1
From Dadyal mosques to the streets of Rawalakot, the message from
#PoJK is clear:
This is not “Azad” Kashmir.
This is occupied territory rising against Pakistan’s iron grip.
People came out asking for basic rights, dignity, flour, electricity, jobs, representation and justice.
Pakistan answered with live firing, shelling, Rangers, police crackdowns and fear.
The same state that claims PoJK and Gilgit-Baltistan as “its own” treats the people like subjects to be controlled, looted and silenced.
• Their land is used.
• Their rivers are taken.
• Their resources are exploited.
• Their youth are unemployed.
• Their voices are crushed.
And when they protest peacefully, • bullets become Islamabad’s reply.
Reports from the ground claim dozens have been killed and many more injured as protests intensify. Some local accounts allege far higher casualties, with claims of 100 deaths and even 300–400 killed over years of repression. These numbers demand independent investigation but one truth is already visible:
Pakistan’s rule over PoJK and Gilgit-Baltistan survives not by consent, but by force.
حصہ 1
دادیال کی مساجد سے لے کر راولاکوٹ کی سڑکوں تک،
#PoJK کا پیغام صاف ہے:
یہ “آزاد” کشمیر نہیں۔
یہ پاکستان کے آہنی شکنجے کے خلاف اٹھتی ہوئی مقبوضہ سرزمین ہے۔
لوگ بنیادی حقوق، عزت، آٹا، بجلی، روزگار، نمائندگی اور انصاف مانگنے نکلے تھے۔
پاکستان نے جواب دیا:
براہِ راست فائرنگ سے،
گولہ باری سے،
رینجرز سے،
پولیس کریک ڈاؤن سے،
اور خوف کے ذریعے۔
وہی ریاست جو PoJK اور گلگت بلتستان کو “اپنا” کہتی ہے، وہاں کے لوگوں کو شہری نہیں بلکہ قابو میں رکھنے، لوٹنے اور خاموش کرانے والی رعایا سمجھتی ہے۔
• ان کی زمین استعمال کی جاتی ہے۔
• ان کے دریا چھینے جاتے ہیں۔
• ان کے وسائل لوٹے جاتے ہیں۔
• ان کے نوجوان بے روزگار رکھے جاتے ہیں۔
• ان کی آواز کچلی جاتی ہے۔
• اور جب وہ پُرامن احتجاج کرتے ہیں، تو اسلام آباد کا جواب گولی بن کر آتا ہے۔
زمینی رپورٹس کے مطابق احتجاج شدت اختیار کر رہا ہے، درجنوں افراد کی ہلاکت اور کئی کے زخمی ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض مقامی ذرائع اس سے بھی زیادہ اموات کا الزام لگا رہے ہیں، جن میں 100 ہلاکتوں اور برسوں کی ریاستی جبر میں 300 سے 400 افراد کے مارے جانے کے دعوے شامل ہیں۔
ان اعداد و شمار کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے مگر ایک حقیقت پہلے ہی واضح ہے:
PoJK اور گلگت بلتستان پر پاکستان کی حکمرانی عوامی رضامندی سے نہیں، طاقت اور بندوق کے زور پر قائم ہے۔
#PoJK #GilgitBaltistan #HumanRights #PakistanOccupiedKashmir #StateRepression