Joined January 2026
366 Photos and videos
Pinned Tweet
آئی ایس پی آرکی جانب سےافواجِ پاکستان کی عظیم قربانیوں کوخراجِ تحسین پیش کرنےکےلیے شاندارنغمہ ریلیزکردیاگیایہ نغمہ شدیدموسمی حالات برفانی طوفانوں اورناقابلِ برداشت سردی میں وطن کی سرحدوں کےدفاع کی خدمت افواجِ پاکستان کےعزم حوصلےاور بےمثال فرض شناسی کی بھرپورعکاسی کرتا ہے❤️
12
15
1,429
Pakistan Eye retweeted
Alhamdulillah Pakistan is a torch bearer of peace and a beacon of hope. Congratulations to the entire Nation and the World 🇵🇰🇵🇰🇵🇰
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in Lebanon. The official signing ceremony will be on Friday, 19 June in Switzerland. We would like to thank the United States of America and the Islamic Republic of Iran for their commitment to finding a diplomatic solution to the conflict. We would also like to extend our sincere appreciation to our brothers in this mediation effort, the great leadership of State of Qatar, for their support in reaching this agreement. I would also especially thank the visionary leadership of Kingdom of Saudi Arabia and Republic of Türkiye for their immense contributions in this regard. With the agreement now in place, mediators will facilitate a series of meetings this week. These pre-implementation discussions will lay the foundation for the technical talks and the official signing ceremony. @realDonaldTrump @JDVance @SecRubio @SteveWitkoff @SEPeaceMissions @drpezeshkian @mb_ghalibaf @araghchi
90
143
836
13,188
*مولانا فضل الرحمن اور ان کے خاندان نے کیسے اس ملک کا خون چوسا - ذاتی مفاد ، بلیک میلنگ اور کرپشن کی ایک منفرد داستان* پاکستان کے سیاسی گدھ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے خاندان کا نام *پاکستان کی سیاست کی تاریخ کے سیاہ اور گندے پہلوں* میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے- چاہے کوئی بھی حکمران ھو ؛ زرداری ، شریف خاندان ، عمران خان ، گنڈا پور ، سہیل آفریدی یا پھر کوئی فوجی ڈکٹیٹر ، *مولانا فضل الرحمٰن نے ہر ایک کو اپنے اپنے وقت میں ذاتی مفاد اور کرپشن کے لئے سیاسی باپ بنایا ہے-* مولانا فضل سے لیکر اس کے بیٹے اسد محمود تک ​پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں سب زیادہ عرصہ سیاسی عہدوں پر قابض رہنے والا مذہبی خاندان بدقسمتی سے آج تک اپنے *آبائ حلقے ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ اضلاع کی ترقی کے لیے بھی کچھ نہ کرسکے، باقی ملک کے لئے ان سے کیا ہی توقع رکھی جائے-* عجیب گندا اتفاق ہے کہ *ان کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد مسلسل اقتدار کے ایوانوں، پارلیمنٹ یا دیگر اہم مناصب پر موجود رہا، جبکہ عام کارکن اور ووٹر محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔* مزید براں ، مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے *مدارس کے طلبہ اور مذہبی وابستگی کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی طاقت کے اظہار اور حکمرانوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔* آئیے مولانا فضل الرحمن اور ان کے خاندان کی سیاسی عہدوں کا ایک جائزہ لیں:- ​📌 *مولانا فضل الرحمن (سربراہ جے یو آئی - ف)* ❗ ​رکن قومی اسمبلی: 1988ء، 1993ء، 2002ء، 2008ء، 2013ء اور 2024ء کے عام انتخابات میں 6 بار ممبر قومی اسمبلی رہے۔ ❗​بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت (1993ء تا 1996ء) میں چیئرمین قائمہ کمیٹی خارجہ امور رہے۔ ❗​قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر: 2004ء سے 2007ء۔ ❗​چیئرمین کشمیر کمیٹی: 2008ء سے 2018ء تک طویل عرصے تک وفاقی وزیر کے برابر درجے پر فائز رہے۔ ❗ ممبر قائمہ کمیٹی خارجہ امور 2008 - 2013 ​📌*والد محترم: مفتی محمود (مرحوم) 1972 میں ​وزیراعلیٰ صوبہ سرحد (موجودہ KP) بنے۔* 📌 ​*مولانا عطا الرحمن (بھائی):* ♦️ وفاقی وزیر برائے سیاحت (2008- 2010) ♦️ 2002 - 2013 دو بار قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ ♦️ 2015 سے دو بار سینیٹر منتخب 📌 ​مولانا لطف الرحمن (بھائی): ♦️ 2013 - 2024 تین بار رکن خیبر پختونخوا اسمبلی رہے ♦️ 2013ء سے 2018ء تک صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہے۔ 📌 مولانا عبید الرحمان (بھائی) ♦️ 2024ء کے عام انتخابات میں NA-45 کے امیدوار رہے۔ ♦️ ایک بار آبائی علاقے عبدالخیل سے یو سی ناظم رہے 📌​ضیاء الرحمن (بھائی): بااثر سرکاری افسر، جو کراچی اور خیبر پختونخوا کے اہم انتظامی عہدوںبشمول ڈپٹی کمشنر تعینات رہے۔ 📌 *اگلی نسل (بیٹے) پارلیمان میں* ❗​*مولانا اسد محمود (بیٹا):* ♦️ ممبر قومی اسمبلی 2018-2023 ♦️ وفاقی وزیر برائے مواصلات 2022 - 2023۔ ♦️ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور 2022-2023۔ ❗​*مولانا اسجد محمود(بیٹا)*: 2024ء کے عام انتخابات میں لکی مروت سے قومی اسمبلی کے امیدوار رہے۔ *سمدھی اور قریبی رشتہ دار* 📌 ​*حاجی غلام علی (سمدھی):* ❗ نومبر 2022ء تا مئی 2024ء خیبر پختونخوا کے گورنر رہے۔ ❗​2009ء تا 2015ء سینیٹر رہے۔ ​❗2005 - 2009 ناظم اعلٰی پشاور رہے 📌​ *زبیر علی (داماد ):* دسمبر 2021ء کے بلدیاتی انتخابات میں پشاور کے میئر منتخب ہوئے۔ اس پوری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک *تلخ حقیقت* سامنے آتی ہے: *اقتدار بدلا، حکومتیں بدلیں، اتحاد بدلے، مگر اس خاندان کی اقتدار تک رسائی کبھی ختم نہ ہوئی*۔ عوام کو نظریات، مذہب اور جمہوریت کے نام پر متحرک کیا جاتا رہا، جبکہ اقتدار کے ثمرات بار بار انہی چند چہروں اور ان کے قریبی حلقوں تک محدود رہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کئی دہائیوں تک پارلیمنٹ، وزارتوں اور دیگر اہم مناصب تک رسائی رکھنے کے باوجود متعلقہ علاقوں کی محرومیاں جوں کی توں ہیں *تو پھر اس سیاسی وراثت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہے؟* عوامی ترقی، تعلیم، صحت اور روزگار یا محض اقتدار میں مسلسل حصہ داری؟ *یہ داستان عوامی خدمت سے زیادہ سیاسی بقا کی داستان ہے، جہاں ووٹر کو ووٹ بینک، کارکن کو ہجوم اور مذہبی وابستگی کو سیاسی طاقت کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا گیا۔* *نتیجہ یہ نکلا کہ خاندان مضبوط ہوتا گیا جبکہ عوام کو بار بار وعدوں، نعروں اور جذباتی اپیلوں کے سہارے اگلے انتخاب تک ٹال دیا گیا۔* بالآخر فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ یہ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی سفر خدمت، دیانت اور کارکردگی کی کہانی ہے یا پھر اقتدار، مراعات اور خاندانی سیاست کو برقرار رکھنے کی ایک غیر معمولی مثال۔
43
JAAC is misleading public with their malicious and baseless narratives, whole political opposition is unanimously against them, JAAC will not be allowed to impose its will through street agitation, if there be stubborn/obstinate law enforcement action will be the only option, GoAJK must show firm approach and restore stability*
48
عوام الناس کے لیے اہم انتباہ آزاد جموں و کشمیر عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون 2026 کو دی گئی ہڑتال/احتجاج کی کال غیر ضروری، بلاجواز اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ ایسی سرگرمیوں سے عام شہریوں، مریضوں، طلبہ، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے امن و امان برقرار رکھنے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے مختلف نوٹیفکیشنز کے تحت 14,000، 90,000 اور 20,000 کی نفری/فورسز کی ریکوزیشن جاری کی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا، ریاستی نظم و ضبط قائم رکھنا اور علاقے میں امن، ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیز سرگرمی، غیر قانونی اجتماع، سڑکوں کی بندش، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے یا عوامی زندگی مفلوج کرنے کی کوشش کا حصہ نہ بنیں۔ پرامن شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور افواہوں، نفرت انگیز بیانات اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے دور رہیں۔ واضح کیا جاتا ہے کہ جو عناصر بدامنی، انتشار، جلاؤ گھیراؤ، راستوں کی بندش یا عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کریں گے، اُن کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ریاست کسی کو بھی عوامی امن خراب کرنے، شہریوں کے حقوق پامال کرنے یا ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عوام کا تحفظ، امن کا قیام اور قانون کی بالادستی حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی اولین ذمہ داری ہے۔
36
**9 جون: جمہوری عمل یا جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ؟** آزاد کشمیر میں سیاسی عمل، مکالمے اور جمہوری فورمز کے دروازے کھل گئے ہیں جن کے ذریعے عوامی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومتِ آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں، عوام کو انتخابات سے روکنے یا امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے سے باز رکھنے کی تمام کوششیں عوامی مفاد کے خلاف سمجھی جائیں گی۔ اب یہ سوال JAAC کے سامنے ہے کہ جب جمہوری راستہ موجود ہے تو غریب کشمیریوں کی زندگیوں میں مزید رکاوٹیں پیدا کرنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ ▪️ جب ووٹ کا راستہ کھلا ہو تو سڑکوں کی سیاست نہیں، عوامی نمائندگی فیصلہ کرتی ہے۔ ▪️ 9 جون کو کاغذاتِ نامزدگی روکنے کا مطلب عوام کی آواز کو دبا دینا ہے، عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں۔ ▪️ جمہوریت مسائل کا حل فراہم کرتی ہے، جبکہ محاذ آرائی صرف مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ ▪️ اگر دروازے مذاکرات کے لیے کھلے ہوں تو احتجاج برائے احتجاج عوامی خدمت نہیں بلکہ عوامی نقصان ہے۔ ▪️ کشمیر کا مستقبل بیلٹ باکس سے جڑا ہوگا، بندشوں اور رکاوٹوں سے نہیں۔ ▪️ آزاد کشمیر اسمبلی کی 45 نشستوں پر پولنگ 27 جولائی کو ہوگی جبکہ کاغذاتِ نامزدگی 9 جون سے وصول کیے جائیں گے۔ ▪️ شفاف اور منصفانہ انتخابات الیکشن کمیشن کی ترجیح ہیں اور انتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ ▪️ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کو ووٹ، امیدواروں کو انتخاب اور جمہوریت کو آگے بڑھنے دیا جائے۔ #VoteForProgress #AJKElections2026
24
*عوامی حقوق کے نام پر دھونس، دھمکیاں اور بھتہ خوری: عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب* عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حقوق اور فلاح کے دعووں سے اپنی مہم کا آغاز کیا تھا، مگر اب اس کے طرزِ عمل سے ایک مختلف حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ حالیہ ویڈیو میں ایک دکاندار کو 9 جون کے احتجاج کے لیے رقم نہ دینے پر آزاد کشمیر سے نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو تشویشناک رجحان ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے بجائے دباؤ، دھونس اور خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ چندے کے نام پر رقم اکٹھی کرنے کا یہ طریقہ عوامی خدمت نہیں بلکہ بھتہ خوری کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ عوام اب ایسے رویوں سے تنگ آ چکی ہے اور امن، استحکام اور قانون کی بالادستی چاہتی ہے۔ 🔹عوامی حقوق کے نعرے لگانے والے آج دکانداروں کو دھمکا رہے ہیں۔ چندے کے نام پر بھتہ خوری، اصل چہرہ سب کے سامنے لا رہی ہے۔ 🔹اگر حمایت واقعی عوامی ہوتی تو دھونس اور دھمکیوں کی ضرورت نہ پڑتی۔ خوف کے سہارے کھڑی تحریک عوامی نہیں، انتشاری ہوتی ہے۔ 🔹9 جون کے احتجاج کے لیے چندہ نہیں، زبردستی رقم مانگی جا رہی ہے۔ یہ عوامی خدمت نہیں بلکہ قانون شکنی کی خطرناک مثال ہے۔ 🔹جو آواز عوامی حقوق کے نام پر اٹھی تھی، وہ اب لوگوں کو نکالنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ یہ رویہ عوامی نمائندگی نہیں بلکہ طاقت کے ناجائز استعمال کی علامت ہے۔ 🔹چندے سے شروع ہونے والا جبر اگر نہ رکا تو کل مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عوام کو حقوق نہیں، امن اور تحفظ فراہم کرنا ہی اصل ذمہ داری ہے۔
21
Indian propaganda account @AdityaRajKaul's tweet is yet another pathetic and laughable attempt by Indian intelligence operators and their media mouthpieces! The most revealing part of this episode is not the allegation, but the rock-bottom quality of the propaganda. Serving audiences an obviously synthetic AI voice of Masood Azhar and a predictable, lazy script with zero verifiable evidence feels like a failed high school AI experiment. If this represents the current standard of Indian information operations, their operators should spend less time manufacturing narratives and more time improving their capabilities. Stop wasting taxpayers' money on such cheap, amateur thrills.
1
1
35
22 سال بعد گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جمہوریت کی بحالی اور عوامی اختیار کی واپسی کا تاریخی لمحہ ہے۔ بلدیاتی ادارے کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہی ادارے عوام کو اپنے مقامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں اور فیصلہ سازی کے عمل میں براہِ راست شریک کرتے ہیں۔ اب گلگت بلتستان کے عوام کو اپنی کمیونٹیز کے مستقبل کا تعین کرنے میں حقیقی کردار ملے گا۔ یہ صرف انتخابات نہیں، بلکہ عوامی بااختیاری، شفاف طرزِ حکمرانی، احتساب اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ مضبوط بلدیاتی نظام ہی مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو اس تاریخی جمہوری سنگِ میل پر مبارکباد! #GilgitBaltistan #LocalBodiesElection #Democracy #PublicEmpowerment #LocalGovernment
2
2
34
Pakistan Eye retweeted
Markhor ♥️♥️♥️ #PakistanZindabad

6
9
235
22 سال بعد گلگت بلتستان میں جمہوریت کی حقیقی واپسی! بلدیاتی انتخابات کا انعقاد گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ مقامی حکومتیں جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہیں، کیونکہ یہی ادارے عوامی مسائل کو براہِ راست سمجھتے اور ان کا حل تلاش کرتے ہیں۔ اب فیصلے دور دراز دفاتر میں نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے مقامی سطح پر ہوں گے۔ یہ صرف انتخابات نہیں، بلکہ عوامی اختیار، شفافیت، احتساب اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ گلگت بلتستان کا مستقبل اب اس کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ جمہوریت کی فتح ہے، یہ عوامی بااختیاری کی جیت ہے۔ #GilgitBaltistan #LocalBodiesElection #Democracy #PublicEmpowerment
1
1
34
Canada has turned into an Indian colony!!!! Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.
1
1
90
2025 بھارتی حکومت کے لیے سفارتی اور بیانیاتی ناکامیوں کا سال ثابت ہوا، جبکہ 2026 میں بھی مودی سرکار کو اپنی پالیسیوں اور "اکھنڈ بھارت" کے تصور پر بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے۔ برسوں تک طاقت، دھمکیوں اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے خطے میں برتری کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری صرف نعروں سے متاثر نہیں ہوتی۔ دنیا ان ممالک کو عزت دیتی ہے جو امن، مکالمے، علاقائی استحکام اور ذمہ دار سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ جنگی جنون، انتہا پسند قوم پرستی اور توسیع پسندانہ سوچ نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود ان پالیسیوں کے داعیوں کو بھی سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ قومی وقار کا راستہ تصادم سے نہیں بلکہ تدبر، برداشت اور بہتر ہمسائیگی سے گزرتا ہے۔
1
1
31
ایکسپورٹ (برآمدات) کے لیے سب سے اہم چیز توانائی کی قیمتیں (Energy Prices) ہیں۔ اس پر کافی کام ہوا ہے جس کی وجہ سے ریٹس کافی نیچے آ گئے ہیں، اور مستقبل میں ان کے مزید کم ہونے کے امکانات ہیں۔ اگر آپ آئی ٹی (IT) کی دنیا کو دیکھیں تو وہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، روبوٹکس اور مشین لرننگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر کام ہو رہا ہے۔ ہمیں اس پورے شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور مستقبل میں آئی ٹی یا ٹیکسٹائل ہی ہمیں یہ روزگار فراہم کر سکتے ہیں۔ دنیا میں جہاں سے بھی خام مال (Raw Material) ملے خواہ وہ چین، ویتنام، انڈونیشیا یا کوریا ہو ہمیں اسے درآمد کرنا چاہیے، پھر اس میں ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کرنی چاہیے تاکہ ہمارے لوگوں کو روزگار ملے، اور پھر اسی تیار مال کو واپس باہر (ایکسپورٹ) بھیج دینا چاہیے۔ میرے خیال میں اس سے ملکی معیشت پر کافی مثبت فرق پڑے گا۔ *زید بشیر ، ڈائریکٹر گل احمد ٹیکسٹائل* ملک کی ممتاز کاروباری شخصیات کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد گفتگو۔
1
1
41
Pakistan Eye retweeted
پہلے دعویٰ کیا جاتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر مہم چلائی جاتی ہے، پھر اسی بیانیے کو رپورٹ کی شکل دی جاتی ہے، اور آخر میں انہی حوالوں کو بین الاقوامی سطح پر بطور "ثبوت" پیش کر دیا جاتا ہے۔
2
2
39
Pakistan Eye retweeted
صدر مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کا گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اہم اقدامات کرنے کا اعلان! • گلگت و سکردو میں الیکٹرک بس سروس • مانسہرہ تا خنجراب شاہراہ کی تکمیل • "اپنی چھت، اپنا گھر" اور نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضے • کارڈیک سینٹر، کینسر ہسپتال اور ہائیڈل پاور منصوبوں کی توسیع • گلگت ایئرپورٹ کی توسیع #GBSherKa #SherGBMein
147
134
232
9,733
Narendra Modi has repeatedly denied to the Indian public that he stopped the India-Pakistan war on America’s instructions. However, today Marco Rubio admitted that the United States stopped the India-Pakistan war. ♦️Now it has become clear that Narendra Modi had begged Donald Trump to prevent further attacks from Pakistan.
1
2
66
گلگت بلتستان کا فیصلہ گلگت بلتستان کے عوام کریں گے، باہر سے آنے والے سیاسی ٹھیکیدار نہیں۔ جن عناصر نے اپنے صوبے میں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے دھرنوں، نفرت اور انتشار کی سیاست کو فروغ دیا، وہ آج گلگت بلتستان میں بھی وہی کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ خطہ باشعور عوام کا خطہ ہے جو اپنے ووٹ کی طاقت سے ہر سازش کو ناکام بنانا جانتے ہیں۔ جمہوریت کا حسن نتائج کو قبول کرنے میں ہے، نہ کہ نتائج سے پہلے دھاندلی کا شور مچا کر سیاسی ماحول کو خراب کرنے میں۔ آئیں، ایک پُرامن، شفاف اور عوامی امنگوں کے مطابق انتخابی عمل کی حمایت کریں اور ہر اس کوشش کو مسترد کریں جو گلگت بلتستان کے استحکام کے خلاف ہو۔ ووٹ کی عزت، عوام کی عزت ہے۔ #GBVotes #GilgitBaltistan #DemocracyMatters #Pakistan #Election2026 🇵🇰✨
1
1
27
پاکستان کے خلاف سرگرم بین الاقوامی لابیز کی بوکھلاہٹ اور جلد بازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض دو ماہ قبل قائم ہونے والے نام نہاد 'پاکستان پالیسی اینڈ ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک' نے لندن سکول آف اکنامکس میں ایک مشکوک کانفرنس کا ڈرامہ رچانے کی کوشش کی۔ اس نوزائیدہ نیٹ ورک کو چالیس ملین ڈالر کا انڈومنٹ فنڈ فراہم کیا گیا ہے تاکہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو ہوا دی جا سکے۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ کانفرنس منسوخ ہو گئی ورنہ آئین کو تروڑ مروڑ کر پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے والے جسٹس منصور علی شاہ لندن جا کر اپنا غبار نکالنے کے لیے پوری طرح تیار بیٹھے تھے۔ اس نام نہاد سیمینار میں شرکت کے لیے جسٹس منصور کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ اور ان کے لا کلرک بیرسٹر اسد رحیم کے لیے پچاس ہزار پاؤنڈ کی بھاری جیب گرمی کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ دونوں کو ایک ہی پینل میں پاکستان کے آئینی معاملات پر گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ منتظمین اور ان کے ہینڈلرز نے عزت ماب جسٹس صاحب کے قیام کے لیے لندن میں چار سو پاؤنڈ فی رات کا ایک ایسا بالغوں کے لیے مخصوص ہوٹل بک کر رکھا تھا جو مشرقی یورپ کے مافیا اور ہر قسم کی نازیبا سرگرمیوں کے حوالے سے بدنام ہے۔ سستی شہرت کے بھوکے نام نہاد لبرلز کو بین الاقوامی فورم فراہم کرنے کی یہ بھونڈی سازش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
44
"کے پی میں تعلیم دربدر، وزیراعلیٰ دھرنوں پر" #KPNeedsGovernance خیبر پختونخوا میں گورننس کا بحران اب تعلیمی اداروں تک پہنچ چکا ہے۔ ایک طرف صوبے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ PhD اساتذہ اور ایڈمن افسران انصاف اور روزگار کے لیے دربدر ہیں، تو دوسری طرف وزیراعلیٰ عوامی مسائل کے حل کے بجائے دھرنوں، نعروں اور سیاسی تماشوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ گومل یونیورسٹی، جو جنوبی خیبر پختونخوا کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے، شدید انتظامی بحران کا شکار ہے۔ مبینہ طور پر تقریباً 250 اساتذہ اور افسران متاثر ہوئے، جبکہ 2012ء سے مستقل رجسٹرار کی تعیناتی نہ ہونا ادارہ جاتی ناکامی کی واضح مثال ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک PhD ٹاپر خاتون بھی انصاف کے حصول کے لیے احتجاج پر مجبور ہے۔ جب تعلیم یافتہ طبقہ سڑکوں پر ہو اور جامعات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں تو حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہے یا صرف سیاسی دھرنوں اور احتجاجی سیاست کے لیے؟ تعلیم تباہ، ادارے یرغمال، نوجوان مایوس، اور حکومت سیاسی تماشوں میں مصروف۔ خیبر پختونخوا کو نعروں نہیں، گورننس کی ضرورت ہے۔
1
1
29