🇵🇰 قومی ترقی کا ایک منفرد ریکارڈ: پروفیسر احسن اقبال اور 11 وفاقی ترقیاتی بجٹ
پروفیسر احسن اقبال ان قومی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے وژن، منصوبہ بندی، استحکام اور ترقی کو ایک مسلسل قومی سفر میں تبدیل کیا۔ مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی کے ساتھ ان کی زیر نگرانی تیار کیے گئے وفاقی ترقیاتی بجٹوں کی تعداد 11 ہو چکی ہے، جو پاکستان کی ترقیاتی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز ہے
📌 قومی وژن
✅ ویژن 2010: طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بندی اور علم پر مبنی معیشت کی بنیاد
✅ ویژن 2025: حکمرانی، انسانی ترقی، توانائی، پانی، خوراک، انفراسٹرکچر، مسابقتی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جامع فریم ورک
✅ اُڑان پاکستان: برآمدات پر مبنی، علم دوست اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ معیشت کا وژن
✅ 5Es فریم ورک: معیشت، برآمدات، تعلیم، ماحولیات اور توانائی۔
✅ ہدف: 2029 تک 100 ارب ڈالر برآمدات، 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت اور 2047 تک صفِ اول کی معیشتوں میں شمولیت
📌 11 وفاقی ترقیاتی بجٹ
1997-98، 1998-99، 2013-14، 2014-15، 2015-16، 2016-17، 2017-18، 2023-24، 2024-25، 2025-26 اور 2026-27۔
📌سی پیک کے معمار
✅ سی پیک کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے کی شکل دی
✅ تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا
✅ منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا
✅ چین کی طرف سے “مسٹر سی پیک” کے نام سے شہرت حاصل کی
✅ توانائی، شاہراہوں، موٹرویز، صنعتی تعاون اور ڈیجیٹل رابطہ کاری کے منصوبوں کی قیادت کی
📌 توانائی و انفراسٹرکچر
✅ 8 ہزار میگاواٹ سے زائد نئی بجلی قومی نظام میں شامل۔
✅ 11 ہزار میگاواٹ سے زائد توانائی منصوبوں کی تکمیل۔
✅ ہزاروں کلومیٹر موٹرویز، شاہراہیں اور ایکسپریس ویز۔
✅ آپٹیکل فائبر کوریڈور مکمل۔
✅ گوادر قومی گرڈ سے منسلک۔
✅ سی پیک فیز ٹو کے ذریعے صنعت کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کا آغاز۔
📌 شفافیت اور ترقیاتی اصلاحات
✅ 2013-18 کے دوران 700 ارب روپے کی قومی بچت
✅ پی ایس ڈی پی پورٹل کا اجرا
✅ پہلی مرتبہ ایک کھرب روپے سے زائد ترقیاتی اخراجات
✅ مالی سال 2024-25 میں 1.046 کھرب روپے کا ریکارڈ خرچ
📌 اعلیٰ تعلیم کا انقلاب
✅ ترقیاتی بجٹ 10-11 ارب سے بڑھ کر 45 ارب اور پھر 74 ارب روپے۔
✅ 10 ہزار پی ایچ ڈی وظائف۔
✅ جامعات 99 سے بڑھ کر 154۔
✅ طلبہ 11 لاکھ سے بڑھ کر 16.5 لاکھ۔
✅ اساتذہ 27,633 سے بڑھ کر 38 ہزار سے زائد۔
✅ پاکستان-امریکہ نالج کوریڈور اور عالمی تعلیمی روابط۔
📌 مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی
✅ قومی مراکز برائے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ و بگ ڈیٹا، کوانٹم کمپیوٹنگ اور نینو ٹیکنالوجی۔
✅ کوانٹم کمیونیکیشن منصوبے۔
✅ کوانٹم ویلی پاکستان کا تصور۔
✅ سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور جدید انجینئرنگ میں قومی صلاحیت سازی۔
📌 بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر
✅ بلوچستان میں 147 سے زائد ترقیاتی منصوبے۔
✅ این-25، ایم-8، این-50، گوادر-رتودیرو، کوئٹہ-ژوب اور بلوچستان ایکسپریس وے۔
✅ پسماندہ اضلاع کی خصوصی ترقی۔
✅ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے اربوں روپے کے منصوبے۔
✅ 30 شہروں میں ڈیجیٹل رابطہ کاری۔
✅ وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے انسانی ترقی کو قومی ترقی کا مرکز بناتے ہوئے تعلیم، نوجوانوں کی صلاحیت سازی، ہنرمندی، تحقیق اور انسانی وسائل کی بہتری کے منصوبوں کو فروغ دیا۔
📌 پانی اور آبی تحفظ
✅ دیامر بھاشا ڈیم۔
✅ داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ۔
✅ مہمند ڈیم۔
✅ تربیلا پنجم توسیعی منصوبہ۔
✅ کچھی کینال۔
✅ نائی گاج ڈیم۔
✅ کے-فور واٹر سپلائی منصوبہ۔
✅ چشمہ رائٹ بینک کینال۔
✅ 34 بڑے آبی منصوبوں پر پیش رفت۔
📌 ریل، صنعت اور برآمدات
✅ ایم ایل ون اور ایم ایل تھری۔
✅ تھر کول ریلوے منصوبہ۔
✅ خصوصی اقتصادی زونز۔
✅ ٹیکسٹائل، اسپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات کی برآمدات کا فروغ۔
✅ جامعات اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنائے۔
📌 ادارہ جاتی اصلاحات
✅ سول سروس اصلاحات۔
✅ نیشنل ایگزیکٹو سروس کا تصور۔
✅ اسٹار ماڈل کے تحت جدید حکمرانی۔
✅ کارکردگی پر مبنی نظام۔
✅ ڈیجیٹل مردم شماری اور ڈیجیٹل گورننس۔
📌 عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی
✅ گلوبل ساؤتھ کمپیکٹ کی تجویز۔
✅ ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کا فروغ۔
✅ بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی شراکت داریاں۔
✅ آئیسیسکو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ۔
ویژن 2010 سے ویژن 2025 اور پھر اُڑان پاکستان تک، 11 وفاقی پی ایس ڈی پیز، 3 قومی وژنز، سی پیک، اعلیٰ تعلیم، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، تاریخی انفراسٹرکچر اور برآمدات پر مبنی ترقی کے اس سفر میں پروفیسر احسن اقبال کا کردار پاکستان کی ترقیاتی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے