جیسے جیسے اسلام آباد پاکستان کے ہر کونے سے آنے والے شہریوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے، اس کے انتظامی ڈھانچے کو بھی اسی رفتار سے ترقی کرنا ہوگا۔ ایک ہی سطح کا نظامِ حکمرانی اب اس بڑھتے ہوئے شہر کی پیچیدہ اور متنوع ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں رہا۔
رکنِ قومی اسمبلی انجم عقیل خان کہتے ہیں کہ مجوزہ آئی سی ٹی گورننس ماڈل ایک نمائندہ اور جوابدہ دارالحکومت کی تشکیل میں کیوں ایک تاریخی قدم ہے:
🏛️ غیر مرکزی انتظام: ایک واحد اتھارٹی کے بجائے ایک مربوط، کثیر الجہت نظام کی تشکیل جس میں تمام ضروری سرکاری ادارے مل کر کام کریں۔
⚖️ جامع اور مساوی نمائندگی: ایک متنوع انتظامی ڈھانچہ جو خواتین اور اہم کمیونٹی نمائندوں کو تقریباً ایک تہائی نمائندگی کی ضمانت دے۔
🗳️ بااختیار عوامی نمائندے: فیصلہ سازی کا اختیار مقامی نمائندوں کو واپس دینا تاکہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے روزمرہ مسائل تیزی سے حل کر سکیں۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا فریم ورک مسلسل بہتری اورعوامی آراء کے اصول پر استوار ہے جو اسلام آباد کے شہریوں کی حقیقی خدمت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
📄 مسودہ پڑھیں اور اپنی رائے دیں:
pc.gov.pk/uploads/ict-govern…
#ICTGovernance #CivicEngagement #PakistanDevelopment