@ImranKhanPTI Junooni | Citizen Journalist | Global Citizen 🇵🇰🏴󠁧󠁢󠁳󠁣󠁴󠁿🇬🇧🇺🇸 | 21 years of Big4 Consulting Experience | Retweet≠Endorsement

Joined July 2013
10,372 Photos and videos
بلکل واضح ہے کہ پی ٹی آئی سیاستدانوں نے عمران خان کے ساتھ اس سے بڑی بے وفائی کی ہے جو پیپلز پارٹی کے سیاستدانوں نے بھٹو کے ساتھ کی تھی۔ 10 ہزار لوگ کیوں نہیں تھے، یہ بعد کی بات، پہلا اور اصل سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سارے سیاستدان وہاں کیوں نہیں تھے؟!!
2
3
125
بلکل واضح ہے کہ پی ٹی آئی سیاستدانوں نے عمران خان کے ساتھ اس سے بڑی بے وفائی کی ہے جو پیپلز پارٹی کے سیاستدانوں نے بھٹو کے ساتھ کی تھی۔ 10 ہزار لوگ کیوں نہیں تھے، یہ بعد کی بات، پہلا اور اصل سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سارے سیاستدان وہاں کیوں نہیں تھے؟!!
5
8
19
348
Shehryar Bukhari retweeted
زمینی حقائق
اڈیالہ جیل کےباہر دس ہزار بندوں کی کال تھی لیکن دو ہزار بندہ پہنچا۔ ان میں بھی کچھ آتے گئے کچھ جاتے گئے۔ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 1500 لوگ موجود تھے۔ 70 فیصد لوگ پنجاب کے مختلف اضلاع سے تھے جبکہ 30 فیصد لوگ دیگر صوبوں کے تھے۔مرکزی قیادت میں سے کوئی اہم راہنما دھرنے میں نہیں پہنچا۔
6
56
299
7,620
یا اللّٰہ رب العزت، ہمارے ایماندار، محبِ وطن، غیور قومی ہیرو کپتان عمران خان کی حفاظت فرما؛ آمین۔ یا رب، ہمارے جھوٹے وعدوں، فراڈ ارسطو گیریوں، ہماری نااہلی، ڈر و خوف اور کمزوری کا خمیازہ وہ ناحق سخت قیدِ تنہائی کی صورت میں بھگت رہا ہے، اُسکے لئے آسانیاں فرما؛ آمین۔
9
15
343
یا اللّٰہ رب العزت، ہمارے ایماندار، محبِ وطن، غیور قومی ہیرو کپتان عمران خان کی حفاظت فرما؛ آمین۔ یا رب، ہمارے جھوٹے وعدوں، فراڈ ارسطو گیریوں، ہماری نااہلی، ڈر و خوف اور کمزوری کا خمیازہ وہ ناحق سخت قیدِ تنہائی کی صورت میں بھگت رہا ہے، اُسکے لئے آسانیاں فرما؛ آمین۔
13
34
71
902
موڈ شدید خراب ہے آج، وہ پریس کانفرنس ہونی تھی اُسکا کیا بنا، ہوئی نہیں؟ کم از کم اُسی کے طفیل موڈ کچھ بہتر ہوجاتا!
5
11
727
موڈ شدید خراب ہے آج، وہ پریس کانفرنس ہونی تھی اُسکا کیا بنا، ہوئی نہیں؟ کم از کم اُسی کے طفیل موڈ کچھ بہتر ہوجاتا!
3
4
21
1,444
اے رانا صرف ساڈا توا لان آندا اے!!
3
10
235
اے رانا صرف ساڈا توا لان آندا اے!!

4
12
57
1,270
عوام تو نکلنا چاہتی ہے پر قیادت ہی نہیں نکالتی ہے! پائی گل سُنی۔۔۔۔
1
3
8
349
عوام تو نکلنا چاہتی ہے پر قیادت ہی نہیں نکالتی ہے! پائی گل سُنی۔۔۔۔
3
11
45
860
Shehryar Bukhari retweeted
ہمارا مجرم ایک نہیں چار ہیں ۔۔۔۔ پاکستان میں انصاف ملنا مشکل ہے ، میں اسٹریلیا جاؤں گا اور وہاں حکومت کے ذریعے انصاف لوں گا ۔۔۔۔ سی سی ڈی چکوال کے ہاتھوں بے گناہ ماری جانیوالی ہانیہ کے زخمی والد کا ایک اور بیان سامنے آگیا ۔۔۔ راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال میں زیرِ علاج، آسٹریلیا کے شہری عدیل احمد نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ 10 جون کو حج کی سعادت حاصل کرکے پاکستان لوٹے، وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے چکوال گئے ہوئے تھے کہ گھر کے باہر دو ڈا۔کوؤں نے گھیرلیا، ہم ڈا۔کوؤں کو اپنی قیمتی اشیاء پرامن طور پر تھما رہے تھے کہ اچانک فائیر۔نگ شروع ہوگئی لیکن ڈا۔کوؤں نے پہلے گو۔لی نہیں چلائی، بلکہ موٹر سائیکلوں پر سوار 4 سی سی ڈی اہلکاروں نے ہماری گاڑی پر اندھا دھند گو۔لیاں برسا دیں، پولیس کی فائیرنگ کے بعد ڈا۔کوؤں نے صرف دو ہوائی فا۔ئیر کیے اور بھاگ نکلے، سی سی ڈی اہلکاروں کی فا۔ئیرنگ اتنی شدید تھی کہ 9 سالہ بیٹی ہانیہ کو 3 سے 4 گو۔لیاں لگیں اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی، 11 سالہ بیٹے افنان کو 2 گو۔لیاں لگیں اور خود میرے بازو سمیت جسم میں 2 گو۔لیاں لگیں ۔ عدیل نے روتے ہوئے بتایا کہ گو۔لیوں کی بوچھاڑ سے میری گاڑی کے بریک فیل ہو گئے تھے، لیکن میں نے زخمی حالت میں بھی کسی طرح گاڑی بھگائی، اگر میں وہاں سے نہ نکلتا تو پولیس اہلکار ہم سب کو وہیں ڈھیر کر دیتے، اگر وہ ڈا۔کوؤں کو جانے دیتے اور بعد میں ان کا پیچھا کرتے تو میری معصوم بیٹی آج زندہ ہوتی۔ عدیل احمد نے حکومتِ پاکستان اور مقامی بیوروکریسی کے رویئے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ چکوال پولیس اپنے پیٹی بھائیوں یعنی سی سی ڈی اہلکاروں کو بچانے کے لیے کیس کو خراب کرنے اور حقائق چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، نہ تو حکومتِ پاکستان اور نہ ہی پنجاب حکومت کے کسی نمائندے نے ہم سے کوئی رابطہ کیا یا دلاسا دیا، مجھے کوئی مالی امداد نہیں چاہیے، میں صرف ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری چاہتا ہوں، آسٹریلوی ہائی کمیشن کے حکام نے ہسپتال میں مجھ سے ملاقات کی اور وہ دوبارہ بھی آئیں گے، میں آسٹریلوی حکومت کے ذریعے اپنی بیٹی کے خون کا انصاف مانگوں گا۔۔۔۔
5
9
570
بہنوں کی گزشتہ 6 ماہ سے متعدد درخواستوں کے باوجود اب بھی 10 ہزار لوگ اکٹھے نہیں ہوئے، بطور ہم وطن پاکستانی، کپتان کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ ایک خط لکھ کر کہیں کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ میں نے ایسے پھدّڑ سیاستدانوں اور عوام کے پیچھےآپ کے ساتھ پنگا لیا؛ یہ لوگ آپکے جس لتر سے ڈرتے ہیں وہ دو لتر مجھے بھی دیں میں بھی آپکے ساتھ مل کر اِنکی ڈوئی لال کرتا ہوں کیونکہ یہ اِسی قابل ہیں! 🤬
1
11
21
971
بہنوں کی گزشتہ 6 ماہ سے متعدد درخواستوں کے باوجود اب بھی 10 ہزار لوگ اکٹھے نہیں ہوئے، بطور ہم وطن پاکستانی، کپتان کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ ایک خط لکھ کر کہیں کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ میں نے ایسے پھدّڑ سیاستدانوں اور عوام کے پیچھےآپ کے ساتھ پنگا لیا؛ یہ لوگ آپکے جس لتر سے ڈرتے ہیں وہ دو لتر مجھے بھی دیں میں بھی آپکے ساتھ مل کر اِنکی ڈوئی لال کرتا ہوں کیونکہ یہ اِسی قابل ہیں! 🤬
24
41
173
3,644
Shehryar Bukhari retweeted
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June. We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail. A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection? We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority. A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025. We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order. The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders. According to the jail manual, Imran Khan is entitled to: 1. A weekly telephone call with his sons. 2. A weekly meeting with family members. 3. A weekly meeting with his legal counsel. 4. Access to books and reading material. 5. Access to television and newspapers. 6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups. 7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out. In addition, High Court full bench orders provide that: 1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone. 2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday. 3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday. We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
16
906
1,843
19,926
الباکستانیوں، کوئی شرم کوئی حیاء، جنرل ضیاء جنرل ضیاء! تسی چاہندے کی ہو، کپتان کی رہائی مقصود ہے یا نہیں؟!! 🤷‍♂️ اگلا آپکے بھروسے پچھلے تین سالوں سے ناحق سخت قیدِ تنہائی میں زندان میں پڑا ہوا ہے اور آپ ہیں کہ کسی دس ہزار میں توفیق نہیں ہے کہ اگلے کے لئے نکل آئیں، عجیب عوام ہے!
1
4
14
446
الباکستانیوں، کوئی شرم کوئی حیاء، جنرل ضیاء جنرل ضیاء! تسی چاہندے کی ہو، کپتان کی رہائی مقصود ہے یا نہیں؟!! 🤷‍♂️ اگلا آپکے بھروسے پچھلے تین سالوں سے ناحق سخت قیدِ تنہائی میں زندان میں پڑا ہوا ہے اور آپ ہیں کہ کسی دس ہزار میں توفیق نہیں ہے کہ اگلے کے لئے نکل آئیں، عجیب عوام ہے!
13
45
122
1,845
Shehryar Bukhari retweeted
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June. We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail. A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection? We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority. A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025. We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order. The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders. According to the jail manual, Imran Khan is entitled to: 1. A weekly telephone call with his sons. 2. A weekly meeting with family members. 3. A weekly meeting with his legal counsel. 4. Access to books and reading material. 5. Access to television and newspapers. 6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups. 7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out. In addition, High Court full bench orders provide that: 1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone. 2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday. 3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday. We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
28
1,657
3,191
28,968
Shehryar Bukhari retweeted
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک مرتبہ پھر پمز منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس کی اطلاع 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے ملی۔ ہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی متنازع دعوے کرتا رہا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کی تردید کی۔ ایک بنیادی سوال اب بھی تشنۂ جواب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ہم حکومتی موقف کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں آزاد اور مستند ماہرین کے ذریعے کرایا جائے۔ یہ فوری اور نہایت اہم ترجیح ہے۔ فل بینچ کے عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کے خاندان کے چھ افراد کو ہر منگل ان سے ملاقات کی اجازت ہے۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے بڑی حد تک اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی صرف چند مرتبہ ملنے کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔ ہم عمران خان کے خلاف تنہائی اور بنیادی سہولتوں سے محرومی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی حکومتی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔ عمران خان کے حقوق سے محرومی محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینوئل اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جیل مینوئل کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں: 1. اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلی فونک گفتگو۔ 2. خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔ 3. اپنے قانونی مشیروں سے ہفتہ وار ملاقات۔ 4. کتابوں اور مطالعاتی مواد تک رسائی۔ 5. ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔ 6. مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنہ۔ 7. کسی بھی طبی عمل سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو مطلع کیا جانا۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق: 1. عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت۔ 2. خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلا کو ہر منگل ملاقات کی اجازت۔ 3. چھ دوستوں (جن میں جماعتی نمائندے بھی شامل ہوں) کو ہر جمعرات ملاقات کی اجازت۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور سب سے اہم ترجیح کے طور پر انہیں خاندان کی موجودگی میں آزاد، پیشہ ورانہ اور معیاری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ علیمہ خان @Aleema_KhanPK #جون_16_کو_اڈیالہ_چلو
33
382
859
7,758
IMRAN KHAN’S RIGHTS MUST BE RESTORED URGENT DEMANDS FROM @Aleema_KhanPK #EndKhansIsolationNow #FreeImranKhan
11
13
334