گورنمنٹ ایم-اے-او گریجویٹ کالج لاہور میں منعقدہ خوارزمی سائنس سوسائٹی کے اس عوامی خطاب "روشنی کیوں اور کیسے" نے روشنی کو ایک نئے انداز سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ محض ایک روایتی خطاب نہیں تھا بلکہ براہِ راست تجربات کے ذریعے سائنسی تصورات کو دیکھنے، محسوس کرنے اور سمجھنے کا ایک عملی مظاہرہ تھا۔
ڈاکٹر محمد صبیح انور اور ڈاکٹر محمد مصطفیٰ کی گفتگو اور تجربات نے پیچیدہ سائنسی اصولوں کو نہایت سادہ، بصری اور پُراثر انداز میں پیش کیا۔ خم کھاتی شعاعوں سے لے کر نظر نہ آنے والی حقیقتوں کو آشکار کرنے تک، ہر مرحلہ حاضرین کے لیے حیرت اور فہم کا امتزاج ثابت ہوا۔ بدلتے رنگوں والے شعلے، بلند اٹھتی چنگاریاں اور روشنی کے دلکش مظاہرے اس بات کی یاد دہانی تھے کہ سائنس صرف پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ دیکھنے اور تجربہ کرنے کا عمل ہے۔
یہ اجتماع اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اسے صرف طلبہ یا ماہرین تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عام افراد، خاندانوں اور اساتذہ کو بھی سائنسی مشاہدے میں شریک کیا گیا۔ اس پہل نے یہ پیغام دیا کہ سائنسی شعور معاشرے کے ہر فرد کا حق ہے۔
خوارزمی سائنس سوسائٹی اور مصطفیٰ لیب ٹیکنالوجیز اس علمی سفر میں ہم قدم ہیں، اور سائنسی شعور کو تجسس، اشتراک اور واضح مقصدیت کے ساتھ فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ سائنس اسی وقت حقیقی معنوں میں زندہ اور مؤثر بنتی ہے جب وہ ہر فرد تک پہنچے، اجتماعی تجربے کا حصہ بنے، اور معاشرے کے فکری دھارے میں شامل ہو۔
[Public science lecture Pakistan, Interactive science show, Live physics experiments, Science outreach event Lahore, STEM education for all ]
#PublicScience #ScienceLecture #LiveExperiments #STEMPakistan #ScienceForEveryone