Door to door collection can be done if there is a proper team. It was done during Mustafa Kamal’s time.
Sindh Solid Waste management board should be given under LG like previous.
یہ سندھ گورنمنٹ SSWM تک اپنے پاس رکھ کر شہر کے وسائل پر ناگ بن کر کیوں بیٹھ گئی ہے؟ اس وقت ہونے والی صفائی میں علاقہ کونسلر یا ٹاون چئرمین وغیرہ کا بھی کوئی عمل دخل نہیں نہ انکے پاس وسائل ہیں -مرتضی وہاب “کو “ چیرمین ہے سالڈ ویسٹ ہے
آپ انہیں سیریمونیئل چئرمین بھی کہہ سکتے ہین۔
He can oversee but he doesn’t have resources and team under his control.
کراچی کی اس گندگی کے زمہ دار شہری حکومت کے ساتھ ساتھ خود شہری بھی ہیں۔ جب آپ قصائیوں کو ہزاروں روپے دیتے ہیں تو کیا کسی خاکروب کو پانچ سو نہیں دے سکتے کہ آلائشیں سڑک پر پھینکنے کی بجائے کسی کچرے کے ڈمپر میں ٹھکانے لگائے۔
اسی طرح جو ٹاؤن ناظم ہیں، وہ پہلے سے انتظام کیوں نہیں کرتے کہ ہر کونسلرز کو اس ذمہ پر لگائیں کہ ویسٹ کہاں پھینکی جائے۔
ایک
@murtazawahab1 کیا کرے؟